حدیث نمبر: 897
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ جُمُعَةٍ مِنْ بَابٍ كَانَ نَحْوَ دَارِ الْقَضَاءِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ ، فَاسْتَقْبَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا ، ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ ، فَادْعُ اللَّهَ يُغِثْنَا ، قَالَ : فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ أَغِثْنَا اللَّهُمَّ أَغِثْنَا اللَّهُمَّ أَغِثْنَا " . قَالَ أَنَسٌ : وَلَا وَاللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ سَحَابٍ وَلَا قَزَعَةٍ وَمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعٍ مِنْ بَيْتٍ وَلَا دَارٍ ، قَالَ : فَطَلَعَتْ مِنْ وَرَائِهِ سَحَابَةٌ مِثْلُ التُّرْسِ فَلَمَّا تَوَسَّطَتِ السَّمَاءَ انْتَشَرَتْ ، ثُمَّ أَمْطَرَتْ ، قَالَ : فَلَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا الشَّمْسَ سَبْتًا ، قَالَ : ثُمَّ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِكَ الْبَابِ فِي الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ ، فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ ، فَادْعُ اللَّهَ يُمْسِكْهَا عَنَّا ، قَالَ : فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ حَوْلَنَا وَلَا عَلَيْنَا ، اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ " ، فَانْقَلَعَتْ وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ ، قَالَ شَرِيكٌ : فَسَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ : أَهُوَ الرَّجُلُ الْأَوَّلُ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي .
شریک بن ابی نمر نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جمعے کے روز ایک آدمی اس دروازے سے مسجد میں داخل ہوا جو دارالقضاء کی طرف تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اس نے کھڑے کھڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کیا، پھر کہا: اے اللہ کے رسول! مال مویشی ہلاک ہو گئے اور راستے منقطع ہو چکے، اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہمیں بارش عطا کرے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا دیے، پھر کہا: ”اے اللہ! ہمیں بارش عنایت فرما، اے اللہ! ہمیں بارش عنایت فرما، اے اللہ! ہمیں بارش سے نواز دے۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ہم آسمان میں نہ کوئی گھٹا دیکھ رہے تھے اور نہ بادل کا کوئی ٹکڑا۔ ہمارے اور سلع پہاڑ کے درمیان کوئی گھر تھا نہ محلہ۔ پھر اس کے پیچھے سے ڈھال جیسی چھوٹی سی بدلی اٹھی، جب وہ آسمان کے وسط میں پہنچی تو پھیل گئی، پھر وہ برسی، اللہ کی قسم! ہم نے ہفتہ بھر سورج نہ دیکھا۔ پھر اگلے جمعے اسی دروازے سے ایک آدمی داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اس نے کھڑے کھڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کر کے کہا: اے اللہ کے رسول! (بارش کی کثرت سے) مال مویشی ہلاک ہو گئے اور راستے بند ہو گئے، اس لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہم سے بارش روک لے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھا دیے، پھر فرمایا: ”اے اللہ! ہمارے ارد گرد (بارش برسا) ہم پر نہیں، اے اللہ! پہاڑیوں پر، ٹیلوں پر، وادیوں کے اندر (ندیوں میں) اور درخت اگنے کے مقامات پر (برسا)۔“ کہا: (فوراً) بادل چھٹ گئے اور ہم (مسجد سے) نکلے تو دھوپ میں چل رہے تھے۔ شریک نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا وہ پہلے آدمی تھا؟ انہوں نے جواب دیا: میں نہیں جانتا۔
حدیث نمبر: 897
وحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي إسحاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، إِذْ قَامَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ ، وَفِيهِ قَالَ : " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا " ، قَالَ فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ إِلَّا تَفَرَّجَتْ ، حَتَّى رَأَيْتُ الْمَدِينَةَ فِي مِثْلِ الْجَوْبَةِ وَسَالَ وَادِي قَنَاةَ شَهْرًا ، وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَّا أَخْبَرَ بِجَوْدٍ .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ کو خشک سالی کا شکار ہو گئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن منبر پر لوگوں کوخطاب فرما رہے تھے توایک بدوی کھڑا ہوا اور اس نے کہا:اے اللہ کے رسولﷺ: مویشی ہلاک ہوگئے، بال بچے بھوکے مرنے لگے۔۔۔ آگے مذکورہ بالا حدیث ہے اور اس میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ا ے اللہ! ہمارے ارد گرد ہمارے اوپر نہیں۔‘‘ اور آپ جس طرف اشارہ کرتے بادل چھٹ جاتے حتیٰ کہ میں نے مدینہ منورہ کو گڑھا کی طرح دیکھا اور وادی قناۃ ایک ماہ تک بہتی رہی اور جدھر سے بھی کوئی شخص آیا اس نے موسلادھار بارش کی اطلاع دی۔
حدیث نمبر: 897
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَاحُوا ، وَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَحَطَ الْمَطَرُ وَاحْمَرَّ الشَّجَرُ وَهَلَكَتِ الْبَهَائِمُ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الْأَعْلَى : " فَتَقَشَّعَتْ ، عَنْ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَتْ تُمْطِرُ حَوَالَيْهَا ، وَمَا تُمْطِرُ بِالْمَدِينَةِ قَطْرَةً ، فَنَظَرْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ وَإِنَّهَا لَفِي مِثْلِ الْإِكْلِيلِ " .
