کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: احصار کے وقت احرام کھولنے کا جواز، قران کا جواز اور قارن کے لئے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کا جواز۔
حدیث نمبر: 1230
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا خَرَجَ فِي الْفِتْنَةِ مُعْتَمِرًا ، وَقَالَ : إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجَ فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ، وَسَارَ حَتَّى إِذَا ظَهَرَ عَلَى الْبَيْدَاءِ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ : أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ " ، فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا جَاءَ الْبَيْتَ طَافَ بِهِ سَبْعًا ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا ، لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ ، وَرَأَى أَنَّهُ مُجْزِئٌ عَنْهُ وَأَهْدَى .
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک کے سامنے (حدیث کی) قراءت کی، انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فتنہ کے ایام میں عمرہ کے لیے نکلے اور کہا: اگر مجھے بیت اللہ جانے سے روک دیا گیا تو ہم ویسے ہی کریں گے جیسے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کیا تھا۔ وہ (مدینہ سے) نکلے اور (میقات سے) عمرہ کا تلبیہ پکارا، اور چل پڑے جب مقام بیداء (کی بلندی) پر نمودار ہوئے تو اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”دونوں (حج و عمرہ) کا معاملہ ایک ہی جیسا ہے۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج کی نیت بھی کر لی ہے۔“ پھر آپ نکل پڑے حتیٰ کہ بیت اللہ پہنچے تو اس کے (گرد) سات چکر لگائے۔ اور صفا مروہ کے مابین بھی سات چکر پورے کیے، ان پر کوئی اضافہ نہیں کیا۔ ان کی رائے تھی کہ یہی (ایک طواف اور ایک سعی) ان کی طرف سے کافی ہے اور (بعدازاں) انہوں نے (حج قران ہونے کی بنا پر) قربانی کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1230
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1230
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ لِقِتَالِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَا : لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ ، فَإِنَّا نَخْشَى أَنْ يَكُونَ بَيْنَ النَّاسِ قِتَالٌ ، يُحَالُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ ، قَالَ : فَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ ، حِينَ حَالَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً ، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ فَلَبَّى بِالْعُمْرَةِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنْ خُلِّيَ سَبِيلِي قَضَيْتُ عُمْرَتِي ، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ ، ثُمَّ تَلَا لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَهْرِ الْبَيْدَاءِ قَالَ : " مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ ، إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْعُمْرَةِ ، حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْحَجِّ ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَةٍ " ، فَانْطَلَقَ حَتَّى ابْتَاعَ بِقُدَيْدٍ هَدْيًا ، ثُمَّ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ مِنْهُمَا ، حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا بِحَجَّةٍ يَوْمَ النَّحْرِ ،
نافع بیان کرتے ہیں، جن دنون حجاج، حضرت ابن زبیر رضی الله تعالیٰ عنہ سے جنگ کے لیے مکہ پہنچا تھا، عبداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بات چیت کی، دونوں نے عرض کیا، اگر آپ اس سال حج نہ کریں، تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، کیونکہ ہمیں اندیشہ ہے، لوگوں میں جنگ ہو گی، جو آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گی، تو انہوں نے جواب دیا، اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ کھڑی ہوئی، تو میں ویسے ہی کروں گا، جیسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا، جبکہ قریش آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوئے تھے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں، میں نے عمرہ کی نیت کر لی ہے، پھر وہ (مدینہ سے) چل پڑے جب ذوالحلیفہ پہنچے تو عمرہ کا تلبیہ کہا، پھر کہا، اگر میرا راستہ چھوڑ دیا گیا، تو میں اپنا عمرہ ادا کروں گا، اور اگر میرے اور عمرہ کے درمیان رکاوٹ کھڑی کر دی گئی تو ویسے کروں گا جیسا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا، پھر یہ آیت پڑھی: ﴿لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ (تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہترین نمونہ ہیں۔) پھر چل پڑے، جب مقام بیداء کی پشت پر پہنچے، کہنے لگے دونوں (حج اور عمرہ) کا معاملہ یکساں ہی ہے، اگر میرے اور عمرہ کے درمیان رکاوٹ پیدا ہوئی، تو میرے اور حج کے درمیان بھی رکاوٹ پیدا ہو گی، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں، میں نے عمرہ کے ساتھ حج کو بھی لازم کر لیا ہے، پھر چل پڑے، حتی کہ مقام قُدَيد سے ہدی خرید لی، پھر دونوں کے لیے (حج اور عمرہ کے لیے) بیت اللہ اور صفا و مروہ کا ایک ہی طواف کیا، پھر دونوں سے اس وقت تک حلال نہیں ہوئے، حتی کہ دونوں سے حج کر کے نحر کے دن حلال ہو گئے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1230
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1230
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ الْحَجَّ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ ، وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ : وَكَانَ يَقُولُ : " مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ كَفَاهُ طَوَافٌ وَاحِدٌ ، وَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " .
نافع بیان کرتے ہیں، جس سال حجاج، ابن زبیر رضي الله تعاليٰ عنه سے جنگ کے لیے آیا، حضرت ابن عمر رضی الله تعالیٰ عنہ نے حج کا ارادہ کیا، اور مذکورہ بالا واقعہ بیان کیا، حدیث کے آخر میں ہے، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے، جس نے حج اور عمرہ اکٹھا کیا، اس کے لیے ایک طواف کافی ہے، اور وہ اس وقت حلال نہیں ہو گا، جب تک دونوں سے حلال نہ ہو جائے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1230
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1230
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَرَادَ الْحَجَّ عَامَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ النَّاسَ كَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ ، وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ ، فَقَالَ : " لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ، أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً " ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ ، قَالَ : مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلَّا وَاحِدٌ اشْهَدُوا ، قَالَ ابْنُ رُمْحٍ : أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي وَأَهْدَى هَدْيًا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ ، ثُمَّ انْطَلَقَ يُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ ، وَلَمْ يَنْحَرْ وَلَمْ يَحْلِقْ وَلَمْ يُقَصِّرْ وَلَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ ، حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَنَحَرَ وَحَلَقَ ، وَرَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِهِ الْأَوَّلِ ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : كَذَلِكَ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ،
نافع سے روایت ہے کہ جس سال حجاج، ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقابلہ میں اترا، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج کرنے کا ارادہ کیا، تو ان سے عرض کیا گیا، لوگوں میں جنگ ہونے والی ہے، اور ہمیں خطرہ ہے کہ وہ آپ کو بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیں گے، تو انہوں نے جواب دیا، (تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہترین نمونہ ہیں) میں ویسے کروں گا، جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں، میں نے عمرہ کی نیت کر لی ہے، پھر چل پڑے حتی کہ جب مقام بیداء کی بلندی پر پہنچے، کہنے لگے، حج اور عمرہ کی صورت حال یکساں ہی ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1230
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1230
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل كِلَاهُمَا ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، وَلَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَّا فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ حِينَ قِيلَ لَهُ يَصُدُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ ، قَالَ : إِذًا أَفْعَلَ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ : هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَمَا ذَكَرَهُ اللَّيْثُ .
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ واقعہ بیان کرتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ صرف حدیث کے آغاز میں کیا ہے جب ان سے کہا گیا کہ وہ آپ کو بیت اللہ سے روک دیں گے تو کہا تب میں ویسے کروں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور حدیث کے آخر میں یہ بھی نہیں کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا لیث نے اس کا تذکرہ کیا تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1230
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»