کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: عورتوں کا عیدین کے دن عیدگاہ جانا اور مردوں سے الگ خطبہ میں حاضر ہونا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 890
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : " أَمَرَنَا تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَ فِي الْعِيدَيْنِ : الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ ، وَأَمَرَ الْحُيَّضَ أَنْ يَعْتَزِلْنَ مُصَلَّى الْمُسْلِمِينَ " .
محمد (بن سیرین) نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: آپ نے ہمیں حکم دیا۔ ان کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی۔ کہ ہم عیدین میں بالغہ اور پردہ نشین عورتوں کو لے جایا کریں اور آپ نے حیض والی عورتوں کو حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کی نماز کی جگہ سے ہٹ کر بیٹھیں۔
حدیث نمبر: 890
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : " كُنَّا نُؤْمَرُ بِالْخُرُوجِ فِي الْعِيدَيْنِ وَالْمُخَبَّأَةُ وَالْبِكْرُ ، قَالَتْ : الْحُيَّضُ يَخْرُجْنَ فَيَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ يُكَبِّرْنَ مَعَ النَّاسِ " .
عاصم احول نے حفصہ بنت سیرین سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ”ہمیں عیدین میں نکلنے کا حکم دیا جاتا تھا، پردہ نشین اور دوشیزہ کو بھی۔“ انہوں نے کہا: حیض والی عورتیں بھی نکلیں گی اور لوگوں کے پیچھے رہیں گی اور لوگوں کے ساتھ تکبیر کہیں گی۔
حدیث نمبر: 890
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى : الْعَوَاتِقَ وَالْحُيَّضَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الصَّلَاةَ وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَانَا لَا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ ، قَالَ : " لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا " .
ہشام نے حفصہ بنت سیرین سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں عورتوں کو باہر نکالیں، دوشیزہ، حائضہ اور پردہ نشین عورتوں کو، لیکن حائضہ نمازیں سے دور رہیں۔ وہ خیر و برکت اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی عورت کے پاس چادر نہیں ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی (کوئی مسلمان) بہن اس کو اپنی چادر کا ایک حصہ پہنا دے۔“