کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: معنعن حدیث سے حجت پکڑنا صحیح ہے جبکہ معنعن والوں کی ملاقات ممکن ہو اور ان میں کوئی تدلیس کرنے والا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 92B5
وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ مُنْتَحِلِي الْحَدِيثِ مِنْ أَهْلِ عَصْرِنَا فِي تَصْحِيحِ الأَسَانِيدِ ، وَتَسْقِيمِهَا ، بِقَوْلٍ : لَوْ ضَرَبْنَا عَنْ حِكَايَتِهِ ، وَذِكْرِ فَسَادِهِ صَفْحًا ، لَكَانَ رَأْيًا مَتِينًا ، وَمَذْهَبًا صَحِيحًا ، إِذْ الْإِعْرَاضُ عَنِ الْقَوْلِ الْمُطَّرَحِ أَحْرَى ، لِإِمَاتَتِهِ ، وَإِخْمَالِ ذِكْرِ قَائِلِهِ ، وَأَجْدَرُ أَنْ لَا يَكُونَ ذَلِكَ تَنْبِيهًا لِلْجُهَّالِ عَلَيْهِ ، غَيْرَ أَنَّا لَمَّا تَخَوَّفْنَا مِنْ شُرُورِ الْعَوَاقِبِ وَاغْتِرَارِ الْجَهَلَةِ ، بِمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ وَإِسْرَاعِهِمْ إِلَى اعْتِقَادِ خَطَإِ الْمُخْطِئِينَ ، وَالأَقْوَالِ السَّاقِطَةِ عِنْدَ الْعُلَمَاءِ رَأَيْنَا الْكَشْفَ عَنْ فَسَادِ قَوْلِهِ ، وَرَدَّ مَقَالَتِهِ بِقَدْرِ مَا يَلِيقُ بِهَا مِنَ الرَّدِّ ، أَجْدَى عَلَى الأَنَامِ ، وَأَحْمَدَ لِلْعَاقِبَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ،
‏‏‏‏ امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں بعض ایسے لوگوں نے جنہوں نے جھوٹ موٹ اپنے تئیں محدث قرار دیا ہے، اسناد کی صحت اور سقم میں ایک قول بیان کیا ہے۔ اگر ہم بالکل اس کو نقل نہ کریں اور اس کا ابطال نہ لکھیں تو عمدہ تجویز ہو گی اور ٹھیک راستہ ہو گا اس لئے کہ غلط بات کی طرف التفات نہ کرنا اس کو مٹانے کے لئے اور اس کے کہنے والے کا نام کھودنے کے لئے بہتر ہے اور مناسب ہے جاہلوں کے لئے تاکہ ان کو خبر بھی نہ ہو اس غلط بات کی مگر اس وجہ سے کہ ہم انجام کی برائی سے ڈرتے ہیں اور یہ بات دیکھتے ہیں کہ جاہل نئی بات پر فریفتہ ہو جاتے ہیں اور غلط بات پر
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 92B5
حدیث نمبر: 92B6
وَزَعَمَ الْقَائِلُ الَّذِي افْتَتَحْنَا الْكَلَامَ عَلَى الْحِكَايَةِ ، عَنْ قَوْلِهِ وَالإِخْبَارِ عَنْ سُوءِ رَوِيَّتِهِ ، أَنَّ كُلَّ إِسْنَادٍ لِحَدِيثٍ فِيهِ فُلَانٌ عَنْ فُلَانٍ ، وَقَدْ أَحَاطَ الْعِلْمُ بِأَنَّهُمَا قَدْ كَانَا فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ وَجَائِزٌ ، أَنْ يَكُونَ الْحَدِيثُ الَّذِي رَوَى الرَّاوِي عَمَّنْ رَوَى عَنْهُ ، قَدْ سَمِعَهُ مِنْهُ وَشَافَهَهُ بِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَعْلَمُ لَهُ مِنْهُ سَمَاعًا ، وَلَمْ نَجِدْ فِي شَيْءٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ ، أَنَّهُمَا الْتَقَيَا قَطُّ أَوْ تَشَافَهَا بِحَدِيثٍ ، أَنَّ الْحُجَّةَ لَا تَقُومُ عِنْدَهُ بِكُلِّ خَبَرٍ جَاءَ هَذَا الْمَجِيءَ ، حَتَّى يَكُونَ عِنْدَهُ الْعِلْمُ بِأَنَّهُمَا قَدِ اجْتَمَعَا مِنْ دَهْرِهِمَا مَرَّةً ، فَصَاعِدًا ، أَوْ تَشَافَهَا بِالْحَدِيثِ بَيْنَهُمَا ، أَوْ يَرِدَ خَبَرٌ فِيهِ بَيَانُ اجْتِمَاعِهِمَا وَتَلَاقِيهِمَا مَرَّةً مِنْ دَهْرِهِمَا فَمَا فَوْقَهَا ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ عِلْمُ ذَلِكَ ، وَلَمْ تَأْتِ رِوَايَةٌ صَحِيحَةٌ تُخْبِرُ ، أَنَّ هَذَا الرَّاوِيَ ، عَنْ صَاحِبِهِ ، قَدْ لَقِيَهُ مَرَّةً ، وَسَمِعَ مِنْهُ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ فِي نَقْلِهِ الْخَبَرَ ، عَمَّنْ رَوَى عَنْهُ عِلْمُ ذَلِكَ ، وَالأَمْرُ كَمَا وَصَفْنَا حُجَّةٌ ، وَكَانَ الْخَبَرُ عِنْدَهُ مَوْقُوفًا ، حَتَّى يَرِدَ عَلَيْهِ سَمَاعُهُ مِنْهُ لِشَيْءٍ مِنَ الْحَدِيثِ قَلَّ أَوْ كَثُرَ فِي رِوَايَةٍ مِثْلِ مَا وَرَدَ
