حدیث نمبر: 1223
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ : كَانَ عُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ ، وَكَانَ عَلِيٌّ يَأْمُرُ بِهَا ، فَقَالَ عُثْمَانُ لِعَلِيٍّ كَلِمَةً " ، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ : " لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّا قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، فَقَالَ : " أَجَلْ وَلَكِنَّا كُنَّا خَائِفِينَ " ،
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، کہا: عبداللہ بن شقیق نے بیان کیا: عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع سے منع فرمایا کرتے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کا حکم دیتے تھے۔ (ایک مرتبہ) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں کوئی بات کہی۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا تھا۔ (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے) کہا: جی بالکل (کیا تھا) لیکن اس وقت ہم خوف زدہ تھے۔
حدیث نمبر: 1223
وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
خالد، یعنی ابن حارث نے ہمیں حدیث بیان کی، ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی (مذکورہ بالا حدیث) کے مانند حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 1223
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : اجْتَمَعَ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ رضي الله عنهما بعسفان ، فكان عثمان ينهى عَنِ الْمُتْعَةِ أَوِ الْعُمْرَةِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : " مَا تُرِيدُ إِلَى أَمْرٍ فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنْهَى عَنْهُ " ، فَقَالَ عُثْمَانُ : " دَعْنَا مِنْكَ " ، فَقَالَ : " إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدَعَكَ " ، فَلَمَّا أَنْ رَأَى عَلِيٌّ ذَلِكَ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا .
عمرو بن مرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی، کہا: (ایک مرتبہ) مقام عسفان پر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع سے یا (حج کے مہینوں میں) عمرہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: آپ اس معاملے میں کیا کرنا چاہتے ہیں جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور آپ رضی اللہ عنہ اس سے منع فرماتے ہیں؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: آپ اپنی رائے کی بجائے ہمیں ہماری رائے پر چھوڑ دیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: (آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف حکم دے رہے ہیں) میں آپ کو نہیں چھوڑ سکتا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ (اصرار) دیکھا تو حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارنا شروع کر دیا (تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق تمتع بھی رائج رہے۔)
حدیث نمبر: 1224
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي الْحَجِّ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً " .
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں حج تمتع، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے ساتھ خاص تھا۔
حدیث نمبر: 1224
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَيَّاشٍ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَتْ لَنَا رُخْصَةً " يَعْنِي : الْمُتْعَةَ فِي الْحَجِّ .
عیاش عامری نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے اپنے والد (یزید بن شریک) سے، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: یہ رخصت صرف ہمارے ہی لیے تھی، یعنی حج میں تمتع کی۔
حدیث نمبر: 1224
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ فُضَيْلٍ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " لَا تَصْلُحُ الْمُتْعَتَانِ ، إِلَّا لَنَا خَاصَّةً " يَعْنِي : مُتْعَةَ النِّسَاءِ وَمُتْعَةَ الْحَجِّ .
زبید نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دو متعے ہمارے علاوہ کسی کے لیے صحیح نہیں (ہوئے) یعنی عورتوں سے (نکاح) متعہ کرنا اور حج میں تمتع (حج کا احرام باندھ کر آنا، پھر اس سے عمرہ کر کے حج سے پہلے احرام کھول دینا، درمیان کے دنوں میں بیویوں اور خوشبو وغیرہ سے متمتع ہونا اور آخر میں روانگی کے وقت حج کا احرام باندھنا۔)
حدیث نمبر: 1224
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، قَالَ : أَتَيْتُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ ، وَإِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ ، فَقُلْتُ " إِنِّي أَهُمُّ أَنْ أَجْمَعَ الْعُمْرَةَ وَالْحَجَّ الْعَامَ " ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ : " لَكِنْ أَبُوكَ لَمْ يَكُنْ لِيَهُمَّ بِذَلِكَ " ، قَالَ قُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ مَرَّ بِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالرَّبَذَةِ ، فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا كَانَتْ لَنَا خَاصَّةً دُونَكُمْ " .
