حدیث نمبر: 598
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ ، سَكَتَ هُنَيَّةً ، قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ ، مَا تَقُولُ ؟ قَالَ : أَقُولُ : اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ ، كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ ، كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے تکبیر کہتے تو قرأت سے پہلے کچھ سکوت فرماتے تو میں نے پوچھا، اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، فرمایئے آپ تکبیر اور قرأت کے درمیان خاموشی کے دوران کیا پڑھتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ”میں کہتا ہوں: اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اس قدر فاصلہ کر دے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان رکھا ہے، اے اللہ! مجھے گناہوں سے یوں پاک صاف کر دے، جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 598
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ .
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 599
قَالَ مُسْلِم : وَحُدِّثْتُ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ وَغَيْرِهِمَا ، وَيُونُسَ الْمُؤَدِّبِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ ، اسْتَفْتَحَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، وَلَمْ يَسْكُتْ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسری رکعت سے اٹھتے تو «الحمد للہ رب العالمین» سے قراءت کا آغاز کر دیتے (کچھ دیر) خاموشی اختیار نہ فرماتے۔
حدیث نمبر: 600
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، وَثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا ، جَاءَ فَدَخَلَ الصَّفَّ ، وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ ، فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ ، حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا ، مُبَارَكًا فِيهِ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ ، قَالَ : أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ ، فَأَرَمَّ الْقَوْمُ ، فَقَالَ : أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِهَا ، فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا ، فَقَالَ رَجُلٌ : جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ ، فَقُلْتُهَا . فَقَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا ، أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا " .
مجھے زہیر بن حرب نے عفان کے واسطہ سے حماد کی قتادہ، ثابت اور حمید سے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سنائی ہے کہ ایک آدمی آیا اور صف میں اس حالت میں شریک ہوا کہ اس کا سانس پھول رہا تھا اور اس نے پڑھا اَلحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْداً، یعنی اللہ ہی بہت زیادہ پاک اور برکت والی تعریف و ثنا کا حقدار ہے تو جب رسول اللہ ﷺ نے نماز پوری کر لی تو آپﷺ نے پوچھا، تم میں سے کس نے یہ کلمات کہے تھے؟ اس پر سب لوگ خاموش رہے، آپﷺ نے دوبارہ پوچھا، تم میں سے کس نے یہ کلمات کہے؟ اس نے کوئی بری بات نہیں کہی۔ تو ایک شخص نے کہا، میں اس حال میں آیا کہ میرا سانس پھول رہا تھا تو میں نے یہ کلمات کہے، آپﷺ نے فرمایا: ”میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا، جو ان کلمات کو اوپر لے جانے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے، قَدْ حَفَزَهُ النَّفْسُ: اس کا سانس پھولا ہوا تھا۔ اَرَمَّ الْقَوْمُ: لوگ چپ رہے۔
حدیث نمبر: 601
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا ؟ " ، قَالَ رَجُلٌ مِنِ الْقَوْمِ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " عَجِبْتُ لَهَا ، فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ " ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَمَا تَرَكْتُهُنَّ ، مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ ذَلِكَ .
حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اس اثنا میں لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: (اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا) ”اللہ بہت بڑا ہے اور اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریف ہے اور صبح و شام اللہ ہی کے لیے پاکیزگی و تسبیح ہے۔‘‘ تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”یہ بول کس نے کہا ہے؟‘‘ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا، اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے کہا ہے، آپﷺ نے فرمایا: ”مجھے ان پر تعجب ہوا، ان کے لیے آسمان سے دروازے کھولے گئے۔‘‘ ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے آپﷺ سے یہ بات سننے کے بعد ان کلمات کو کبھی نہیں چھوڑا۔