کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: تکلیف لاحق ہونے کی صورت میں محرم کو سر منڈانے کی اجازت اور اس پر فدیہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1201
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ ، قَالَ الْقَوَارِيرِيُّ : قِدْرٍ لِي ، وقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : بُرْمَةٍ لِي وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي ، فَقَالَ : " أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاحْلِقْ وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً " ، قَالَ أَيُّوبُ : فَلَا أَدْرِي بِأَيِّ ذَلِكَ بَدَأَ ،
مجھے عبید اللہ بن عمر قواریری اور ابوربیع نے حدیث بیان کی (دونوں نے کہا) ہمیں حماد بن زید نے حدیث سنائی (حماد بن زید نے کہا) ہمیں ایوب نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے مجاہد سے سنا، وہ عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے حدیث بیان کر رہے تھے انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حدیبیہ کے دنوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں۔۔۔قواریری کے بقول اپنی ہنڈیا کے نیچے اور ابوربیع کے بقول۔۔۔اپنی پتھر کی دیگ کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور (میرے سر کی) جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے سر کی مخلوق (جوئیں) تمہارے لیے باعث اذیت ہیں؟“ کہا: میں نے جواب دیا جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”تو اپنا سر منڈوادو (اور فدیے کے طور پر) تین دن کے روزے رکھو۔ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ یا (ایک) قربانی دے دو۔“ ایوب نے کہا: مجھے علم نہیں ان (فدیے کی صورتوں میں) سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس چیز کا پہلے ذکر کیا۔
حدیث نمبر: 1201
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ : بِمِثْلِهِ .
امام صاحب اپنے تین اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1201
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196 ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : " ادْنُهْ فَدَنَوْتُ " ، فَقَالَ : " ادْنُهْ فَدَنَوْتُ " ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ؟ " ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : وَأَظُنُّهُ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَأَمَرَنِي بِفِدْيَةٍ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ مَا تَيَسَّرَ " .
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت مبارکہ: میرے بارے میں اتری ہے تو تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو اور وہ سر منڈا لے تو وہ فدیہ کے طور پر روزہ رکھے یا صدقہ کرے، یا قربانی کرے۔ (آیت نمبر 196، سورۃ البقرۃ) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہو جا۔‘‘ میں قریب ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہو جا،‘‘ میں قریب ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا جوئیں تجھے تکلیف پہنچا رہی ہیں؟‘‘ ابن عون کہتے ہیں، میرے خیال میں کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا، ہاں۔ کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بطور فدیہ حکم دیا کہ روزے، صدقہ اور قربانی میں سے جو آسان ہو اس پر عمل کرو۔‘‘
حدیث نمبر: 1201
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَيْهِ ، وَرَأْسُهُ يَتَهَافَتُ قَمْلًا ، فَقَالَ : " أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ؟ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَاحْلِقْ رَأْسَكَ ، قَالَ : فَفِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196 ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ تَصَدَّقْ بِفَرَقٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ مَا تَيَسَّرَ " .
سیف (بن سلیمان) نے کہا: میں نے مجاہد سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ مجھے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے حدیث سنائی کہا مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اوپر (کی طرف) کھڑے ہوئے اور ان کے سر سے جوئیں گر رہی تھیں آپ نے فرمایا: ”کیا تمہاری جوئیں تمہیں اذیت دیتی ہیں؟“ میں نے کہا جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”تو اپنا سر منڈوالو۔“ (کعب رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی پھر اگر کوئی شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو (اور وہ سر منڈوالے) تو فدیے میں روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”تین دن کے روزے رکھو یا (کسی بھی جنس کا) ایک فرق (تین صاع) چھ مسکینوں میں صدقہ کرو یا قربانی میسر ہو کرو۔“
حدیث نمبر: 1201
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، وَأَيُّوبَ ، وَحُمَيْدٍ وَعَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ ، وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ هَذِهِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَاحْلِقْ رَأْسَكَ ، وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ وَالْفَرَقُ ثَلَاثَةُ آصُعٍ أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً " ، قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ : أَوِ اذْبَحْ شَاةً .
