کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: حاجیوں کا مکہ میں اترنا اور مکہ کے گھروں کی وارثت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1351
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ : أَنَّ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّ عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَخْبَرَهُ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَنْزِلُ فِي دَارِكَ بِمَكَّةَ ، فقَالَ : " وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ " ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ ، وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ ، وَلَا عَلِيٌّ شَيْئًا ، لِأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ ، وَكَانَ عَقِيلٌ ، وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ .
یونس بن یزید نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی کہ علی بن حسین نے انہیں خبر دی کہ عمرو بن عثمان بن عفان نے انہیں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مکہ میں اپنے (آبائی) گھر میں قیام فرمائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”کیا عقیل نے ہمارے لیے احاطوں یا گھروں میں سے کوئی چیز چھوڑی ہے۔“ اور طالب ابوطالب کے وارث بنے تھے اور جعفر اور علی رضی اللہ عنہما نے ان سے کوئی چیز وراثت میں حاصل نہ کی، کیونکہ وہ دونوں مسلمان تھے، جبکہ عقیل اور طالب کافر تھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1351
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1351
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ ابْنُ مِهْرَانَ : حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا ؟ وَذَلِكَ فِي حَجَّتِهِ حِينَ دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ فقَالَ : " وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلًا " .
معمر نے زہری سے، انہوں نے علی بن حسین سے، انہوں نے عمرو بن عثمان سے اور انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (انہوں نے کہا) میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کل کہاں قیام کریں گے؟ یہ بات آپ کے حج کے دوران میں ہوئی جب ہم مکہ کے قریب پہنچ چکے تھے تو آپ نے فرمایا: ”کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1351
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1351
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، وَزَمْعَةُ بْنُ صَالِح ، قَالَا : حدثنا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ؟ وَذَلِكَ زَمَنَ الْفَتْح ، قَالَ : " وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ مَنْزِلٍ " .
محمد بن ابی حفصہ اور زمعہ بن صالح دونوں نے کہا ابن شہاب نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے علی بن حسین سے، انہوں نے عمرو بن عثمان سے، انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! کل ان شاء اللہ آپ کہاں ٹھہریں گے؟ یہ فتح مکہ کا زمانہ تھا، آپ نے فرمایا: ”کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1351
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»