حدیث نمبر: 389
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي ، جَاءَهُ الشَّيْطَانُ ، فَلَبَسَ عَلَيْهِ ، حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى ، فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی جب نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان آ کر اسے التباس (شبہ) میں ڈالتا ہے، حتیٰ کہ اسے پتہ نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں، تم میں سے کوئی جب اس فعل میں مبتلا ہو جائے تو وہ بیٹھ کر یعنی آخر میں دو سجدے کر لے۔‘‘
حدیث نمبر: 569
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ كِلَاهُمَا ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
سفیان بن عیینہ اور لیث بن سعد نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 569
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا نُودِيَ بِالأَذَانِ ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ ، حَتَّى لَا يَسْمَعَ الأَذَانَ ، فَإِذَا قُضِيَ الأَذَانُ أَقْبَلَ ، فَإِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ ، فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ ، يَخْطُرُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ ، يَقُولُ : اذْكُرْ كَذَا ، اذْكُرْ كَذَا ، لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ ، حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى ، فَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ كَمْ صَلَّى ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " ,
یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت ہے، کہا: ہمیں ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حدیث سنائی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اذان کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، گوز مار رہا ہوتا ہے تاکہ اذان (کی آواز) نہ سنے۔ جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو (واپس) آتا ہے، پھر جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے، جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو آ جاتا ہے تاکہ انسان اور اس کے دل کے درمیان خیال آرائی شروع کرائے، وہ کہتا ہے: فلاں بات یاد کرو، فلاں چیز یاد کرو، وہ چیزیں (اسے یاد کراتا ہے) جو اسے یاد نہیں ہوتیں حتیٰ کہ وہ شخص یوں ہو جاتا ہے کہ اسے یاد نہیں رہتا اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، چنانچہ جب تم میں سے کسی کو یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو وہ (تشہد میں) بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔“
حدیث نمبر: 569
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ وَلَّى ، وَلَهُ ضُرَاطٌ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ : فَهَنَّاهُ وَمَنَّاهُ وَذَكَّرَهُ مِنْ حَاجَاتِهِ ، مَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ .
عبدالرحمن اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے (آگے اوپر کی روایت کی طرح ذکر کیا) اور یہ اضافہ کیا: ”اسے رغبت اور امید دلاتا ہے اور اسے اس کی ایسی ضرورتیں یاد دلاتا ہے جو اسے یاد نہیں ہوتیں۔“
حدیث نمبر: 570
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، قَالَ : " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَكْعَتَيْنِ مِنْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ ، كَبَّرَ ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ، قَبْلَ التَّسْلِيمِ ، ثُمَّ سَلَّمَ " .
مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبدالرحمن اعرج سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن بحسینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کسی ایک نماز کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر (تیسری کے لیے) کھڑے ہو گئے اور (درمیان کے تشہد کے لیے) نہ بیٹھے تو لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، جب آپ نے نماز پوری کر لی اور ہم آپ کے سلام کے انتظار میں تھے تو آپ نے تکبیر کہی اور بیٹھے بیٹھے سلام سے پہلے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیر دیا۔
حدیث نمبر: 570
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ الأَسْدِيِّ حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِب ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " قَامَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ ، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ ، سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، يُكَبِّرُ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ ، قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ، وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ ، مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ " .
لیث نے ابن شہاب سے، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن بحسینہ اسدی رضی اللہ عنہ سے، جو بنو عبدالمطلب کے حلیف تھے، روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں، جب آپ کو (دوسری رکعت کے بعد) بیٹھنا تھا، کھڑے ہو گئے، پھر جب آپ نے اپنی نماز مکمل کر لی تو آپ نے بیٹھے بیٹھے ہر سجدے کے لیے تکبیر کہتے ہوئے سلام سے پہلے دو سجدے کیے، اور لوگوں نے بھی (تشہد کے لیے) بیٹھنے کی جگہ، جو آپ بھول گئے تھے، آپ کے ساتھ دو سجدے کیے۔
حدیث نمبر: 570
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ الأَزْدِيِّ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَامَ فِي الشَّفْعِ ، الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَجْلِسَ فِي صَلَاتِهِ ، فَمَضَى فِي صَلَاتِهِ ، فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ الصَّلَاةِ ، سَجَدَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ، ثُمَّ سَلَّمَ " .
