کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1193
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَلَمَّا أَنْ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِي ، قَالَ : " إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ ، إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ " ،
مالک نے ابن شہاب سے انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے انہوں نے صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے آپ کو ایک زیبرا ہدیہ پیش کیا آپ ابواء یا ودان مقام پر تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا (انہوں نے) کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے کی کیفیت دیکھی تو فرمایا: ”بلاشبہ ہم نے تمہارا ہدیہ رد نہیں کیا لیکن ہم حالت احرام میں ہیں (اس لیے اسے نہیں کھا سکتے)۔“
حدیث نمبر: 1193
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، وَقُتَيْبَةُ جميعا ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كُلُّهُمْ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارَ وَحْشٍ كَمَا قَالَ مَالِكٌ ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ ، وَصَالِحٍ ، أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَخْبَرَهُ ،
لیث بن سعد، معمر اور ابوصالح ان سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی (کہ حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے کہا) میں نے آپ کو ایک زیبرا ہدیہ پیش کیا جس طرح مالک کے الفاظ ہیں اور لیث اور صالح کی روایت میں (یوں) ہے کہ صعب بن جثامہ نے انہیں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) خبر دی۔
حدیث نمبر: 1193
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : أَهْدَيْتُ لَهُ مِنْ لَحْمِ حِمَارِ وَحْشٍ .
سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا: میں نے آپ کو زیبرے کا گوشت ہدیہ پیش کیا۔
حدیث نمبر: 1194
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " لَوْلَا أَنَّا مُحْرِمُونَ لَقَبِلْنَاهُ مِنْكَ " ،
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگلی گدھا بطور تحفہ پیش کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم محرم تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا اور فرمایا: ”اگر ہم محرم نہ ہوتے تو اسے قبول کر لیتے۔‘‘
حدیث نمبر: 1194
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَنْصُورًا يُحَدِّثُ ، عَنِ الحكم . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي رِوَايَةِ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ حِمَارِ وَحْشٍ ، وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ : عَجُزَ حِمَارِ وَحْشٍ يَقْطُرُ دَمًا ، وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ عَنْ حَبِيبٍ : أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِقُّ حِمَارِ وَحْشٍ فَرَدَّهُ .
منصور نے حکم سے اسی طرح شعبہ نے حکم کے واسطے سے اور واسطے کے بغیر (براہ راست) بھی حبیب سے انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ حکم سے منصور کی روایت کے الفاظ ہیں کہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیبرے کی ران ہدیہ پیش کی۔ حکم سے شعبہ کی روایت کے الفاظ ہیں زیبرے کا پچھلا دھڑ پیش کیا جس سے خون ٹپک رہا تھا۔ اور حبیب سے شعبہ کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیبرے کا (ایک جانب کا) آدھا حصہ ہدیہ کیا گیا تو آپ نے اسے واپس کر دیا۔
حدیث نمبر: 1195
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُهُ : كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمِ صَيْدٍ أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَرَامٌ ؟ ، قَالَ : قَالَ : أُهْدِيَ لَهُ عُضْوٌ مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ فَرَدَّهُ ، فَقَالَ : " إِنَّا لَا نَأْكُلُهُ إِنَّا حُرُمٌ " .
طاوس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: (ایک بار) زید بن ارقم رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں یاد کراتے ہوئے کہا: آپ نے مجھے اس شکار کے گوشت کے متعلق کس طرح بتایا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کی حالت میں ہدیہ پیش کیا گیا تھا؟ (طاوس نے) کہا (زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے) بتایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکار کے گوشت کا ایک ٹکڑا پیش کیا گیا تو آپ نے اسے واپس کر دیا اور فرمایا: ”ہم اسے نہیں کھا سکتے (کیونکہ) ہم احرام میں ہیں۔“
حدیث نمبر: 1196
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْقَاحَةِ فَمِنَّا الْمُحْرِمُ وَمِنَّا غَيْرُ الْمُحْرِمِ ، إِذْ بَصُرْتُ بِأَصْحَابِي يَتَرَاءَوْنَ شَيْئًا ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ ، فَأَسْرَجْتُ فَرَسِي وَأَخَذْتُ رُمْحِي ، ثُمَّ رَكِبْتُ فَسَقَطَ مِنِّي سَوْطِي ، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي وَكَانُوا مُحْرِمِينَ : نَاوِلُونِي السَّوْطَ ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ ، فَنَزَلْتُ فَتَنَاوَلْتُهُ ، ثُمَّ رَكِبْتُ فَأَدْرَكْتُ الْحِمَارَ مِنْ خَلْفِهِ ، وَهُوَ وَرَاءَ أَكَمَةٍ ، فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي فَعَقَرْتُهُ ، فَأَتَيْتُ بِهِ أَصْحَابِي ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : كُلُوهُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا تَأْكُلُوهُ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَنَا ، فَحَرَّكْتُ فَرَسِي فَأَدْرَكْتُهُ ، فَقَالَ : " هُوَ حَلَالٌ فَكُلُوهُ " .
