حدیث نمبر: 534
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، وَعَلْقَمَةَ ، قَالَا : أَتَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فِي دَارِهِ ، فَقَالَ : أَصَلَّى هَؤُلَاءِ خَلْفَكُمْ ؟ فَقُلْنَا : لَا ، قَالَ : فَقُومُوا فَصَلُّوا ، فَلَمْ يَأْمُرْنَا بِأَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ، قَالَ : وَذَهَبْنَا لِنَقُومَ خَلْفَهُ ، فَأَخَذَ بِأَيْدِينَا ، فَجَعَلَ أَحَدَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ ، قَالَ : فَلَمَّا رَكَعَ ، وَضَعْنَا أَيْدِيَنَا عَلَى رُكَبِنَا ، قَالَ : فَضَرَبَ أَيْدِيَنَا ، وَطَبَّقَ بَيْنَ كَفَّيْهِ ، ثُمَّ أَدْخَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ ، قَالَ : فَلَمَّا صَلَّى ، قَالَ : " إِنَّهُ سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ ، يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مِيقَاتِهَا ، وَيَخْنُقُونَهَا إِلَى شَرَقِ الْمَوْتَى ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ قَدْ فَعَلُوا ذَلِكَ ، فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا ، وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ سُبْحَةً ، وَإِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً ، فَصَلُّوا جَمِيعًا ، وَإِذَا كُنْتُمْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، فَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ ، وَإِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيُفْرِشْ ذِرَاعَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ ، وَلْيَجْنَأْ وَلْيُطَبِّقْ بَيْنَ كَفَّيْهِ " ، فَلَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَاهُمْ .
حضرت اسود اور علقمہ رحمتہ اللّٰہ علیہ سے روایت ہے کہ ہم عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر، ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے پوچھا، کیا ان لوگوں نے جن کو تم پیچھے چھوڑ آئے ہو (حکمران اور ان کے اتباع) نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے عرض کیا، نہیں، انہوں نے کہا، اٹھو اور نماز پڑھو تو انہوں نے ہمیں اذان اور اقامت کہنے کا حکم نہ دیا۔ اور ہم ان کے پیچھے کھڑے ہونے لگے تو انہوں نے ہمارے ہاتھ پکڑ کر ایک کو دائیں اور دوسرے کو اپنے بائیں کردیا۔ جب انہوں نے رکوع کیا تو ہم نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے، انہوں نے ہمارے ہاتھوں پر مارا اور اپنی ہتھیلیوں کو جوڑا پھر ان کو اپنی دونوں رانوں کے درمیان رکھ لیا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو کہا، عنقریب تمہارے امیر ایسے ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے اور ان کے وقت کو بہت تنگ کر دیں گے، جب تم ان کو دیکھو کہ انہوں نے ایسا کرنا شروع کر دیا ہے تو تم نماز اس کے وقت پر پڑھ لینا اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفلی بنا لینا اور جب تم تین آدمی ہو تو اکٹھے کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب تم تین سے زیادہ ہو تو تم میں ایک امام بن جائے اور جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اپنے بازؤں کو اپنی رانوں پر پھیلا دے اور جھکے اور اپنی ہتھیلیاں جوڑ لے گویا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں کے اختلاف کو دیکھ رہا ہوں اور ان کو دکھایا۔
حدیث نمبر: 534
وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، ح ، قَالَ : وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ كُلُّهُمْ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، أنهما دخلا على عبد الله ، بمعنى حديث أبي معاوية ، وفي حديث ابن مسهر ، وجرير ، فلكأني أنظر إلى اختلاف أصابع رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ رَاكِعٌ .
