کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: حدیث کے راویوں کا عیب بیان کرنا درست ہے اور وہ غیبت میں داخل نہیں۔
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَفَّانَ ، قَالَ : حَدَّثْتُ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ صَالِحٍ الْمُرِّيِّ بِحَدِيثٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، فَقَالَ : كَذَبَ ، وَحَدَّثْتُ هَمَّامًا ، عَنْ صَالِحٍ الْمُرِّيِّ بِحَدِيثٍ ، فَقَالَ : كَذَبَ ،
عفان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے حماد بن سلمہ رحمہ اللہ کو صالح مری رحمہ اللہ کی ثابت رحمہ اللہ سے ایک حدیث سنائی، تو انہوں نے کہا: ”وہ جھوٹا ہے۔“ اور میں نے ہمام رحمہ اللہ کو صالح مری کی ایک حدیث سنائی، تو انہوں نے بھی کہا: ”اس نے جھوٹ بولا ہے۔“
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : قَالَ لِي شُعْبَةُ : ايتِ جَرِيرَ بْنَ حَازِمٍ ، فَقُلْ لَهُ : لَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَرْوِيَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، فَإِنَّهُ يَكْذِب ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قُلْتُ لِشُعْبَةَ : وَكَيْفَ ذَاكَ ؟ فَقَالَ : حَدَّثَنَا عَنِ الْحَكَمِ بِأَشْيَاءَ لَمْ أَجِدْ لَهَا أَصْلًا ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : بِأَيِّ شَيْءٍ ؟ قَالَ : قُلْتُ لِلْحَكَمِ : أَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ ؟ فَقَالَ : لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَيْهِمْ ، وَدَفَنَهُمْ ، قُلْتُ لِلْحَكَمِ : مَا تَقُولُ فِي أَوْلَادِ الزِّنَا ؟ قَالَ : يُصَلَّى عَلَيْهِمْ ، قُلْتُ : مِنْ حَدِيثِ مَنْ يُرْوَى ؟ قَالَ : يُرْوَى عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ ، فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ عَلِيٍّ
ابوداود نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے مجھ سے کہا: جریر بن حازم کے پاس جاؤ اور اس سے کہو: تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم حسن بن عمارہ سے (حدیث) روایت کرو کیونکہ وہ جھوٹ بولتا ہے۔ ابوداود نے کہا: میں نے شعبہ سے عرض کی: وہ کیسے؟ تو انہوں نے کہا: اس نے ہمیں حکم سے (روایت کردہ) احادیث سنائیں جن کی ہم نے اصل نہ پائی۔ (کہا) میں نے عرض کی: کیا چیز روایت کی؟ کہا: میں نے حکم سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کی نماز جنازہ ادا فرمائی؟ تو انہوں نے جواب دیا: آپ نے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی (جبکہ) حسن بن عمارہ نے حکم ہی سے مقسم کے حوالے سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور انہیں دفن کیا۔ (اسی طرح) میں نے حکم سے پوچھا: آپ اولاد زنا کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کہا: ان کا جنازہ پڑھا جائے گا۔ میں نے پوچھا: یہ روایت کس حوالے سے بیان کی جاتی ہے؟ کہا: حضرت حسن بصری سے (جبکہ) حسن بن عمارہ نے کہا: ہم سے حکم نے یحییٰ بن جزار کے حوالے سے یہ روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیان کی۔
