کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: اس بات کی دلیل کہ نماز وسطی سے مراد نماز عصر ہے۔
حدیث نمبر: 627
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأَحْزَابِ : " شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى ، حَتَّى آبَتِ الشَّمْسُ ، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ نَارًا ، أَوْ بُيُوتَهُمْ أَوْ بُطُونَهُمْ " ، شَكَّ شُعْبَةُ ، فِي الْبُيُوتِ وَالْبُطُونِ ،
شعبہ نے کہا: ہمیں قتادہ سے سنا، وہ ابوحسان سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے عبیدہ سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احزاب کے دن فرمایا: ”ان لوگوں نے ہمیں درمیانی نماز سے مشغول کیے رکھا حتی کہ سورج غروب ہو گیا، اللہ تعالیٰ ان کی قبروں کو اور گھروں کو یا (فرمایا:) ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔“ گھروں یا پیٹوں کے بارے میں شعبہ کو شک ہوا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 627
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 627
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ وَلَمْ يَشُكَّ .
سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی اور انہوں نے بغیر شک کے «بیوتهم وقبورهم» (ان کے گھروں اور قبروں کو) کہا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 627
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 627
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ عَلِيٍّ . ح ، وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَحْيَى ، سَمِعَ عَلِيًّا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأَحْزَابِ ، وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى فُرْضَةٍ مِنْ فُرَضِ الْخَنْدَقِ : " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى ، حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ ، أَوَ قَالَ : قُبُورَهُمْ وَبُطُونَهُمْ نَارًا " .
یحییٰ بن جزار نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب کے موقع پر جب آپ خندق کی گزرگاہوں میں سے کسی گزرگاہ پر تشریف فرما تھے، فرمایا: ”انہوں نے ہمیں درمیانی نماز (عصر) سے مشغول کر دیا حتی کہ سورج ڈوب گیا، اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو یا فرمایا: ان کی قبروں اور پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 627
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 627
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأَحْزَابِ : " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى ، صَلَاةِ الْعَصْرِ ، مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ ، وَقُبُورَهُمْ نَارًا ، ثُمَّ صَلَّاهَا بَيْنَ الْعِشَاءَيْنِ ، بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ " .
شتیر بن شکل نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کے دن فرمایا: ”انہوں نے ہمیں درمیانی نماز (یعنی) عصر کی نماز سے مشغول رکھا، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔“ پھر آپ نے اسے رات کے دونوں نمازوں مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھا۔ (مغرب کا وقت جا رہا تھا اس لیے آخری وقت میں پہلے مغرب پڑھی، پھر عصر کی قضا پڑھی، پھر عشاء پڑھی۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 627
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 628
وحَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَامِيُّ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى احْمَرَّتِ الشَّمْسُ ، أَوِ اصْفَرَّتْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى ، صَلَاةِ الْعَصْرِ ، مَلَأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ ، وَقُبُورَهُمْ نَارًا ، أَوَ قَالَ : حَشَا اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ ، وَقُبُورَهُمْ نَارًا .
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ مشرکوں نے رسول اللہ ﷺ کو عصر کی نماز سے مشغول رکھا، یہاں تک کہ سورج سرخ یا زرد ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے ہمیں درمیانی نماز عصر کی نماز سے مشغول رکھا، اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے‘‘، یا فرمایا: مَلَأَ اللهُ کی بجائے حَشَا اللہُ أَجْوَافَهُمْ، وَقُبُورَهُمْ نَارًا فرمایا۔ مَلَا اور حَشَا دونوں کا معنی بھرنا ہے، اجواف اور بطون پیٹوں کو کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 628
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 629
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا ، وَقَالَتْ : " إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الآيَةَ ، فَآذِنِّي حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238 ، فَلَمَّا بَلَغْتُهَا ، آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَيَّ ، " 0 حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ 0 " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابویونس سے روایت ہے، کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حکم دیا کہ ان کے لیے قرآن مجید لکھوں، فرمایا: جب تم اس آیت پر پہنچو «حفظوا علی الصلوٰت والصلوٰة الوسطیٰ» تو مجھے بتانا، چنانچہ جب میں آیت پر پہنچا تو انہیں آگاہ کیا، انہوں نے مجھے لکھوایا: «حافظوا علی الصلوٰت والصلوٰة الوسطیٰ وصلوٰة العصر، قوموا للہ قانتین» ”نمازوں کی حفاظت کرو اور (خاص کر) درمیانی نماز کی، یعنی نماز عصر کی اور اللہ کے حضور عاجزانہ قیام کرو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی سنا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 629
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 630
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى ابْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ، فَقَرَأْنَاهَا مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ نَسَخَهَا اللَّهُ ، فَنَزَلَتْ " حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238 " ، فَقَالَ رَجُلٌ ، كَانَ جَالِسًا عِنْدَ شَقِيقٍ لَهُ : هِيَ إِذًا صَلَاةُ الْعَصْرِ ؟ فَقَالَ الْبَرَاءُ : قَدْ أَخْبَرْتُكَ كَيْفَ نَزَلَتْ ، وَكَيْفَ نَسَخَهَا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ ،
فضیل بن مرزوق نے شقیق بن عقبہ سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ یہ آیت «حافظوا علی الصلوٰت وصلوٰة العصر» نازل ہوئی، جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا ہم نے اسے پڑھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کر دیا اور آیت اس طرح اتری: «حفظوا علی الصلوٰت والصلوٰة الوسطیٰ» ”نمازوں کی نگہداشت کرو اور (خصوصاً) درمیانی نماز کی۔“ اس پر ایک آدمی نے، جو شقیق کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان سے کہا: تو پھر اس سے مراد عصر کی نماز ہوئی؟ حضرت براء رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ یہ آیت کیسے اتری اور اللہ تعالیٰ نے کیسے اسے منسوخ کیا، (اصل حقیقت) اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 630
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 630
قَالَ مُسْلِم وَرَوَاهُ الأَشْجَعِيُّ : عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : قَرَأْنَاهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَانًا ، بِمِثْلِ حَدِيثِ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ .
امام مسلم فرماتے ہیں: یہی روایت اشجعی نے سفیان ثوری کے واسطے سے اسود بن قیس کی شقیق بن عقبہ سے براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنائی، انہوں نے کہا، ہم ایک عرصہ تک نبی اکرم ﷺ کے ساتھ پڑھتے رہے، جیسا کہ فضیل بن مرزوق کی حدیث ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 630
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 631
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ أَبُو غَسَّانَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَوْمَ الْخَنْدَقِ ، جَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ الْعَصْرَ ، حَتَّى كَادَتْ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَوَاللَّهِ إِنْ صَلَّيْتُهَا ، فَنَزَلْنَا إِلَى بُطْحَانَ ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَوَضَّأْنَا ، " فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ " .
معاذ بن ہشام نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں میرے والد نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے حدیث بیان کی کہ خندق کے روز حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں عصر کی نماز نہیں پڑھ سکا تھا یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کو آ گیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے (بھی) نہیں پڑھی۔“ پھر ہم (وادی) بطحان میں اترے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور ہم نے بھی وضو کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کے غروب ہو جانے کے بعد عصر کی نماز پڑھی، پھر اس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 631
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 631
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَقَالَ إِسْحَاق أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ .
علی بن مبارک نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 631
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»