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے اور وہ مکہ میں داخل ہونے سے پہلے حدیبیہ میں تھا۔ اور وہ محرم تھا، وہ ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوئیں اس کے چہرے پر گر رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تجھے یہ زہریلے جانور تکلیف دیتے ہیں؟‘‘ اس نے کہا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا سر منڈوا اور چھ مسکینوں کے درمیان ایک فَرَق (تین صاع) کھانا تقسیم کر یا تین روزے رکھ لے یا ایک قربانی کر دے۔‘‘ ابن نجیح کہتے ہیں یا ایک بکری ذبح کر دے۔
حدیث نمبر: 1201
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ لَهُ : " آذَاكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : احْلِقْ رَأْسَكَ ، ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُكًا ، أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوْ أَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ " .
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے زمانہ میں اس کے پاس سے گزرے اور اس سے پوچھا: ”کیا تیرے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟‘‘ اس نے کہا، ہاں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”اپنا سر منڈا لو، پھر ایک بکری کی قربانی ذبح کر دو، یا تین روزے رکھ لو، یا تین صاع کھجوریں چھ مساکین کو دے دو۔‘‘
حدیث نمبر: 1201
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ : قَعَدْتُ إِلَى كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196 ، فَقَالَ كَعْبٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : نَزَلَتْ فِيَّ ، كَانَ بِي أَذًى مِنْ رَأْسِي ، فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي ، فَقَالَ : " مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ الْجَهْدَ بَلَغَ مِنْكَ مَا أَرَى ، أَتَجِدُ شَاةً ؟ ، فَقُلْتُ : لَا ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196 ، قَالَ : صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، أَوْ إِطْعَامُ سِتَّةِ مَسَاكِينَ ، نِصْفَ صَاعٍ طَعَامًا لِكُلِّ مِسْكِينٍ " ، قَالَ : فَنَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً وَهِيَ لَكُمْ عَامَّةً .
شعبہ نے عبدالرحمان بن اصبہانی سے حدیث بیان کی انہوں نے عبداللہ بن معقل سے انہوں نے کہا: میں کعب (بن عجرہ) رضی اللہ عنہ کے پاس جا بیٹھا وہ اس وقت (کوفہ کی ایک) مسجد میں تشریف فرما تھے میں نے ان سے اس آیت کے متعلق سوال کیا: «فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ» تو روزوں یا صدقہ یا قربانی سے فدیہ دے۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ میرے سر میں تکلیف تھی مجھے اس حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا کہ جوئیں میرے چہرے پر پڑ رہی تھیں تو آپ نے فرمایا: ”میرا خیال نہیں تھا کہ تمہاری تکلیف اس حد تک پہنچ گئی ہے جیسے میں دیکھ رہا ہوں۔ کیا تمہارے پاس کوئی بکری ہے؟“ میں نے عرض کی نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ «فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ» (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”(تمہارے ذمے) تین دنوں کے روزے ہیں یا چھ مسکینوں کا کھانا ہر مسکین کے لیے آدھا صاع کھانا۔“ (پھر کعب رضی اللہ عنہ نے) کہا: یہ آیت خصوصی طور پر میرے لیے اتری اور عمومی طور پر یہ تمہارے لیے بھی ہے۔
حدیث نمبر: 1201
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا ، فَقَمِلَ رَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ ، فَدَعَا الْحَلَّاقَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : " هَلْ عِنْدَكَ نُسُكٌ ؟ " ، قَالَ : مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ ، " فَأَمَرَهُ أَنْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوْ يُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاكِينَ ، لِكُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ خَاصَّةً فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ سورة البقرة آية 196 ثُمَّ كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً .
زکریا بن ابی زائدہ سے روایت ہے کہا: ہمیں عبدالرحمان بن اصبہانی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا مجھے عبداللہ بن معقل نے انہوں نے کہا: مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ وہ احرام باندھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ان کے سر اور داڑھی میں (کثرت سے) جوئیں پڑ گئیں۔ اس (بات) کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے انہیں بلا بھیجا اور حجام کو بلا کر ان کا سر مونڈ دیا پھر ان سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کوئی قربانی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: (اے اللہ کے رسول) میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا آپ نے انہیں حکم دیا: ”تین دن کے روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا مہیا کرو مسکینوں کے لیے ایک صاع ہو“ اللہ عزوجل نے خاص ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: جو شخص تم میں سے مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو، اس کے بعد یہ (اجازت) عمومی طور پر تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