حضرت عبداللہ بن مالک ابن بحینہ ازدی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پہلے دوگانہ کے بعد جس میں آپﷺ بیٹھنا چاہتے تھے کھڑے ہو گئے اور نماز پڑھتے رہے تو جب نماز کے آخر میں پہنچ گئے تو سلام سے پہلے دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا۔
حدیث نمبر: 571
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ ، فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ، ثَلَاثًا ، أَمْ أَرْبَعًا ، فَلْيَطْرَحِ الشَّكَّ ، وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ ، قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا ، شَفَعْنَ لَهُ صَلَاتَهُ ، وَإِنْ كَانَ صَلَّى إِتْمَامًا لِأَرْبَعٍ ، كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ " .
سلیمان بن بلال نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھ لی ہیں؟ تین یا چار؟ تو وہ شک کو چھوڑ دے اور جتنی رکعتوں پر اسے یقین ہے ان پر بنیاد رکھے (تین یقینی ہیں تو چوتھی پڑھ لے) پھر سلام سے پہلے دو سجدے کر لے، اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لی ہیں تو یہ سجدے اس کی نماز کو جفت (چھ رکعتیں) کر دیں گے اور اگر اس نے چار کی تکمیل کر لی تھی تو یہ سجدے شیطان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 571
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَفِي مَعْنَاهُ ، قَالَ : يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ ، قَبْلَ السَّلَامِ ، كَمَا قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ .
داؤد بن قیس نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور اس کے معنی کے مطابق یہ کہا: وہ ”(نمازی) سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کر لے۔“ جس طرح سلیمان بن بلال نے کہا۔
حدیث نمبر: 572
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، وَأَبُو بَكْرِ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ ، زَادَ أَوْ نَقَصَ : فَلَمَّا سَلَّمَ ، قِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ ؟ قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالُوا : صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَثَنَى رِجْلَيْهِ ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ . فَقَالَ : " إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ ، أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى ، كَمَا تَنْسَوْنَ ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي ، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ ، فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ، ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " .
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، ابراہیم نے کہا اس میں آپﷺ نے زیادتی یا کمی کی تو جب آپﷺ نے سلام پھیرا تو آپﷺ سے عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا نماز میں کوئی نیا حکم آ گیا ہے؟ آپﷺ نے پوچھا: ”وہ کیا ہے؟‘‘ صحابہ نے کہا آپﷺ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھائی ہیں، آپﷺ نے اپنے دونوں پاؤں موڑے، قبلہ کی طرف رخ کیا اور دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا، پھر آپﷺ نے ہماری طرف رخ کیا اور فرمایا: ”اگر نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوتا تو میں تمہیں بتا دیتا، لیکن میں بھی انسان ہوں، تمہاری طرح بھول جاتا ہوں،اس لیے جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو۔ اور جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارے میں شک پڑ جائے تو وہ درستگی یا صحیح بات کی طرف پہنچنے کی کوشش کرے اور اس کے مطابق نماز پوری کر لے، پھر دو سجدے کرلے۔‘‘
حدیث نمبر: 572
حَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بِشْرٍ : فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ لِلصَّوَابِ ، وَفِي رِوَايَةِ وَكِيعٍ : فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ .
امام صاحب دو اور اساتذہ سے روایت بیان کرتے ہیں، ابن بشر کی روایت میں، ”وہ غور و فکر کرے صحت کے قریب تر کیا ہے‘‘ اور وکیع کی روایت میں ہے ”وہ صحت کا قصد کرے یعنی ظن غالب پر عمل کرے۔‘‘
حدیث نمبر: 572
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وقَالَ : مَنْصُورٌ : فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ لِلصَّوَابِ .