ہمیں قتیبہ نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں جریر نے بیان سے، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی شعثاء سے روایت کی، کہا: میں ابراہیم نخعی اور ابراہیم تیمی کے پاس آیا اور ان سے کہا: میں چاہتا ہوں کہ اس سال حج اور عمرہ دونوں کو اکٹھا ادا کروں۔ ابراہیم نخعی نے (میری بات سن کر) کہا: تمہارے والد (ابوشعثاء) تو کبھی ایسا ارادہ بھی نہ کرتے۔ قتیبہ نے کہا: ہمیں جریر نے بیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے اپنے والد (یزید بن شریک) سے روایت کی کہ ایک مرتبہ ان کا گزر ربذہ کے مقام پر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا، انہوں نے اس سے (حج میں تمتع) کا ذکر کیا۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: یہ تم لوگوں کو چھوڑ کر خاص ہمارے لیے تھا۔
حدیث نمبر: 1225
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا ، عَنِ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ سَعِيدٌ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْمُتْعَةِ ، فَقَالَ : " فَعَلْنَاهَا ، وَهَذَا يَوْمَئِذٍ كَافِرٌ بِالْعُرُشِ " يَعْنِي : بُيُوتَ مَكَّةَ ،
مروان بن معاویہ نے کہا: ہمیں سلیمان تیمی نے غنیم بن قیس سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے حج تمتع کے بارے میں استفسار کیا۔ انہوں نے کہا ہم نے حج تمتع کیا تھا۔ اور یہ (معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ) ان دنوں سائبانوں (والے گھروں) میں خود کو ڈھانپے ہوئے (مقیم) تھے، یعنی مکہ کے گھروں میں۔ (معاویہ رضی اللہ عنہ بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرح حج افراد پر اصرار کرتے تھے۔)
حدیث نمبر: 1225
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ : يَعْنِي : مُعَاوِيَةَ ،
یحییٰ بن سعید نے سلیمان تیمی سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور اپنی روایت میں کہا: ان کی مراد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے تھی۔
حدیث نمبر: 1225
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِهِمَا ، وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ الْمُتْعَةُ فِي الْحَجِّ .
سفیان اور شعبہ دونوں نے سلیمان تیمی سے اسی سند کے ساتھ ان دونوں (مروان اور یحییٰ) کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ہے۔ (البتہ) سفیان کی حدیث میں ہے: حج میں تمتع (کے بارے میں دریافت کیا۔)
حدیث نمبر: 1226
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : " إِنِّي لَأُحَدِّثُكَ بِالْحَدِيثِ الْيَوْمَ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ ، وَاعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْمَرَ طَائِفَةً مِنْ أَهْلِهِ فِي الْعَشْرِ ، فَلَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ ذَلِكَ ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ ، ارْتَأَى كُلُّ امْرِئٍ بَعْدُ مَا شَاءَ أَنْ يَرْتَئِيَ " ،
ہمیں اسماعیل بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں جریری نے حدیث سنائی، انہوں نے ابوالعلاء سے، انہوں نے مطرف سے روایت کی، (مطرف نے) کہا: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: میں تمہیں آج ایک ایسی حدیث بیان کرنے لگا ہوں جس سے اللہ تعالیٰ آج کے بعد تمہیں نفع دے گا۔ جان لو! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں میں سے کچھ کو ذوالحجہ میں عمرہ کروایا، پھر نہ تو کوئی ایسی آیت نازل ہوئی جس نے اسے (حج کے مہینوں میں عمرہ کو) منسوخ قرار دیا ہو، اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل کی طرف تشریف لے گئے۔ بعد میں ہر شخص نے جو رائے قائم کرنا چاہی کر لی۔
حدیث نمبر: 1226
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ ، وقَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِي رِوَايَتِهِ " ارْتَأَى رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ " ، يَعْنِي عُمَرَ .
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، ان کے استاد ابن حاتم کی روایت میں یہ ہے، ایک آدمی نے اپنی رائے سے جو چاہا رائے قائم کر لی، ان کا اشارہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف تھا، (کیونکہ وہ حج تمتع سے روکتے تھے)۔
حدیث نمبر: 1226
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : " أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ ، ثُمَّ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّى مَاتَ وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهُ ، وَقَدْ كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيَّ حَتَّى اكْتَوَيْتُ ، فَتُرِكْتُ ثُمَّ تَرَكْتُ الْكَيَّ فَعَادَ " ،
ہمیں معاذ نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں شعبہ نے حمید بن ہلال سے، انہوں نے مطرف سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں۔ وہ دن دور نہیں جب اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے فائدہ دے گا۔ بلاشبہ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو (حج کے مہینوں میں) اکٹھا کیا، پھر آپ نے وفات تک اس سے منع نہیں فرمایا، اور نہ اس کے بارے میں قرآن ہی میں کچھ نازل ہوا جو اسے حرام قرار دے اور یہ بھی (بتایا) کہ مجھے (فرشتوں کی طرف سے) سلام کیا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ (بواسیر کی بناء پر) میں نے اپنے آپ کو دغوایا تو مجھے (سلام کہنا) چھوڑ دیا گیا، پھر میں نے دغوانا چھوڑ دیا تو (فرشتوں کا سلام) دوبارہ شروع ہو گیا۔
حدیث نمبر: 1226
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفًا ، قَالَ : قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ .
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا) ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی، انہوں نے حمید بن ہلال سے روایت کی، کہا میں نے مطرف سے سنا، انہوں نے کہا حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا۔ آگے معاذ کی حدیث کے مانند ہے۔
حدیث نمبر: 1226
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : بَعَثَ إِلَيَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ ، فَقَالَ : " إِنِّي كُنْتُ مُحَدِّثَكَ بِأَحَادِيثَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهَا بَعْدِي ، فَإِنْ عِشْتُ فَاكْتُمْ عَنِّي ، وَإِنْ مُتُّ فَحَدِّثْ بِهَا إِنْ شِئْتَ ، إِنَّهُ قَدْ سُلِّمَ عَلَيَّ ، وَاعْلَمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابُ اللَّهِ ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَجُلٌ فِيهَا بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ " .
مطرف بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، اپنی اس بیماری میں جس میں ان کی وفات ہوئی ہے، مجھے بلا بھیجا، اور کہا، میں تمہیں چند احادیث سنانا چاہتا ہوں، امید ہے، اللہ تعالیٰ میرے بعد تمہیں ان سے فائدہ پہنچائے گا، اگر میں زندہ رہا تو میرے بارے میں یہ نہ بتانا، اور اگر میں فوت ہو گیا، تو چاہو، تو بیان کر دینا، واقعہ یہ ہے کہ مجھے (فرشتوں کی طرف سے) سلام کہا جاتا ہے، (زندگی میں یہی بات چھپانا مقصود ہے) جان لو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ اکٹھا کیا، پھر اس کے بارے میں کتاب اللہ میں کچھ نہیں اترا (جس سے اس کی ممانعت ثابت ہو) اور نہ ہی اس سے نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا ہے۔ ایک آدمی نے اس کے متعلق اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔
حدیث نمبر: 1226
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " اعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِيهَا رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ " .
ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: جان لو! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو اکٹھا کیا تھا۔ اس کے بعد نہ تو اس معاملے میں اللہ کی کتاب (میں کوئی بات) نازل ہوئی۔ اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان دونوں سے منع فرمایا: پھر ایک شخص نے اس کے بارے میں اپنی رائے سے جو چاہا کہا۔
حدیث نمبر: 1226
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ الْقُرْآنُ ، قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ " ،
ہمام نے کہا: ہمیں قتادہ نے مطرف کے واسطے سے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان فرمائی: کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج میں) تمتع کیا تھا اور اس کے بعد اس کے متعلق قرآن نازل نہ ہوا (کہ یہ درست نہیں ہے اس کے متعلق) ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔
حدیث نمبر: 1226
وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : " تَمَتَّعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ " .
محمد بن واسع نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے، انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث بیان کی، (حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج میں) تمتع (حج و عمرہ کو ایک ساتھ ادا) کیا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ (حج میں) تمتع کیا تھا۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی صورت میں حج و عمرہ اکٹھا ادا کیا، جو قربانیاں ساتھ نہ لائے تھے انہوں نے انہی دنوں میں الگ الگ احرام باندھ کر دونوں کو ادا کیا)
حدیث نمبر: 1226
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، قَالَ : قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : " نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِي كِتَابِ اللَّهِ يَعْنِي مُتْعَةَ الْحَجِّ ، وَأَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ لَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ آيَةَ مُتْعَةِ الْحَجِّ ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَ ، قَالَ رَجُلٌ : بِرَأْيِهِ بَعْدُ مَا شَاءَ " ،
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں آیت المتعۃ یعنی حج تمتع کے بارے میں آیت اتری اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا، پھر ایسی کوئی آیت نہیں اتری جو حج تمتع کی آیت کو منسوخ کر دے، اور نہ ہی اس سے اپنی وفات تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ بعد میں ایک آدمی نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔
حدیث نمبر: 1226
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَصِيرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " وَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وَلَمْ يَقُلْ : " وَأَمَرَنَا بِهَا " .
یہی روایت امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا کی جگہ یہ ہے ہم نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا۔