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ ، وَذَكَرَ زِيَادَ بْنَ مَيْمُونٍ ، فَقَالَ : حَلَفْتُ ، أَلَّا أروي عنه شيئا ولا عَنْ خَالِدِ بْنِ مَحْدُوجٍ ، وَقَالَ : لَقِيتُ زِيَادَ بْنَ مَيْمُونٍ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ حَدِيثٍ ، فَحَدَّثَنِي بِهِ ، عَنْ بَكْرٍ الْمُزَنِيِّ ، ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ ، فَحَدَّثَنِي بِهِ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ ، فَحَدَّثَنِي بِهِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَكَانَ يَنْسُبُهُمَا إِلَى الْكَذِبِ ، قَالَ الْحُلْوَانِيُّ ، سَمِعْتُ عَبْدَ الصَّمَدِ ، وَذَكَرْتُ عِنْدَهُ زِيَادَ بْنَ مَيْمُونٍ فَنَسَبَهُ إِلَى الْكَذِبِ ،
حسن حلوانی نے کہا: میں نے یزید بن ہارون سے سنا، انہوں نے زیاد بن میمون کا ذکر کرتے ہوئے کہا: میں نے حلف اٹھایا ہے کہ میں اس سے اور خالد بن محدوج سے کبھی روایت نہ کروں گا (اور کہا:) میں زیاد بن میمون سے ملا، اس سے ایک حدیث سنانے کا کہا تو اس نے مجھے وہ حدیث بکر مزنی سے روایت کرکے سنائی، پھر (کچھ عرصے بعد) میں دوبارہ اس کے پاس گیا تو اس نے وہی حدیث موَرّق سے بیان کی، پھر ایک بار اور اس کے پاس گیا تو اس نے وہی حدیث حسن (بصری) سے سنائی۔ وہ (یزید بن ہارون) ان دونوں (زیاد بن میمون اور خالد بن محدوج) کو جھوٹ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ حلوانی نے کہا: میں نے عبدالصمد سے حدیث سنی اور ان کے سامنے زیاد بن میمون کا ذکر کیا تو انہوں نے اس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی۔
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي دَاوُدَ الطَّيَالِسِيِّ : قَدْ أَكْثَرْتَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ ، فَمَا لَكَ لَمْ تَسْمَعْ مِنْهُ حَدِيثَ الْعَطَّارَةِ ، الَّذِي رَوَى لَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ لِيَ : اسْكُتْ ، فَأَنَا لَقِيتُ زِيَادَ بْنَ مَيْمُونٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، فَسَأَلْنَاهُ ، فَقُلْنَا لَهُ : هَذِهِ الأَحَادِيثُ الَّتِي تَرْوِيهَا ، عَنْ أَنَسٍ ؟ فَقَالَ : أَرَأَيْتُمَا رَجُلًا يُذْنِبُ فَيَتُوبُ ، أَلَيْسَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : قُلْنَا : نَعَمْ . قَالَ : مَا سَمِعْتُ مِنْ أَنَسٍ ، مِنْ ذَا قَلِيلًا وَلَا كَثِيرًا ، إِنْ كَانَ لَا يَعْلَمُ النَّاسُ ، فَأَنْتُمَا لَا تَعْلَمَانِ ، أَنِّي لَمْ أَلْقَ أَنَسًا ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ : فَبَلَغَنَا بَعْدُ أَنَّهُ يَرْوِي ، فَأَتَيْنَاهُ أَنَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، فَقَالَ : أَتُوبُ ، ثُمَّ كَانَ بَعْدُ يُحَدِّثُ ، فَتَرَكْنَاهُ ،
