کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: مکہ مکرمہ میں جب داخلہ ہو تو ذی طویٰ میں رات گزارنے اور غسل کرنے اور دن کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا استحباب۔
حدیث نمبر: 1259
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَاتَ بِذِي طَوًى حَتَّى أَصْبَحَ ، ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ " ، قَالَ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ سَعِيدٍ : حَتَّى صَلَّى الصُّبْحَ ، قَالَ يَحْيَى : أَوَ قَالَ : حَتَّى أَصْبَحَ .
زہیر بن حرب اور عبید اللہ بن سعید نے مجھے حدیث سنائی۔ دونوں نے کہا: ہمیں یحییٰ القطان نے حدیث بیان کی انہوں نے عبید اللہ سے روایت کی، (کہا) مجھے نافع نے خبر دی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی طویٰ مقام پر رات گزاری کہ صبح کر لی۔ پھر مکہ میں داخل ہوئے۔ (نافع نے) کہا: حضرت عبداللہ (بن عمر رضی اللہ عنہما) بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ عبید اللہ بن سعید کی روایت میں ہے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کر لی۔ یحییٰ نے کہا: یا (عبید اللہ نے) کہا تھا: حتی کہ صبح کر لی۔
حدیث نمبر: 1259
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ : " كَانَ لَا يَقْدَمُ مَكَّةَ إِلَّا بَاتَ بِذِي طَوًى ، حَتَّى يُصْبِحَ وَيَغْتَسِلَ ، ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ نَهَارًا " ، وَيَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ فَعَلَهُ .
نافع سے روایت ہے، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب بھی مکہ تشریف لاتے، رات ذی طویٰ میں گزارتے، صبح کے بعد غسل کرتے، پھر دن کے وقت مکہ میں داخل ہوتے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل بھی یہی بیان کرتے۔
حدیث نمبر: 1259
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، حَدَّثَهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَنْزِلُ بِذِي طَوًى وَيَبِيتُ بِهِ ، حَتَّى يُصَلِّيَ الصُّبْحَ ، حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ ، وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ ، عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي بُنِيَ ، ثَمَّ وَلَكِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ " .
حضرت عبداللہ (بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لاتے، تو پڑاؤ ذی طویٰ پر کرتے، وہیں رات بسر کرتے حتی کہ صبح کی نماز پڑھتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز گاہ ایک بڑے ٹیلے پر ہے، اس مسجد میں نہیں، جو وہاں بنا دی گئی ہے، لیکن اس کے نیچے ایک بڑے ٹیلے پر۔
حدیث نمبر: 1260
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، أَخْبَرَهُ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَقْبَلَ فُرْضَتَيِ الْجَبَلِ ، الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ نَحْوَ الْكَعْبَةِ ، يَجْعَلُ الْمَسْجِدَ الَّذِي بُنِيَ ، ثَمَّ يَسَارَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِطَرَفِ الْأَكَمَةِ ، وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْفَلَ مِنْهُ عَلَى الْأَكَمَةِ السَّوْدَاءِ ، يَدَعُ مِنَ الْأَكَمَةِ عَشْرَةَ أَذْرُعٍ أَوْ نَحْوَهَا ، ثُمَّ يُصَلِّي مُسْتَقْبِلَ الْفُرْضَتَيْنِ مِنَ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ ، الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ " .
موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے رخ پر اس پہاڑ کی دونوں گھاٹیوں کو سامنے رکھا جو آپ کے اور لمبے پہاڑ کے درمیان تھا آپ اس مسجد کو جو وہاں بنائی گئی ہے ٹیلے کے کنارے والی مسجد کے بائیں ہاتھ رکھتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھنے کی جگہ اس مسجد سے نیچے کالے ٹیلے پر تھی ٹیلے سے تقریباً دس ہاتھ (جگہ) چھوڑتے پھر آپ لمبے پہاڑ کی دونوں گھاٹیوں کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے وہ پہاڑ جو تمہارے اور کعبہ کے درمیان پڑتا ہے۔