کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: حاجی کے لئے طواف قدوم اور اس کے بعد سعی کرنے کا استحباب۔
حدیث نمبر: 1233
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ وَبَرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَيَصْلُحُ لِي أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ آتِيَ الْمَوْقِفَ ؟ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ : فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : لَا تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى تَأْتِيَ الْمَوْقِفَ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " فَقَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ الْمَوْقِفَ ، فَبِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَأْخُذَ ، أَوْ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا " .
وبرہ سے روایت ہے کہ میں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، کہ ایک شخص نے آ کر پوچھا، کیا عرفات میں وقوف سے پہلے میرے لیے بیت اللہ کا طواف کرنا درست ہے، انہوں نے جواب دیا، ہاں۔ تو اس آدمی نے کہا، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، عرفات پہنچنے سے پہلے بیت اللہ کا طواف نہ کر، تو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا، اور عرفات جانے سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا، تو کیا تیرے لیے، اگر تیرا، دعویٰ ایمان سچا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو اختیار کرنا صحیح ہے یا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1233
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1233
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ وَبَرَةَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : أَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَقَدْ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ ؟ ، فَقَالَ : وَمَا يَمْنَعُكَ ؟ ، قَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ ابْنَ فُلَانٍ يَكْرَهُهُ ، وَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْهُ ، رَأَيْنَاهُ قَدْ فَتَنَتْهُ الدُّنْيَا ، فَقَالَ : وَأَيُّنَا أَوْ أَيُّكُمْ لَمْ تَفْتِنْهُ الدُّنْيَا ، ثُمَّ قَالَ : " رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ ، وَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَسُنَّةُ اللَّهِ وَسُنَّةُ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعَ مِنْ سُنَّةِ فُلَانٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا " .
وبرہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا، میں نے حج کا احرام باندھا ہے، تو کیا میں بیت اللہ کا طواف کروں؟ انہوں نے فرمایا: تیرے لیے کیا رکاوٹ ہے؟ اس نے کہا، میں نے فلاں کے بیٹے کو دیکھا ہے، وہ اسے ناپسند کرتا ہے، اور آپ ہمیں اس سے زیادہ محبوب ہیں۔ کیونکہ انہیں ہم نے دنیا کی آزمائش میں پڑتے دیکھا ہے، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، ہم میں سے یا تم میں سے کون دنیا کے فتنہ میں مبتلا نہیں ہے؟ پھر فرمایا، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا، اور بیت اللہ کا طواف کر کے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی، اگر تم دعویٰ ایمان میں سچے ہو تو تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کا طریقہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ، فلاں کے طریقہ سے اتباع کے زیادہ لائق ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1233
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1234
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ قَدِمَ بِعُمْرَةٍ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ ؟ ، فَقَالَ : " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا ، وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ " ،
عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں، ہم نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا، جو مکہ آ کر عمرہ کرنا چاہتا ہے، اس نے بیت اللہ کا طواف کر لیا، لیکن صفا اور مروہ کی سعی نہیں کی، کیا وہ اپنی بیوی سے تعلقات قائم کر سکتا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے، بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز ادا کی، اور صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگائے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے بہترین نمونہ ہیں، (کوئی انسان سعی سے پہلے احرام نہیں کھول سکتا)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1234
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1234
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ جَمِيعًا ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ .
حماد بن زید اور ابن جریج دونوں نے عمرو بن دینار کے واسطے سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، سفیان بن عینیہ کی (گزشتہ) حدیث کے مانند روایت بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1234
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»