محمود بن غیلان نے کہا: میں نے ابوداود طیالسی سے کہا: آپ نے عباد بن منصور سے بہت زیادہ روایتیں لی ہیں، پھر کیا ہوا کہ آپ نے عطارہ والی روایت جو نضر بن شمیل نے ہمارے سامنے بیان کی، ان سے نہیں سنی؟ انہوں نے مجھ سے کہا: خاموش رہو، میں اور عبدالرحمن بن مہدی زیاد بن میمون سے ملے اور اس سے پوچھتے ہوئے کہا: یہ احادیث جو تم حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہو (کیا ہیں؟) تو وہ کہنے لگا: تم دونوں دیکھو کہ ایک آدمی گناہ کرتا ہے، پھر توبہ کر لیتا ہے تو کیا اللہ اس کی توبہ قبول نہیں کرتا! کہا: ہم نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: میں نے ان (احادیث) میں سے انس رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا، نہ کم نہ زیادہ، اگر لوگ نہیں جانتے تو (کیا) تم دونوں بھی نہیں جانتے کہ میں انس رضی اللہ عنہ سے نہیں ملا! ابوداود نے کہا: پھر ہمیں یہ خبر پہنچی کہ وہ (وہی) روایتیں بیان کرتا ہے تو میں اور عبدالرحمن اس کے پاس آئے تو وہ کہنے لگا: میں توبہ کرتا ہوں، پھر اس کے بعد بھی وہ وہی حدیثیں بیان کرتا تھا تو ہم نے اسے (اس کے حال پر) چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِي ، قَالَ : سَمِعْتُ شَبَابَةَ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ الْقُدُّوسِ يُحَدِّثُنَا ، فَيَقُولُ : سُوَيْدُ بْنُ عَقَلَةَ : قَالَ شَبَابَةُ : وَسَمِعْتُ عَبْدَ الْقُدُّوسِ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ يُتَّخَذَ الرَّوْحُ عَرْضًا ، قَالَ : فَقِيلَ لَهُ : أَيُّ شَيْءٍ هَذَا ! قَالَ : يَعْنِي تُتَّخَذُ كُوَّةٌ فِي حَائِطٍ ، لِيَدْخُلَ عَلَيْهِ الرَّوْحُ ، قَال مُسْلِمٌ : وسَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ ، يَقُولُ لِرَجُلٍ بَعْدَ مَا جَلَسَ مَهْدِيُّ بْنُ هِلَالٍ بِأَيَّامٍ : مَا هَذِهِ الْعَيْنُ الْمَالِحَةُ الَّتِي نَبَعَتْ قِبَلَكُمْ ؟ قَالَ : نَعَمْ يَا أَبَا إِسْمَاعِيل ،
شبابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبدالقدوس ہمیں حدیث سناتا اور راوی کا نام سوید بن عقلہ لیتا، اور متن یوں سناتا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روح کو عرض بنانے سے منع فرمایا۔ اس سے پوچھا گیا: کہ یہ کیا ہوا؟ یعنی: اس کا مطلب کیا ہے؟ تو اس نے کہا: ہوا کے داخل ہونے کے لیے دیوار میں سوراخ یا کھڑکی رکھنا منع فرمایا۔ عبید اللہ بن عمیر قواریری رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے سنا حماد بن زید رحمہ اللہ کسی آدمی کو کہہ رہے تھے، جب کہ وہ شخص مہدی بن ہلال کے پاس چند روز بیٹھ چکا تھا: ”یہ تمہاری طرف پھوٹنے والا نمکین چشمہ کیسا ہے؟“ اس نے کہا: ہاں اے ابو اسماعیل! (یہ حماد بن زید رحمہ اللہ کی کنیت ہے) وہ ایسا ہی ہے۔ یعنی واقعی ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَفَّانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عَوَانَةَ ، قَالَ : مَا بَلَغَنِي عَنِ الْحَسَنِ حَدِيثٌ ، إِلَّا أَتَيْتُ بِهِ أَبَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ ، فَقَرَأَهُ عَلَيَّ.