وہیب بن خالد نے کہا: ہمیں منصور نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ منصور نے کہا: ”وہ غور کرے کہ اس میں صحت کے قریب تر کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 572
حَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ .
سفیان نے منصور سے مذکورہ سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا: ”وہ صحیح کی جستجو کرے۔“
حدیث نمبر: 572
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : فَلْيَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذَلِكَ إِلَى الصَّوَابِ .
شعبہ نے منصور سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا: ”اس میں جو صحیح کے قریب تر ہے اس کی جستجو کرے۔“
حدیث نمبر: 572
حَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : فَلْيَتَحَرَّ الَّذِي يَرَى أَنَّهُ الصَّوَابُ .
فضیل بن عیاض نے منصور سے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور کہا: ”وہ اس کی جستجو کرے جسے وہ صحیح سمجھتا ہے۔“
حدیث نمبر: 572
حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِإِسْنَادِ هَؤُلَاءِ ، وَقَالَ : فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ .
عبدالعزیز بن عبدالصمد نے منصور سے ان سب راویوں کی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا: ”وہ صحیح کی جستجو کرے۔“
حدیث نمبر: 572
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قِيلَ لَهُ : أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالُوا : صَلَّيْتَ خَمْسًا ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ " .
حکم نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز (میں) پانچ رکعتیں پڑھا دیں، جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ سے عرض کی گئی: کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ صحابہ نے کہا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ تو آپ نے دو سجدے کیے۔
حدیث نمبر: 572
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ ، أَنَّهُ صَلَّى بِهِمْ خَمْسًا .
حضرت ابراہیم سے روایت ہے کہ کہ علقمہ نے بیان کیا آپﷺ نے انہیں پانچ رکعات پڑھا دیں۔
حدیث نمبر: 572
ح حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا عَلْقَمَةُ الظُّهْرَ خَمْسًا ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قَالَ الْقَوْمُ : يَا أَبَا شِبْلٍ ، قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا ؟ قَالَ : كَلَّا مَا فَعَلْتُ ؟ قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : وَكُنْتُ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ وَأَنَا غُلَامٌ ، فَقُلْتُ : بَلَى ، قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا ، قَالَ لِي : وَأَنْتَ أَيْضًا يَا أَعْوَرُ ، تَقُولُ ذَاكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا ، فَلَمَّا انْفَتَلَ ، تَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَيْنَهُمْ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُكُمْ ؟ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ زِيدَ فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ : لَا ، قَالُوا : فَإِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا ، فَانْفَتَلَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ، " ، وَزَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ ، " فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " .
عثمان بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی۔ لفظ انہی کے ہیں۔ انہوں نے کہا: ہمیں جریر نے حسن بن عبیداللہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابراہیم بن سوید سے روایت کی، کہا: ہمیں علقمہ نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو لوگوں نے کہا: ابوشبل! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں۔ انہوں نے کہا: بالکل نہیں، میں نے ایسا نہیں کیا۔ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں! (آپ نے ایسا ہی کیا ہے۔) ابراہیم نے کہا: میں لوگوں کے کنارے (والے حصے) میں تھا اور بچہ تھا، میں نے کہا: ہاں! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ انہوں نے مجھ سے کہا: ایک آنکھ والے! تو بھی یہی کہتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! تو وہ مڑے اور دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا، پھر کہا: عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھا دیں، جب آپ مڑے تو لوگوں نے آپس میں کھسر پھسر شروع کر دی۔ آپ نے پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ لوگوں نے کہا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں۔ تو آپ پلٹے، پھر دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا، پھر فرمایا: ”میں تمہاری ہی طرح کا انسان ہوں، میں (بھی) بھول جاتا ہوں جس طرح تم لوگ بھول جاتے ہو۔“ ابن نمیر نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: ”جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو وہ دو سجدے کر لے۔“
حدیث نمبر: 572
حَدَّثَنَاه عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالُوا : صَلَّيْتَ خَمْسًا ، قَالَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ، أَذْكُرُ كَمَا تَذْكُرُونَ ، وَأَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ " .
