کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: مرض، سفر یا اور کسی عذر کی وجہ سے امام کا نماز میں کسی کو خلیفہ بنانا، اور اگر امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کھڑے ہو کر نماز پڑھے اگر کھڑے ہونے کی طاقت رکھتا ہو، کیونکہ قیام کی طاقت رکھنے والے مقتدی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم منسوخ ہو چکا ہے۔
حدیث نمبر: 418
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ لَهَا : أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : بَلَى ، ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَصَلَّى النَّاسُ ؟ " ، قُلْنَا : لَا ، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ " ، فَفَعَلْنَا ، فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ ، فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَقَالَ : " أَصَلَّى النَّاسُ ؟ " قُلْنَا : لَا ، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ " ، فَفَعَلْنَا ، فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ ، فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَقَالَ : " أَصَلَّى النَّاسُ ؟ " ، قُلْنَا : لَا ، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ " ، فَفَعَلْنَا ، فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ ، فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَقَالَ : " أَصَلَّى النَّاسُ ؟ " ، فَقُلْنَا : لَا ، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَتْ : وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ ، يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ ، قَالَتْ : فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا : يَا عُمَرُ ، صَلِّ بِالنَّاسِ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ ، قَالَتْ : فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الأَيَّامَ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً ، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ ، وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ، ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ لَا يَتَأَخَّرَ ، وَقَالَ لَهُمَا : أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ ، فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ قَائِمٌ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : هَاتِ ، فَعَرَضْتُ حَدِيثَهَا عَلَيْهِ ، فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ ؟ قُلْتُ : لَا ، قَالَ : هُوَ عَلِيٌّ .
موسیٰ بن ابی عائشہ نے عبید اللہ بن عبداللہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا: کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں نہیں بتائیں گی؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! جب (بیماری کے سبب) نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کے حرکات و سکنات) بوجھل ہونے لگے تو آپ نے فرمایا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟“ ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! نہیں، وہ سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو۔“ ہم نے پانی رکھا تو آپ نے غسل فرمایا: پھر آپ نے اٹھنے کی کوشش کی تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر آپ کو افاقہ ہوا تو فرمایا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟“ ہم نے کہا: نہیں، اللہ کے رسول! وہ آپ کے منتظر ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو۔“ ہم نے رکھا تو آپ نے غسل فرمایا: پھر آپ اٹھنے لگے تو آپ پر غشی طاری ہو گئی، پھر ہوش میں آئے تو فرمایا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟“ ہم نے کہا: نہیں، اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو۔“ ہم نے رکھا تو آپ نے غسل فرمایا: پھر اٹھنے لگے تو بے ہوش ہو گئے، پھر ہوش میں آئے تو فرمایا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟“ ہم نے کہا: نہیں، اللہ کے رسول! وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: لوگ مسجد میں اکٹھے بیٹھے ہوئے عشاء کی نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ پیغام لانے والا ان کے پاس آیا اور بولا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا، اور وہ بہت نرم دل انسان تھے: عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ہی اس کے زیادہ حقدار ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ان دنوں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر یہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ تخفیف محسوس فرمائی تو دو مردوں کا سہارا لے کر، جن میں سے ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے، نماز ظہر کے لیے نکلے، (اس وقت) ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ پیچھے نہ ہٹیں اور آپ نے ان دونوں سے فرمایا: ”مجھے ان کے پہلو میں بٹھا دو۔“ ان دونوں نے آپ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرنے والے راوی) عبید اللہ نے کہا: پھر میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کی: کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث پیش نہ کروں، جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا: لاؤ۔ تو میں نے ان کے سامنے عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث پیش کی، انہوں نے اس میں سے کسی بات کا انکار نہ کیا، ہاں! اتنا کہا: کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے تمہیں اس آدمی کا نام بتایا جو عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔
حدیث نمبر: 418
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد واللفظ لابن رافع ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ : قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، قَالَتْ : " أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ ، فَاسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِهَا ، وَأَذِنَّ لَهُ ، قَالَتْ : فَخَرَجَ ، وَيَدٌ لَهُ عَلَى الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَيَدٌ لَهُ عَلَى رَجُلٍ آخَرَ ، وَهُوَ يَخُطُّ بِرِجْلَيْهِ فِي الأَرْضِ ، فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : أَتَدْرِي مَنَ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ ؟ هُوَ عَلِيٌّ .
