حدیث نمبر: 448
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ كلهم ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ سورة القيامة آية 16 ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ بِالْوَحْيِ ، كَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ ، وَشَفَتَيْهِ ، فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ ، فَكَانَ ذَلِكَ يُعْرَفُ مِنْهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16 أَخْذَهُ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 17 إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ نَجْمَعَهُ فِي صَدْرِكَ وَقُرْآنَهُ فَتَقْرَؤُهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 18 ، قَالَ : أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ لَهُ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ سورة القيامة آية 19 ، أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِكَ ، فَكَانَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ ، فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ كَمَا وَعَدَهُ اللَّهُ " .
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ» (القيامة: ١٦) کے بارے میں روایت ہے کہ جب جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی لے کر آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان اور ہونٹوں کو ہلایا کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بہت سخت گزرتا اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے معلوم ہو جاتا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں: ”آپ اس کو جلدی جلدی لینے کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں، بے شک اس کا جمع کر دینا اور اس کا پڑھوانا ہمارے ذمہ ہے۔“ یعنی قرآن آپ کے سینے میں جمع کر دینا اور اس کو پڑھوانا کہ آپ پڑھ سکیں ہمارے ذمہ ہے، پس جب ہم اس کو پڑھیں تو آپ اس کے پیچھے پڑھیں، یعنی جب ہم اس کو نازل کریں تو آپ اس کو غور سے سنیں، پھر اس کا بیان کر دینا بھی ہمارے ذمہ ہے، یعنی یہ بھی ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اسے آپ کی زبان سے (لوگوں کے سامنے) بیان کرا دیں، اس لیے جب جبریل علیہ السلام وحی لے کر آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم گردن جھکا کر بیٹھ جاتے، اور جب وہ چلے جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے وعدہ کے مطابق پڑھنا شروع کر دیتے۔
حدیث نمبر: 448
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْله : لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16 ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً ، كَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ ، فَقَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ : أَنَا أُحَرِّكُهُمَا ، كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُهُمَا ، فَقَالَ سَعِيدٌ : أَنَا أُحَرِّكُهُمَا ، كَمَا كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَرِّكُهُمَا ، فَحَرَّكَ شَفَتَيْهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ { 16 } إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ { 17 } سورة القيامة آية 16-17 ، قَالَ : جَمْعَهُ فِي صَدْرِكَ ، ثُمَّ تَقْرَؤُهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 18 ، قَالَ : فَاسْتَمِعْ ، وَأَنْصِتْ ، ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ ، قَالَ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ اسْتَمَعَ ، فَإِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ ، قَرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَمَا أَقْرَأَهُ " .
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اس کو جلدی جلدی لینے کے لیے اپنی زبان نہ ہلائیں۔“ کے بارے میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وحی کے نزول سے بہت مشقت برداشت کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (وحی کے اخذ کے لیے) اپنے ہونٹ ہلاتے تھے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے کہا، میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ہونٹ ہلا کر دکھاتا ہوں، اور سعید رحمہ اللہ نے اپنے شاگرد کو کہا، میں اپنے ہونٹوں کو ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرح تمہیں ہلا کر دکھاتا ہوں، پھر اپنے ہونٹ ہلائے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں، ”اس کو جلدی جلدی لینے کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں، بے شک اس کو جمع کر دینا اور اس کا پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے۔“ یعنی اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے میں جما دینا، اور پڑھا دینا ہمارے ذمہ ہے پھر جب ہم اس کو (جبریل علیہ السلام کی زبان سے) پڑھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اس کے پیچھے پڑھیں یعنی اس کو غور سے سنیں اور خاموش رہیں، پھر اس کو آپ کو پڑھانا ہمارے ذمہ ہے۔ (اس کے بعد) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبریل علیہ السلام وحی لے کر آتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غور سے سنتے اور جب جبریل علیہ السلام چلے جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قرأت پڑھتے۔