علی بن مسہر، جریر اور مفضل نے مختلف سندوں کے ساتھ اعمش سے، انہوں نے ابراہیم سے اور انہوں نے علقمہ اور اسود سے روایت کی کہ وہ دونوں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے (آگے ابومعاویہ کی روایت کے ہم معنی روایت بیان کی)، البتہ ابن مسہر اور جریر کی روایت میں (آخری حصہ) اس طرح ہے، جیسے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالف جانب آئی ہوئی (ایک دوسری میں پیوست) انگلیاں دیکھ رہا ہوں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کی حالت میں ہیں۔
حدیث نمبر: 534
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ وَالأَسْوَدِ ، أنهما دخلا على عبد الله ، فقال : " أَصَلَّى مَنْ خَلْفَكُمْ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَامَ بَيْنَهُمَا ، وَجَعَلَ أَحَدَهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ ، ثُمَّ رَكَعْنَا ، فَوَضَعْنَا أَيْدِيَنَا عَلَى رُكَبِنَا ، فَضَرَبَ أَيْدِيَنَا ، ثُمَّ طَبَّقَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ جَعَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ " ، فَلَمَّا صَلَّى ، قَالَ : هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
منصور نے ابراہیم سے اور انہوں نے علقمہ اور اسود سے روایت کی کہ وہ دونوں حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضر ہوئے تو انہوں نے پوچھا: جو تمہارے پیچھے ہیں، انہوں نے نماز پڑھ لی؟ دونوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر وہ دونوں کے درمیان کھڑے ہوئے، ان میں سے ایک کو اپنی دائیں طرف اور دوسرے کو اپنی بائیں طرف (کھڑا) کیا، پھر ہم نے رکوع کیا تو ہم نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے، انہوں نے ہمارے ہاتھوں پر (ہلکا سا) مارا، پھر اپنے دونوں ہاتھ جوڑ لیے اور ان کو اپنی رانوں کے درمیان رکھا، جب نماز پڑھ چکے تو کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا۔
حدیث نمبر: 535
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي ، قَالَ : وَجَعَلْتُ يَدَيَّ بَيْنَ رُكْبَتَيَّ ، فَقَالَ لِي أَبِي : اضْرِبْ بِكَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ ، قَالَ : ثُمَّ فَعَلْتُ ذَلِكَ مَرَّةً أُخْرَى ، فَضَرَبَ يَدَيَّ ، وَقَالَ : إِنَّا نُهِينَا عَنْ هَذَا ، " وَأُمِرْنَا أَنْ نَضْرِبَ بِالأَكُفِّ عَلَى الرُّكَبِ " .
حضرت مصعب بن سعد رحمتہ اللّٰہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے باپ کے پہلو میں نماز پڑھی اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھے تو مجھے میرے باپ نے کہا، اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پہ رکھ۔ وہ (مصعب) کہتے ہیں میں نے دوبارہ یہی کام کیا تو انہوں نے میرے ہاتھوں پر مارا اور کہا، ہمیں اس سے روک دیا گیا ہے۔ اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم ہتھیلیاں گھٹنوں پہ رکھیں۔
حدیث نمبر: 535
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، إِلَى قَوْلِهِ : فَنُهِينَا عَنْهُ ، وَلَمْ يَذْكُر : مَا بَعْدَهُ .
امام صاحب نے اپنے دو اساتذہ سے مذکورہ بالا سند سے ”ہمیں روک دیا گیا ہے‘‘ تک روایت بیان کی اور دونوں نے بعد والا جملہ بیان نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 535
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " رَكَعْتُ ، فَقُلْتُ : بِيَدَيَّ هَكَذَا ، يَعْنِي طَبَّقَ بِهِمَا ، وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ ، فَقَالَ أَبِي : قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ، ثُمّ أُمِرْنَا بِالرُّكَبِ " .
ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ نے وکیع کے واسطہ سے اسماعیل بن ابی خالد کی زبیر بن عدی سے حضرت مصعب بن سعد رحمتہ اللّٰہ علیہ سے روایت بیان کی کہ میں نے نماز پڑھنی شروع کی اور اپنے ہاتھوں کو اس طرح کرلیا (یعنی ان کو جوڑ کر اپنی رانوں کے درمیان رکھ لیا) تو مجھے میرے باپ نے بتایا، ہم بھی ایسا کیا کرتے تھے۔ پھر ہمیں گھٹنوں پہ رکھنے کا حکم دیا گیا۔
حدیث نمبر: 535
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنِ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي ، فَلَمَّا رَكَعْتُ ، شَبَّكْتُ أَصَابِعِي وَجَعَلْتُهُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيَّ ، فَضَرَبَ يَدَيَّ ، فَلَمَّا صَلَّى ، قَالَ : قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ، ثُمَّ أُمِرْنَا أَنْ نَرْفَعَ إِلَى الرُّكَبِ .
وکیع نے اسماعیل بن ابی خالد سے، انہوں نے زبیر بن عدی سے اور انہوں نے مصعب بن سعد سے روایت کی، کہا: میں نے رکوع کیا اور اپنے ہاتھوں کو اس طرح کر لیا، یعنی ان کو جوڑ کر اپنی رانوں کے درمیان رکھ لیا تو میرے والد نے مجھ سے کہا: ہم اسی طرح کیا کرتے تھے، پھر ہمیں گھٹنوں (پر ہاتھ رکھنے) کا حکم دیا گیا۔