کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: نماز تہجد کی ترغیب اگرچہ کم ہی ہو۔
حدیث نمبر: 774
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق ، قَالَ عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَجُلٌ نَامَ لَيْلَةً حَتَّى أَصْبَحَ ، قَالَ : " ذَاكَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنَيْهِ " ، أَوَ قَالَ : فِي أُذُنِهِ .
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک ایسے آدمی کا ذکر کیا گیا جو رات بھر سویا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، آپ نے فرمایا: ”وہ (ایسا) شخص ہے کہ شیطان نے اس کے کان میں۔“ یا فرمایا: ”اس کے دونوں کانوں میں پیشاب کر دیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 774
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 775
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيّ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ ، وَفَاطِمَةَ ، فَقَالَ : " أَلَا تُصَلُّونَ ؟ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ ، وَيَقُولُ : وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا " .
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت انہیں اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جگایا اور فرمایا: ”کیا تم لوگ نماز نہیں پڑھو گے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا دیتا ہے، جب میں نے آپ سے یہ کہا تو آپ واپس چلے گئے، پھر میں نے آپ کو سنا کہ آپ واپس پلٹتے ہوئے اپنی ران پر ہاتھ مارتے تھے اور کہتے (آیت کا ایک ٹکڑا پڑھتے) تھے: ”إن الإنسان لكثير الجدل“ ”انسان سب سے بڑھ کر جھگڑا کرنے والا ہے۔“ (جدل (جھگڑا) یہ تھا کہ جگائے جانے پر ممنون ہونے اور نماز پڑھنے کی بجائے عذر پیش کیا گیا۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 775
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 776
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ عَمْرٌو ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ ثَلَاثَ عُقَدٍ ، إِذَا نَامَ بِكُلِّ عُقْدَةٍ يَضْرِبُ عَلَيْكَ لَيْلًا طَوِيلًا ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، وَإِذَا تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عَنْهُ عُقْدَتَانِ ، فَإِذَا صَلَّى انْحَلَّتِ الْعُقَدُ ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا ، طَيِّبَ النَّفْسِ ، وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ ، كَسْلَانَ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے یہ فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا، آپ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سو جاتا ہے تو شیطان اس کے سر کے پچھلے حصے پر تین گرہیں لگاتا ہے، ہر گرہ پر تھپکی دیتا ہے کہ تم پر ایک بہت لمبی رات (کا سونا لازم) ہے، جب انسان بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب نماز پڑھتا ہے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں اور وہ چاق و چوبند، ہشاش بشاش پاک طبیعت (کے ساتھ) صبح کرتا ہے، ورنہ (جاگ کر عبادت نہیں کرتا تو) صبح کو گندے دل کے ساتھ اور سست اٹھتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 776
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»