‏‏‏‏ اور اس شخص نے جس کے قول سے ہم نے گفتگو شروع کی اور جس کے فکر اور خیال کو ہم نے باطل کہا یوں گمان کیا ہے کہ جو اسناد ایسی ہو جس میں فلاں عن فلاں ہو اور یہ بات معلوم ہو گئی کہ وہ دونوں ایک زمانہ میں تھے اور ممکن ہو کہ یہ حدیث ایک نے دوسرے سے سنی ہو اور اس سے ملا ہو مگر ہم کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ اس نے اس سے سنا ہے، نہ ہم نے کسی روایت میں اس بات کی تصریح پائی کہ وہ دونوں ملے تھے اور ان میں منہ در منہ بات چیت ہوئی تھی تو ایسی اسناد سے جو حدیث روایت کی جائے وہ حجت نہیں ہے جب تک یہ بات معلوم نہ ہو کہ کم سے کم وہ دونوں اپنی عمر میں ایک بار ملے تھے اور ایک نے د
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 92B6
حدیث نمبر: 92B7
وَهَذَا الْقَوْلُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فِي الطَّعْنِ فِي الأَسَانِيدِ قَوْلٌ مُخْتَرَعٌ ، مُسْتَحْدَثٌ ، غَيْرُ مَسْبُوقٍ صَاحِبُهُ إِلَيْهِ ، وَلَا مُسَاعِدَ لَهُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَيْهِ ، وَذَلِكَ أَنَّ الْقَوْلَ الشَّائِعَ الْمُتَّفَقَ عَلَيْهِ بَيْنَ أَهْلِ الْعِلْمِ ، بِالأَخْبَارِ ، وَالرِّوَايَاتِ قَدِيمًا وَحَدِيثًا ، أَنَّ كُلَّ رَجُلٍ ثِقَةٍ ، رَوَى عَنْ مِثْلِهِ حَدِيثًا وَجَائِزٌ ، مُمْكِنٌ لَهُ لِقَاؤُهُ وَالسَّمَاعُ مِنْهُ ، لِكَوْنِهِمَا جَمِيعًا كَانَا فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ ، وَإِنْ لَمْ يَأْتِ فِي خَبَرٍ قَطُّ ، أَنَّهُمَا اجْتَمَعَا وَلَا تَشَافَهَا بِكَلَامٍ ، فَالرِّوَايَةُ ثَابِتَةٌ وَالْحُجَّةُ بِهَا لَازِمَةٌ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ هُنَاكَ دَلَالَةٌ بَيِّنَةٌ ، أَنَّ هَذَا الرَّاوِيَ لَمْ يَلْقَ مَنْ رَوَى عَنْهُ ، أَوْ لَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ شَيْئًا ، فَأَمَّا وَالأَمْرُ مُبْهَمٌ عَلَى الإِمْكَانِ الَّذِي فَسَّرْنَا ، فَالرِّوَايَةُ عَلَى السَّمَاعِ أَبَدًا ، حَتَّى تَكُونَ الدَّلَالَةُ الَّتِي بَيَّنَّا ،
‏‏‏‏ اور یہ قول اسناد کے باب میں اللہ تجھ پر رحم کرے ایک نیا ایجاد کیا ہوا ہے جو پہلے کسی نے نہیں کہا نہ حدیث کے عالموں نے اس کی موافقت کی ہے اس لئے کہ مشہور مذہب جس پر اتفاق ہے اہل علم کا اگلے اور پچھلوں کا، وہ یہ ہے کہ جب کوئی ثقہ شخص کسی ثقہ شخص سے روایت کرے ایک حدیث کو اور ان دونوں کی ملاقات جائز اور ممکن ہو (باعتبار سن اور عمر کے) اس وجہ سے کہ وہ دونوں ایک زمانے میں موجود تھے اگرچہ کسی حدیث میں اس بات کی تصریح نہ ہو کہ وہ دونوں ملے تھے یا ان میں روبرو بات چیت ہوئی تھی تو وہ حدیث حجت ہے اور وہ روایت ثابت ہے۔ البتہ اگر اس امر کی وہاں کوئی کھلی دلیل ہو
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 92B7
حدیث نمبر: 92B8
فَيُقَالُ لِمُخْتَرِعِ هَذَا الْقَوْلِ ، الَّذِي وَصَفْنَا مَقَالَتَهُ ، أَوْ لِلذَّابِّ عَنْهُ ، قَدْ أَعْطَيْتَ فِي جُمْلَةِ قَوْلِكَ ، أَنَّ خَبَرَ الْوَاحِدِ الثِّقَةِ عَنِ الْوَاحِدِ ، الثِّقَةِ حُجَّةٌ يَلْزَمُ بِهِ الْعَمَلُ ، ثُمَّ أَدْخَلْتَ فِيهِ الشَّرْطَ بَعْدُ ، فَقُلْتَ : حَتَّى نَعْلَمَ أَنَّهُمَا قَدْ كَانَا الْتَقَيَا مَرَّةً فَصَاعِدًا أَوْ سَمِعَ مِنْهُ شَيْئًا ، فَهَلْ تَجِدُ هَذَا الشَّرْطَ الَّذِي اشْتَرَطْتَهُ عَنْ أَحَدٍ يَلْزَمُ قَوْلُهُ وَإِلَّا فَهَلُمَّ دَلِيلًا عَلَى مَا زَعَمْتَ ،
‏‏‏‏ پھر جس شخص نے یہ قول نکالا ہے یا اس کی حمایت کرتا ہے اس سے یوں گفتگو کریں گے کہ خود تیرے ہی سارے کلام سے یہ بات نکلی کہ ایک ثقہ شخص کی روایت دوسرے ثقہ شخص سے حجت ہے جس پر عمل کرنا واجب ہے ۔ پھر تو نے خود ایک شرط بعد میں بڑھا دی کہ جب یہ بات معلوم ہو جائے کہ وہ دونوں اپنی عمر میں ایک بار ملے تھے یا زیادہ اور ایک نے دوسرے سنا تھا ۔ اب اس شرط کا ثبوت کسی ایسے شخص کے قول سے پانا ہے جس کا ماننا ضروری ہو ۔ اگر ایسا قول نہیں ہے تو اور کوئی دلیل اپنے دعوے پر لانا ۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 92B8
