کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: شب قدر کی فضیلت اور اس کو تلاش کرنے کی ترغیب، اور اس کے تعین کا بیان۔
حدیث نمبر: 1165
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْمَنَامِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ ، فَمَنْ كَانَ مُتَحَرِّيَهَا ، فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ " .
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہ آخری سات راتوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کو خواب میں لیلۃ القدر دکھائی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا خواب آخری سات راتوں میں ایک دوسرے کے موافق ہو گیا ہے، اب جو اس (لیلۃ القدر) کو تلاش کرنا چاہے وہ اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔“ (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بیان کردہ مکمل الفاظ آگے حدیث: 2764 میں ہیں)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1165
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1165
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ " .
عبداللہ بن دینار نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، فرمایا: ”لیلۃ القدر کو (رمضان کی) آخری سات راتوں میں تلاش کرو۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1165
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1165
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : رَأَى رَجُلٌ أَنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَى رُؤْيَاكُمْ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، فَاطْلُبُوهَا فِي الْوِتْرِ مِنْهَا " .
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی، کہا: ایک شخص نے (خواب میں) دیکھا کہ لیلۃ القدر ستائیسویں رات ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارا خواب آخری عشرے کے بارے میں ہے، تم اس (لیلۃ القدر) کو اس (عشرے) کی طاق (راتوں) میں تلاش کرو۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1165
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1165
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِلَيْلَةِ الْقَدْرِ : " إِنَّ نَاسًا مِنْكُمْ قَدْ أُرُوا أَنَّهَا فِي السَّبْعِ الْأُوَلِ ، وَأُرِيَ نَاسٌ مِنْكُمْ أَنَّهَا فِي السَّبْعِ الْغَوَابِرِ ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ " .
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، (کہا:) مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ ان کے والد نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃ القدر کے بارے میں سنا، فرما رہے تھے: ”تم میں سے کچھ لوگوں کو (خواب میں) دکھایا گیا ہے کہ یہ پہلی سات راتوں میں ہے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو دکھایا گیا ہے کہ یہ بعد میں آنے والی سات راتوں میں ہے، تو تم اس کو بعد میں آنے والی (آخری) دس راتوں میں تلاش کرو۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1165
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1165
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ وَهُوَ ابْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَإِنْ ضَعُفَ أَحَدُكُمْ أَوْ عَجَزَ ، فَلَا يُغْلَبَنَّ عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي " .
عقبہ نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس یعنی لیلۃ القدر کو آخری دس راتوں میں تلاش کرو، اگر تم میں سے کوئی کمزور پڑ جائے یا بے بس ہو جائے تو وہ باقی کی سات راتوں میں (کسی صورت سستی یا کمزوری سے) مغلوب نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1165
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1165
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ كَانَ مُلْتَمِسَهَا ، فَلْيَلْتَمِسْهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ " .
شعبہ نے جبلہ سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ آپ نے فرمایا: ”جو اس رات کا متلاشی ہو تو وہ اسے آخری دس راتوں میں تلاش کرے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1165
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1165
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ جَبَلَةَ ، وَمُحَارِبٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَحَيَّنُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، أَوَ قَالَ : فِي التِّسْعِ الْأَوَاخِرِ " .
شیبانی نے جبلہ اور محارب سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لیلۃ القدر کے وقت آخری دس راتوں میں تلاش کرو۔“ یا فرمایا: ”آخری سات راتوں میں (تلاش کرو)۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1165
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1166
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، ثُمَّ أَيْقَظَنِي بَعْضُ أَهْلِي فَنُسِّيتُهَا ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ " ، وقَالَ حَرْمَلَةُ : فَنَسِيتُهَا .
