کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: عذر کے سبب سے جماعت کا معاف ہونا۔
حدیث نمبر: 33
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الأَنْصَارِ ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي ، وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي ، وَإِذَا كَانَتِ الأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ ، وَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ ، فَأُصَلِّيَ لَهُمْ وَدِدْتُ ، أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَأْتِي فَتُصَلِّي فِي مُصَلًّى ، فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " ، قَالَ عِتْبَانُ : فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ، حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَذِنْتُ لَهُ ، فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ ، ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ ؟ قَالَ : فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَبَّرَ ، فَقُمْنَا وَرَاءَهُ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، قَالَ : وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرٍ صَنَعْنَاهُ لَهُ ، قَالَ : فَثَابَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ حَوْلَنَا ، حَتَّى اجْتَمَعَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ ذَوُو عَدَدٍ ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ : أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : ذَلِكَ مُنَافِقٌ ، لَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَقُلْ لَهُ ذَلِكَ ، أَلَا تَرَاهُ قَدْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ؟ قَالَ : قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَإِنَّمَا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ لِلْمُنَافِقِينَ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيَّ وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ وَهُوَ مِنْ سَرَاتِهِمْ ، عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، فَصَدَّقَهُ بِذَلِكَ .
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے جو ان صحابہ کرام میں سے تھے جو انصار میں سے جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے، (بیان کیا) کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری نظر خراب ہو گئی ہے، میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں اور جب بارشیں ہوتی ہیں تو میرے اور ان کے درمیان والی وادی میں سیلاب آجاتا ہے، اس کی وجہ سے میں ان کی مسجد میں نہیں پہنچ سکتا کہ میں انہیں نماز پڑھاؤں تو اے اللہ کے رسول! میں چاہتا ہوں کہ آپ (میرے گھر) تشریف لائیں اور نماز پڑھنے کی کسی ایک جگہ پر نماز پڑھیں تاکہ میں اس جگہ کو (مستقل طور پر) جائے نماز بنا لوں۔ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان شاء اللہ میں ایسا کروں گا۔“ عتبان رضی اللہ عنہ نے کہا: تو صبح کے وقت دن چڑھتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اندر آنے کی) اجازت طلب فرمائی، میں نے تشریف آوری کا کہا، آپ آ کر بیٹھے نہیں یہاں تک کہ گھر کے اندر (کے حصے میں) داخل ہوئے، پھر پوچھا: ”تم اپنے گھر میں کس جگہ چاہتے ہو کہ میں (وہاں) نماز پڑھوں؟“ میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر تکبیر (تحریمہ) کہی اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، آپ نے دو رکعتیں ادا فرمائیں، پھر سلام پھیر دیا۔ اس کے بعد ہم نے آپ کو خزیر (گوشت کے چھوٹے ٹکڑوں سے بنے ہوئے کھانے) کے لیے روک لیا جو ہم نے آپ کے لیے تیار کیا تھا۔ (عتبان رضی اللہ عنہ نے) کہا: (آپ کی آمد کا سن کر) اردگرد سے محلے کے لوگ آگئے حتی کہ گھر میں خاصی تعداد میں لوگ اکٹھے ہو گئے۔ ان میں سے ایک بات کرنے والے نے کہا: مالک بن دخشن کہاں ہے؟ ان میں سے کسی نے کہا: وہ تو منافق ہے، اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بارے میں ایسا نہ کہو، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اس نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے لا إله إلا الله کہا ہے؟“ (عتبان رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔ اس (الزام لگانے والے) نے کہا: ہم تو اس کی وجہ اور اس کی خیر خواہی منافقوں ہی کے لیے دیکھتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو آگ پر حرام قرار دیا ہے جو لا إله إلا الله کہتا ہے اور اس کے ذریعے سے اللہ کی رضا کا طلب گار ہے۔“ ابن شہاب نے کہا: میں نے (بعد میں) حصین بن محمد انصاری سے، جو بنو سالم سے تعلق رکھتے ہیں ان کے سرداروں میں سے ہیں، محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس میں ان (محمود رضی اللہ عنہ) کی تصدیق کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 33
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 33
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍكِلَاهُمَا ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ رَبِيعٍ ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ ، أَوِ الدُّخَيْشِنِ ؟ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ ، قَالَ مَحْمُودٌ : فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، نَفَرًا فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ : مَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا قُلْتَ ؟ قَالَ : فَحَلَفْتُ إِنْ رَجَعْتُ إِلَى عِتْبَانَ أَنْ أَسْأَلَهُ ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ ، فَوَجَدْتُهُ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ ، وَهُوَ إِمَامُ قَوْمِهِ ، فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَحَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثَنِيهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : ثُمَّ نَزَلَتْ بَعْدَ ذَلِكَ فَرَائِضُ وَأُمُورٌ ، نَرَى أَنَّ الأَمْرَ انْتَهَى إِلَيْهَا ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَغْتَرَّ فَلَا يَغْتَرَّ .
معمر نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ نے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا (پھر یونس کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، البتہ یہ کہا: تو ایک آدمی نے کہا: مالک بن دخشن یا دخیشن کہاں ہے؟ اور حدیث میں یہ اضافہ کیا: محمود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث چند لوگوں کو، جن میں ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، سنائی تو انہوں نے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ جو بات تم بیان کرتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہو۔ اس پر میں نے (دل میں) قسم کھائی کہ اگر میں عتبان رضی اللہ عنہ کے ہاں دوبارہ گیا تو ان سے (اس کے بارے میں ضرور) پوچھوں گا۔ تو میں دوبارہ ان کے پاس آیا، میں نے دیکھا کہ وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں، ان کی بینائی ختم ہو چکی تھی لیکن وہ (اب بھی) اپنی قوم کے امام تھے۔ میں ان کے پہلو میں بیٹھ گیا اور ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے بالکل اسی طرح (ساری) حدیث سنائی جس طرح پہلے سنائی تھی۔ زہری نے کہا: اس واقعے کے بعد بہت سے فرائض اور دیگر امور (احکام) نازل ہوئے اور ہماری نظر میں معاملہ انہی پر تمام ہوا، لہذا جو انسان چاہتا ہے کہ (عتبان رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ظاہری مفہوم سے) دھوکا نہ کھائے، وہ دھوکا کھانے سے بچے۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 33
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 33
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ الأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، قَالَ : إِنِّي لَأَعْقِلُ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ دَلْوٍ فِي دَارِنَا ، قَالَ مَحْمُودٌ : فَحَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ بَصَرِي قَدْ سَاءَ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ إِلَى قَوْلِهِ : فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ، وَحَبَسْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَشِيشَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ زِيَادَةِ يُونُسَ ، وَمَعْمَرٍ .
حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اس کلی کی سمجھ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے ہمارے گھر میں ایک ڈول سے (پانی لے کر) کی تھی، محمود کہتے ہیں مجھے عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میری نظر میں خرابی پیدا ہو گئی ہے اور دو رکعات نماز پڑھانے تک واقعہ سنایا اور یہ کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے لیے جو کھانا تیار کیا تھا، اس کے لیے آپﷺ کو روک لیا، اس کے بعد یونس اور معمر نے جو اضافہ کیا، وہ بیان نہیں کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 33
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»