حدیث نمبر: 92B9
فَإِنِ ادَّعَى قَوْلَ أَحَدٍ مِنْ عُلَمَاءِ السَّلَفِ ، بِمَا زَعَمَ مِنْ إِدْخَالِ الشَّرِيطَةِ فِي تَثْبِيتِ الْخَبَرِ طُولِبَ بِهِ ، وَلَنْ يَجِدَ هُوَ وَلَا غَيْرُهُ إِلَى إِيجَادِهِ سَبِيلًا ، وَإِنْ هُوَ ادَّعَى فِيمَا زَعَمَ دَلِيلًا يَحْتَجُّ بِهِ ، قِيلَ لَهُ : وَمَا ذَاكَ الدَّلِيلُ ؟
‏‏‏‏ اگر وہ یہ کہے کہ اس باب میں سلف کا قول ہے یعنی اس شرط کے ثبوت کے لئے تو کہا جائے گا کہاں ہے ؟ لا ! پھر نہ اس کو کوئی قول ملے گا اور نہ کسی اور کو ۔ اور اگر وہ اور کوئی دلیل قائم کرنا چاہے تو پوچھیں گے وہ دلیل کیا ہے ؟
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 92B9
حدیث نمبر: 92B10
فَإِنْ ، قَالَ : قُلْتُهُ لِأَنِّي وَجَدْتُ رُوَاةَ الأَخْبَارِ قَدِيمًا وَحَدِيثًا ، يَرْوِي أَحَدُهُمْ عَنِ الآخَرِ الْحَدِيثَ ، وَلَمَّا يُعَايِنْهُ ، وَلَا سَمِعَ مِنْهُ شَيْئًا قَطُّ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمُ اسْتَجَازُوا رِوَايَةَ الْحَدِيثِ بَيْنَهُمْ هَكَذَا عَلَى الإِرْسَالِ مِنْ غَيْرِ سَمَاعٍ ، وَالْمُرْسَلُ مِنَ الرِّوَايَاتِ فِي أَصْلِ قَوْلِنَا ، وَقَوْلِ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالأخْبَارِ لَيْسَ بِحُجَّةٍ احْتَجْتُ ، لِمَا وَصَفْتُ مِنَ الْعِلَّةِ إِلَى الْبَحْثِ عَنْ سَمَاعِ رَاوِي كُلِّ خَبَرٍ ، عَنْ رَاوِيهِ ، فَإِذَا أَنَا ، هَجَمْتُ عَلَى سَمَاعِهِ مِنْهُ لِأَدْنَى شَيْءٍ ثَبَتَ عَنْهُ عِنْدِي بِذَلِكَ جَمِيعُ مَا يَرْوِي عَنْهُ بَعْدُ ، فَإِنْ عَزَبَ عَنِّي مَعْرِفَةُ ذَلِك أَوْقَفْتُ الْخَبَرَ ، وَلَمْ يَكُنْ عِنْدِي مَوْضِعَ حُجَّةٍ لِإِمْكَانِ الإِرْسَالِ فِيهِ ،
‏‏‏‏ پھر اگر وہ شخص یہ کہے : میں نے یہ مذہب اس لئے اختیار کیا ہے کہ میں نے حدیث کے تمام اگلے اور پچھلے راویوں کو دیکھا کہ ایک دوسرے سے حدیث روایت کرتے ہیں حالانکہ اس ایک نے دوسرے کو دیکھا ہے نہ اس سے سنا تو جب میں نے دیکھا کہ انہوں نے جائز رکھا ہے مرسل کو روایت کرنا بغیر سماع کے اور مرسل روایت ہمارے اور علم والوں کے نزدیک حجت نہیں ہے تو احتیاج پڑی مجھ کو راوی کے سماع دیکھنے کی جس کو وہ روایت کرتا ہے دوسرے سے ۔ پھر اگر مجھے کہیں ذرا بھی ثابت ہو گیا کہ اس نے سنا ہے دوسرے راوی سے تو اس کی تمام روایتیں اس سے درست ہو گئیں ۔ اگر بالکل مجھے معلوم نہ ہوا کہ اس
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 92B10
حدیث نمبر: 92B11
فَيُقَالُ لَهُ : فَإِنْ كَانَتِ الْعِلَّةُ فِي تَضْعِيفِكَ الْخَبَرَ وَتَرْكِكَ الِاحْتِجَاجَ بِهِ ، إِمْكَانَ الْإِرْسَالِ فِيهِ ، لَزِمَكَ أَنْ لَا تُثْبِتَ إِسْنَادًا مُعَنْعَنًا ، حَتَّى تَرَى فِيهِ السَّمَاعَ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى آخِرِهِ . وَذَلِكَ أَنَّ الْحَدِيثَ الْوَارِدَ عَلَيْنَا بِإِسْنَادِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عائشة َ ، فَبِيَقِينٍ نَعْلَمُ ، أَنَّ هِشَامًا قَدْ سَمِعَ مِنْ أَبِيهِ ، وَأَنَّ أَبَاهُ قَدْ سَمِعَ مِنْ عائشة كَمَا نَعْلَمُ ، أَنَّ عائشة قَدْ سَمِعَتْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ يَجُوزُ إِذَا لَمْ يَقُلْ هِشَامٌ فِي رِوَايَةٍ يَرْوِيهَا ، عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ ، أَوْ أَخْبَرَنِي أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَبِيهِ فِي تِلْكَ الرِّوَايَةِ إِنْسَانٌ آخَرُ أَخْبَرَهُ بِهَا ، عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ يَسْمَعْهَا هُوَ مِنْ أَبِيهِ ، لَمَّا أَحَبَّ أَنْ يَرْوِيَهَا مُرْسَلًا