کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: عمرہ کرنے والے کے لئے اپنے بالوں کے کٹوانے کا جواز، اور سر کا منڈانا واجب نہیں ہے، اور سر کے منڈوانے اور کٹوانے کے استحباب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1246
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ لِي مُعَاوِيَةُ : " أَعَلِمْتَ أَنِّي قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْمَرْوَةِ بِمِشْقَصٍ " ، فَقُلْتُ لَهُ : " لَا أَعْلَمُ هَذَا إِلَّا حُجَّةً عَلَيْكَ " .
ہشام بن حجیر نے طاوس سے روایت کی، کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ذکر کیا کہ مجھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے مروہ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال قینچی سے کاٹے تھے؟ میں نے کہا: میں یہ تو نہیں جانتا مگر (یہ جانتا ہوں کہ) آپ کی یہ بات آپ ہی کے خلاف دلیل ہے۔
حدیث نمبر: 1246
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : " قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ ، وَهُوَ عَلَى الْمَرْوَةِ أَوْ رَأَيْتُهُ يُقَصَّرُ عَنْهُ بِمِشْقَصٍ وَهُوَ عَلَى الْمَرْوَةِ " .
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ معاویہ بن سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مروہ پر، تیر کے پیکان سے کاٹے تھے، یا میں نے آپ صلی الله عليہ وسلم کو دیکھا، مروہ پر آپ صلی الله عليہ وسلم کے بال تیر کے پیکان سے کاٹے جا رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 1247
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ ، أَمَرَنَا أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَرُحْنَا إِلَى مِنًى ، أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ " .
عبدالاعلی بن عبدالاعلی نے حدیث بیان کی، (کہا) ہمیں داود نے ابونضرہ سے انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انتہائی بلند آواز سے حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے نکلے۔ جب ہم مکہ پہنچے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ جن کے پاس قربانی ہے ان کے علاوہ ہم تمام اسے (حج کو) عمرہ میں بدل دیں۔ جب (ترویہ) آٹھ ذوالحجہ کا دن آیا تو ہم نے احرام باندھا منیٰ کی طرف روانہ ہوئے اور حج کا تلبیہ پکارا۔
حدیث نمبر: 1248
وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَا : " قَدِمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا " .
وہیب بن خالد نے داود سے انہوں نے ابونضرہ سے انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، ان دونوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ پہنچے اور ہم بہت بلند آواز سے حج کا تلبیہ پکار رہے تھے۔
حدیث نمبر: 1249
حَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَأَتَاهُ آتٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَابْنَ الزُّبَيْرِ اخْتَلَفَا فِي الْمُتْعَتَيْنِ " ، فَقَالَ جَابِرٌ : " فَعَلْنَاهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ ، فَلَمْ نَعُدْ لَهُمَا " .
ابونضرہ سے روایت ہے کہا: میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے دونوں متعوں (حج تمتع اور عورتوں سے متعہ) کے بارے میں ایک دوسرے سے اختلاف کیا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ دونوں متعے کیے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ان دونوں سے روک دیا تو دوبارہ ہم نے دونوں نہیں کیے۔