عبدالاعلیٰ بن حماد اور محمد بن ابی بکر مقدمی نے کہا: ہمیں معتمر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے ثابت بنانی سے اور انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ لوگ آپ کے سامنے کھڑے ہو گئے، (بات شروع کرنے والے بدو کے ساتھ دوسرے بھی شامل ہو گئے) وہ فریاد کرنے لگے اور کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! بارش بند ہو گئی، درختوں (کے پتے سوکھ کر) سرخ ہو گئے اور مویشی ہلاک ہو گئے۔ (آگے مذکورہ بالا حدیث کے مانند) حدیث بیان کی۔ اس میں عبدالاعلیٰ کی روایت سے یہ (الفاظ) ہیں: مدینہ سے بادل چھٹ گئے اور اس کے ارد گرد بارش برسانے لگے جبکہ مدینہ میں ایک قطرہ بھی نہیں برس رہا تھا میں نے مدینہ کو دیکھا وہ ایک طرح کے تاج کے اندر (بارش سے محفوظ) تھا۔
حدیث نمبر: 897
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ بِنَحْوِهِ ، وَزَادَ " فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ السَّحَابِ ، وَمَكَثْنَا حَتَّى رَأَيْتُ الرَّجُلَ الشَّدِيدَ تَهُمُّهُ نَفْسُهُ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ " .
سلمان بن مغیرہ نے ثابت سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی کے ہم معنی روایت کی اور یہ اضافہ کیا: اللہ تعالیٰ نے بادلوں کو جوڑ دیا اور ہم اسی (حالت) میں رہے حتیٰ کہ میں نے دیکھا ایک قوی اور مضبوط آدمی کو بھی اس کا دل (بارش کی کثرت کی بناء پر) اس فکر میں مبتلا کر دیتا تھا کہ وہ اپنے اہل و عیال کے پاس پہنچے۔
حدیث نمبر: 897
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ " ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ ، وَزَادَ : " فَرَأَيْتُ السَّحَابَ يَتَمَزَّقُ كَأَنَّهُ الْمُلَاءُ حِينَ تُطْوَى " .
حفص بن عبیداللہ بن انس بن مالک نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: جمعے کے دن ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ منبر پر تھے۔ (آگے مذکورہ بالا حدیث کے مانند) حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا: میں نے بادل کو دیکھا وہ اس طرح چھٹ رہا تھا جیسے وہ ایک بڑی چادر ہو جب اسے لپیٹا جا رہا ہو۔
حدیث نمبر: 898
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : " أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطَرٌ ، قَالَ : فَحَسَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ مِنَ الْمَطَرِ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا ؟ قَالَ : " لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ تَعَالَى " .
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم پر بارش برسنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا (سر اور کندھے کا کپڑا) کھول دیا حتیٰ کہ بارش آپ پر آنے لگی۔ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ نے فرمایا: ”کیونکہ وہ نئی نئی (سیدھی) اپنے رب عز و جل کی طرف سے آ رہی ہے۔“