کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: حائضہ کا غسل کرنے کے بعد مشک لگا روئی کا ٹکڑا خون کی جگہ میں استعمال کرنا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 332
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَيْفَ تَغْتَسِلُ مِنَ حَيْضَتِهَا ؟ قَالَ : فَذَكَرَتْ أَنَّهُ عَلَّمَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ ، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فَتَطَهَّرُ بِهَا ، قَالَتْ : كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا ؟ قَالَ : تَطَهَّرِي بِهَا سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَاسْتَتَرَ " ، وَأَشَارَ لَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ بِيَدِهِ عَلَى وَجْهِهِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : وَاجْتَذَبْتُهَا إِلَيَّ ، وَعَرَفْتُ مَا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : تَتَبَّعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ : فَقُلْتُ : تَتَبَّعِي بِهَا آثَارَ الدَّمِ ،
عمرو بن محمد ناقد اور ابن ابی عمر نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی، عمرو نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے منصور بن صفیہ سے، انہوں نے اپنی والدہ (صفیہ بنت شیبہ) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: وہ غسل حیض کیسے کرے؟ کہا: پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ آپ نے اسے غسل کا طریقہ سکھایا (اور فرمایا) پھر وہ کستوری سے (معطر) کپڑے کا ایک ٹکڑا لے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرے۔ عورت نے کہا: میں اس سے کیسے پاکیزگی حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا: ”سبحان اللہ! اس سے پاکیزگی حاصل کرو۔“ اور آپ نے (حیا سے) چہرہ چھپا کر دکھایا۔ صفیہ نے کہا: عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچ لیا اور میں سمجھ گئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا (کہنا) چاہتے ہیں تو میں نے کہا: اس معطر ٹکڑے سے خون کے نشان صاف کرو۔ ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں کہا: اس کو مل کر خون کے نشانات پر لگا کر صاف کرو۔
حدیث نمبر: 332
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ امْرَأَةً ، سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَيْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّهْرِ ؟ فَقَالَ : خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً ، فَتَوَضَّئِي بِهَا " ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ .
وہیب نے کہا: ہمیں منصور نے اپنی والدہ (صفیہ بنت شیبہ) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں پاکیزگی (کے حصول) کے لیے کیسے غسل کروں؟ تو آپ نے فرمایا: ”کستوری سے معطر کپڑے کا ٹکڑا لے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرو۔“ پھر سفیان کی طرح حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 332
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ صَفِيَّةَ تُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ أَسْمَاءَ ، سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِ الْمَحِيضِ ؟ فَقَالَ : تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَتَهَا ، فَتَطَهَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا ، فَتَدْلُكُهُ دَلْكًا شَدِيدًا ، حَتَّى تَبْلُغَ شُئُونَ رَأْسِهَا ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ ، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً ، فَتَطَهَّرُ بِهَا ، فَقَالَتْ أَسْمَاءُ : وَكَيْفَ تَطَهَّرُ بِهَا ؟ فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، تَطَهَّرِينَ بِهَا ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : كَأَنَّهَا تُخْفِي ذَلِكَ ، تَتَبَّعِينَ أَثَرَ الدَّمِ ، وَسَأَلَتْهُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ ، فَقَالَ : تَأْخُذُ مَاءً ، فَتَطَهَّرُ ، فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ ، أَوْ تُبْلِغُ الطُّهُورَ ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا ، فَتَدْلُكُهُ حَتَّى تَبْلُغَ شُئُونَ رَأْسِهَا ، ثُمَّ تُفِيضُ عَلَيْهَا الْمَاءَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : نِعْمَ النِّسَاءُ ، نِسَاءُ الأَنْصَارِ ، لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ " ،
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابراہیم بن مہاجر سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے صفیہ سے سنا وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی تھیں کہ اسماء (بنت شکیل انصاریہ) رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل حیض کے بارے میں سوال کیا؟ تو آپ نے فرمایا: ”ایک عورت اپنا پانی اور بیری کے پتے لے کر اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرے، پھر سر پر پانی ڈال کر اس کو اچھی طرح ملے یہاں تک کہ بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے اوپر پانی ڈالے، پھر کستوری سے معطر کپڑے یا روئی کا ٹکڑا لے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرے۔“ تو اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: اس سے پاکیزگی کیسے حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا: ”سبحان اللہ! اس سے پاکیزگی حاصل کرو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: (جیسے وہ اس بات کو چھپا رہی ہوں) ”خون کے نشان پر لگا کر۔“ اور اس نے آپ سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”(غسل کرنے والی) پانی لے کر اس سے خوب اچھی طرح وضو کرے، پھر سر پر پانی ڈال کر اسے ملے حتیٰ کہ سر کے بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے آپ پر پانی ڈالے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: انصار کی عورتیں بہت خوب ہیں، دین کو اچھی طرح سمجھنے سے شرم انہیں نہیں روکتی۔
حدیث نمبر: 332
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَقَالَ : قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، تَطَهَّرِي بِهَا وَاسْتَتَرَ ،
شعبہ کے ایک دوسرے شاگرد عبید اللہ کے والد معاذ بن معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی (مذکورہ) سند سے اسی (سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث بیان کی اور کہا: آپ نے فرمایا: ”سبحان اللہ! اس سے پاکیزگی حاصل کرو۔“ اور آپ نے اپنا چہرہ چھپا لیا۔
حدیث نمبر: 332
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ شَكَلٍ ، عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَغْتَسِلُ إِحْدَانَا إِذَا طَهُرَتْ مِنَ الْحَيْضِ ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ : غُسْلَ الْجَنَابَةِ .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اسماء بنت شکیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! جب ہم میں سے کوئی عورت غسل حیض کرے (حیض سے پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے) تو کیسے نہائے؟ اور اوپر والی حدیث بیان کی اور اس میں غسل جنابت کا تذکرہ نہیں کیا۔