عفان نے کہا: میں نے ابوعوانہ سے سنا، کہا: مجھے حسن (بصری) سے کوئی حدیث نہ پہنچی مگر میں اسے ابان بن ابی عیاش کے پاس لے گیا تو اس نے اسے میرے سامنے پڑھا۔
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَا وَحَمْزَةُ الزَّيَّاتُ مِنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، نَحْوًا مِنْ أَلْفِ حَدِيثٍ ، قَالَ عَلِيٌّ : " فَلَقِيتُ حَمْزَةَ فَأَخْبَرَنِي ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ مَا سَمِعَ مِنْ أَبَانَ ، فَمَا عَرَفَ مِنْهَا إِلَّا شَيْئًا يَسِيرًا ، خَمْسَةً أَوْ سِتَّةً ،
علی بن مسہر نے بیان کیا، کہا: میں نے اور حمزہ زیات نے ابان بن ابی عیاش سے تقریباً ایک ہزار احادیث سنیں۔ علی نے کہا: پھر (کچھ عرصے بعد) میں حمزہ سے ملا تو اس نے مجھے بتایا کہ اس نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ احادیث جو ابان سے سنی تھیں آپ کی خدمت میں پیش کیں۔ آپ نے ان میں بہت معمولی حصے، پانچ یا چھ حدیثوں کے سوا کسی چیز کو نہ پہچانا۔
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ : اكْتُبْ عَنْ بَقِيَّةَ مَا رَوَى عَنِ الْمَعْرُوفِينَ ، وَلَا تَكْتُبْ عَنْهُ مَا رَوَى عَنْ غَيْرِ الْمَعْرُوفِينَ ، وَلَا تَكْتُبْ عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَيَّاشٍ ، مَا رَوَى عَنِ الْمَعْرُوفِينَ ، وَلَا عَنْ غَيْرِهِمْ ،
زکریا بن عدی نے کہا: مجھ سے ابواسحاق فزاری نے کہا: بقیہ سے وہی احادیث لکھو جو اس نے معروف لوگوں سے روایت کی ہیں، وہ نہ لکھو جو اس نے غیر معروف لوگوں سے روایت کی ہیں اور اسماعیل بن عیاش سے، جو اس نے معروف لوگوں سے روایت کیں یا غیر معروف سے، کچھ نہ لکھو۔
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ بَعْضَ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ : نِعْمَ الرَّجُلُ بَقِيَّةُ ، لَوْلَا أَنَّهُ كَانَ يَكْنِي الْأَسَامِيَ وَيُسَمِّي الْكُنَى ، كَانَ دَهْرًا يُحَدِّثُنَا ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْوُحَاظِيِّ ، فَنَظَرْنَا فَإِذَا هُوَ وَعَبْدُ الْقُدُّوسِ ،
عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”بقیہ رحمہ اللہ اچھا آدمی تھا، اگر وہ ناموں کی جگہ کنیت اور کنیت کی جگہ نام نہ لیتا۔ ایک عرصہ تک وہ ہمیں ابو سعید وحاظی سے روایت سناتا رہا، جب ہم نے غور و فکر کیا تو معلوم ہوا وہ عبدالقدوس ہے (جو ضعیف راوی ہے)۔“
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ ، يَقُولُ : مَا رَأَيْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ يُفْصِحُ بِقَوْلِهِ كَذَّابٌ ، إِلَّا لِعَبْدِ الْقُدُّوسِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهُ : كَذَّابٌ ،
عبدالرزاق کہتے ہیں: میں نے ابن مبارک کو (ایسا کرتے) نہیں دیکھا کہ وہ کھل کر اپنی یہ بات (رائے) کہہ دیں کہ فلاں جھوٹا ہے، سوائے عبدالقدوس کے۔ میں نے انہیں خود یہ کہتے سنا کہ وہ جھوٹا ہے۔
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نُعَيْمٍ ، وَذَكَرَ الْمُعَلَّى بْنَ عُرْفَانَ ، فَقَال : قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو وَائِلٍ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا ابْنُ مَسْعُودٍ بِصِفِّينَ ، فَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ : أَتُرَاهُ بُعِثَ بَعْدَ الْمَوْتِ ؟ .