وَلَا يُسْنِدَهَا إِلَى مَنْ سَمِعَهَا مِنْهُ ، وَكَمَا يُمْكِنُ ذَلِكَ فِي هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ أَيْضًا مُمْكِنٌ فِي أَبِيهِ ، عَنْ عائشة ، وَكَذَلِكَ كُلُّ إِسْنَادٍ لِحَدِيثٍ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ سَمَاعِ بَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ ، وَإِنْ كَانَ قَدْ عُرِفَ فِي الْجُمْلَةِ ، أَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ قَدْ سَمِعَ مِنْ صَاحِبِهِ سَمَاعًا كَثِيرًا ، فَجَائِزٌ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ أَنْ يَنْزِلَ فِي بَعْضِ الرِّوَايَةِ ، فَيَسْمَعَ مِنْ غَيْرِهِ عَنْهُ بَعْضَ أَحَادِيثِهِ ، ثُمَّ يُرْسِلَهُ عَنْهُ أَحْيَانًا ، وَلَا يُسَمِّيَ مَنْ سَمِعَ مِنْهُ ، وَيَنْشَطَ أَحْيَانًا ، فَيُسَمِّيَ الرَّجُلَ الَّذِي حَمَلَ عَنْهُ الْحَدِيثَ وَيَتْرُكَ الإِرْسَالَ ،
‏‏‏‏ تو اس سے کہا جائے گا اگر تیرے نزدیک حدیث کو ضعیف کرنے کی اور اس کو حجت نہ سمجھنے کی علت صرف ارسال کا ممکن ہونا ہے (جیسے اس نے خود کہا کہ جب سماع ثابت نہ ہو تو وہ روایت حجت نہ ہو گی کیونکہ ممکن ہے اس کا مرسل ہونا) تو لازم آتا ہے کہ تو کسی اسناد معنعن کو نہ مانے جب تک اول سے لے کر آخر تک اس میں تصریح نہ ہو سماع کی (یعنی ہر راوی دوسرے سے یوں روایت کرے کہ میں نے اس سے سنا) مثلاً جو حدیث ہم کو پہنچی ہشام کی روایت سے ، اس نے اپنے باپ عروہ سے ، اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے جیسے ہم اس بات کو بالیقین جانتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے رسول الل
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 92B11
حدیث نمبر: 92B12
وَمَا قُلْنَا : مِنْ هَذَا مَوْجُودٌ فِي الْحَدِيثِ ، مُسْتَفِيضٌ مِنْ فِعْلِ ثِقَاتِ الْمُحَدِّثِينَ ، وَأَئِمَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ ؟ وَسَنَذْكُرُ مِنْ رِوَايَاتِهِمْ عَلَى الْجِهَةِ الَّتِي ذَكَرْنَا ، عَدَدًا يُسْتَدَلُّ بِهَا عَلَى أَكْثَرَ مِنْهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى ، فَمِنْ ذَلِكَ.أَنَّ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيَّ وَابْنَ الْمُبَارَكِ وَوَكِيعًا وَابْنَ نُمَيْرٍ وَجَمَاعَةً غَيْرَهُمْ رَوَوْا ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لِحِلِّهِ وَلِحِرْمِهِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِد ، فَرَوَى هَذِهِ الرِّوَايَةَ بِعَيْنِهَا ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَدَاوُدُ الْعَطَّارُ وَحُمَيْدُ بْنُ الأَسْوَدِ وَوُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
‏‏‏‏ امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ احتمال جو ہم نے بیان کیا (صرف فرضی اور خیالی نہیں ہے) بلکہ موجود ہے حدیث میں اور جاری ہے بہت سے ثقہ محدثین کی روایتوں میں ۔ ہم تھوڑی سی ایسی روایتیں بیان کرتے ہیں اللہ چاہے تو ان سے دلیل پوری ہو گی بہت سی روایتوں پر ۔ پہلی روایت وہ ہے جو ایوب سختیانی اور ابن مبارک اور وکیع اور ابن نمیر اور ایک جماعت نے سوائے ان کے ہشام سے نقل کی ، اس نے اپنے باپ عروہ سے ، اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے کہ میں خوشبو لگاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کھولتے وقت اور احرام باندھتے وقت جو سب سے عمدہ مجھ کو ملتی ۔ اسی ر
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 92B12
حدیث نمبر: 92B13
وَرَوَى هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا اعْتَكَفَ ، يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ ، فَأُرَجِّلُهُ ، وَأَنَا حَائِضٌ ، فَرَوَاهَا بِعَيْنِهَا مَالِكُ بْن أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،
