کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: جنبی کے سونے کا جواز اور اس کے لئے شرمگاہ کا دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے جب وہ کھانے، پینے، سونے، یا جماع کرنے کا ارادہ کرے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، قَبْلَ أَنْ يَنَامَ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں سونا چاہتے، تو سونے سے پہلے نماز والا وضو فرما لیتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، وَوَكِيعٌ ، وَغُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا كَانَ جُنُبًا ، فَأَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ ، أَوْ يَنَامَ ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنبی ہوتے اور کھانے یا سونے کا ارادہ فرماتے، تو نماز والا وضو فرماتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى فِي حَدِيثِهِ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ .
محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار دونوں نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی، اسی طرح عبید اللہ بن معاذ نے حدیث سنائی، کہا: مجھے میرے والد نے حدیث سنائی۔ ان دونوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی۔ ابن مثنیٰ کی حدیث میں ہے، حکم نے کہا: میں نے ابراہیم کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا۔ (آگے وہی حدیث ہے جو اوپر بیان ہوئی۔)
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ واللفظ لهما ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : حَدَّثَنَا أَبِي ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، إِذَا تَوَضَّأَ " .
عبید اللہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں ہو تو کیا وہ (اسی طرح) سو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، جب وضو کر لے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ ، اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هَلْ يَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، لِيَتَوَضَّأْ ، ثُمَّ لِيَنَمْ ، حَتَّى يَغْتَسِلَ إِذَا شَاءَ " .
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ دریافت کیا اور کہا: کیا ہم میں سے کوئی شخص جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وہ وضو کر لے پھر سو جائے تاکہ پھر اٹھ کر جب چاہے غسل کر لے۔“
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ تُصِيبُهُ جَنَابَةٌ مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَوَضَّأْ ، وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ، ثُمَّ نَمْ " .
عبداللہ بن دینار سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا کہ رات کے وقت وہ جنابت سے دو چار ہو جاتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”وضو کر اور (اس سے پہلے) اپنا عضو مخصوص دھو لو، پھر سو جاؤ۔“
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ : " سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قُلْتُ : كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِي الْجَنَابَةِ ، أَكَانَ يَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ ، أَمْ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ ؟ قَالَتْ : كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ ، رُبَّمَا اغْتَسَلَ ، فَنَامَ ، وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ ، فَنَامَ ، قُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الأَمْرِ سَعَةً " .
لیث نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے عبداللہ بن ابی قیس سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں سوال کیا ... پھر آگے حدیث بیان کی کہ میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی صورت میں کیا کرتے تھے؟ کیا سونے سے پہلے غسل فرماتے تھے یا غسل سے پہلے سو جاتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ یہ سب کر لیتے تھے، بسا اوقات نہا کر سوتے اور بسا اوقات وضو کر کے سو جاتے۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے (دین کے) معاملے میں وسعت رکھی ہے۔
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وحَدَّثَنِيهِ هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
عبدالرحمن بن مہدی اور ابن وہب دونوں نے معاویہ بن صالح سے سابقہ سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ . ح وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ كُلُّهُمْ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ ، فَلْيَتَوَضَّأْ " ، زَادَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ بَيْنَهُمَا وُضُوءًا ، وَقَالَ : ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُعَاوِدَ .
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی نے بیوی سے تعلقات قائم کر لیے، پھر دوبارہ تعلقات قائم کرنا چاہے تو وہ وضو کر لے۔“ ابو بکر رحمہ اللہ نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا، ان کے درمیان وضو کر لے اور کہا پھر دوبارہ یہی ارادہ کیا۔ (دوسروں نے «يعود» کہا اور اس نے «يُعَاوِد» کہا)۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ الْحَذَّاءَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ ، بِغُسْلٍ وَاحِدٍ " .
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی غسل سے اپنی (ایک سے زیادہ) بیویوں کے پاس جاتے تھے۔