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے ابونعیم سے سنا (اور انہوں نے معلی بن عرفان کا ذکر کیا) اور کہا: اس نے کہا: ہم سے ابووائل نے بیان کیا، کہا: صفین میں ابن مسعود ہمارے سامنے نکلے تو ابونعیم نے کہا: ان کے بارے میں تمہاری رائے ہے کہ وہ موت کے بعد دوبارہ زندہ ہو گئے تھے؟
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ كِلَاهُمَا ، عَنْ عَفَّانَ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ إِسْمَاعِيل ابْنِ عُلَيَّةَ ، فَحَدَّثَ رَجُلٌ عَنْ رَجُلٍ ، فَقُلْتُ : إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِثَبْتٍ ، قَالَ : فَقَالَ الرَّجُلُ : اغْتَبْتَهُ ؟ قَالَ إِسْمَاعِيل : مَا اغْتَابَهُ ، وَلَكِنَّهُ حَكَمَ أَنَّهُ لَيْسَ بِثَبْتٍ.
عفان بن مسلم سے روایت ہے، کہا: ہم اسماعیل بن عُلیہ کے ہاں تھے تو ایک آدمی نے ایک دوسرے آدمی سے روایت (بیان) کی۔ میں نے کہا: یہ مضبوط (ثقہ کا ہم پلہ) نہیں۔ تو اس آدمی نے کہا: تم نے اس کی غیبت کی ہے۔ اسماعیل کہنے لگے: انہوں نے اس کی غیبت نہیں کی بلکہ حکم (فیصلہ) بیان کیا ہے وہ ثبت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : سَأَلْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الَّذِي يَرْوِي ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، فَقَالَ : لَيْسَ بِثِقَةٍ ، وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ ، فَقَالَ : لَيْسَ بِثِقَةٍ ، وَسَأَلْتُهُ عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ ، فَقَالَ : لَيْسَ بِثِقَةٍ ، وَسَأَلْتُهُ عَنْ شُعْبَةَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، فَقَالَ : لَيْسَ بِثِقَةٍ ، وَسَأَلْتُهُ عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ ، فَقَالَ : لَيْسَ بِثِقَةٍ ، وَسَأَلْتُ مَالِكًا ، عَنْ هَؤُلَاءِ الْخَمْسَةِ ، فَقَالَ : لَيْسُوا بِثِقَةٍ ، فِي حَدِيثِهِمْ وَسَأَلْتُهُ عَنْ رَجُلٍ آخَرَ نَسِيتُ اسْمَهُ ، فَقَالَ : هَلْ رَأَيْتَهُ فِي كُتُبِي ؟ قُلْتُ : لَا ، قَالَ : لَوْ كَانَ ثِقَةً ، لَرَأَيْتَهُ فِي كُتُبِي
بشر بن عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے امام مالک بن انس سے محمد بن عبدالرحمن کے بارے میں پوچھا جو سعید بن مسیب سے احادیث روایت کرتا ہے تو انہوں نے کہا: وہ ثقہ نہیں۔ میں نے مالک بن انس سے ابوحویرث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: وہ ثقہ نہیں۔ (پھر) میں نے ان سے اس شعبہ کے بارے میں سوال کیا جس سے ابن ابی ذئب روایت کرتے ہیں تو فرمایا: وہ ثقہ نہیں۔ میں نے ان سے صالح مولیٰ توامہ کے بارے میں سوال کیا تو کہا: ثقہ نہیں۔ میں نے ان سے حرام بن عثمان کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: ثقہ نہیں۔ میں نے امام مالک سے ان پانچوں کے بارے میں پوچھا، انہوں نے فرمایا: یہ سب حدیث کے بیان کرنے میں ثقہ نہیں۔ میں نے ان سے ایک اور شخص کے بارے میں پوچھا جس کا (اب) میں نام بھول گیا ہوں تو انہوں نے کہا: کیا تم نے میری کتابوں میں اس کا نام دیکھا ہے؟ میں نے عرض کی: نہیں۔ فرمایا: اگر ثقہ ہوتا تو تم اس کا ذکر میری کتابوں میں دیکھتے۔