‏‏‏‏ دوسری روایت ہشام کی ہے ، اپنے باپ عروہ سے ، اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو اپنا سر میری طرف جھکا دیتے ۔ میں آپ کے سر میں کنگھی کر دیتی حالانکہ میں حائضہ ہوتی ۔ اسی روایت کو بعینہ امام مالک رحمہ اللہ نے زہری سے روایت کیا ہے ۔ اس نے عروہ سے، اس نے عمرہ سے ، اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 92B13
حدیث نمبر: 92B14
وَرَوَى الزُّهْرِيُّ وَصَالِحُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ، فَقَالَ يَحْيَي بْنُ أَبِي كَثِيرٍ فِي هَذَا الْخَبَرِ فِي الْقُبْلَةِ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ " ،
‏‏‏‏ تیسری روایت وہ ہے جو زہری اور صالح بن ابی حسان نے ابوسلمہ سے نقل کیا اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے تھے اور آپ روزہ دار ہوتے ۔ یحییٰ بن ابی کثیر نے اس بوسے کی حدیث کو یوں روایت کیا خبر دی مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے ، ان کو خبر دی عمر بن عبدالعزیز نے ان کو خبر دی عروہ نے ان کو عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بوسہ لیتے اور آپ روازہ دار ہوتے ۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 92B14
حدیث نمبر: 92B15
وَرَوَى ابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُهُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَار ٍ ، عَنْ جَابِر ، قَالَ : " أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لُحُومَ الْخَيْلِ ، وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُر " ِ ، فَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهَذَا النَّحْوُ فِي الرِّوَايَاتِ كَثِيرٌ ، يَكْثُرُ تَعْدَادُهُ ، وَفِيمَا ذَكَرْنَا مِنْهَا ، كِفَايَةٌ لِذَوِي الْفَهْمِ ،
‏‏‏‏ چوتھی روایت وہ ہے جو سفیان بن عیینہ وغیرہ نے عمرو بن دینار سے کی ، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو کھلایا گھوڑوں کا گوشت اور منع کیا پالتو گدھوں کے گوشت سے ۔ اسی حدیث کو روایت کیا حماد بن زید نے عمرو سے ، انہوں نے محمد بن علی (یعنی امام باقر) سے ، انہوں نے جابر سے (تو حماد بن زید نے عمرو بن دینار اور جابر کے بیچ میں ایک واسطہ اور نقل کیا محمد بن علی کا جو پہلی اسناد میں نہیں) اور اسی قسم کی حدیثیں بہت ہیں جن کا شمار کثیر ہے اور جتنی ہم نے بیان کیں وہ سمجھنے والوں کے لیے کافی ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 92B15
حدیث نمبر: 92B16
فَإِذَا كَانَتِ الْعِلَّةُ عِنْدَ مَنْ وَصَفْنَا ، قَوْلَهُ مِنْ قَبْلُ فِي فَسَادِ الْحَدِيثِ وَتَوْهِينِهِ ، إِذَا لَمْ يُعْلَمْ أَنَّ الرَّاوِيَ قَدْ سَمِعَ مِمَّنْ رَوَى عَنْهُ شَيْئًا إِمْكَانَ الإِرْسَالَ فِيهِ ، لَزِمَهُ تَرْكُ الِاحْتِجَاجِ فِي قِيَادِ قَوْلِهِ بِرِوَايَةِ مَنْ يُعْلَمُ ، أَنَّهُ قَدْ سَمِعَ مِمَّنْ رَوَى عَنْهُ ، إِلَّا فِي نَفْسِ الْخَبَرِ الَّذِي فِيهِ ذِكْرُ السَّمَاعِ لِمَا بَيَّنَّا مِنْ قَبْلُ ، عَنِ الأَئِمَّةِ الَّذِينَ نَقَلُوا الأَخْبَارَ ، أَنَّهُمْ كَانَتْ لَهُمْ تَارَاتٌ يُرْسِلُونَ فِيهَا الْحَدِيثَ إِرْسَالًا ، وَلَا يَذْكُرُونَ مَنْ سَمِعُوهُ مِنْهُ ، وَتَارَاتٌ يَنْشَطُونَ فِيهَا فَيُسْنِدُونَ الْخَبَرَ عَلَى هَيْئَةِ مَا سَمِعُوا ، فَيُخْبِرُونَ بِالنُّزُولِ فِيهِ إِنْ نَزَلُوا ، وَبِالصُّعُودِ إِنْ صَعِدُوا ، كَمَا شَرَحْنَا ذَلِكَ عَنْهُمْ ،
‏‏‏‏ پھر جب علت اس شخص کے نزدیک جس کا قول ہم نے اوپر بیان کیا حدیث کی خرابی اور توہیں کی یہ ہوئی کہ ایک راوی کا سماع جب دوسرے راوی سے معلوم نہ ہو تو ارسال ممکن ہے تو اس کے قول کے بموجب اس کو لازم آتا ہے ترک کرنا حجت کا ان روایتوں کے ساتھ جن کے راوی کا سماع دوسرے سے معلوم ہو چکا ہے (لیکن خاص اس روایت میں سماع کی تصریح نہیں) البتہ اس شخص کے نزدیک صرف وہی روایت حجت ہو گی جس میں سماع کی تصریح ہے کیوں کہ اوپر ہم بیان کر چکے ہیں کہ حدیث روایت کرنے والے اماموں کا حال مختلف ہوتا ہے کبھی تو وہ ارسال کرتے اور جس سے انہوں نے سنا ہو اس کا نام نہیں لیتے اور کبھی خوش