صالح بن کیسان نے کہا: میں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ابومحمد سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے حتیٰ کہ جب ہم (مدینہ سے تین منزل دور وادی) قاحہ میں تھے تو ہم میں سے بعض احرام کی حالت میں تھے اور کوئی بغیر احرام کے تھا۔ اچانک میری نگاہ اپنے ساتھیوں پر پڑی تو وہ ایک دوسرے کو کچھ دکھا رہے تھے میں نے دیکھا تو ایک زیبرا تھا میں نے (فوراً) اپنے گھوڑے پر زین کسا اپنا نیزہ تھاما اور سوار ہو گیا۔ (جلدی میں) مجھ سے میرا کوڑا گر گیا میں نے اپنے ساتھیوں سے جو احرام باندھے ہوئے تھے کہا: مجھے کوڑا پکڑا دو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس (شکار) میں تمہاری کوئی مدد نہیں کریں گے۔ بالآخر میں اترا اسے پکڑا۔ پھر سوار ہوا اور زیبرے کو اس کے پیچھے سے جا لیا اور وہ ایک ٹیلے کے پیچھے تھا۔ میں نے اسے اپنے نیزے کا نشانہ بنایا اور اسے گرا لیا۔ پھر میں اسے ساتھیوں کے پاس لے آیا۔ ان میں سے کچھ نے کہا: اسے کھا لو اور کچھ نے کہا: اسے مت کھانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کچھ فاصلے پر) ہم سے آگے تھے۔ میں نے اپنے گھوڑے کو حرکت دی اور آپ کے پاس پہنچ گیا (اور اس کے بارے میں پوچھا) آپ نے فرمایا: ”وہ حلال ہے اسے کھا لو۔“
حدیث نمبر: 1196
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ ، تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ ، فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ ، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ فَأَخَذَهُ ، ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضُهُمْ ، فَأَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ " ،
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، حتی کہ جب مکہ کا کچھ راستہ طے کر لیا تو وہ اپنے کچھ محرم ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے، جبکہ وہ خود محرم نہیں تھے تو انہوں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو گئے اور اپنے ساتھیوں سے درخواست کی کہ اسے اس کا چابک پکڑا دیں، انہوں نے اس سے انکار کر دیا، انہوں نے ان سے اپنا نیزہ مانگا، اس سے بھی انہوں نے انکار کر دیا، انہوں نے اسے خود ہی لیا پھر گدھے پر حملہ کر کے اسے قتل کر ڈالا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھیوں نے اس سے کھا لیا اور کچھ نے (کھانے سے) انکار کر دیا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جا ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عنایت فرمایا ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 1196
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حِمَارِ الْوَحْشِ ، مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ " .
مصنف یہی روایت جنگلی گدھے کے بارے میں، زید بن اسلم سے ابو نضر کی مذکورہ بالا روایت کی طرح بیان کرتے ہیں، صرف اتنا فرق ہے کہ زید بن اسلم بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 1196
وحَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مِسْمَارٍ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : انْطَلَقَ أَبِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ يُحْرِمْ ، وَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَدُوًّا بِغَيْقَةَ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِهِ يَضْحَكُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، إِذْ نَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَطَعَنْتُهُ فَأَثْبَتُّهُ ، فَاسْتَعَنْتُهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي ، فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَرْفَعُ فَرَسِي شَأْوًا وَأَسِيرُ شَأْوًا ، فَلَقِيتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ لَقِيتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تَرَكْتُهُ بِتَعْهِنَ وَهُوَ قَائِلٌ السُّقْيَا ، فَلَحِقْتُهُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَصْحَابَكَ يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ ، وَإِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ ، انْتَظِرْهُمْ فَانْتَظَرَهُمْ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَدْتُ وَمَعِي مِنْهُ فَاضِلَةٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْقَوْمِ : " كُلُوا " ، وَهُمْ مُحْرِمُونَ .
یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت ہے انہوں نے کہا: مجھ سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے حدیث بیان کی کہا: میرے والد حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ان کے ساتھیوں نے (عمرے) کا احرام باندھا لیکن انہوں نے نہ باندھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ غیقہ مقام پر دشمن (گھات میں) ہے (مگر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے۔ (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہمراہ تھا وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ہنس رہے تھے۔ اتنے میں میں نے دیکھا تو میری نظر زیبرے پر پڑی میں نے اس پر حملہ کر دیا اور اسے نیزہ مار کر بے حرکت کر دیا پھر میں نے ان سے مدد چاہی تو انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر ہم نے اس کا گوشت تناول کیا۔ اور ہمیں اندیشہ ہوا کہ ہم (آپ سے) کاٹ (کر الگ کر) دیے جائیں گے۔ تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں روانہ ہوا کبھی میں گھوڑے کو بہت تیز دوڑاتا تو کبھی (آرام سے) چلتا آدھی رات کے وقت مجھے بنو غفار کا ایک شخص ملا میں نے اس سے پوچھا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہاں ملے تھے؟ اس نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تعہن کے مقام پر چھوڑا ہے آپ فرما رہے تھے سُقیا (پہنچو) چنانچہ میں آپ سے جا ملا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ کو سلام عرض کرتے ہیں اور انہیں ڈر ہے کہ انہیں آپ سے کاٹ (کر الگ کر) دیا جائے گا۔ آپ ان کا انتظار فرما لیجیے۔ تو آپ نے (وہاں) ان کا انتظار فرمایا۔ پھر میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے شکار کیا تھا اور اس کا بچا ہوا کچھ (حصہ) میرے پاس باقی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”کھا لو“ جبکہ وہ سب احرام کی حالت میں تھے۔
حدیث نمبر: 1196
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا وَخَرَجْنَا مَعَهُ ، قَالَ : فَصَرَفَ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ ، فَقَالَ : " خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حَتَّى تَلْقَوْنِي " ، قَالَ : فَأَخَذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ فَلَمَّا انْصَرَفُوا قِبَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمُوا كُلُّهُمْ ، إِلَّا أَبَا قَتَادَةَ فَإِنَّهُ لَمْ يُحْرِمْ ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ رَأَوْا حُمُرَ وَحْشٍ ، فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا ، فَنَزَلُوا فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهَا ، قَالَ : فَقَالُوا : أَكَلْنَا لَحْمًا وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ ، قَالَ : فَحَمَلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِ الْأَتَانِ ، فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا أَحْرَمْنَا وَكَانَ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ فَرَأَيْنَا حُمُرَ وَحْشٍ فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا ، فَنَزَلْنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهَا ، فَقُلْنَا نَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ ، فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا ، فَقَالَ : " هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَوْ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ ؟ ، قَالَ : قَالُوا : لَا ، قَالَ : " فَكُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا " ،
عثمان بن عبداللہ بن موہب نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے نکلے۔ ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے، کہا آپ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں کچھ لوگوں کو جن میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ہٹا (کر ایک سمت بھیج دیا اور فرمایا: ”ساحل سمندر لے کر چلو حتیٰ کہ مجھ سے آملو۔“ کہا: انہوں نے ساحل سمندر کا راستہ اختیار کیا۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کیا تو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ سب نے احرام باندھ لیا (بس) انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا۔ اسی اثنا میں جب وہ چل رہے تھے انہوں نے زیبرے دیکھے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک مادہ زیبرا کو گرا لیا۔ وہ (لوگ) اترے اور اس کا گوشت تناول کیا۔ کہا وہ (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کہنے لگے: ہم نے (تو شکار کا گوشت کھا لیا جبکہ ہم احرام کی حالت میں ہیں۔ (راوی نے) کہا: انہوں نے مادہ زیبرے کا بچا ہوا گوشت اٹھا لیا (اور چل پڑے) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے کہنے لگے: ہم سب نے احرام باندھ لیا تھا جبکہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک مادہ زیبرا مار لیا۔ پس ہم اترے اور اس کا گوشت کھایا۔ بعد میں ہم نے کہا: ہم احرام باندھے ہوئے ہیں اور شکار کا گوشت کھا رہے ہیں! پھر ہم نے اس کا باقی گوشت اٹھایا (اور آگئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے (شکار کرنے کو) کہا تھا؟ یا کسی چیز سے اس (شکار) کی طرف اشارہ کیا تھا؟“ انہوں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا: ”اس کا باقی گوشت بھی تم کھا لو۔“
حدیث نمبر: 1196
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ شَيْبَانَ جَمِيعًا ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي رِوَايَةِ شَيْبَانَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا ؟ " ، وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ : قَالَ : " أَشَرْتُمْ أَوْ أَعَنْتُمْ أَوْ أَصَدْتُمْ " ، قَالَ شُعْبَةُ : لَا أَدْرِي ، قَالَ : أَعَنْتُمْ أَوْ أَصَدْتُمْ .
