کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: مسافر کو حج وغیرہ کے موقع پر سواری پر سوار ہو کر ذکر و ازکار کرنا مستحب ہے، اور اس ذکر میں سے سب سے افضل ذکر کا بیان۔
حدیث نمبر: 1342
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حدثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، عَلَّمَهُمْ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ كَبَّرَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا ، وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُون ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى ، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى ، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا ، وَاطْوِ عَنْا بُعْدَهُ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ ، وَإِذَا رَجَعَ ، قَالَ : " هُنَّ وَزَادَ فِيهِنَّ آيِبُونَ ، تَائِبُونَ ، عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " .
علی ازدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے انہیں سکھایا کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر باہر روانہ ہونے کے لیے اپنے اونٹ پر سوار ہوتے، تین دفعہ «اَللهُ اَكْبَر» کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے، «سبْحانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ.» ”پاک اور مقدس ہے وہ ذات جس نے ہماری سواری کے لیے اپنی اس مخلوق کو ہمارے لیے مسخر کر دیا ہے اور ہمارے قابو میں کر دیا۔ اور خود ہم میں اس کی طاقت نہ تھی، کہ ہم اپنی ذاتی تدبیر و طاقت سے اس طرح قابو یافتہ ہو جاتے، اس نے اپنے فضل و کرم سے ایسا کر دیا۔ اور ہم (بالآخر) اپنے اس مالک کے پاس لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکوکاری اور پرہیز گاری کی درخواست کرتے ہیں اور ان اعمال کی جو تیری رضا کا باعث ہوں، اے اللہ! ہمارے اس سفر کو ہمارے لیے آسان کر دے، اور اس کی طوالت کو (اپنی قدرت و رحمت سے) مختصر کر دے، (لپیٹ دے) اے اللہ! تو ہی ہمارا سفر میں رفیق اور ساتھی ہے اور گھر والوں میں نگران اور دیکھ بھال کرنے والا ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، سفر کی مشقت اور زحمت سے اور اس بات سے کہ میں کوئی رنج دہ بات دیکھو ں اور سفر سے واپسی پر اہل و عیال یا مال و جائیداد میں کوئی بری بات پاؤں۔“ اور جب سفر سے واپس آتے، تب بھی یہی دعا کرتے، اور آخر میں ان کلمات کا اضافہ کرتے، «هُنَّ وَزَادَ فِيهِنَّ آيِبُونَ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» ”ہم سفر سے واپس لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، اپنے پروردگار کی حمد و ستائش کرنے والے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1342
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1343
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَافَرَ يَتَعَوَّذُ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْنِ ، وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ " ،
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر روانہ ہوتے، تو سفر کی مشقت، رنج دہ واپسی، کمال کے بعد زوال، مظلوم کی بددعا، اور اہل و عیال اور مال و متاع میں برے نظارہ سے پناہ مانگتے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1343
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1343
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، حدثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَاصِمٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَاحِدِ : فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ ، وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ خَازِمٍ ، قَالَ : يَبْدَأُ بِالْأَهْلِ إِذَا رَجَعَ ، وَفِي رِوَايَتِهِمَا جَمِيعًا : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ .
امام صاحب یہی روایت اپنے تین اور اساتذہ سے نقل کرتے ہیں، مگر عبدالواحد کی روایت میں فِي الْمَالِ وَالْاَهْلِ
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1343
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»