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ ، وَكَانَ مُتَّهَمًا ،
ہم حجاج نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن ابی ذئب نے شرحبیل بن سعد کے حوالے سے حدیث بیان کی اور وہ متہم تھا۔
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاق الطَّالَقَانِيّ َ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ ، يَقُولُ : لَوْ خُيِّرْتُ بَيْنَ أَنْ أَدْخُلَ الْجَنَّةَ ، وَبَيْنَ أَنْ أَلْقَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَرَّرٍ ، لَاخْتَرْتُ أَنْ أَلْقَاهُ ، ثُمَّ أَدْخُلَ الْجَنَّةَ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ كَانَتْ بَعْرَةٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُ ،
حضرت ابن مبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”مجھے عبداللہ بن محرر سے ملنے کا اس قدر اشتیاق تھا، کہ اگر مجھے یہ اختیار دیا جاتا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ یا عبداللہ بن محرر سے مل لو، تو میں یہ پسند کرتا کہ پہلے اس سے ملوں پھر جنت میں داخل ہوں۔ لیکن جب میں نے اس کو دیکھا تو میرے نزدیک مینگنی کی اس سے زیادہ قدر تھی۔“ (یعنی جب اس قدر شوق اور عقیدت کے بعد ملاقات کا موقع ملا، تو وہ انتہائی نکمّا نکلا)۔
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا وَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أُنَيْسَةَ : لَا تَأْخُذُوا عَنْ أَخِي ،
ولید بن صالح نے بیان کیا، کہا: ابواسحاق نے کہا: عبیداللہ بن عمرو نے کہا: زید، یعنی ابن ابی انیسہ نے کہا: میرے بھائی (یحییٰ بن ابی انیسہ) سے روایت نہ لو۔
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ السَّلَامِ الْوَابِصِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : كَانَ يَحْيَي بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ كَذَّابًا .
عبید اللہ بن عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”یحییٰ بن انیسہ جھوٹا تھا۔“
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : ذُكِرَ فَرْقَد عِنْدَ أَيُّوبَ ، فَقَالَ : إِنَّ فَرْقَدًا ، لَيْسَ صَاحِبَ حَدِيثٍ ،
حماد بن زید سے روایت ہے، کہا: ایوب سختیانی کے سامنے فرقد کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: فرقد حدیث (کی مہارت رکھنے) والا نہیں۔
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ ، ذُكِرَ عِنْدَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيُّ ، فَضَعَّفَهُ جِدًّا ، فَقِيلَ لِيَحْيَى : أَضْعَفُ مِنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، ثُمَّ قَالَ : مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ أَحَدًا يَرْوِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْر ٍ ،