شعبہ اور شیبان دونوں نے عثمان بن عبداللہ بن موہب سے اسی سند کے ساتھ روایت کی۔ شیبان کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے ان سے کہا تھا کہ وہ اس پر حملہ کریں یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا؟“ شعبہ کی روایت میں ہے کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”کیا تم لوگوں نے اشارہ کیا یا مدد کی شکار کرایا؟“ شعبہ نے کہا: میں نہیں جانتا کہ آپ نے کہا: ”تم لوگوں نے مدد کی“ یا کہا: ”تم لوگوں نے شکار کرایا۔“
حدیث نمبر: 1196
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْحُدَيْبِيَةِ ، قَالَ : فَأَهَلُّوا بِعُمْرَةٍ غَيْرِي ، قَالَ : فَاصْطَدْتُ حِمَارَ وَحْشٍ ، فَأَطْعَمْتُ أَصْحَابِي وَهُمْ مُحْرِمُونَ ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْبَأْتُهُ أَنَّ عِنْدَنَا مِنْ لَحْمِهِ فَاضِلَةً ، فَقَالَ : " كُلُوهُ " ، وَهُمْ مُحْرِمُونَ ،
یحییٰ (بن ابی کثیر) سے روایت ہے کہا: مجھے عبداللہ بن ابی قتادہ نے خبر دی کہ ان کے والد نے اللہ ان سے راضی ہو۔ انہیں خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں شرکت کی، کہا: میرے علاوہ سب نے عمرے کا (احرام باندھ لیا اور) تلبیہ شروع کر دیا۔ کہا: میں نے ایک زیبرا شکار کیا اور اپنے ساتھیوں کو کھلایا جبکہ وہ سب احرام کی حالت میں تھے۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا انہیں بتایا کہ ہمارے پاس اس (شکار) کا کچھ گوشت بچا ہوا ہے۔ آپ نے (ساتھیوں سے) فرمایا: ”اسے کھاؤ“ حالانکہ وہ سب احرام میں تھے۔
حدیث نمبر: 1196
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ مُحْرِمُونَ ، وَأَبُو قَتَادَةَ مُحِلٌّ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ فَقَالَ : " هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ ؟ " ، قَالُوا : مَعَنَا رِجْلُهُ ، قَالَ : " فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَهَا " ،
ہمیں ابوحازم نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے انہوں نے اپنے والد (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) سے حدیث سنائی کہ وہ لوگ (مدینہ سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے وہ احرام میں تھے اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بغیر احرام کے تھے۔ اور (مذکورہ بالا) حدیث بیان کی اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ (بچا ہوا) ہے؟“ انہوں نے عرض کی، اس کی ایک ران ہمارے پاس موجود ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لے لی اور اسے تناول فرمایا۔
حدیث نمبر: 1196
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَإِسْحَاق ، عَنْ جَرِيرٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : كَانَ أَبُو قَتَادَةَ فِي نَفَرٍ مُحْرِمِينَ وَأَبُو قَتَادَةَ مُحِلٌّ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ قَالَ : " هَلْ أَشَارَ إِلَيْهِ إِنْسَانٌ مِنْكُمْ أَوْ أَمَرَهُ بِشَيْءٍ ؟ " ، قَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَكُلُوا " .
عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ایک محرم جماعت کے ساتھ تھے اور وہ غیر محرم تھے، پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی، اس میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم میں سے کسی انسان نے انہیں اشارہ کیا تھا، یا کسی قسم کا مشورہ دیا تھا؟‘‘ انہوں نے جواب دیا، نہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کھا لو۔‘‘
حدیث نمبر: 1197
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَنَحْنُ حُرُمٌ ، فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ ، فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَفَّقَ مَنْ أَكَلَهُ ، وَقَالَ : " أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
معاذ بن عبدالرحمٰن بن عثمان تیمی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ احرام کی حالت میں تھے، انہیں پرندہ تحفتا پیش کیا گیا، جبکہ وہ سوئے ہوئے تھے، ہم میں سے بعض نے کھا لیا اور بعض نے پرہیز کیا تو جب حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے، انہوں نے کھانے والوں سے موافقت کی اور کہا، ہم نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھایا تھا۔