کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: وقوف کے بارے میں، اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں «ثم افيضوا من حيث افاض الناس»۔
حدیث نمبر: 1219
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَ قُرَيْشٌ وَمَنْ دَانَ دِينَهَا يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ ، وَكَانُوا يُسَمَّوْنَ الْحُمْسَ ، وَكَانَ سَائِرُ الْعَرَبِ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ ، أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عَرَفَاتٍ فَيَقِفَ بِهَا ، ثُمَّ يُفِيضَ مِنْهَا ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ : ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199 " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ قریش اور ان کے طریقہ پر چلنے والے، مزدلفہ میں ٹھہر جاتے تھے اور خود کو حُمس (دین میں متصلب اور پختہ) کہتے تھے اور باقی عرب عرفہ میں وقوف کرتے تھے، جب اسلام کا دور آیا، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کو عرفات پہنچ کر وقوف کرنے کا حکم دیا، پھر وہاں سے واپس لوٹے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”پھر وہاں سے لوٹو، جہاں سے دوسرے لوگ لوٹتے ہیں۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: آیت نمبر 199)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1219
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1219
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كَانَتِ الْعَرَبُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرَاةً إِلَّا الْحُمْسَ وَالْحُمْسُ قُرَيْشٌ ، وَمَا وَلَدَتْ كَانُوا يَطُوفُونَ عُرَاةً إِلَّا أَنْ تُعْطِيَهُمُ الْحُمْسُ ثِيَابًا ، فَيُعْطِي الرِّجَالُ الرِّجَالَ وَالنِّسَاءُ النِّسَاءَ ، وَكَانَتِ الْحُمْسُ لَا يَخْرُجُونَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ ، وَكَانَ النَّاسُ كُلُّهُمْ يَبْلُغُونَ عَرَفَاتٍ " ، قَالَ هِشَامٌ : فَحَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " الْحُمْسُ هُمُ الَّذِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ : ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199 ، قَالَتْ : كَانَ النَّاسُ يُفِيضُونَ مِنْ عَرَفَاتٍ وَكَانَ الْحُمْسُ يُفِيضُونَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ يَقُولُونَ : لَا نُفِيضُ إِلَّا مِنَ الْحَرَمِ ، فَلَمَّا نَزَلَتْ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199 رَجَعُوا إِلَى عَرَفَاتٍ " .
ہشام اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ عرب حُمس قریش کو چھوڑ کر، بیت اللہ کا ننگے طواف کرتے تھے، اور حُمس سے مراد قریش اور ان کی اولاد ہے، عرب ان کے سوا جن کو قریش کپڑے عنایت کر دیتے، برہنہ طواف کرتے تھے، مرد، مردوں کو کپڑے دیتے اور عورتیں عورتوں کو دیتیں، اور حُمس مزدلفہ سے باہر نہیں نکلتے تھے، اور باقی سب لوگ عرفات پہنچتے تھے، ہشام کہتے ہیں، مجھے میرے باپ نے حضرت عائشہ رضی الله تعالی عنها سے نقل کیا کہ حُمس ہی کی بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: ”پھر وہاں سے واپس لوٹو، جہاں سے لوگ واپس لوٹتے ہیں۔‘‘ وہ بیان فرماتی ہیں کہ سب لوگ عرفات سے واپس لوٹتے اور حُمس مزدلفہ سے واپس آ جاتے تھے، وہ کہتے تھے، ہم حرم ہی سے واپس لوٹ آئیں گے، تو جب یہ آیت نازل ہوئی، ”وہاں سے واپس لوٹو، جہاں سے لوگ واپس لوٹتے ہیں۔‘‘ تو وہ عرفات تک پہنچ کر لوٹنے لگے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1219
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1220
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ : " أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ يَوْمَ عَرَفَةَ ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَمِنَ الْحُمْسِ ، فَمَا شَأْنُهُ هَاهُنَا وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تُعَدُّ مِنَ الْحُمْسِ " .
حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میرا اونٹ گم ہو گیا اور میں اس کی تلاش میں عرفہ کے دن نکلا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے ساتھ عرفات میں ٹھہرے ہوئے دیکھا، میں نے دل میں کہا، اللہ کی قسم! یہ تو حمس سے ہیں، تو وہ اس جگہ کیوں آ گئے؟ قریش حمس میں شمار ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1220
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»