کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: اذان کے کلمات دو دو مرتبہ، اور اقامت کے کلمات ایک ایک مرتبہ، سوائے اقامت کے کلمہ کے وہ دو مرتبہ ہے۔
حدیث نمبر: 378
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ جَمِيعًا ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أُمِرَ بِلَالٌ ، أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ ، وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ " ، زَادَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، فَحَدَّثْتُ بِهِ أَيُّوبَ ، فَقَالَ : " إِلَّا الإِقَامَةَ " .
خلف بن ہشام نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے حدیث سنائی، نیز یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: ہمیں اسماعیل بن علیہ نے خبر دی، ان دونوں (حماد اور اسماعیل) نے خالد حذاء سے، انہوں نے ابوقلابہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان دہرائیں اور اقامت اکہری کہیں۔ یحییٰ نے ابن علیہ سے (بیان کردہ) اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: میں (اسماعیل) نے یہ روایت ایوب کو سنائی تو انہوں نے کہا: (اذان دہرائیں) اقامت کے سوا۔
حدیث نمبر: 378
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " ذَكَرُوا أَنْ يُعْلِمُوا وَقْتَ الصَّلَاةِ ، بِشَيْءٍ يَعْرِفُونَهُ ، فَذَكَرُوا أَنْ يُنَوِّرُوا نَارًا ، أَوْ يَضْرِبُوا نَاقُوسًا ، فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ " .
عبدالوہاب ثقفی نے خالد حذاء سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ انہوں نے (صحابہ نے) اس پر بات کی کہ کسی ایسی چیز کے ذریعے سے نماز کے وقت کی علامت مقرر کریں جس کو لوگ پہچان لیا کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ آگ روشن کریں یا ناقوس (گھنٹی) بجائیں، پھر (آخر کار) حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ دہری اذان اور اکہری اقامت کہیں۔
حدیث نمبر: 378
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، لَمَّا كَثُرَ النَّاسُ ذَكَرُوا ، أَنْ يُعْلِمُوا بِمِثْلِ حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : أَنْ يُورُوا نَارًا .
وہیب نے کہا: ہمیں خالد حذاء نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ جب لوگ زیادہ ہو گئے تو انہوں نے گفتگو کی کہ وہ علامت مقرر کریں ... آگے (عبدالوہاب) ثقفی کی حدیث کے مانند ہے، فرق صرف اس قدر ہے کہ اس (وہیب) نے (ینوروا نارا ”آگ روشن کریں“ کی جگہ) یوروا نارا ”آگ جلائیں“ کہا۔
حدیث نمبر: 378
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أُمِرَ بِلَالٌ ، أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ ، وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا، کہ اذان میں کلمات دو دو دفعہ کہے اور اقامت میں ایک ایک دفعہ۔