کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: قربانی کے دن جمرہ عقبہ کو سوار ہو کر کنکریاں مارنے کا استحباب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بیان میں کہ ”تم مجھ سے حج کے احکام سیکھ لو“۔
حدیث نمبر: 1297
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، جميعا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ ، وَيَقُولُ : لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ ، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ " .
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے قربانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سواری پر کنکریاں مارتے دیکھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”مجھ سے حج کے احکام سیکھ لو، کیونکہ میں نہیں جانتا شاید اس حج کے بعد میں حج نہ کر سکوں۔‘‘
حدیث نمبر: 1298
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ ، قَالَ : سَمِعْتُهَا تَقُولُ : حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ ، فَرَأَيْتُهُ حِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ، وَانْصَرَفَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، وَمَعَهُ بِلَالٌ ، وَأُسَامَةُ ، أَحَدُهُمَا يَقُودُ بِهِ رَاحِلَتَهُ ، وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّمْسِ ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلًا كَثِيرًا ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ حَسِبْتُهَا قَالَتْ : أَسْوَدُ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى ، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا " .
معقل نے زید بن ابی انیسہ سے حدیث بیان کی انہوں نے یحییٰ بن حصین سے اور انہوں نے اپنی دادی حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا سے روایت کی، (یحییٰ بن حصین نے) کہا: میں نے ان سے سنا کہہ رہی تھیں حجۃ الوداع کے موقع پر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں حج کیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھا جب آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں اور واپس پلٹے آپ اپنی سواری پر تھے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے ان میں سے ایک آگے سے (مہار پکڑ کر) آپ کی سواری کو ہانک رہا تھا اور دوسرا دھوپ سے (بچاؤ کے لیے) اپنا کپڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر تانے ہوئے تھا۔ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس موقع پر) بہت سی باتیں ارشاد فرمائیں۔ پھر میں نے آپ سے سنا آپ فرما رہے تھے: ”اگر کوئی کٹے ہوئے اعضاء والا۔۔۔ میرا خیال ہے انہوں (حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا) نے کہا:۔۔۔ کالا غلام بھی تمہارا امیر بنا دیا جائے جو اللہ کی کتاب کے مطابق تمہاری قیادت کرے تو تم اس کی بات سننا اور اطاعت کرنا۔“
حدیث نمبر: 1298
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ جَدَّتِهِ ، قَالَتْ : " حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ ، فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ ، وَبِلَالًا ، وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ مِنَ الْحَرِّ ، حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ " ، قَالَ مُسْلِم : وَاسْمُ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، وَهُوَ خَالُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ ، رَوَى عَنْهُ ، وَكِيعٌ ، وَحَجَّاجٌ الْأَعْوَرُ .
حضرت ام الحصین رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے حجۃ الوداع، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کیا اور میں نے بلال اور اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو دیکھا، ان میں سے ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار کو پکڑے ہوئے تھا اور دوسرا اپنا کپڑا بلند کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرمی سے سایہ کیے ہوئے تھا، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ پر کنکریاں ماریں، امام مسلم فرماتے ہیں، ابو عبدالرحیم کا نام خالد بن ابی یزید ہے، اور یہ محمد بن مسلمہ کا ماموں ہے، وکیع اور حجاج اعور اس کے شاگرد ہیں۔