کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: قضا نماز کا بیان اور ان کو جلد پڑھنے کا استحباب۔
حدیث نمبر: 680
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ ، سَارَ لَيْلَهُ حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْكَرَى عَرَّسَ ، وَقَالَ لِبِلَالٍ : اكْلَأْ لَنَا اللَّيْلَ ، فَصَلَّى بِلَالٌ مَا قُدِّرَ لَهُ ، وَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ، فَلَمَّا تَقَارَبَ الْفَجْرُ ، اسْتَنَدَ بِلَالٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ مُوَاجِهَ الْفَجْرِ ، فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَيْنَاهُ ، وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، حَتَّى ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا ، فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَيْ بِلَالُ ؟ فَقَالَ بِلَالٌ : أَخَذَ بِنَفْسِي ، الَّذِي أَخَذَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، يَا رَسُولَ اللَّهِ بِنَفْسِكَ ، قَالَ : اقْتَادُوا ، فَاقْتَادُوا رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ ، فَصَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ ، قَالَ : مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ فَلْيُصَلِّهَا ، إِذَا ذَكَرَهَا ، فَإِنَّ اللَّهَ ، قَالَ : وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14 " ، قَالَ يُونُسُ : وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا : لِلذِّكْرَى .
یونس نے ابن شہاب کے حوالے سے خبر دی، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ خیبر سے واپس ہوئے تو رات بھر چلتے رہے یہاں تک کہ جب آپ کو نیند نے آلیا، آپ نے (سواری سے) اتر کر پڑاؤ کیا اور بلال رضی اللہ عنہ سے کہا: ”ہمارے لیے رات کا پہرہ دو (نظر رکھو کہ کب صبح ہوتی ہے؟)“ بلال رضی اللہ عنہ نے مقدور بھر نماز پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ سو گئے۔ جب فجر قریب ہوئی تو بلال رضی اللہ عنہ نے (مطلع) فجر کی طرف رخ کرتے ہوئے اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگائی، جب وہ ٹیک لگائے ہوئے تھے تو ان پر نیند غالب آگئی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے نہ بلال اور نہ ہی ان کے صحابہ میں سے کوئی بیدار ہوا یہاں تک کہ ان پر دھوپ پڑنے لگی، سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور گھبرا گئے۔ فرمانے لگے: ”اے بلال!“ تو بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میری جان کو بھی اسی نے قبضے میں لیا تھا جس نے۔ میری ماں باپ آپ پر قربان، اے اللہ کے رسول! آپ کی جان کو قبضے میں لے لیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سواریاں آگے بڑھاؤ۔“ وہ اپنی سواریوں کو لے کر کچھ آگے بڑھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے نماز کی اقامت کہی، پھر آپ نے ان کو صبح کی نماز پڑھائی، جب نماز ختم کی تو فرمایا: ”جو شخص نماز (پڑھنا) بھول جائے تو جب اسے یاد آئے اسے پڑھے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي» (اور میری یاد کے وقت نماز قائم کرو۔)“ یونس نے کہا: ابن شہاب سے «لِلذِّكْرِ» (یاد کرنے کے لیے) پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 680
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 680
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ كلاهما ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : عَرَّسْنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ ، فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا ، فِيهِ الشَّيْطَانُ ، قَالَ : فَفَعَلْنَا ، ثُمَّ دَعَا بِالْمَاءِ ، فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، وَقَالَ يَعْقُوبُ : ثُمَّ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَصَلَّى الْغَدَاةَ " .
