کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: بے وضو کھانا درست ہے اس میں کوئی حرج نہیں، اور وضو فی الفور واجب نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 374
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ ، فَذَكَرُوا لَهُ الْوُضُوءَ ، فَقَالَ : أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ ، فَأَتَوَضَّأَ ؟ " .
حماد نے عمرو سے، انہوں نے سعید بن حویرث سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ہاتھ دھو کر) بیت الخلاء سے نکلے تو آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا، لوگوں نے آپ سے وضو کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”(کیا) میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں کہ وضو کروں؟“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحيض / حدیث: 374
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 374
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ مِنَ الْغَائِطِ ، وَأُتِيَ بِطَعَامٍ ، فَقِيلَ لَهُ : أَلَا تَوَضَّأُ ؟ فَقَالَ : لِمَ أَأُصَلِّي ، فَأَتَوَضَّأَ ؟ " .
سفیان بن عیینہ نے عمرو سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہتے تھے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ قضائے حاجت کی جگہ سے (ہاتھ دھو کر) آئے تو آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا، آپ سے عرض کی گئی: کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گے؟ آپ نے جواب دیا: ”کس لیے؟ کیا مجھے نماز پڑھنی ہے کہ وضو کروں؟“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحيض / حدیث: 374
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 374
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ مَوْلَى آلِ السَّائِبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَائِطِ ، فَلَمَّا جَاءَ ، قُدِّمَ لَهُ طَعَامٌ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَوَضَّأُ ؟ قَالَ : لِمَ أَلِلصَّلَاةِ ؟ " .
محمد بن مسلم طائفی نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے آل سائب کے آزاد کردہ غلام سعید بن حویرث سے روایت کی کہ اس نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو (یہ) کہتے ہوئے سنا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب آپ آئے تو آپ کو کھانا پیش کیا گیا، آپ سے عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گے؟ آپ نے جواب دیا: ”کس لیے؟ کیا نماز کے لیے؟“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحيض / حدیث: 374
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 374
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حُوَيْرِثٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَضَى حَاجَتَهُ مِنَ الْخَلَاءِ ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ ، فَأَكَلَ ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً ، قَالَ : وَزَادَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قِيلَ لَهُ : إِنَّكَ لَمْ تَوَضَّأْ ، قَالَ : مَا أَرَدْتُ صَلَاةً فَأَتَوَضَّأَ ؟ " ، وَزَعَمَ عَمْرٌو ، أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ .
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت الخلاء والی ضرورت پوری کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھانا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا تناول فرمایا اور پانی کو ہاتھ تک نہیں لگایا اور ابن جریج کا قول ہے کہ مجھے عمرو بن دینار نے سعید بن حویرث سے چیز زائد بتائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو نہیں فرمایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”میں نے نماز پڑھنے کا ارادہ نہیں کیا، کہ وضو کروں۔“ اور عمرو کا قول ہے اس نے سعید بن حویرث سے سنا ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحيض / حدیث: 374
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»