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 92B16
حدیث نمبر: 92B17
وَمَا عَلِمْنَا أَحَدًا مِنْ أَئِمَّةِ السَّلَفِ ، مِمَّنْ يَسْتَعْمِلُ الأَخْبَارَ ، وَيَتَفَقَّدُ صِحَّةَ الأَسَانِيدِ وَسَقَمَهَا ، مِثْلَ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ وَابْنِ عَوْنٍ وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَشُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ ، فَتَّشُوا عَنْ مَوْضِعِ السَّمَاعِ فِي الأَسَانِيدِ ، كَمَا ادَّعَاهُ الَّذِي وَصَفْنَا قَوْلَهُ مِنْ قَبْلُ ، وَإِنَّمَا كَانَ تَفَقُّدُ مَنْ تَفَقَّدَ مِنْهُمْ ، سَمَاعَ رُوَاةِ الْحَدِيثِ مِمَّنْ رَوَى عَنْهُمْ ، إِذَا كَانَ الرَّاوِي مِمَّنْ عُرِفَ بِالتَّدْلِيسِ فِي الْحَدِيثِ وَشُهِرَ بِهِ ، فَحِينَئِذٍ يَبْحَثُونَ عَنْ سَمَاعِهِ فِي رِوَايَتِهِ ، وَيَتَفَقَّدُونَ
‏‏‏‏ اور ہم نے سلف کے اماموں میں سے جو حدیث کو استعمال کرتے تھے اور اسناد کی صحت اور سقم کو دریافت کرتے تھے جیسے ابوب سختیانی اور ابن عون اور مالک بن انس اور شعبہ بن حجاج اور یحییٰ بن سعید قطان اور عبدالرحمٰن بن مہدی اور جو ان کے بعد ہیں کسی کو نہیں سنا کہ وہ اسناد میں سماع کی تحقیق کرتے ہوں جیسے یہ شخص دعویٰ کرتا ہے جس کا قول اوپر ہم نے بیان کیا ۔ البتہ جنہوں نے ان میں سے راویوں کے سماع کی تحقیق کی ہے تو وہ ان راویوں کے جو مشہور ہیں تدلس میں ۔ اس وقت بے شک ایسے راویوں کے سماع سے بحث کرتے ہیں اور اس کی دریافت کرتے ہیں تاکہ ان سے تدلیس کا مرض دور ہو جا
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 92B17
حدیث نمبر: 92B18
ذَلِكَ مِنْهُ كَيْ تَنْزَاحَ عَنْهُمْ عِلَّةُ التَّدْلِيسِ ، فَمَنِ ابْتَغَى ذَلِكَ مِنْ غَيْرِ مُدَلِّسٍ عَلَى الْوَجْهِ الَّذِي زَعَمَ مَنْ حَكَيْنَا قَوْلَهُ ، فَمَا سَمِعْنَا ذَلِكَ عَنْ أَحَدٍ مِمَّنْ سَمَّيْنَا ، وَلَمْ نُسَمِّ مِنِ الأَئِمَّةِ . فَمِنْ ذَلِكَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الأَنْصَارِيَّ ، وَقَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَوَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، وَعَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدِيثًا يُسْنِدُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَيْسَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْهُمَا ذِكْرُ السَّمَاعِ مِنْهُمَا ، وَلَا حَفِظْنَا فِي شَيْءٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ شَافَهَ حُذَيْفَةَ وَأَبَا مَسْعُودٍ بِحَدِيثٍ قَطُّ ، وَلَا وَجَدْنَا ذِكْرَ رُؤْيَتِهِ إِيَّاهُمَا فِي رِوَايَةٍ بِعَيْنِهَا ، وَلَمْ نَسْمَعْ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ، مِمَّنْ مَضَى وَلَا مِمَّنْ أَدْرَكْنَا ، أَنَّهُ طَعَنَ فِي هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ اللَّذَيْنِ رَوَاهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ وَأَبِي مَسْعُودٍ ، بِضَعْفٍ فِيهِمَا ، بَلْ هُمَا وَمَا أَشْبَهَهُمَا عِنْدَ مَنْ لَاقَيْنَا مَنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ مِنْ صِحَاحِ الأَسَانِيدِ ، وَقَوِيِّهَا يَرَوْنَ اسْتِعْمَالَ مَا نُقِلَ بِهَا ، وَالِاحْتِجَاجَ بِمَا أَتَتْ مِنْ سُنَنٍ ، وَآثَارٍ وَهِيَ فِي زَعْمِ مَنْ حَكَيْنَا قَوْلَهُ مِنْ قَبْلُ وَاهِيَةٌ مُهْمَلَةٌ ، حَتَّى يُصِيبَ سَمَاعَ الرَّاوِي عَمَّنْ رَوَى ،