محمد بن حاتم اور یعقوب بن ابراہیم دورقی دونوں نے یحییٰ سے روایت کیا، کہا: ہمیں یزید بن کیسان نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رات کے آخری حصے میں (آرام کے لیے) سواریوں سے اترے، اور بیدار نہ ہو سکے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر شخص اپنی سواری کی نکیل پکڑے (اور آگے چلے) کیونکہ اس جگہ ہمارے درمیان شیطان موجود ہوا ہے۔“ کہا: ہم نے (ایسا ہی) کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، وضو کیا، پھر دو سجدے کیے (دو رکعتیں ادا کیں۔) یعقوب نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں ادا کیں۔ پھر نماز کی اقامت کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 680
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 681
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ تَسِيرُونَ عَشِيَّتَكُمْ وَلَيْلَتَكُمْ ، وَتَأْتُونَ الْمَاءَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غَدًا ، فَانْطَلَقَ النَّاسُ ، لَا يَلْوِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ " ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ : فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ ، حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ ، وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ ، قَالَ : فَنَعَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَالَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ، فَأَتَيْتُهُ فَدَعَمْتُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ أُوقِظَهُ ، حَتَّى اعْتَدَلَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، قَالَ : ثُمَّ سَارَ حَتَّى تَهَوَّرَ اللَّيْلُ ، مَالَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ، قَالَ : فَدَعَمْتُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ أُوقِظَهُ ، حَتَّى اعْتَدَلَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، قَالَ : ثُمَّ سَارَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ السَّحَرِ ، مَالَ مَيْلَةً هِيَ أَشَدُّ مِنَ الْمَيْلَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ حَتَّى كَادَ يَنْجَفِلُ ، فَأَتَيْتُهُ فَدَعَمْتُهُ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قُلْتُ : أَبُو قَتَادَةَ ، قَالَ : مَتَى كَانَ هَذَا مَسِيرَكَ مِنِّي ؟ قُلْتُ : مَا زَالَ هَذَا مَسِيرِي مُنْذُ اللَّيْلَةِ ، قَالَ : حَفِظَكَ اللَّهُ بِمَا حَفِظْتَ بِهِ نَبِيَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : هَلْ تَرَانَا نَخْفَى عَلَى النَّاسِ ، ثُمَّ قَالَ : هَلْ تَرَى مِنْ أَحَدٍ ؟ قُلْتُ : هَذَا رَاكِبٌ ، ثُمَّ قُلْتُ : هَذَا رَاكِبٌ آخَرُ ، حَتَّى اجْتَمَعْنَا ، فَكُنَّا سَبْعَةَ رَكْبٍ ، قَالَ : فَمَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّرِيقِ ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ قَالَ : احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالشَّمْسُ فِي ظَهْرِهِ ، قَالَ : فَقُمْنَا فَزِعِينَ ، ثُمَّ قَالَ : ارْكَبُوا ، فَرَكِبْنَا ، فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ نَزَلَ ، ثُمَّ دَعَا بِمِيضَأَةٍ ، كَانَتْ مَعِي فِيهَا شَيْءٌ مِّنْ مَاءٍ ، قَالَ : فَتَوَضَّأَ مِنْهَا وُضُوءًا دُونَ وُضُوءٍ ، قَالَ : وَبَقِيَ فِيهَا شَيْءٌ مِّنْ مَاءٍ ، ثُمَّ قَالَ لِأَبِي قَتَادَةَ : احْفَظْ عَلَيْنَا مِيضَأَتَكَ ، فَسَيَكُونُ لَهَا نَبَأٌ ، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ صَلَّى الْغَدَاةَ ، فَصَنَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ كُلَّ يَوْمٍ ، قَالَ : وَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَكِبْنَا مَعَهُ ، قَالَ : فَجَعَلَ بَعْضُنَا يَهْمِسُ إِلَى بَعْضٍ ، مَا كَفَّارَةُ مَا صَنَعْنَا بِتَفْرِيطِنَا فِي صَلَاتِنَا ؟ ثُمَّ قَالَ : أَمَا لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ ، " إِنَّمَا التَّفْرِيطُ عَلَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلَاةَ ، حَتَّى يَجِيءَ وَقْتُ الصَّلَاةِ الأُخْرَى ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ ، فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَنْتَبِهُ لَهَا ، فَإِذَا كَانَ الْغَدُ ، فَلْيُصَلِّهَا عِنْدَ وَقْتِهَا " ، ثُمَّ قَالَ : مَا تَرَوْنَ النَّاسَ صَنَعُوا ؟ قَالَ : ثُمَّ قَالَ : أَصْبَحَ النَّاسُ فَقَدُوا نَبِيَّهُمْ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَعْدَكُمْ لَمْ يَكُنْ لِيُخَلِّفَكُمْ ، وَقَالَ النَّاسُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ ، فَإِنْ يُطِيعُوا أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَرْشُدُوا ، قَالَ فَانْتَهَيْنَا إِلَى النَّاسِ حِينَ امْتَدَّ النَّهَارُ ، وَحَمِيَ كُلُّ شَيْءٍ ، وَهُمْ يَقُولُونَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكْنَا ، عَطِشْنَا ، فَقَالَ : لَا هُلْكَ عَلَيْكُمْ ، ثُمَّ قَالَ : أَطْلِقُوا لِي غُمَرِي ، قَالَ : وَدَعَا بِالْمِيضَأَةِ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ ، وَأَبُو قَتَادَةَ يَسْقِيهِمْ ، فَلَمْ يَعْدُ أَنْ رَأَى النَّاسُ مَاءً فِي الْمِيضَأَةِ تَكَابُّوا عَلَيْهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَحْسِنُوا الْمَلَأَ ، كُلُّكُمْ سَيَرْوَى ، قَالَ : فَفَعَلُوا ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ وَأَسْقِيهِمْ ، حَتَّى مَا بَقِيَ غَيْرِي ، وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثُمَّ صَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي : اشْرَبْ ، فَقُلْتُ : لَا أَشْرَبُ حَتَّى تَشْرَبَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : إِنَّ سَاقِيَ الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا ، قَالَ : فَشَرِبْتُ ، وَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَتَى النَّاسُ الْمَاءَ جَامِّينَ رِوَاءً ، قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ : إِنِّي لَأُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي مَسْجِدِ الْجَامِعِ ، إِذْ قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : انْظُرْ أَيُّهَا الْفَتَى ، كَيْفَ تُحَدِّثُ ، فَإِنِّي أَحَدُ الرَّكْبِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ ، فَقَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : مِنَ الأَنْصَارِ ، قَالَ : حَدِّثْ ، فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِحَدِيثِكُمْ ، قَالَ : فَحَدَّثْتُ الْقَوْمَ ، فَقَالَ عِمْرَانُ : لَقَدْ شَهِدْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ، وَمَا شَعَرْتُ أَنَّ أَحَدًا حَفِظَهُ كَمَا حَفِظْتُهُ .