مجھ سے عبدالرحمن بن بشر عبدی نے بیان کیا، کہا: میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے سنا، جب ان کے سامنے محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر لیثی کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے اسے انتہائی ضعیف قرار دیا۔ (امام) یحییٰ سے کہا گیا: ہاں۔ پھر کہا: میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ایک انسان بھی محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر سے روایت کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ ، ضَعَّفَ حَكِيمَ بْنَ جُبَيْرٍ وَعَبْدَ الأَعْلَى وَضَعَّفَ يَحْيَى مُوسَى بْنَ دِينَارٍ ، قَالَ : حَدِيثُهُ رِيحٌ وَضَعَّفَ مُوسَى بْنَ دِهْقَانَ وَعِيسَى بْنَ أَبِي عِيسَى الْمَدَنِيّ ،
بشر بن حکم نے بیان کیا، کہا: میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے سنا، انہوں نے حکیم بن جبیر اور عبدالاعلیٰ کو ضعیف قرار دیا اور (اسی طرح) یحییٰ نے موسیٰ بن دینار کو بھی ضعیف قرار دیا (اور) کہا: اس کی (بیان کردہ) حدیث ہوا (جیسی) ہے اور موسیٰ بن دہقان اور عیسیٰ بن ابی عیسیٰ مدنی کو (بھی) ضعیف قرار دیا۔ کہا: اور میں نے حسن بن عیسیٰ سے سنا، کہہ رہے تھے: مجھ سے ابن مبارک نے فرمایا: تم جب جریر کے پاس پہنچو تو تین (راویوں) کی احادیث کے سوا اس کا سارا علم لکھ لینا۔ عبیدہ بن معتب، سری بن اسماعیل اور محمد بن سالم کی احادیث اس سے نہ لکھنا۔
حدیث نمبر: 92B1
قََالَ : وَسَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عِيسَى ، يَقُولُ : قَالَ لِي ابْنُ الْمُبَارَكِ : إِذَا قَدِمْتَ عَلَى جَرِيرٍ ، فَاكْتُبْ عِلْمَهُ كُلَّهُ ، إِلَّا حَدِيثَ ثَلَاثَةٍ لَا تَكْتُبْ ، حَدِيثَ عُبَيْدَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ ، وَالسَّرِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيل ، وَمُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ ،
امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: میں نے سنا حسن بن عیسیٰ سے، وہ کہتا تھا، مجھ سے کہا عبداللہ بن مبارک نے، جب تو جریر کے پاس جائے تو اس کا سارا علم لکھ (یعنی سب حدیثیں اس کی روایت کر) مگر تین آدمیوں کی حدیثیں مت لکھ عبیدہ بن معتب اور سری بن اسمٰعیل اور محمد بن سالم کی روایتیں۔
حدیث نمبر: 7
قَالَ مُسْلِم وَأَشْبَاهُ : مَا ذَكَرْنَا مِنْ كَلَامِ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي مُتَّهَمِي رُوَاةِ الْحَدِيثِ وَإِخْبَارِهِمْ ، عَنْ مَعَايِبِهِمْ كَثِيرٌ يَطُولُ الْكِتَابُ بِذِكْرِهِ ، عَلَى اسْتِقْصَائِهِ ، وَفِيمَا ذَكَرْنَا كِفَايَةٌ لِمَنْ تَفَهَّمَ ، وَعَقَلَ مَذْهَبَ الْقَوْمِ ، فِيمَا قَالُوا مِنْ ذَلِكَ ، وَبَيَّنُوا
امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: اور اس کے مانند جو ہم نے ذکر کیا اہل حدیث کا کلام متہم راویوں میں اور ان کے عیوب بہت ہیں جس کے بیان کرنے سے کتاب لمبی ہو جائے گی اور جس قدر ہم نے بیان کیا وہ کافی ہے اس شخص کے لئے جو قوم کا مذہب سمجھ بوجھ جائے۔
حدیث نمبر: 92B3