‏‏‏‏ اس قسم کی روایت میں سے عبداللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے (جو خود صحابی ہیں) انہوں نے دیکھا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور روایت کی ہے حذیفہ بن الیمان اور ابومسعود (عقبہ بن عمرو انصاری بدری) سے ، ہر ایک سے ایک ایک حدیث کو جس کو انہوں نے مسند کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ، مگر ان روایتوں میں اس بات کی تصریح نہیں کہ عبداللہ بن یزید نے سنا ان دونوں سے (یعنی حذیفہ اور ابومسعود سے سنا) اور نہ کسی روایت میں ہم نے یہ بات پائی کہ عبداللہ ، حذیفہ اور ابومسعود رضی اللہ عنہم سے روبرو ملے اور ان سے کوئی حدیث سنی اور نہ کہیں ہم
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 92B18
حدیث نمبر: 92B19
وَلَوْ ذَهَبْنَا نُعَدِّدُ الأَخْبَارَ الصِّحَاحَ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ، مِمَّنْ يَهِنُ بِزَعْمِ هَذَا الْقَائِلِ ، وَنُحْصِيهَا لَعَجَزْنَا عَنْ تَقَصِّي ذِكْرِهَا ، وَإِحْصَائِهَا كُلِّهَا ، وَلَكِنَّا أَحْبَبْنَا ، أَنْ نَنْصِبَ مِنْهَا عَدَدًا يَكُونُ سِمَةً لِمَا سَكَتْنَا عَنْهُ مِنْهَا.
‏‏‏‏ اور اگر ہم سب ایسی حدیثوں کو ، جو اہل علم کے نزدیک صحیح ہیں اور اس شخص کے نزدیک ضعیف ہیں ، بیان کریں تو ان کا ذکر کرتے کرتے ہم تھک جائیں گے (اس قدر کثرت سے ہیں) لیکن ہم چاہتے ہیں کہ تھوڑی ان میں سے بیان کریں تاکہ باقی کے لئے وہ نمونہ ہوں ۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 92B19
حدیث نمبر: 92B20
وَهَذَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ وَأَبُو رَافِعٍ الصَّائِغُ ، وَهُمَا مَنْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَصَحِبَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنَ الْبَدْرِيِّينَ هَلُمَّ جَرًّا ، وَنَقَلَا عَنْهُمُ الأَخْبَارَ ، حَتَّى نَزَلَا إِلَى مِثْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَذَوِيهِمَا ، قَدْ أَسْنَدَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَدِيثًا وَلَمْ نَسْمَعْ فِي رِوَايَةٍ بِعَيْنِهَا ، أَنَّهُمَا عَايَنَا أُبَيًّا أَوْ سَمِعَا مِنْهُ شَيْئًا ،
‏‏‏‏ ابو عثمان نہدی (عبدالرحمٰن بن مل جو ایک سو تیس برس کے ہو کر مرے) اور ابورافع صائغ (نقیع مدنی) ان دونوں نے زمانہ جاہلیت کا پایا ہے ( لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میسر نہ ہوئی ایسے لوگوں کو مخضرم کہتے ہیں) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے بڑے بدری صحابیوں سے ملے ہیں اور روایتیں کی ہیں ۔ پھر ان سے ہٹ کر اور صحابہ سے یہاں تک کہ ابوہریرہ اور ابن عمر اور ان کے مانند صحابیوں سے ، ان میں سے ہر ایک نے ایک حدیث ابی بن کعب سے روایت کی ہے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حالانکہ کسی روایت سے یہ ثابت نہیں ہوئی کہ ان دونوں نے ابی ب
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 92B20
حدیث نمبر: 92B21
وَأَسْنَدَ أَبُو عَمْرٍو الشَّيْبَانِيُّ وَهُوَ مِمَّنْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ ، وَكَانَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا ، وَأَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَيْنِ ، وَأَسْنَدَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ وُلِدَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَسْنَدَ قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، وَقَدْ أَدْرَكَ زَمَنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَخْبَارٍ ، وَأَسْنَدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَقَدْ حَفِظَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَصَحِبَ عَلِيًّا ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، وَأَسْنَدَ رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ ، وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، وَقَدْ سَمِعَ رِبْعِيٌّ مِنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَرَوَى عَنْهُ ، وَأَسْنَدَ نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، وَأَسْنَدَ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ثَلَاثَةَ أَحَادِيثَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَسْنَدَ عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، وَأَسْنَدَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، وَأَسْنَدَ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ ،
‏‏‏‏ اور ابوعمرو شیبانی (سعد بن ایاس) نے جس نے جاہلیت کا زمانہ پایا ہے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جوان مرد تھا اور ابومعمر عبداللہ بن سنجرہ نے ہر ایک نے ان میں سے دو دو حدیثیں ابومسعود انصاری سے روایت کیں ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور عبید بن عمیر نے ، ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ایک حدیث روایت کی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ، اور عبید پیدا ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور قیس بن ابی حازم نے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے ابومسعود انصاری سے تین حدیث
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 92B21
حدیث نمبر: 92B22
فَكُلُّ هَؤُلَاءِ التَّابِعِينَ الَّذِينَ نَصَبْنَا رِوَايَتَهُمْ ، عَنِ الصَّحَابَةِ الَّذِينَ سَمَّيْنَاهُمْ ، لَمْ يُحْفَظْ عَنْهُمْ سَمَاعٌ عَلِمْنَاهُ مِنْهُمْ ، فِي رِوَايَةٍ بِعَيْنِهَا ، وَلَا أَنَّهُمْ لَقُوهُمْ فِي نَفْسِ خَبَرٍ بِعَيْنِهِ ، وَهِيَ أَسَانِيدُ عِنْدَ ذَوِي الْمَعْرِفَةِ بِالأَخْبَارِ ، وَالرِّوَايَاتِ مِنْ صِحَاحِ الأَسَانِيدِ ، لَا نَعْلَمُهُمْ وَهَّنُوا مِنْهَا شَيْئًا قَطُّ ، وَلَا الْتَمَسُوا فِيهَا سَمَاعَ بَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ ، إِذْ السَّمَاعُ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مُمْكِنٌ مِنْ صَاحِبِهِ ، غَيْرُ مُسْتَنْكَرٍ لِكَوْنِهِمْ جَمِيعًا كَانُوا فِي الْعَصْرِ الَّذِي اتَّفَقُوا فِيهِ ، وَكَانَ هَذَا الْقَوْلُ الَّذِي أَحْدَثَهُ الْقَائِلُ الَّذِي حَكَيْنَاهُ ، فِي تَوْهِينِ الْحَدِيثِ بِالْعِلَّةِ الَّتِي وَصَفَ أَقَلَّ مِنْ أَنْ يُعَرَّجَ عَلَيْهِ ، وَيُثَارَ ذِكْرُهُ إِذْ كَانَ قَوْلًا مُحْدَثًا ، وَكَلَامًا خَلْفًا لَمْ يَقُلْهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ سَلَفَ ، وَيَسْتَنْكِرُهُ مَنْ بَعْدَهُمْ خَلَفَ ، فَلَا حَاجَةَ بِنَا فِي رَدِّهِ بِأَكْثَرَ مِمَّا شَرَحْنَا ، إِذْ كَانَ قَدْرُ الْمَقَالَةِ ، وَقَائِلِهَا الْقَدْرَ الَّذِي وَصَفْنَاهُ ، وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى دَفْعِ مَا خَالَفَ مَذْهَبَ الْعُلَمَاءِ ، وَعَلَيْهِ التُّكْلَانُ .
‏‏‏‏ پھر یہ سب تابعین رحمہ اللہ علیہم جنہوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے روایت کی ہے جن کا ذکر ہم نے اوپر کیا ، ان کا سماع ان صحابہ رضی اللہ عنہم سے کسی معین روایت میں معلوم نہیں ہوا ، نہ ملاقات ہی ان صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ روایت سے ظاہر ہوئی باوجود اس کے یہ سب روایتیں حدیث اور روایت کے پہچاننے والوں کے نزدیک (یعنی ائمہ حدیث کے نزدیک) صحیح السند ہیں اور ہم نہیں جانتے کہ کسی نے ان میں سے کسی روایت کو ضعیف کہا ہو یا اس میں سماع کی تلاش کی ہو ، اس لیے کہ سماع ممکن ہے اس کا انکار نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ دونوں ایک زمانہ میں موجود تھے اور یہ قول جس کو اس ش
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 92B22