کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: نماز کے اندر شیطان پر لعنت کرنا اور اس سے پناہ مانگنا اور عمل قلیل کرنا درست ہے۔
حدیث نمبر: 541
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ ، جَعَلَ يَفْتِكُ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ ، وَإِنَّ اللَّهَ أَمْكَنَنِي مِنْهُ فَذَعَتُّهُ ، فَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى جَنْبِ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ ، حَتَّى تُصْبِحُوا تَنْظُرُونَ إِلَيْهِ أَجْمَعُونَ أَوْ كُلُّكُمْ ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ : رَبِّ اغْفِرْ لِي ، وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ، فَرَدَّهُ اللَّهُ خَاسِئًا " ، وَقَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ شُعْبَةُ : عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ،
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گزشتہ رات ایک سرکش جن میری طرف بڑھا تاکہ میری نماز توڑ دے اور اللّٰہ تعالیٰ نے اسے میرے قابو میں دے دیا تو میں نے اس کا گلا گھونٹ دیا اور میں نے یہ ارادہ بھی کر لیا تھا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ تم سب صبح اس کو دیکھ سکو، پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کا یہ قول یاد آ گیا ”اور میرے رب مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت دے، جو میرے سوا کسی کے لیے ممکن نہ ہو‘‘، اس طرح اللّٰہ نے اس جن کو ناکام و نامراد لوٹا دیا۔ ابن منصور نے شعبہ سے حدثنا محمد کی بجائے شعبہ عن محمد بن زیاد کہا ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 541
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 541
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ . ح ، قَالَ : حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ ، قَوْلُهُ : فَذَعَتُّهُ ، وَأَمَّا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ : فَدَعَتُّهُ .
محمد بن بشار نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی۔ اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں شبابہ نے حدیث سنائی، ان دونوں (ابن جعفر اور شبابہ) نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث روایت کی۔ ابن جعفر کی روایت میں ”میں نے اس کا گلا گھونٹا“ کے الفاظ نہیں جبکہ ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں کہا: ”میں نے اسے پیچھے دھکا دیا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 541
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 542
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ : " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَلْعَنُكَ بِلَعْنَة اللَّهِ " ، ثَلَاثًا ، وَبَسَطَ يَدَهُ ، كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ ، شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِكَ ، وَرَأَيْنَاكَ بَسَطْتَ يَدَكَ ، قَالَ : إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ ، جَاءَ بِشِهَابٍ مِنَ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي ، فَقُلْتُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قُلْتُ : " أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ ، فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " ، ثُمَّ أَرَدْتُ أَخْذَهُ ، وَاللَّهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ ، لَأَصْبَحَ مُوثَقًا يَلْعَبُ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ .
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیام (کی حالت) میں تھے کہ ہم نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں۔“ آپ نے یہ تین بار کہا اور آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا، گویا کہ آپ کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو نماز میں کچھ کہتے سنا ہے جو اس سے پہلے آپ کو کبھی کہتے نہیں سنا اور ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنا ہاتھ (آگے) بڑھایا۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تھا تاکہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے، میں نے تین دفعہ «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ» ”میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں“ کہا، پھر میں نے تین بار کہا: ”میں تجھ پر اللہ کی کامل لعنت بھیجتا ہوں۔“ وہ پھر بھی پیچھے نہ ہٹا تو میں نے اسے پکڑنے کا ارادہ کر لیا۔ اللہ کی قسم! اگر ہمارے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح تک بندھا رہتا اور مدینہ والوں کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 542
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»