وَإِنَّمَا أَلْزَمُوا أَنْفُسَهُمُ الْكَشْفَ عَنْ مَعَايِبِ رُوَاةِ الْحَدِيثِ ، وَنَاقِلِي الأَخْبَارِ ، وَأَفْتَوْا بِذَلِكَ حِينَ سُئِلُوا لِمَا فِيهِ مِنْ عَظِيمِ الْخَطَرِ ، إِذْ الأَخْبَارُ فِي أَمْرِ الدِّينِ ، إِنَّمَا تَأْتِي بِتَحْلِيلٍ ، أَوْ تَحْرِيمٍ ، أَوْ أَمْرٍ ، أَوْ نَهْيٍ ، أَوْ تَرْغِيبٍ ، أَوْ تَرْهِيبٍ ، فَإِذَا كَانَ الرَّاوِي لَهَا لَيْسَ بِمَعْدِنٍ لِلصِّدْقِ وَالأَمَانَةِ ، ثُمَّ أَقْدَمَ عَلَى الرِّوَايَةِ عَنْهُ مَنْ قَدْ عَرَفَهُ ، وَلَمْ يُبَيِّنْ مَا فِيهِ لِغَيْرِهِ مِمَّنْ جَهِلَ مَعْرِفَتَهُ ، كَانَ آثِمًا بِفِعْلِهِ ذَلِكَ غَاشًّا لِعَوَامِّ الْمُسْلِمِينَ ، إِذْ لَا يُؤْمَنُ عَلَى بَعْضِ مَنْ سَمِعَ تِلْكَ الأَخْبَارَ ، أَنْ يَسْتَعْمِلَهَا ، أَوْ يَسْتَعْمِلَ بَعْضَهَا ، وَلَعَلَّهَا ، أَوْ أَكْثَرَهَا أَكَاذِيبُ لَا أَصْلَ لَهَا ، مَعَ أَنَّ الأَخْبَارَ الصِّحَاحَ مِنْ رِوَايَةِ الثِّقَاتِ وَأَهْلِ الْقَنَاعَةِ ، أَكْثَرُ مِنْ أَنْ يُضْطَرَّ إِلَى نَقْلِ مَنْ لَيْسَ بِثِقَةٍ ، وَلَا مَقْنَعٍ ،
اور حدیثوں کے اماموں نے راویوں کا عیب کھول دینا ضروری سمجھا اور اس بات کا فتویٰ دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا اس لئے کہ یہ بڑا اہم کام ہے۔ کیونکہ دین کی بات جب نقل کی جائے گی تو وہ کسی امر کے حلال ہونے کے لئے ہو گی یا حرام ہونے کے لئے یا اس میں کسی بات کا حکم ہو گا یا کسی بات کی ممانعت ہو گی یا کسی کام کی طرف رغبت دلائی جائے یا کسی کام سے ڈرایا جائے گا۔ بہرحال جب راوی سچا اور امانت دار نہ ہو پھر اس سے کوئی روایت کرے جو اس کے حال کو جانتا ہو اور وہ حال دوسرے سے بیان نہ کرے جو نہ جانتا ہو تو گنہگار ہو گا اور دھوکا دینے والا ہو گا عام مسلمانوں کو۔ اس لئے کہ
حدیث نمبر: 92B4
وَلَا أَحْسِبُ كَثِيرًا مِمَّنْ يُعَرِّجُ مِنَ النَّاسِ ، عَلَى مَا وَصَفْنَا مِنْ هَذِهِ الأَحَادِيثِ الضِّعَافِ ، وَالأَسَانِيدِ الْمَجْهُولَةِ ، وَيَعْتَدُّ بِرِوَايَتِهَا بَعْدَ مَعْرِفَتِهِ بِمَا فِيهَا مِنَ التَّوَهُّنِ ، وَالضَّعْفِ ، إِلَّا أَنَّ الَّذِي يَحْمِلُهُ عَلَى رِوَايَتِهَا ، وَالِاعْتِدَادِ بِهَا إِرَادَةُ التَّكَثُّرِ بِذَلِكَ عِنْدَ الْعَوَامِّ ، وَلِأَنْ يُقَالَ : مَا أَكْثَرَ مَا جَمَعَ فُلَانٌ مِنَ الْحَدِيثِ ، وَأَلَّفَ مِنَ الْعَدَدِ ، وَمَنْ ذَهَبَ فِي الْعِلْمِ هَذَا الْمَذْهَبَ ، وَسَلَكَ هَذَا الطَّرِيقَ ، فَلَا نَصِيبَ لَهُ فِيهِ ، وَكَانَ بِأَنْ يُسَمَّى جَاهِلًا أَوْلَى مَنْ أَنْ يُنْسَبَ إِلَى عِلْمٍ
اور میں سمجھتا ہوں کہ جن لوگوں نے اس قسم کی ضعیف حدیثیں اور مجہول سندیں نقل کی ہیں اور ان میں مصروف ہیں اور وہ جانتے ہیں ان کے ضعف کو، تو ان کی غرض یہ ہے کہ عوام کے نزدیک اپنا کثرت علم ثابت کریں اور اس لئے کہ لوگ کہیں سبحان اللہ! فلاں شخص نے کتنی زیادہ حدیثیں جمع کی ہیں۔ اور جس شخص کی یہ چال ہے اور اس کا یہ طریقہ ہے، اس کا علم، حدیث میں کچھ نہیں اور وہ جاہل کہلانے کا زیادہ سزاوار ہے عالم کہلانے سے۔