عبدالرحمن بن اسود نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھا دیں تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ کیا؟“ صحابہ نے کہا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”میں تمہاری طرح انسان ہوں، میں بھی اسی طرح یاد رکھتا ہوں جس طرح تم یاد رکھتے ہو اور میں (بھی) اسی طرح بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو۔“ پھر آپ نے سہو کے دو سجدے کیے۔
حدیث نمبر: 572
وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَزَادَ أَوْ نَقَصَ ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ : وَالْوَهْمُ مِنِّي ؟ فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ ؟ فَقَالَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " ، ثُمَّ تَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ .
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی، اس میں اضافہ یا کمی کی (ابراہیم کا قول ہے یہاں وہم مجھے ہوا) پوچھا گیا، اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا: ”میں بھی تمھاری طرح انسان ہوں، میں بھی بھول سکتا ہوں، جیسے تم بھولتے ہو تو جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلے۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ قبلہ رخ ہوئے اور دو سجدے کیے۔
حدیث نمبر: 572
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ ، بَعْدَ السَّلَامِ وَالْكَلَامِ " .
حفص اور ابومعاویہ نے اعمش سے باقی ماندہ اس سند کے ساتھ حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام اور گفتگو کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔
حدیث نمبر: 572
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِمَّا زَادَ أَوْ نَقَصَ ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ : وَايْمُ اللَّهِ ، مَا جَاءَ ذَاكَ ، إِلَّا مِنْ قِبَلِي ، قَالَ : فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ ؟ فَقَالَ : لَا ، قَالَ : فَقُلْنَا لَهُ : الَّذِي صَنَعَ ، فَقَالَ : " إِذَا زَادَ الرَّجُلُ أَوْ نَقَصَ ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " ، قَالَ : ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ .
زائدہ نے سلیمان (اعمش) سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے زیادہ پڑھا دیا یا کم۔ ابراہیم نے کہا: اللہ کی قسم! یہ (وہم) میری طرف سے ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نیا حکم آ گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ تو ہم نے آپ کو جو آپ نے کیا تھا اس سے آگاہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”جب آدمی زیادتی یا کمی کر لے تو دو سجدے کرے۔“ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: اس کے بعد آپ نے دو سجدے کیے۔
حدیث نمبر: 573
حَدَّثَنِي ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وعَمْرٌو النَّاقِدُ جميعا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ ، إِمَّا الظُّهْرَ ، وَإِمَّا الْعَصْرَ ، فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَتَى جِذْعًا فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَاسْتَنَدَ إِلَيْهَا مُغْضَبًا ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، فَهَابَا أَنْ يَتَكَلَّمَا ، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ ، قُصِرَتِ الصَّلَاةُ ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ ، أَمْ نَسِيتَ ؟ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَمِينًا ، وَشِمَالًا ، فَقَالَ : مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ قَالُوا : صَدَقَ ، لَمْ تُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ ، " فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، وَسَلَّمَ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، فَرَفَعَ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، وَسَجَدَ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، وَرَفَعَ " ، قَالَ : وَأُخْبِرْتُ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّهُ قَالَ : وَسَلَّمَ .