معمر نے بیان کیا کہ زہری نے کہا: مجھے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا آغاز میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے ہوا، آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت مانگی کہ آپ کی تیمار داری میرے گھر میں کی جائے، انہوں نے اجازت دے دی۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: آپ اس طرح نکلے کہ آپ کا ایک ہاتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہ (کے کندھے) پر اور دوسرا ہاتھ ایک دوسرے آدمی پر تھا اور (نقاہت کی وجہ سے) آپ اپنے پاؤں سے زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے۔ عبید اللہ نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سنائی تو انہوں نے کہا: کیا تم جانتے ہو وہ آدمی، جس کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا، کون تھے؟ وہ علی رضی اللہ عنہ تھے۔
حدیث نمبر: 418
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ ، اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي ، فَأَذِنَّ لَهُ ، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، تَخُطُّ رِجْلَاهُ فِي الأَرْضِ ، بَيْنَ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بِالَّذِي قَالَتْ عَائِشَةُ ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ : هَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الآخَرُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لَا ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هُوَ عَلِيٌّ .
عقیل بن خالد نے کہا: ابن شہاب (زہری) نے کہا: مجھے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدت اختیار کر گئی اور آپ کی تکلیف میں اضافہ ہو گیا تو آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ ان کی تیمار داری میرے گھر میں ہو، انہوں نے اجازت دے دی، پھر آپ دو آدمیوں کے درمیان (ان کا سہارا لے کر) نکلے، آپ کے دونوں پاؤں زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے (اور آپ) عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے آدمی کے درمیان تھے۔ (حدیث کے راوی) عبید اللہ نے کہا: عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو کچھ کہا تھا، میں نے اس کا تذکرہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا: کیا تم جانتے ہو وہ آدمی کون تھا جس کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا؟ انہوں نے کہا: میں نے کہا: نہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔
حدیث نمبر: 418
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " لَقَدْ رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ ، وَمَا حَمَلَنِي عَلَى كَثْرَةِ مُرَاجَعَتِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ فِي قَلْبِي ، أَنْ يُحِبَّ النَّاسُ بَعْدَهُ ، رَجُلًا قَامَ مَقَامَهُ أَبَدًا ، وَإِلَّا أَنِّي كُنْتُ أَرَى ، أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ مَقَامَهُ أَحَدٌ ، إِلَّا تَشَاءَمَ النَّاسُ بِهِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ " .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے اس معاملہ (ایام مرض میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کو امام بنانے کے معاملہ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (بار بار پوچھا) اور میں بار بار صرف اس بنا پر پوچھ رہی تھی کیونکہ میرا دل یہ نہیں مانتا تھا کہ لوگ کبھی اس شخص سے محبت کریں گے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم مقام ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پر کھڑا ہو گا، کیونکہ میرا خیال یہ تھا کہ جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پر کھڑا ہوگا لوگ اس سے بدشگونی لیں گے، اس لیے میں چاہتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امامت کو ابو بکر سے پھیر دیں (کسی اور کو امام مقرر کریں)۔
حدیث نمبر: 418
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد واللفظ لابن رافع ، قَالَ عَبد : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي ، قَالَ : مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ ، رَجُلٌ رَقِيقٌ ، إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ ، لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ ، فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : وَاللَّهِ مَا بِي إِلَّا كَرَاهِيَةُ ، أَنْ يَتَشَاءَمَ النَّاسُ بِأَوَّلِ مَنْ يَقُومُ فِي مَقَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : فَرَاجَعْتُهُ مَرَّتَيْنِ ، أَوْ ثَلَاثًا ، فَقَالَ : لِيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو بکر سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ تو میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ابو بکر رضی اللہ عنہ نرم دل ہیں، جب وہ قرآن پڑھتے ہیں تو اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں پا سکتے، اے کاش! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر کے سوا کسی اور کو حکم فرمائیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ کی قسم میرا اس سے صرف یہ مقصد تھا کہ لوگ جو شخص سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑا ہوگا اس سے بدفالی پکڑتے ہوئے اس کو ناپسند کریں گے۔ (اس لیے ابو بکر رضی اللہ عنہ اس سے بچ جائیں) اس لیے میں نے دو یا تین دفعہ اپنی بات پیش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو بکر ہی لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف علیہ السلام کے ساتھ معاملہ کرنے والی عورتیں ہو۔“
حدیث نمبر: 418
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ ، فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ ، إِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ ، لَا يُسْمِعِ النَّاسَ ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ ، فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ : قُولِي لَهُ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ ، رَجُلٌ أَسِيفٌ ، إِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ ، لَا يُسْمِعِ النَّاسَ ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ ، فَقَالَتْ لَهُ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، قَالَتْ : فَأَمَرُوا أَبَا بَكْرٍ ، يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، قَالَتْ : لَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ ، وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً ، فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الأَرْضِ ، قَالَتْ : فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِد ، سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُمْ مَكَانَكَ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُصَلِّي بِالنَّاسِ جَالِسًا ، وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمًا ، يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَقْتَدِي النَّاسُ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہو گئی، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے) تو بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو بکر کو کہو وہ نماز پڑھائیں۔“ تو میں نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ابو بکر نرم دل انسان ہیں اور وہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پر کھڑے ہوں گے، لوگوں کو قراءت نہیں سنا سکیں گے، اے کاش! آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو بکر رضی اللہ عنہ کو کہو، لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ تو میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا، تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو، ابو بکر نرم دل انسان ہے جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں، لوگوں کو قراءت نہیں سنا سکیں گے تو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں تو بہتر ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یوسف علیہ السلام سے معاملہ کرنے والی عورتوں کی طرح ہو، ابو بکر کو کہو لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ جب ابو بکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض میں کچھ تخفیف محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، دو آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دے رہے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں زمین پر نشان بنا رہے تھے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہو گئے، جب ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آہٹ محسوس کی، ابو بکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ سے روکا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بائیں جانب بیٹھ گئے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھاتے رہے، ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے مقتدی تھے۔
حدیث نمبر: 418
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَفِي حَدِيثِهِمَا : لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِر ، فَأُتِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى أُجْلِسَ إِلَى جَنْبِهِ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُهُمُ التَّكْبِيرَ ، وَفِي حَدِيثِ عِيسَى ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، وَأَبُو بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ ، وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ " .
علی بن مسہر اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ ان دونوں کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ نے وفات پائی۔ ابن مسہر کی روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لایا گیا یہاں تک کہ انہیں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو تکبیر سنا رہے تھے۔ عیسیٰ کی روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور لوگوں کو نماز پڑھانے لگے، ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پہلو میں تھے اور لوگوں کو (آپ کی تکبیر) سنا رہے تھے۔
حدیث نمبر: 418
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ ، فَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ ، قَالَ عُرْوَةُ : فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً ، فَخَرَجَ ، وَإِذَا أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْخَرَ ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيْ كَمَا أَنْتَ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِذَاءَ أَبِي بَكْرٍ ، إِلَى جَنْبِهِ ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو وہ ان کو جماعت کرانے لگے، عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آرام میں محسوس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، ابو بکر اس وقت جماعت کروا رہے تھے، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ فرمایا، اپنی حالت پر رہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر رضی اللہ عنہ کے برابر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے تو ابو بکر نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرنے لگے، اور لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے۔
حدیث نمبر: 419
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَ عَبد : أَخْبَرَنِي ، وَقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، وحَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : " أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ، كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ ، وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلَاةِ ، كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ ، فَنَظَرَ إِلَيْنَا وَهُوَ قَائِمٌ ، كَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ ، ثُمَّ تَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا ، قَالَ : فَبُهِتْنَا وَنَحْنُ فِي الصَّلَاةِ مِنْ فَرَحٍ بِخُرُوجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ ، وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجٌ لِلصَّلَاةِ ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، أَنْ أَتِمُّوا صَلَاتَكُمْ ، قَالَ : ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْخَى السِّتْرَ ، قَالَ : فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ " ،
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران، جس میں آپ نے وفات پائی، ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے حتیٰ کہ جب سوموار کا دن آیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز میں صف بستہ تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرے کا پردہ اٹھایا اور ہماری طرف دیکھا، اس وقت آپ کھڑے ہوئے تھے، ایسا لگتا تھا کہ آپ کا رخ انور مصحف کا ایک ورق ہے، پھر آپ نے ہنستے ہوئے تبسم فرمایا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نماز ہی میں اس خوشی کے سبب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باہر آنے سے ہوئی تھی مبہوت ہو کر رہ گئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں لوٹے تاکہ صف میں مل جائیں، انہوں نے سمجھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے باہر تشریف لا رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ اپنی نماز مکمل کرو، پھر آپ واپس حجرے میں داخل ہو گئے اور پردہ لٹکا دیا۔ اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے۔
حدیث نمبر: 419
وحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَشَفَ السِّتَارَةَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، وَحَدِيثُ صَالِحٍ ، أَتَمُّ ، وَأَشْبَعُ ،
سفیان بن عیینہ نے (ابن شہاب) زہری سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف میں نے جو آخری نظر ڈالی (وہ اس طرح تھی کہ) سوموار کے دن آپ نے (حجرے کا) پردہ اٹھایا ... جس طرح اوپر واقعہ (بیان ہوا) ہے۔ (امام مسلم فرماتے ہیں:) صالح کی حدیث کامل اور سیر حاصل ہے۔
حدیث نمبر: 419
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا .
معمر نے زہری کے حوالے سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب سوموار کا دن آیا ... اوپر والے دونوں راویوں کے مطابق۔
حدیث نمبر: 419
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا ، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : بِالْحِجَابِ ، فَرَفَعَهُ فَلَمَّا ، وَضَحَ لَنَا وَجْهُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا قَطُّ ، كَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حِينَ وَضَحَ لَنَا ، قَالَ : فَأَوْمَأَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، أَنْ يَتَقَدَّمَ ، وَأَرْخَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجَابَ ، فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ " .
عبدالعزیز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (بیماری کے ایام میں) تین دن ہماری طرف تشریف نہ لائے، (انہی دنوں میں سے) ایک دن نماز کھڑی کی گئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کمرے کے) پردے کی طرف بڑھے اور اسے اٹھا دیا، جب ہمارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ انور کھلا تو ہم نے کبھی ایسا منظر نہ دیکھا تھا جو ہمارے لیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کے نظارے سے، جو ہمارے سامنے تھا، زیادہ حسین اور پسندیدہ ہو۔ وہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہاتھ سے اشارہ کیا کہ وہ آگے بڑھیں اور آپ نے پردہ گرا دیا، پھر آپ وفات تک ایسا نہ کر سکے۔
حدیث نمبر: 420
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ ، فَقَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ ، رَجُلٌ رَقِيقٌ ، مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ ، لَا يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، فَقَالَ : " مُرِي أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ " ، قَالَ : فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ ، حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور آپ کی بیماری نے شدت اختیار کی تو آپ نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: وہ نرم دل آدمی ہیں، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہ پڑھا سکیں گے۔ آپ نے فرمایا: ”(اے عائشہ!) ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف علیہ السلام کے ساتھ (معاملہ کرنے) والیوں کی طرح ہو۔“ انہوں (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) نے کہا: اس طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں لوگوں کو نماز پڑھانے لگے۔