ہمیں ابوطاہر اور حرملہ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں ابن وہب نے خبر دی (کہا:) مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے (خواب میں) شب قدر دکھائی گئی پھر مجھے میرے گھر والوں میں سے کسی نے بیدار کر دیا تو وہ مجھے بھلا دی گئی، تم اسے بعد میں آنے والی (آخری) دس راتوں میں تلاش کرو۔“ حرملہ نے (”مجھے بھلا دی گئی“ کے بجائے) ”میں اسے بھول گیا“ کہا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1166
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1167
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الَّتِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ ، فَإِذَا كَانَ مِنْ حِينِ تَمْضِي عِشْرُونَ لَيْلَةً ، وَيَسْتَقْبِلُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ ، يَرْجِعُ إِلَى مَسْكَنِهِ ، وَرَجَعَ مَنْ كَانَ يُجَاوِرُ مَعَهُ ، ثُمَّ إِنَّهُ أَقَامَ فِي شَهْرٍ جَاوَرَ فِيهِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الَّتِي كَانَ يَرْجِعُ فِيهَا ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَمَرَهُمْ بِمَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي كُنْتُ أُجَاوِرُ هَذِهِ الْعَشْرَ ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُجَاوِرَ هَذِهِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ ، فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَبِتْ فِي مُعْتَكَفِهِ ، وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَأُنْسِيتُهَا ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي كُلِّ وِتْرٍ ، وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ " ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : مُطِرْنَا لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فِي مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَقَدِ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، وَوَجْهُهُ مُبْتَلٌّ طِينًا وَمَاءً ،
ہمیں بکر نے ابن ہاد سے حدیث سنائی، انہوں نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دس دنوں میں اعتکاف کرتے تھے جو مہینے کے درمیان میں ہوتے ہیں، جب وہ وقت آتا کہ بیس راتیں گزر جاتیں اور اکیسویں رات کی آمد ہوتی تو اپنے گھر لوٹ جاتے اور وہ شخص بھی لوٹ جاتا جو آپ کے ساتھ اعتکاف کرتا تھا۔ پھر آپ ایک مہینے، جس میں آپ نے اعتکاف کیا تھا، اس رات ٹھہرے رہے جس میں آپ (گھر) لوٹ جایا کرتے تھے۔ آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا، جو اللہ تعالیٰ نے چاہا اس کا حکم دیا۔ پھر فرمایا: ”میں ان (درمیانے) دس دنوں کا اعتکاف کرتا تھا۔ پھر مجھ پر منکشف ہوا کہ میں اس آخری عشرے کا اعتکاف کروں۔ تو جس شخص نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ اپنے اعتکاف کی جگہ ہی میں رات بسر کرے اور بلاشبہ میں نے یہ رات خواب میں دیکھی ہے اس کے بعد وہ مجھے بھلا دی گئی۔ لہٰذا تم اسے آخری عشرے کی ہر طاق رات میں تلاش کرو۔ میں اپنے آپ کو (خواب میں) دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اکیسویں رات ہم پر بارش ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھنے کی جگہ میں مسجد (کی چھت) ٹپک پڑی، میں نے جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو چکے تھے، آپ کو دیکھا تو آپ کا چہرہ مبارک مٹی اور پانی سے بھیگا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1167
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1167
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُجَاوِرُ فِي رَمَضَانَ الْعَشْرَ الَّتِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ " ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " فَلْيَثْبُتْ فِي مُعْتَكَفِهِ " ، وَقَالَ : " وَجَبِينُهُ مُمْتَلِئًا طِينًا وَمَاءً " .
عبدالعزیز، یعنی دراوردی نے یزید (بن ہاد) سے، انہوں نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں درمیانے عشرے کا اعتکاف کرتے تھے۔۔۔ (آگے) اس (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی، البتہ انہوں نے (اپنے ”اعتکاف کی جگہ میں رات گزارنے“ کے بجائے) ”اپنے اعتکاف کی جگہ میں ٹھہرے رہے“ کہا اور کہا: آپ کی پیشانی مٹی اور پانی سے بھری ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1167
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1167
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَّلَ مِنْ رَمَضَانَ ، ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ عَلَى سُدَّتِهَا حَصِيرٌ ، قَالَ : فَأَخَذَ الْحَصِيرَ بِيَدِهِ فَنَحَّاهَا فِي نَاحِيَةِ الْقُبَّةِ ، ثُمَّ أَطْلَعَ رَأْسَهُ فَكَلَّمَ النَّاسَ فَدَنَوْا مِنْهُ ، فَقَالَ : " إِنِّي اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الْأَوَّلَ أَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ، ثُمَّ اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ ، ثُمَّ أُتِيتُ فَقِيلَ لِي : إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلْيَعْتَكِفْ " ، فَاعْتَكَفَ النَّاسُ مَعَهُ ، قَالَ : " وَإِنِّي أُرْبِئْتُهَا لَيْلَةَ وِتْرٍ ، وَإِنِّي أَسْجُدُ صَبِيحَتَهَا فِي طِينٍ وَمَاءٍ " ، فَأَصْبَحَ مِنْ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ ، وَقَدْ قَامَ إِلَى الصُّبْحِ فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ ، فَأَبْصَرْتُ الطِّينَ وَالْمَاءَ ، فَخَرَجَ حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، وَجَبِينُهُ وَرَوْثَةُ أَنْفِهِ فِيهِمَا الطِّينُ وَالْمَاءُ ، وَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ .
ہم سے عمارہ بن غزیہ انصاری نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے محمد بن ابراہیم سے سنا، وہ ابوسلمہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ترکی خیمے کے اندر، جس کے دروازے پر چٹائی تھی، رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا، پھر درمیانے عشرے میں اعتکاف کیا۔ کہا: تو آپ نے چٹائی کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر خیمے کے ایک کونے میں کیا، پھر اپنا سر مبارک خیمے سے باہر نکال کر لوگوں سے گفتگو فرمائی، لوگ آپ کے قریب ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس شب (قدر) کو تلاش کرنے کے لیے پہلے عشرے کا اعتکاف کیا، پھر میں نے درمیانے عشرے کا اعتکاف کیا، پھر میرے پاس (بخاری حدیث: 813 میں ہے: جبریل علیہ السلام کی آمد ہوئی تو مجھ سے کہا گیا: وہ آخری دس راتوں میں ہے) تو اب تم میں سے جو اعتکاف کرنا چاہے وہ اعتکاف کر لے۔“ لوگوں نے آپ کے ساتھ اعتکاف کیا۔ آپ نے فرمایا: ”اور مجھے وہ ایک طاق رات دکھائی گئی اور یہ کہ میں اس (رات) کی صبح مٹی اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیسویں رات کی صبح کی، اور آپ نے (اس میں) صبح تک قیام کیا تھا پھر بارش ہوئی تو مسجد (کی چھت) ٹپک پڑی، میں نے مٹی اور پانی دیکھا، اس کے بعد جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو کر باہر نکلے تو آپ کی پیشانی اور ناک کے کنارے دونوں میں مٹی اور پانی (کے نشانات) موجود تھے اور یہ آخری عشرے میں اکیسویں کی رات تھی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1167
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1167
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَكَانَ لِي صَدِيقًا ، فَقُلْتُ : أَلَا تَخْرُجُ بِنَا إِلَى النَّخْلِ ، فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ ، فَقُلْتُ لَهُ : سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ؟ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْوُسْطَى مِنْ رَمَضَانَ ، فَخَرَجْنَا صَبِيحَةَ عِشْرِينَ ، فَخَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ وَإِنِّي نَسِيتُهَا أَوْ أُنْسِيتُهَا ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ كُلِّ وِتْرٍ ، وَإِنِّي أُرِيتُ أَنِّي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ ، فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَرْجِعْ " ، قَالَ : فَرَجَعْنَا وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً ، قَالَ : وَجَاءَتْ سَحَابَةٌ فَمُطِرْنَا حَتَّى سَالَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ ، وَكَانَ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ ، قَالَ : حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ فِي جَبْهَتِهِ ،
ہشام نے یحییٰ سے اور انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی، کہا: ہم نے آپس میں لیلۃ القدر کے بارے میں بات چیت کی، پھر میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ میرے دوست تھے، میں نے کہا: کیا آپ ہمارے ساتھ نخلستان میں نہیں چلیں گے؟ وہ نکلے اور ان (کے کندھوں) پر دھاری دار چادر تھی، میں نے ان سے پوچھا: (کیا) آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیلۃ القدر کا ذکر کرتے ہوئے سنا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے درمیانے عشرے میں اعتکاف کیا، ہم بیسویں (رات) کی صبح کو (اعتکاف سے) نکلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی اور اب میں بھول گیا ہوں۔۔۔ مجھے بھلا دی گئی ہے۔۔۔ اس لیے تم اس کو آخری عشرے کی ہر طاق رات میں تلاش کرو اور میں نے دیکھا کہ میں (اس رات) پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ تو جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ واپس (اعتکاف میں) چلا جائے۔ کہا: ہم واپس ہو گئے اور ہمیں آسمان میں بادل کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آ رہا تھا، کہا: ایک بدلی آئی، ہم پر بارش ہوئی یہاں تک کہ مسجد کی چھت بہہ پڑی۔ وہ کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی اور نماز کھڑی کی گئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہے تھے، کہا: یہاں تک کہ میں نے آپ کی پیشانی پر مٹی کا نشان بھی دیکھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1167
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1167
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ كِلَاهُمَا ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَفِي حَدِيثِهِمَا " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْصَرَفَ ، وَعَلَى جَبْهَتِهِ وَأَرْنَبَتِهِ أَثَرُ الطِّينِ " .