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطاب فرمایا اور کہا: تم آج زوال سے لے کر رات تک چلو گے اور کل صبح ان شاء اللہ پانی پر پہنچو گے تو لوگ چل پڑے کوئی کسی دوسرے کی طرف متوجہ نہیں ہو رہا تھا۔ ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ چلتے رہے۔ میں بھی ساتھ تھا حتیٰ کہ آدھی رات گزر گئی۔ رسول اللہ ﷺ کو اونگھ آ گئی اور اپنی سواری پر ایک طرف جھکے، میں نے آگے بڑھ کر آپﷺ کو جگائے بغیر سہارا دیا حتیٰ کہ آپﷺ اپنی سواری پر سیدھے ہو گئے۔ پھر آپﷺ چلتے رہے حتیٰ کہ رات کا اکثر حصہ گزر گیا تو آپﷺ اپنی سواری پر ایک طرف جھک گئے۔ پھر میں نے آپﷺ کو جگائے بغیر سہارا دیا۔ حتیٰ کہ آپﷺ سواری پر سیدھے بیٹھ گئے پھر چلتے رہے یہاں تک کہ رات کا آخری حصہ آ پہنچا تو آپﷺ پہلی دوبار سے زیادہ جھک گئے۔ قریب تھا کہ آپﷺ گر جائیں تو میں نے آپﷺ کے پاس آ کر آپ کو سہارا دیا۔ آپﷺ نے سر اٹھا کر پوچھا: ”یہ کون ہے؟‘‘ میں نے کہا میں ابو قتادہ ہوں، آپﷺ نے پوچھا تم کب سے میرے ساتھ اس طرح چل رہے ہو؟ میں نے عرض کیا۔ رات بھر سے آپﷺ کے ساتھ اس طرح چل رہا ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: ”اللہ تیری حفاظت فرمائے، کیونکہ تم نے اس کے نبی کی حفاظت کی ہے۔‘‘ پھر آپﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے خیال میں ہم لوگوں سے اوجھل ہو سکتے ہیں؟‘‘ پھر فرمایا: ”کیا تمہیں کوئی نظر آ رہا ہے؟‘‘ میں نے کہا یہ ایک سوار ہے۔ پھر میں نے کہا: یہ دوسرا سوار ہے، حتیٰ کہ سات سوار جمع ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ راستہ سے ایک طرف ہٹ گئے اور اپنا سر زمین پر رکھ لیا۔ یعنی سونے لگے۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: تم لوگ ہماری نماز کی حفاظت کرنا۔ پھر سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے جبکہ سورج آپﷺ کی پشت پر آ چکا تھا اور ہم بھی گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: ”سوار ہو جاؤ‘‘ تو ہم سوار ہو کر چل پڑے۔ حتیٰ کہ سورج بلند ہو گیا تو آپﷺ سواری سے اترے۔ پھر آپﷺ نے وضوء کا برتن طلب کیا جو میرے پاس تھا، اس میں تھوڑا سا پانی تھا تو آپﷺ نے اس سے تخفیف کے ساتھ وضوء کیا یعنی کم مرتبہ اعضاء دھوئے کہ کم پانی استعمال کیا اور برتن میں تھوڑا سا پانی بچ گیا۔ پھر آپ ﷺ نے ابو قتادہ سے فرمایا: ”ہمارے لیے اپنے برتن کو محفوظ رکھنا، جلد یہ کہ ایک بڑی خیر کا سبب ہو گا۔‘‘ پھر بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان کہی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتیں ادا کیں۔ پھر صبح کی نماز پڑھائی، اس کو اسی طرح پڑھایا جس طرح روزانہ پڑھاتے تھے۔ پھر رسول اللہ ﷺ سوار ہو گئے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ سوار ہو گئے اور ہم ایک دوسرے سے سرگوشی کرنے لگے کہ نماز کے بارے میں جو ہم نے کوتاہی کی ہے اس کا کفارہ کیا ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہارے لیے نمونہ نہیں ہوں؟‘‘ پھر آپﷺ نے فرمایا: ”ہاں سو جانے کی صورت میں کوتاہی نہیں ہے، کوتاہی تو اس صورت میں ہے کہ انسان نماز نہ پڑھے (حالانکہ پڑھ سکتا ہے) یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت ہو جائے۔ جس کو یہ صورت (کہ سویا رہے) پیش آ جائے تو وہ بیدار ہونے پر نماز پڑھ لے اور اگلے دن نماز اپنے وقت پر پڑھے (عمداً مؤخر نہ کرے) پھر آپﷺ نے پوچھا: ”تمہارے خیال میں لوگوں نے کیا کیا؟‘‘ پھر فرمایا: لوگوں نے صبح کے وقت اپنے نبی کو اپنے اندر نہیں پایا تو ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا رسول اللہ ﷺ تمہارے پیچھے ہیں وہ تمہیں اپنے پیچھے نہیں چھوڑ سکتے اور دوسرے لوگوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ تمہارے آگے ہیں۔ پس اگر لوگ ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی اطاعت کریں گے تو ہدایت پائیں گے (یعنی ان کی بات مان لیں گے تو میرے انتظار میں رکے رہیں گے کیونکہ میں تو پیچھے ہوں) پھر ہم لوگوں کے پاس اس وقت پہنچے جب دن کافی چڑھ آیا اور ہر چیز گم ہو گئی اور لوگ کہہ رہے تھے کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم پیاسے مرگئے۔ آپﷺ نے فرمایا: ”تم ہلاک نہیں ہوگے‘‘ پھر آپﷺ نے فرمایا: ”میرا چھوٹا پیالہ لاؤ‘‘ اور آپﷺ نے وضو کا برتن منگوایا۔ رسول اللہ ﷺ پانی ڈالنے لگے اور ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پلا رہے تھے جوں ہی لوگوں نے برتن میں معمولی سا پانی دیکھا تو اس پر ٹوٹ پڑے (ہر ایک کی خواہش تھی کہ میں پانی سے محروم نہ رہوں) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اچھا اخلاق اختیار کرو، سب سیراب ہو جاؤ گے‘‘ تو لوگوں نے آپ ﷺ کی بات پر عمل کیا۔ رسول اللہ ﷺ پانی انڈیلنے لگے اور میں انہیں پلانے لگا۔ حتیٰ کہ میرے اور رسول اللہ ﷺ کے سوا کوئی باقی نہ رہا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے پانی ڈالا اور مجھے فرمایا: ”پیو‘‘ میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ﷺ! جب تک آپﷺ نہیں پی لیں گے میں نہیں پیوں گا۔ آپﷺ نے فرمایا: ”لوگوں کو پانی پلانے والا آخر میں پیتا ہے‘‘ تو میں نے پی لیا اور رسول اللہ ﷺ نے بھی پی لیا۔ پھر سب لوگ سیراب ہو کر آرام کے ساتھ پانی تک پہنچ گئے۔ ثابت کہتے ہیں، عبداللہ بن رباح نے بتایا میں جامع مسجد میں یہ حدیث بیان کررہا تھا کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے نوجوان! سوچ لو، کیسے بیان کر رہے ہو کیونکہ اس رات کے سواروں میں سے ایک میں بھی ہوں تو میں نے کہا تو آپ ﷺ واقعہ بہتر جانتے ہیں۔ انہوں نے پوچھا: تم کس خاندان سے ہو؟ میں نے کہا: انصار سے ہوں۔ انہوں نے کہا۔ بیان کرو تم اپنے واقعات کو بہتر جانتے ہو تو میں نے لوگوں کو پورا واقعہ سنایا۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں بھی اس رات موجود تھا اور میں نہیں سمجھتا کسی نے اس واقعہ کو اس طرح یاد رکھا ہے جیسا تو نے یاد رکھا ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 681
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 682
