کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چل کر جانے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 662
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلَاةِ ، أَبْعَدُهُمْ إِلَيْهَا مَمْشًى ، فَأَبْعَدُهُمْ ، وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ ، حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الإِمَامِ ، أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي يُصَلِّيهَا ، ثُمَّ يَنَامُ " ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ : حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الإِمَامِ فِي جَمَاعَةٍ .
عبداللہ بن براد اشعری اور ابوکریب دونوں نے کہا: ہم سے ابواسامہ نے برید سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں سب سے زیادہ ثواب اس کا ہے جو اس کے لیے زیادہ دور سے چل کر آتا ہے۔ پھر (اس کے بعد) جو ان میں سے سب سے زیادہ دور سے چل کر آتا ہے۔ اور جو آدمی نماز کا انتظار کرتا ہے تاکہ اسے امام کے ساتھ ادا کرے، اجر میں اس سے بہت بڑھ کر ہے جو نماز پڑھتا ہے، پھر سو جاتا ہے۔“ ابوکریب کی روایت میں ہے: ”یہاں تک کہ وہ اسے امام کے ساتھ جماعت میں ادا کرے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 662
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 663
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ ، لَا أَعْلَمُ رَجُلًا أَبْعَدَ مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْهُ ، وَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ صَلَاةٌ ، قَالَ : فَقِيلَ لَهُ : أَوْ قُلْتُ لَهُ : لَوِ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الظَّلْمَاءِ ، وَفِي الرَّمْضَاءِ ؟ قَالَ : مَا يَسُرُّنِي أَنَّ مَنْزِلِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ يُكْتَبَ لِي مَمْشَايَ إِلَى الْمَسْجِدِ ، وَرُجُوعِي ، إِذَا رَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ جَمَعَ اللَّهُ لَكَ ذَلِكَ كُلَّهُ " .
عبثر نے ہمیں خبر دی، انہوں نے سلیمان تیمی سے، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے اور انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک آدمی تھا، میرے علم میں کوئی اور آدمی اس کی نسبت مسجد سے زیادہ فاصلے پر نہیں رہتا تھا اور اس کی کوئی نماز نہیں چوکتی تھی، اس سے کہا گیا، یا میں نے (اس سے) کہا: اگر آپ گدھا خرید لیں کہ (رات کی) تاریکی اور (دوپہر کی) گرمی میں آپ اس پر سوار ہو جایا کریں۔ اس نے جواب دیا: مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرا گھر مسجد کے پڑوس میں ہو، میں چاہتا ہوں میرا مسجد تک چل کر جانا اور جب میں گھر والوں کی طرف لوٹوں تو میرا لوٹنا میرے لیے لکھا جائے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ تمہارے لیے اکٹھا کر دیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 663
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 663
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ. ح ، وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِنَحْوِهِ .
عتمر بن سلیمان اور جریر دونوں نے تیمی سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق روایت کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 663
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 663
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، بَيْتُهُ أَقْصَى بَيْتٍ فِي الْمَدِينَةِ ، فَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ الصَّلَاةُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَتَوَجَّعْنَا لَهُ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا فُلَانُ ، لَوْ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا يَقِيكَ مِنَ الرَّمْضَاءِ ، وَيَقِيكَ مِنْ هَوَامِّ الأَرْضِ ، قَالَ : أَمَ وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي مُطَنَّبٌ بِبَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَحَمَلْتُ بِهِ حِمْلًا ، حَتَّى أَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، قَالَ : فَدَعَاهُ ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ وَذَكَرَ لَهُ : أَنَّهُ يَرْجُو فِي أَثَرِهِ الأَجْرَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ " .
عباد بن عباد نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: ہمیں عاصم نے ابوعثمان سے حدیث سنائی، کہا: انصار میں ایک آدمی تھا، اس کا گھر مدینہ میں سب سے دور (واقع) تھا اور اس کی کوئی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں پڑھنے سے چوکتی نہیں تھی، ہم نے اس کے لیے ہمدردی محسوس کی تو میں نے اسے کہا: جناب! اگر آپ ایک گدھا خرید لیں جو آپ کو گرمی اور زمین کے (زہریلے) کیڑوں سے بچائے (تو کتنا اچھا ہو!) اس نے کہا: واللہ! مجھے یہ پسند نہیں کہ میرا گھر (خیمے کی طرح) کنابوں کے ذریعے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے بندھا ہوا ہو۔ مجھے اس کی یہ بات بہت گراں گزری حتی کہ میں اسی کیفیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بات کی خبر دی۔ آپ نے اسے بلوایا تو اس نے آپ کو بھی وہی جواب دیا اور آپ کو بتایا کہ وہ آنے جانے پر اجر کی امید رکھتا ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں یقیناً وہی اجر ملے گا جسے تم حاصل کرنا چاہتے ہو۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 663
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 663
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ . ح ، وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَزْهَرَ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي كُلُّهُمْ ، عَنْ عَاصِمٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
امام صاحب اپنے دوسرے اساتذہ سے بھی عاصم کی مذکورہ سند سے اس کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 663
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 664
وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَتْ دِيَارُنَا نَائِيَةً عَنِ الْمَسْجِدِ ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَبِيعَ بُيُوتَنَا ، فَنَقْتَرِبَ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ لَكُمْ بِكُلِّ خَطْوَةٍ دَرَجَةً " .
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے گھر مسجد سے دور واقع تھے تو ہم نے چاہا، ہم اپنے گھروں کو فروخت کر کے مسجد کے قریب گھر خرید لیں، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس سے روک دیا اور فرمایا: ”تمہیں ہر قدم کے بدلے میں ایک درجہ ملے گا۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 664
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 665
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَلَتِ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ ، فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ ، أَنْ يَنْتَقِلُوا إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُمْ : إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ أَرَدْنَا ذَلِكَ ، فَقَالَ : يَا بَنِي سَلِمَةَ ، " دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ ، دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ " .
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، مسجد کے گرد کچھ جگہیں خالی ہوئیں تو بنو سلمہ کے لوگوں نے چاہا مسجد کے قریب منتقل ہو جائیں، رسول اللہ ﷺ کو بھی اس کا پتہ چل گیا تو آپﷺ نے انہیں فرمایا: ”مجھے اطلاع ملی ہے تم مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو۔‘‘ انہوں نے عرض کیا، جی ہاں! اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم نے اس کا ارادہ کیا ہے تو آپﷺ نے فرمایا: اے بنو سلمہ! اپنے گھروں میں رہو، تمہارے نقش قدم لکھے جاتے ہیں، اپنے گھروں میں ہی رہو، تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 665
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 665
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ كَهْمَسًا يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ ، أَنْ يَتَحَوَّلُوا إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ ، قَالَ : وَالْبِقَاعُ خَالِيَةٌ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا بَنِي سَلِمَةَ ، دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ " ، فَقَالُوا : مَا كَانَ يَسُرُّنَا أَنَّا كُنَّا تَحَوَّلْنَا .
کہمس نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: بنو سلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا، کہا: اور (مسجد کے قریب) جگہیں (بھی) خالی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا: ”اے بنو سلمہ! اپنے گھروں میں رہو، تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں۔“ تو انہوں نے کہا: (اس کے بعد) ہمیں یہ بات اچھی (بھی) نہ لگتی کہ ہم منتقل ہو چکے ہوتے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 665
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»