سفیان بن عیینہ نے کہا: ہم سے ایوب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے محمد بن سیرین سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوپہر کے بعد کی ایک نماز ظہر یا عصر پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، پھر قبلے کی سمت (گڑے ہوئے) کجھور کے ایک تنے کے پاس آئے اور غصے کی کیفیت میں اس سے ٹیک لگا لی۔ لوگوں میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما موجود (بھی) تھے، انہوں نے آپ کی ہیبت کی بنا پر گفتگو نہ کی جبکہ جلد باز لوگ (نماز پڑھ کر) نکل گئے، اور کہنے لگے: نماز میں کمی ہو گئی ہے۔ تو ذوالیدین (نامی شخص) کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز مختصر کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں اور بائیں دیکھ کر پوچھا: ”ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: سچ کہہ رہا ہے، آپ نے دو رکعتیں ہی پڑھی ہیں۔ چنانچہ آپ نے دو رکعتیں (مزید) پڑھیں اور سلام پھیر دیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا، پھر اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا۔ (محمد بن سیرین نے) کہا: عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے بتایا گیا کہ انہوں نے کہا: اور سلام پھیرا۔
حدیث نمبر: 573
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے دوپہر کی ایک نماز پڑھائی، سفیان کے ہم معنی حدیث سنائی۔
حدیث نمبر: 573
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ ، فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ ، فَقَالَ : أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمْ نَسِيتَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ ، فَقَالَ : قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھائی۔ اور دو رکعتوں پر سلام پھیردیا تو ذوالیدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھڑے ہو کر پوچھا، اے اللہ کے رسول ﷺ! نماز کم کر دی گئی ہے یا آپﷺ ہی بھول گئے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دونوں کام نہیں ہوئے۔ تو اس نے عرض کی، ایک کام تو ہوا ہے، اے اللہ کے رسول ﷺ! رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا: ”کیا ذوالیدین سچ کہہ رہا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا ہاں اے اللہ کے رسول ﷺ! تو رسول اللہ ﷺ نے باقی ماندہ نماز پوری کی، پھر دو سجدے سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے کیے۔
حدیث نمبر: 573
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْخَزَّازُ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ ، أَمْ نَسِيتَ ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
علی بن مبارک نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوسلمہ نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیر دیا تو بنو سلیم کا ایک آدمی آپ کے قریب آیا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ (آگے (سابقہ) حدیث بیان کی۔)
حدیث نمبر: 573
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَاةَ الظُّهْرِ ، سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ .
شیبان نے یحییٰ سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (اقتداء میں) ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا، اس پر بنی سلیم کا ایک آدمی کھڑا ہوا (آگے (مذکورہ بالا) حدیث بیان کی۔)
حدیث نمبر: 574
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جميعا ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى الْعَصْرَ ، فَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، يُقَالُ لَهُ : الْخِرْبَاقُ ، وَكَانَ فِي يَدَيْهِ طُولٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَذَكَرَ لَهُ صَنِيعَهُ ، وَخَرَجَ غَضْبَانَ ، يَجُرُّ رِدَاءَهُ ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : أَصَدَقَ هَذَا ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، " فَصَلَّى رَكْعَةً ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ " .
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعات پر سلام پھیردیا، پھر اپنے گھر جانے لگے تو آپﷺ کے پاس ایک آدمی آیا، جسے خرباق کہا جاتا تھا اور اس کے ہاتھ لمبے تھے، اس نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ! آپﷺ کو کیا ہوا تو آپﷺ غصے کی حالت میں چادر کھینچتے ہوئے نکلے، حتیٰ کہ لوگوں کے پاس آ گئے۔ اور پوچھا: ”کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا: ہاں۔ تو آپﷺ نے ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا، پھر دو سجدے (سہو کے لیے) کیے، پھر سلام پھیرا۔
حدیث نمبر: 574
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، قَالَ : سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْحُجْرَةَ ، فَقَامَ رَجُلٌ بَسِيطُ الْيَدَيْنِ ، فَقَالَ : أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، فَخَرَجَ مُغْضَبًا ، " فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِي كَانَ تَرَكَ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ ، ثُمَّ سَلَّمَ " .
عبدالوہاب ثقفی نے خالد حذاء سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تیسری رکعت میں سلام پھیر دیا، پھر اٹھ کر اپنے حجرے میں داخل ہو گئے، ایک (لمبے) چوڑے ہاتھوں والا آدمی کھڑا ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے؟ پھر آپ غصے کے عالم میں نکلے اور چھوڑی ہوئی رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر سہو کے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