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ الْعُطَارِدِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " كُنْتُ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ ، فَأَدْلَجْنَا لَيْلَتَنَا ، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ ، عَرَّسْنَا فَغَلَبَتْنَا أَعْيُنُنَا ، حَتَّى بَزَغَتِ الشَّمْسُ ، قَالَ : فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنَّا أَبُو بَكْرٍ ، وَكُنَّا لَا نُوقِظُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَنَامِهِ ، إِذَا نَامَ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ عُمَرُ ، فَقَامَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ ، حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ وَرَأَى الشَّمْسَ قَدْ بَزَغَتْ ، قَالَ : ارْتَحِلُوا ، فَسَارَ بِنَا حَتَّى إِذَا ابْيَضَّتِ الشَّمْسُ ، نَزَلَ فَصَلَّى بِنَا الْغَدَاةَ ، فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ، لَمْ يُصَلِّ مَعَنَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا فُلَانُ ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَنَا ؟ قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَيَمَّمَ بِالصَّعِيدِ ، فَصَلَّى ، ثُمَّ عَجَّلَنِي فِي رَكْبٍ بَيْنَ يَدَيْهِ نَطْلُبُ الْمَاءَ ، وَقَدْ عَطِشْنَا عَطَشًا شَدِيدًا ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ ، إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ سَادِلَةٍ رِجْلَيْهَا بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ ، فَقُلْنَا لَهَا : أَيْنَ الْمَاءُ ؟ قَالَتْ : أَيْهَاهْ ، أَيْهَاهْ ، لَا مَاءَ لَكُمْ ، قُلْنَا : فَكَمْ بَيْنَ أَهْلِكِ وَبَيْنَ الْمَاءِ ؟ قَالَتْ : مَسِيرَةُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، قُلْنَا : انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : وَمَا رَسُولُ اللَّهِ ، فَلَمْ نُمَلِّكْهَا مِنْ أَمْرِهَا شَيْئًا ، حَتَّى انْطَلَقْنَا بِهَا ، فَاسْتَقْبَلْنَا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهَا ، فَأَخْبَرَتْهُ مِثْلَ الَّذِي أَخْبَرَتْنَا ، وَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا مُوتِمَةٌ لَهَا صِبْيَانٌ أَيْتَامٌ ، فَأَمَرَ بِرَاوِيَتِهَ ، فَأُنِيخَتْ ، فَمَجَّ فِي الْعَزْلَاوَيْنِ الْعُلْيَاوَيْنِ ، ثُمَّ بَعَثَ بِرَاوِيَتِهَا ، فَشَرِبْنَا وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ رَجُلًا عِطَاشٌ ، حَتَّى رَوِينَا وَمَلَأْنَا كُلَّ قِرْبَةٍ مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ وَغَسَّلْنَا صَاحِبَنَا ، غَيْرَ أَنَّا لَمْ نَسْقِ بَعِيرًا ، وَهِيَ تَكَادُ تَنْضَرِجُ مِنَ الْمَاءِ ، يَعْنِي الْمَزَادَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : هَاتُوا مَا كَانَ عِنْدَكُمْ ، فَجَمَعْنَا لَهَا مِنْ كِسَرٍ وَتَمْرٍ ، وَصَرَّ لَهَا صُرَّةً ، فَقَالَ لَهَا : اذْهَبِي فَأَطْعِمِي هَذَا عِيَالَكِ ، وَاعْلَمِي أَنَّا لَمْ نَرْزَأْ مِنْ مَائِكِ ، فَلَمَّا أَتَتْ أَهْلَهَا ، قَالَتْ : لَقَدْ لَقِيتُ أَسْحَرَ الْبَشَرِ ، أَوْ إِنَّهُ لَنَبِيٌّ كَمَا زَعَمَ ، كَانَ مِنْ أَمْرِهِ ذَيْتَ وَذَيْتَ ، فَهَدَى اللَّهُ ذَاكَ الصِّرْمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ ، فَأَسْلَمَتْ وَأَسْلَمُوا " .