معمر اور اوزاعی دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اس (سابقہ حدیث) کے ہم معنی روایت کی۔ اور ان دونوں کی حدیث میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے (فارغ ہو کر) پلٹے تو میں نے آپ کو اس حال میں دیکھا کہ آپ کی پیشانی اور ناک کے کنارے پر مٹی کا نشان تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1167
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1167
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ ، يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَبْلَ أَنْ تُبَانَ لَهُ ، فَلَمَّا انْقَضَيْنَ أَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَقُوِّضَ ، ثُمَّ أُبِينَتْ لَهُ أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، فَأَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَأُعِيدَ ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهَا كَانَتْ أُبِينَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ ، وَإِنِّي خَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ بِهَا ، فَجَاءَ رَجُلَانِ يَحْتَقَّانِ مَعَهُمَا الشَّيْطَانُ فَنُسِّيتُهَا ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، الْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ " ، قَالَ : قُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ : إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا ، قَالَ : أَجَلْ ، نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْكُمْ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ ، قَالَ : إِذَا مَضَتْ وَاحِدَةٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ وَهِيَ التَّاسِعَةُ ، فَإِذَا مَضَتْ ثَلَاثٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ ، فَإِذَا مَضَى خَمْسٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ ، وَقَالَ ابْنُ خَلَّادٍ : مَكَانَ يَحْتَقَّانِ يَخْتَصِمَانِ .
محمد بن مثنیٰ اور ابوبکر بن خلاد نے کہا: ہمیں عبدالاعلیٰ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سعید نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانے عشرے کا اعتکاف کیا اس سے پہلے کہ آپ کے سامنے اس کو کھول دیا جائے۔ آپ لیلۃ القدر کو تلاش کر رہے تھے۔ جب یہ (دس راتیں) ختم ہو گئیں تو آپ نے حکم دیا اور ان خیموں کو اکھاڑ دیا گیا، پھر (وہ رات) آپ پر واضح کر دی گئی کہ وہ آخری عشرے میں ہے۔ اس پر آپ نے (خیمے لگانے کا) حکم دیا تو ان کو دوبارہ لگا دیا گیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر لوگوں کے سامنے آئے اور فرمایا: ”اے لوگو! مجھ پر لیلۃ القدر واضح کر دی گئی اور میں تم کو اس کے بارے میں بتانے کے لیے نکلا تو دو آدمی (ایک دوسرے پر) اپنے حق کا دعویٰ کرتے ہوئے آئے، ان کے ساتھ شیطان تھا۔ اس پر وہ مجھے بھلا دی گئی۔ تم اسے رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو۔ تم نویں، ساتویں اور پانچویں (رات) میں تلاش کرو۔“ (ابونضرہ نے) کہا: میں نے کہا: ابوسعید! ہماری نسبت آپ اس گنتی کو زیادہ جانتے ہیں، انہوں نے کہا: ہاں، ہم اسے جاننے کے تم سے زیادہ حقدار ہیں۔ کہا: میں نے پوچھا: نویں، ساتویں، اور پانچویں سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جب اکیسویں رات گزرتی ہے تو وہی رات جس کے بعد بائیسویں آتی ہے وہی نویں ہے اور جب تیئسویں رات گزرتی ہے تو وہی جس کے بعد (آخر سے گنتے ہوئے ساتویں رات آتی ہے) ساتویں ہے، اس کے بعد جب پچیسویں رات گزرتی ہے تو وہی جس کے بعد پانچویں رات آتی ہے، پانچویں ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1167
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1168
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَهْلِ بْنِ إِسْحَاق بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَقَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ : عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا ، وَأَرَانِي صُبْحَهَا أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ " ، قَالَ : فَمُطِرْنَا لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْصَرَفَ ، وَإِنَّ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ ، قَالَ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ يَقُولُ : ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ .
حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے شب قدر دکھائی گئی پھر بھلا دی گئی اور میں نے اس کی صبح اپنے آپ کو پانی اور مٹی میں سجدے کرتے دیکھا۔‘‘ حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں تیئسویں کی رات ہم پر بارش برسی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی آپﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو پانی اور مٹی کا نشان آپﷺ کی پیشانی اور ناک پر موجود تھا عبداللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے کہ شب قدر تیئسویں ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1168
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1169
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : " الْتَمِسُوا " ، وَقَالَ وَكِيعٌ : " تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیلۃ القدر کو رمضان کی آخری دس راتوں میں تلاش کرو۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1169
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 762
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدَةَ ، وَعَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، سمعا زر بن حبيش ، يَقُولُ : سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقُلْتُ : إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَقَالَ : " رَحِمَهُ اللَّهُ أَرَادَ أَنْ لَا يَتَّكِلَ النَّاسُ أَمَا إِنَّهُ قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ ، وَأَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، ثُمَّ حَلَفَ لَا يَسْتَثْنِي أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ " ، فَقُلْتُ : بِأَيِّ شَيْءٍ تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ ؟ ، قَالَ : " بِالْعَلَامَةِ أَوْ بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا تَطْلُعُ يَوْمَئِذٍ لَا شُعَاعَ لَهَا " .
سفیان بن عیینہ نے عبدہ اور عاصم بن ابی نجود سے روایت کی، ان دونوں نے حضرت زر بن حبیش سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، میں نے کہا: آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو سال بھر (رات کو) قیام کرے گا، وہ لیلۃ القدر کو پا لے گا۔ انہوں نے فرمایا: ”اللہ ان پر رحم فرمائے، انہوں نے چاہا کہ لوگ (کم راتوں کی عبادت پر) قناعت نہ کر لیں، ورنہ وہ خوب جانتے ہیں کہ وہ رمضان ہی میں ہے اور آخری عشرے میں ہے اور یہ بھی کہ وہ ستائیسویں رات ہے۔“ پھر انہوں نے استثناء (ان شاء اللہ کہے) بغیر قسم کھا کر کہا: وہ ستائیسویں رات ہی ہے۔ اس پر میں نے کہا: ابومنذر! یہ بات آپ کس بنا پر کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس علامت یا نشانی کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی ہے کہ اس دن سورج نکلتا ہے، اس کی شعائیں (نمایاں) نہیں ہوتیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 762
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 762
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَةَ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ أُبَيٌّ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ : " وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُهَا " ، قَالَ شُعْبَةُ : " وَأَكْبَرُ عِلْمِي هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِيَامِهَا ، هِيَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ " ، وَإِنَّمَا شَكَّ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَرْفِ ، هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَحَدَّثَنِي بِهَا صَاحِبٌ لِي عَنْهُ " .
شعبہ نے کہا: میں نے عبدہ بن ابی لبابہ سے سنا، وہ حضرت زر بن حبیش سے حدیث بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ کہا: حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے لیلۃ القدر کے بارے میں کہا: «واللہ! إني لأعلمها»۔ شعبہ نے (روایت کے الفاظ بیان کرتے ہوئے) کہا: میرا غالب گمان ہے کہ یہ وہی رات ہے جس (پر پوری رات) کے قیام کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا (اور) وہ ستائیسویں رات ہے۔ اس فقرے میں شعبہ نے شک کیا: ”یہ وہی رات ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا۔“ اور کہا: اس کے بارے میں مجھے میرے ایک ساتھی نے ان (عبدہ) کے حوالے سے حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 762
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1170
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ وَهُوَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَيُّكُمْ يَذْكُرُ حِينَ طَلَعَ الْقَمَرُ ، وَهُوَ مِثْلُ شِقِّ جَفْنَةٍ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہم نے آپس میں لیلۃ القدر کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کس کو یاد ہے جب چاند طلوع ہوا اور وہ پیالے کے ایک ٹکڑے کے مانند تھا (وہی رات تھی)؟“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1170
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»