کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: نمازی کا سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا استحباب، اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنا، اور گزرنے والے کا حکم اور گزرنے والے کو روکنا، نمازی کے آگے لیٹنے کا جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کا حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کا بیان۔
حدیث نمبر: 499
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ، وَقَال الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ ، مِثْلَ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ ، فَلْيُصَلِّ ، وَلَا يُبَالِ مَنْ مَرَّ وَرَاءَ ذَلِكَ " .
حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز رکھ لے تو پھر نماز پڑھتا رہے اور اس سے پرے گزرنے والے کی پرواہ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 499
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاق أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ ، تَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ ، ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ ، مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ " ، وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : فَلَا يَضُرُّهُ مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ .
محمد بن عبداللہ بن نمیر اور اسحاق بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، اسحاق نے کہا: ”عمر بن عبید طنافسی نے ہمیں خبر دی“ اور ابن نمیر نے کہا: ”ہمیں حدیث سنائی“، انہوں نے سماک سے، انہوں نے موسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے اپنے والد (حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نماز پڑھ رہے ہوتے اور جاندار ہمارے سامنے گزرتے، ہم نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی شخص کے آگے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو تو پھر جو چیز بھی اس کے سامنے سے گزرے گی اسے اس کا کوئی نقصان نہیں۔“ ابن نمیر نے، پھر جو چیز بھی اس کے سامنے سے گزرے گی، کے بجائے ”تو جو کوئی بھی اس کے سامنے سے گزرے گا اسے اس کا کوئی نقصان نہیں“ کے الفاظ بیان کیے۔
حدیث نمبر: 500
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي ؟ فَقَالَ : مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ " .
سعید بن ابی ایوب نے ابواسود سے، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازی کے سترے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”پالان کی پچھلی لکڑی کے مثل ہو۔“
حدیث نمبر: 500
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سُئِلَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، عَنْ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي ؟ فَقَالَ : كَمُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ " .
حیوہ نے ابواسود محمد بن عبدالرحمن سے، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غزوہ تبوک میں نمازی کے سترے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”پالان کی پچھلی لکڑی کے مانند ہو۔“
حدیث نمبر: 501
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ ، أَمَرَ بِالْحَرْبَةِ ، فَتُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ وَرَاءَهُ ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ ، فَمِنْ ثَمَّ ، اتَّخَذَهَا الأُمَرَاءُ " .
عبداللہ بن نمیر نے عبید اللہ سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلتے تو نیزے کا حکم دیتے، وہ آپ کے آگے گاڑ دیا جاتا، آپ اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے اور لوگ آپ کے پیچھے ہوتے، سفر میں بھی آپ ایسا ہی کرتے، اس بنا پر حکام نے اس (نیزہ گاڑنے) کو اپنا لیا۔
حدیث نمبر: 501
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَرْكُزُ ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : " يَغْرِزُ الْعَنَزَةَ ، وَيُصَلِّي إِلَيْهَا " زَادَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : وَهِيَ الْحَرْبَةُ .
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نیزہ گاڑتے اور اس کی طرف نماز پڑھتے۔ابن نمیر نے يركز اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے يغزر کا لفظ استعمال کیا (دونوں کے معنیٰ ہیں: آپﷺ گاڑتے تھے۔) اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے: عبیداللہ نے کہا: اس (عنزة) سے مراد حربة ہے۔ (برچھا)
حدیث نمبر: 502
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ يَعْرِضُ رَاحِلَتَهُ وَهُوَ يُصَلِّي إِلَيْهَا " .
معتمر بن سلیمان نے عبید اللہ سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (بوقت ضرورت) اپنی سواری کو سامنے کر کے (بٹھا لیتے اور) اس کی طرف (منہ کر کے) نماز پڑھ لیتے۔
حدیث نمبر: 502
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يُصَلِّي إِلَى رَاحِلَتِهِ ، وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى إِلَى بَعِيرٍ " .
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی سواری کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لیتے تھے اور ابن نمیر نے کہا: نبی اکرم ﷺ نے اونٹ یا اونٹنی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 503
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جميعا ، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ بِالأَبْطَحِ ، فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ ، قَالَ : فَخَرَجَ بِلَالٌ بِوَضُوئِهِ ، فَمِنْ نَائِلٍ وَنَاضِحٍ ، قَالَ : فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ ، قَالَ : فَتَوَضَّأَ وَأَذَّنَ بِلَالٌ ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُ فَاهُ ، هَا هُنَا ، وَهَهُنَا ، يَقُولُ : يَمِينًا وَشِمَالًا ، يَقُولُ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، قَالَ : ثُمَّ رُكِزَتْ لَهُ عَنَزَةٌ ، فَتَقَدَّمَ ، فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ، يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ ، لَا يُمْنَعُ ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ " .
سفیان نے بیان کیا: ہمیں عون بن ابی جحیفہ نے اپنے والد (حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں مکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ ابطح کے مقام پر چمڑے کے ایک سرخ خیمے میں (قیام پذیر) تھے۔ (ابوجحیفہ نے) کہا: بلال رضی اللہ عنہ آپ کے وضو کا پانی لے کر باہر آئے (بعدازاں جب آپ نے وضو کر لیا تو) اس میں سے کسی کو پانی مل گیا اور کسی نے (دوسرے سے اس کی) نمی لے لی۔ انہوں نے کہا: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ حلہ (لباس کے اوپر لمبا چوغہ) پہنے ہوئے نکلے، (ایسا لگتا ہے) جیسے (آج بھی) میں آپ کی پنڈلیوں کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں۔ آپ نے وضو کیا اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی، انہوں نے کہا: میں بھی ان کے منہ کے پیچھے اس طرح اور اس طرف رخ کرنے لگا، (جب) وہ «حي على الصلاة» اور «حي على الفلاح» کہہ رہے تھے تو انہوں نے دائیں بائیں رخ کیا، کہا: پھر آپ کے لیے نیزہ گاڑا گیا اور آپ نے آگے بڑھ کر ظہر کی دو رکعتیں (قصر) پڑھائیں، آپ کے آگے سے گدھا اور کتا گزرتا تھا، انہیں روکا نہ جاتا تھا، پھر آپ نے عصر کی دو رکعتیں پڑھائیں اور پھر مدینہ واپسی تک مسلسل دو رکعتیں ہی پڑھاتے رہے۔
حدیث نمبر: 503
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ " رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ ، وَرَأَيْتُ بِلَالًا أَخْرَجَ وَضُوءًا ، فَرَأَيْتُ النَّاسَ يَبْتَدِرُونَ ذَلِكَ الْوَضُوءَ ، فَمَنْ أَصَابَ مِنْهُ شَيْئًا ، تَمَسَّحَ بِهِ ، وَمَنْ لَمْ يُصِبْ مِنْهُ ، أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهِ ، ثُمَّ رَأَيْتُ بِلَالًا أَخْرَجَ عَنَزَةً فَرَكَزَهَا ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مُشَمِّرًا ، فَصَلَّى إِلَى الْعَنَزَةِ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ ، وَرَأَيْتُ النَّاسَ وَالدَّوَابَّ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيِ الْعَنَزَة " .
عون بن ابی جحیفہ سے روایت ہے کہ اس کے باپ نے رسول اللہ ﷺ کو چمڑے کے سرخ خیمہ میں دیکھا، اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا، اس نے آپﷺ کے وضو کا پانی باہر نکالا اس نے کہا تو میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اس پانی کو لینے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کو اس سے کچھ پانی مل گیا، اس نے اس کو بدن پر مل لیا اور جس کو نہ ملا اس نے اپنے ساتھی کے تر ہاتھ سے ہاتھ تر کیا، پھر میں نے بلال کو دیکھا، اس نے ایک نیزہ نکالا اور اس کو گاڑا اور رسول اللہ ﷺ سرخ جوڑے میں اس کو اوپر اٹھائے ہوئے نکلے یا جلدی سے نکلے اور نیزہ کی طرف رخ کر کے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور میں نے لوگوں اور چوپاؤں کو دیکھا وہ نیزہ کے سامنے سے گزر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 503
حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، قَالَ : ح وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِ حَدِيثِ سُفْيَانَ ، وَعُمَرَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، وَفِي حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ : فَلَمَّا كَانَ بِالْهَاجِرَةِ ، خَرَجَ بِلَالٌ ، فَنَادَى بِالصَّلَاةِ .
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے روایت بیان کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے زیادہ بیان کرتا ہے، مالک بن مغول کی حدیث میں ہے جب تم میں سے کوئی دوپہر کا وقت ہوا، بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نکل کر نماز کے لیے اذان دی۔
حدیث نمبر: 503
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ ، قَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ إِلَى الْبَطْحَاءِ ، فَتَوَضَّأَ ، فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ، وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ " ، قَالَ شُعْبَةُ : وَزَادَ فِيهِ عَوْنٌ ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، وَكَانَ يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ .
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: سخت گرمی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء کی طرف نکلے، وضو کر کے اس عالم میں ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے سامنے نیزہ تھا۔ شعبہ نے کہا: عون نے اپنے والد ابوجحیفہ سے (روایت کرتے ہوئے) یہ اضافہ کیا کہ نیزے کی دوسری طرف سے عورتیں اور گدھے گزر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 503
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِالإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا مِثْلَهُ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ الْحَكَمِ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ .
امام صاحب اپنے اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں جس میں یہ اضافہ کیا ہے لوگ آپﷺ کے وضو کے بچے باقی ماندہ پانی کو حاصل کر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 504
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى ، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيِ الصَّفِّ ، فَنَزَلْتُ ، فَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ ، وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ " .
مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں گدھی پر سوار ہو کر آیا، ان دنوں میں بلوغت کے قریب تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، میں صف کے سامنے سے گزرا اور اتر کر گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور صف میں داخل ہو گیا تو مجھے کسی نے اس پر نہیں ٹوکا۔
حدیث نمبر: 504
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ : " أَنَّهُ أَقْبَلَ يَسِيرُ عَلَى حِمَارٍ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَائِمٌ يُصَلِّي بِمِنًى فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، قَالَ : فَسَارَ الْحِمَارُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ ، ثُمَّ نَزَلَ عَنْهُ ، فَصَفَّ مَعَ النَّاسِ " ،
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، انہوں نے کہا: گدھا صف کے کچھ حصے کے آگے سے گزرا، پھر وہ اس سے اتر کر لوگوں کے ساتھ صف میں مل گئے۔
حدیث نمبر: 504
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، قَالَ : وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِعَرَفَةَ .
سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ روایت بیان کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ میں نماز پڑھا رہے تھے۔ (ابن عباس اپنی سواری پر حج کر رہے تھے۔ یہ واقعہ ان کے ساتھ غالباً منیٰ اور عرفہ دونوں مقامات پر پیش آیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہر جگہ سترے کا اہتمام کیا جاتا تھا۔)
حدیث نمبر: 504
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ : مِنًى ، وَلَا عَرَفَةَ ، وَقَالَ : فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَوْ يَوْمَ الْفَتْحِ .
معمر نے بھی زہری سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ہے اور اس میں منیٰ یا عرفہ کا تذکرہ کرنے کے بجائے حجۃ الوداع یا فتح مکہ کے دن کا ذکر کیا ہے۔