کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: عمرہ کا احرام باندھنے والا سعی کرنے سے پہلے طواف کے ساتھ حلال نہیں ہو سکتا اور نہ ہی حج کا احرام باندھنے والا طواف قدوم سے پہلے حلال ہو سکتا ہے یعنی احرام نہیں کھول سکتا، اور اسی طرح قارن۔
حدیث نمبر: 1235
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ لَهُ : سَلْ لِي عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَنْ رَجُلٍ يُهِلُّ بِالْحَجِّ فَإِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ أَيَحِلُّ أَمْ لَا ؟ ، فَإِنْ قَالَ لَكَ : لَا يَحِلُّ ، فَقُلْ لَهُ : إِنَّ رَجُلًا يَقُولُ ذَلِكَ ، قَالَ : فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " لَا يَحِلُّ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ إِلَّا بِالْحَجِّ " ، قُلْتُ : فَإِنَّ رَجُلًا كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ ، قَالَ : بِئْسَ مَا قَالَ ، فَتَصَدَّانِي الرَّجُلُ فَسَأَلَنِي فَحَدَّثْتُهُ ، فَقَالَ : فَقُلْ لَهُ : فَإِنَّ رَجُلًا كَانَ يُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَ ذَلِكَ ، وَمَا شَأْنُ أَسْمَاءَ وَالزُّبَيْرِ قَدْ فَعَلَا ذَلِكَ ، قَالَ فَجِئْتُهُ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ ، فَقُلْتُ : لَا أَدْرِي ، قَالَ : فَمَا بَالُهُ لَا يَأْتِينِي بِنَفْسِهِ يَسْأَلُنِي أَظُنُّهُ عِرَاقِيًّا ، قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، قَالَ : فَإِنَّهُ قَدْ كَذَبَ : " قَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ " ، ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ، ثُمَّ عُمَرُ مِثْلُ ذَلِكَ ، ثُمَّ حَجَّ عُثْمَانُ ، فَرَأَيْتُهُ أَوَّلُ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ، ثُمَّ مُعَاوِيَةُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ، ثُمَّ آخِرُ مَنْ رَأَيْتُ فَعَلَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ ، ثُمَّ لَمْ يَنْقُضْهَا بِعُمْرَةٍ ، وَهَذَا ابْنُ عُمَرَ عِنْدَهُمْ أَفَلَا يَسْأَلُونَهُ ، وَلَا أَحَدٌ مِمَّنْ مَضَى مَا كَانُوا يَبْدَءُونَ بِشَيْءٍ حِينَ يَضَعُونَ أَقْدَامَهُمْ ، أَوَّلَ مِنَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ لَا يَحِلُّونَ ، وَقَدْ رَأَيْتُ أُمِّي وَخَالَتِي حِينَ تَقْدَمَانِ ، لَا تَبْدَآنِ بِشَيْءٍ أَوَّلَ مِنَ الْبَيْتِ تَطُوفَانِ بِهِ ، ثُمَّ لَا تَحِلَّانِ ، وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَقْبَلَتْ هِيَ وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ بِعُمْرَةٍ قَطُّ ، فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا ، وَقَدْ كَذَبَ فِيمَا ذَكَرَ مِنْ ذَلِكَ .
محمد بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ ایک عراقی آدمی نے مجھے یہ کہا، میری خاطر، عروہ بن زبیر سے دریافت کیجئے، ایک آدمی حج کا احرام باندھتا ہے، تو جب وہ بیت اللہ کا طواف کر لیتا ہے، تو کیا وہ حلال ہو جائے گا یا نہیں؟ اگر وہ تمہیں یہ جواب دیں کہ وہ حلال نہیں ہو گا، تو ان سے کہنا، ایک آدمی اس کا قائل ہے، تو میں نے عروہ سے اس کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے کہا، جو حج کا احرام باندھتا ہے، وہ حج سے فراغت کے بعد حلال ہو گا، میں نے کہا، ایک آدمی کا یہی قول ہے، تو انہوں نے کہا، ان سے کہنا، ایک آدمی بتاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کیا ہے، اور کیا وجہ ہے حضرت اسماء اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بھی ایسا کیا ہے، میں ان (عروہ) کے پاس آیا، اور ان سے اس کا تذکرہ کیا، انہوں نے کہا، یہ سائل کون ہے؟ میں نے کہا، میں نہیں جانتا، انہوں نے کہا، کیا وجہ ہے وہ خود آ کر مجھ سے سوال کیوں نہیں کرتا؟ میرا گمان ہے وہ عراقی ہے، میں نے کہا، مجھے معلوم نہیں، انہوں نے کہا، اس نے غلط کہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا، تو مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پہنچ کر سب سے پہلا کام یہ کیا، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر بیت اللہ کا طواف کیا، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج کیا، اور سب سے پہلا کام یہی کیا کہ بیت اللہ کا طواف کیا، پھر وہ حج کے سوا نہیں بنا، پھر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسے ہی کیا، پھر عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج کیا، میں نے انہیں دیکھا، انہوں نے سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا، اور وہ حج کے سوا نہیں بنا، پھر میں نے اپنے باپ زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ حج کیا، انہوں نے بھی سب سے پہلا کام یہی کیا کہ بیت اللہ کا طواف کیا، پھر وہ حج کے سوا نہیں بنا، پھر میں نے مہاجرین اور انصار کو ایسے کرتے دیکھا، لیکن ان کا حج ہی رہا (یعنی کسی کا حج طواف قدوم سے فسخ ہو کر عمرہ نہیں بنا) پھر آخری شخص جس کو میں نے یہ کام کرتے دیکھا، وہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، انہوں نے حج کو فسخ کر کے عمرہ نہیں بنایا، یہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود ہیں، ان سے کیوں نہیں پوچھتے؟ جو صحابہ کرام فوت ہو چکے ہیں، جب وہ مکہ میں قدم رکھتے، بیت اللہ کے طواف سے پہلے کوئی کام نہیں کرتے تھے، پھر وہ حلال نہیں ہوتے تھے، میں نے اپنی والدہ اور خالہ (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کو دیکھا ہے، وہ جب آتی ہیں، طواف سے پہلے کوئی کام نہیں کرتی ہیں، اس کے باوجود حلال نہیں ہوتی ہیں، اور مجھے میری والدہ نے بتایا ہے کہ وہ اس کی بہن، زبیر اور فلاں فلاں نے فقط عمرہ کیا، جب انہوں نے رکن اسود کا بوسہ لیا، تو حلال ہو گئے، عراقی نے جو بیان کیا ہے وہ غلط ہے۔
حدیث نمبر: 1236
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مُحْرِمِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَقُمْ عَلَى إِحْرَامِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ " ، فَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْيٌ فَحَلَلْتُ ، وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ هَدْيٌ فَلَمْ يَحْلِلْ ، قَالَتْ : فَلَبِسْتُ ثِيَابِي ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَلَسْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ : قُومِي عَنِّي ، فَقُلْتُ : أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ ،
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے نقل کرتے ہیں، حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم احرام باندھ کر چلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی ہے، وہ اپنا احرام برقرار رکھے، اور جو قربانی ساتھ نہیں لایا، وہ حلال ہو جائے۔‘‘ میرے پاس قربانی نہیں تھی، اس لیے میں نے احرام کھول دیا، اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ قربانی تھی، اس لیے وہ حلال نہ ہوئے، وہ بیان کرتی ہیں، میں نے اپنے (حلال ہونے والے) کپڑے پہن لیے، پھر نکل کر زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جا بیٹھی، تو وہ کہنے لگے، میرے پاس سے چلی جاؤ، تو میں نے کہا، کیا تمہیں اندیشہ ہے کہ میں تم پر جھپٹ پڑوں گی؟
حدیث نمبر: 1236
وَحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ : قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَ : اسْتَرْخِي عَنِّي اسْتَرْخِي عَنِّي ، فَقُلْتُ : أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ .
وہیب نے کہا: ہمیں منصور بن عبدالرحمان نے اپنی والدہ (صفیہ بنت شیبہ) سے، انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: ہم حج کا تلبیہ کہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ پہنچے، پھر آگے ابن جریج کی طرح ہی حدیث بیان کی، البتہ (اپنی حدیث میں یہ اضافہ) ذکر کیا: (حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے) کہا: مجھ سے دور رہو، مجھ سے دور رہو، میں نے کہا: آپ کو خدشہ ہے کہ میں آپ پر جھپٹ پڑوں گی۔
حدیث نمبر: 1237
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ كَانَ يَسْمَعُ أَسْمَاءَ كُلَّمَا مَرَّتْ بِالْحَجُونِ ، تَقُولُ : " صَلَّى اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ نَزَلْنَا مَعَهُ هَاهُنَا ، وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ خِفَافُ الْحَقَائِبِ قَلِيلٌ ظَهْرُنَا قَلِيلَةٌ أَزْوَادُنَا ، فَاعْتَمَرْتُ أَنَا وَأُخْتِي عَائِشَةُ ، وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ ، فَلَمَّا مَسَحْنَا الْبَيْتَ أَحْلَلْنَا ، ثُمَّ أَهْلَلْنَا مِنَ الْعَشِيِّ بِالْحَجِّ " ، قَالَ هَارُونُ فِي رِوَايَتِهِ : أَنَّ مَوْلَى أَسْمَاءَ ، وَلَمْ يُسَمِّ عَبْدَ اللَّهِ .
ہمیں ہارون بن سعید ایلی اور احمد بن عیسیٰ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن وہب نے حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے عمرو نے ابن اسود سے خبر دی کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے مولیٰ عبداللہ (بن کیسان) نے انہیں حدیث بیان کی کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا جب بھی مقام حجون سے گزرتیں تو وہ انہیں یہ کہتے ہوئے سنتے: ”اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں فرمائے!“ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس مقام پر پڑاؤ کیا تھا۔ ان دنوں ہمارے سفر کے تھیلے ہلکے، سواریاں کم اور زاد راہ بھی تھوڑا ہوتا تھا۔ میں، میری بہن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور فلاں فلاں شخص نے عمرہ کیا تھا، پھر جب ہم (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوا باقی سب) نے بیت اللہ (اور صفا مروہ) کا طواف کر لیا تو ہم (میں سے جنہوں نے عمرہ کرنا تھا انہوں نے) احرام کھول دیے، پھر (ترویہ کے دن) زوال کے بعد ہم نے (احرام باندھ کر) حج کا تلبیہ پکارا۔ ہارون نے اپنی روایت میں کہا: حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام نے (کہا)، انہوں نے ان کا نام، عبداللہ نہیں لیا۔