سلم بن زریر عطاری نے کہا: میں نے ابورجاء عطاری سے سنا، وہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے، کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، ہم اس رات چلتے رہے حتی کہ جب صبح قریب آئی تو ہم (تھکاوٹ کے سبب) اتر پڑے، ہم پر (نیند میں ڈوبی) آنکھیں غالب آگئیں یہاں تک کہ سورج چمکنے لگا۔ ہم میں جو سب سے پہلے بیدار ہوئے وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو جاتے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگایا نہیں کرتے تھے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بیدار ہو جاتے، پھر عمر رضی اللہ عنہ جاگے، وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھڑے ہوگئے اور «اللہ اکبر» پکارنے لگے اور (اس) تکبیر میں آواز اونچی کرنے لگے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جاگ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور دیکھا کہ سورج چمک رہا ہے تو فرمایا: ”(آگے) چلو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں لے کر چلے یہاں تک کہ سورج (روشن) ہو کر سفید ہو گیا، آپ اترے، ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ لوگوں میں سے ایک آدمی الگ ہو گیا اور اس نے ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھی، جب سلام پھیرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”فلاں! تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا، اس نے مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند سواروں سمیت پانی کی تلاش میں جلدی اپنے آگے روانہ کیا، ہم سخت پیاسے تھے، جب ہم چل رہے تھے تو ہمیں ایک عورت ملی جس نے اپنے پاؤں دو مشکوں کے درمیان لٹکائے ہوئے تھے (بکری کی مشکوں سمیت پاؤں لٹکائے، اونٹ پر سوار تھی)، ہم نے اس سے پوچھا: پانی کہاں ہے؟ کہنے لگی: افسوس! تمہارے لیے پانی نہیں ہے۔ ہم نے پوچھا: تمہارے گھر اور پانی کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ اس نے کہا: ایک دن اور رات کی مسافت ہے۔ ہم نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو۔ کہنے لگی: اللہ کا رسول کیا ہوتا ہے؟ ہم نے اسے اس کے معاملے میں (فیصلے کا) کچھ اختیار نہ دیا حتی کہ اسے لے آئے، اس کے ساتھ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہوئے، آپ نے اس سے پوچھا تو اس نے آپ کو اسی طرح بتایا جس طرح ہمیں بتایا تھا، اور آپ کو یہ بھی بتایا کہ وہ یتیم بچوں والی ہے، اس کے (زیر کفالت) بہت سے یتیم بچے ہیں۔ آپ نے اس کی پانی ڈھونے والی اونٹنی کے بارے میں حکم دیا، اسے بٹھایا گیا اور آپ نے کلی کر کے مشکوں کے اوپر کے دونوں سوراخوں میں پانی ڈالا، پھر آپ نے اس کی اونٹنی کو کھڑا کیا تو ہم سب نے اور ہم چالیس (شدید) پیاسے افراد تھے (ان مشکوں سے) پانی پیا یہاں تک کہ ہم سیراب ہوگئے اور ہمارے پاس جتنی مشکیں اور پانی کے برتن تھے سب بھر لیے اور اپنے ساتھی کو غسل بھی کرایا، البتہ ہم نے کسی اونٹ کو پانی نہ پلایا اور وہ یعنی دونوں مشکیں پانی (کی مقدار زیادہ ہو جانے کے سبب) پھٹنے والی ہو گئیں، پھر آپ نے فرمایا: ”تمہارے پاس جو کچھ ہے، لے آؤ۔“ ہم نے ٹکڑے اور کھجوریں اکٹھی کیں، اس کے لیے ایک تھیلی کا منہ بند کر دیا گیا تو آپ نے اس سے کہا: ”جاؤ اور یہ خوراک اپنے بچوں کو کھلاؤ اور جان لو! ہم نے تمہارے پانی میں کمی نہیں کی۔“ جب وہ اپنے گھر والوں کے پاس پہنچی تو کہا: میں انسانوں کے سب سے بڑے ساحر سے مل کر آئی ہوں یا پھر جیسا کہ وہ خود کو سمجھتا ہے، وہ نبی ہے، اور اس کا معاملہ اس طرح سے ہے۔ پھر (آخر کار) اللہ نے اس عورت کے سبب سے لوگوں سے کٹی ہوئی اس آبادی کو ہدایت عطا کر دی، وہ مسلمان ہوگئی اور (باقی) لوگ بھی مسلمان ہوگئے۔ (یہ پچھلے واقعے سے ملتا جلتا ایک اور واقعہ ہے۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 682
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 682
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ الأَعْرَابِيُّ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَسَرَيْنَا لَيْلَةً ، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قُبَيْلَ الصُّبْحِ ، وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ الَّتِي لَا وَقْعَةَ عِنْدَ الْمُسَافِرِ أَحْلَى مِنْهَا ، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ سَلْمِ بْنِ زَرِيرٍ ، وَزَادَ وَنَقَصَ ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ ، وَكَانَ أَجْوَفَ جَلِيدًا ، فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ ، حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِشِدَّةِ صَوْتِهِ بِالتَّكْبِيرِ ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، شَكَوْا إِلَيْهِ الَّذِي أَصَابَهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا ضَيْرَ ، ارْتَحِلُوا ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ .
عوف بن ابی جمیلہ اعرابی نے ابورجاء عطاری سے، انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم ایک سفر کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، ہم ایک رات چلے، جب رات کا آخری حصہ آیا، صبح سے تھوڑی دیر پہلے ہم اس طرح پڑ کر سو گئے کہ اس سے زیادہ میٹھی نیند ایک مسافر کے لیے اور کوئی نہیں ہو سکتی، ہمیں سورج کی حرارت ہی نے جگایا۔ پھر سلم بن زریر کی حدیث کی طرح حدیث سنائی اور کچھ کمی بیشی بھی اور (اپنی روایت کردہ) حدیث میں انہوں نے کہا: جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جاگے اور لوگوں کی صورت حال دیکھی، اور وہ بلند آواز آدمی تھے تو انہوں نے اونچی آواز سے «اللہ اکبر» کہا حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اونچے اللہ اکبر کہنے سے جاگ گئے، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جاگ گئے تو لوگوں نے اپنے اس معاملے کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی (بڑا) نقصان نہیں ہوا، (آگے) چلو۔“ آگے وہی حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 682
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 683
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ ، فَعَرَّسَ بِلَيْلٍ ، اضْطَجَعَ عَلَى يَمِينِهِ ، وَإِذَا عَرَّسَ قُبَيْلَ الصُّبْحِ ، نَصَبَ ذِرَاعَهُ وَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى كَفِّهِ " .
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں ہوتے اور رات (کے آخری حصے) میں آرام کے لیے لیٹتے تو دائیں پہلو پر لیٹتے اور جب صبح سے ذرا پہلے لیٹتے تو اپنی کہنی کھڑی کر لیتے اور سر ہتھیلی پر ٹکا لیتے۔ (تاکہ زیادہ گہری نیند نہ آئے۔ اس حدیث کے الفاظ بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ اوپر بیان کیے گئے دو الگ الگ واقعات ہیں۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 683
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 684
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا ، لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ " ، قَالَ قَتَادَةُ : وَأَقِمْ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي .
ہمام نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: ہمیں قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جیسے ہی وہ اسے یاد آئے، وہ نماز پڑھ لے، اس نماز کا اس کے علاوہ اور کوئی کفارہ نہیں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 684
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 684
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کی مذکورہ بالا روایت بیان کی اور اس میں یہ ٹکڑا نقل نہیں کیا کہ ”اس کا کفارہ یہی ہے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 684
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 684
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً ، أَوْ نَامَ عَنْهَا ، فَكَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا " .
سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، کہا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کوئی نماز بھول گیا یا اسے ادا کرتے وقت سوتا رہ گیا تو اس (نماز) کا کفارہ یہی ہے کہ جب اسے یاد آئے وہ اس نماز کو پڑھ لے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 684
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 684
وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَقَدَ أَحَدُكُمْ عَنِ الصَّلَاةِ ، أَوْ غَفَلَ عَنْهَا ، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا ، فَإِنَّ اللَّهَ ، يَقُولُ : أَقِمْ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي " .
مثنیٰ نے قتادہ کے حوالے سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز (پڑھنے کے وقت اس) سے سویا رہے یا اس سے غافل ہو جائے تو جب اسے یاد آئے وہ (نماز) پڑھ لے، بے شک اللہ تعالیٰ نے (خود) ارشاد فرمایا ہے: «وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي» (اور میری یاد کے وقت نماز قائم کرو۔)“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 684
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»