کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: حدیث کے راویوں کا عیب بیان کرنا درست ہے اور وہ غیبت میں داخل نہیں۔
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ صَاحِبُ بُهَيَّةَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ الْقَاسِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَيَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، فَقَالَ يَحْيَى لِلْقَاسِمِ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، إِنَّهُ قَبِيحٌ عَلَى مِثْلِكَ عَظِيمٌ ، أَنْ تُسْأَلَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ هَذَا الدِّينِ ، فَلَا يُوجَدَ عِنْدَكَ مِنْهُ عِلْمٌ ، وَلَا فَرَجٌ أَوْ عِلْمٌ ، وَلَا مَخْرَجٌ ، فَقَالَ لَهُ الْقَاسِمُ : وَعَمَّ ذَاكَ ؟ قَالَ : لِأَنَّكَ ابْنُ إِمَامَيْ هُدًى ابْنُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَر قَالَ : يَقُولُ لَهُ الْقَاسِمُ : أَقْبَحُ مِنْ ذَاكَ عِنْدَ مَنْ عَقَلَ ، عَنِ اللَّهِ ، أَنْ أَقُولَ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَوْ آخُذَ ، عَنْ غَيْرِ ثِقَةٍ ، قَالَ : فَسَكَتَ فَمَا أَجَابَهُ
ابونضر ہاشم بن قاسم نے حدیث بیان کی، کہا: ہم سے بہیہ کے مولیٰ ابوعقیل (یحییٰ بن متوکل) نے حدیث بیان کی، کہا: میں قاسم بن عبیداللہ (بن عبداللہ بن عمر جن کی والدہ ام عبداللہ بنت قاسم بن محمد بن ابوبکر تھیں) اور یحییٰ بن سعید کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ یحییٰ نے قاسم بن عبیداللہ سے کہا: جناب ابومحمد! آپ جیسی شخصیت کے لیے یہ عیب ہے، بہت بڑی بات ہے کہ آپ سے اس دین کے کسی معاملے کے بارے میں (کچھ) پوچھا جائے اور آپ کے پاس اس کے حوالے سے نہ علم ہو نہ کوئی حل یا (یہ الفاظ کہے) نہ علم ہو نہ نکلنے کی کوئی راہ۔ تو قاسم نے ان سے کہا: کس وجہ سے؟ (یحییٰ نے) کہا: کیونکہ آپ ہدایت کے دو اماموں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے فرزند ہیں۔ کہا: قاسم اس سے کہنے لگے: جس شخص کو اللہ کی طرف سے عقل ملی ہو، اس کے نزدیک اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ میں علم کے بغیر کچھ کہہ دوں یا اس سے روایت کروں جو ثقہ نہ ہو۔ (یہ سن کر یحییٰ) خاموش ہو گئے اور انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (18487 و 18924 و 18925) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ ، يَقُولُ : أَخْبَرُونِي ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ صَاحِبِ بُهَيَّةَ ، أَنَّ أَبْنَاءً لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، سَأَلُوهُ عَنْ شَيْءٍ ، لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ فِيهِ عِلْمٌ ، فَقَالَ لَهُ يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأُعْظِمُ أَنْ يَكُونَ مِثْلُكَ وَأَنْتَ ابْنُ إِمَامَيِ الْهُدَى يَعْنِي عُمَرَ وَابْنَ عُمَرَ ، تُسْأَلُ عَنْ أَمْرٍ لَيْسَ عِنْدَكَ فِيهِ عِلْمٌ ، فَقَالَ : أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ ، وَاللَّهِ عِنْدَ اللَّهِ ، وَعِنْدَ مَنْ عَقَلَ عَنِ اللَّهِ ، أَنْ أَقُولَ بِغَيْرِ عِلْمٍ ، أَوْ أُخْبِرَ ، عَنْ غَيْرِ ثِقَةٍ ، قَالَ : وَشَهِدَهُمَا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، حِينَ قَالَا ذَلِك
بہیہ نامی عورت کے شاگرد اور غلام ابو عقیل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: کہ لوگوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے (پوتے) سے ایک ایسا مسئلہ دریافت کیا، جس کے بارے میں وہ علم نہیں رکھتے تھے، تو انہیں یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں اس کو انتہائی ناگوار سمجھتا ہوں کہ آپ جیسے مرتبہ کا مالک، جو ہدایت کے دو راہنماؤں کا، یعنی: عمر رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیٹا ہے، اس سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جائے اور وہ اس کے بارے میں علم نہ رکھتے ہوں۔“ تو انہوں نے جواب دیا: ”اس سے زیادہ ناگوار اور گراں اللہ کے ہاں اور ان لوگوں کے ہاں جو اللہ کے بارے میں عقل و شعور رکھتے ہیں، اللہ کی قسم! یہ بات ہے، کہ میں علم (دلیل و سند) کے بغیر بات کہہ دوں (رائے پیش کر دوں) یا ناقابل اعتبار روایت سے پیش کر دوں۔“ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان دونوں (یحییٰ رحمہ اللہ اور قاسم رحمہ اللہ) کی گفتگو کے وقت ابو عقیل یحییٰ بن متوکّل رحمہ اللہ موجود تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم كما في ((التحفة )) برقم (19201 و 19533) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ أَبُو حَفْصٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ ، وَشُعْبَةَ ، وَمَالِكًا ، وَابْنَ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الرَّجُلِ ، لَا يَكُونُ ثَبْتًا فِي الْحَدِيثِ ، فَيَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيَسْأَلُنِي عَنْهُ ، قَالُوا : أَخْبِرْ عَنْهُ ، أَنَّهُ لَيْسَ بِثَبْتٍ
یحییٰ بن سعید نے کہا: میں نے سفیان ثوری، شعبہ، مالک اور ابن عیینہ سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جو حدیث میں پوری طرح قابل اعتماد (ثقہ) نہ ہو، پھر کوئی آدمی آئے اور مجھ سے اس کے بارے میں سوال کرے؟ تو ان سب نے کہا: اس کے بارے میں بتا دو کہ وہ پوری طرح قابل اعتماد نہیں ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (18762 و 18775 و 18803 و 19248) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّضْرَ ، يَقُولُ : سُئِلَ ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ حَدِيثٍ لِشَهْرٍ ، وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى أُسْكُفَّةِ الْبَابِ ، فَقَالَ : إِنَّ شَهْرًا نَزَكُوهُ ، إِنَّ شَهْرًا نَزَكُوهُ ، قَالَ مٌسْلِمٌ : رَحِمَهُ اللَّهُ ، يَقُولُ : أَخَذَتْهُ أَلْسِنَةُ النَّاسِ تَكَلَّمُوا فِيهِ
نضر کہتے ہیں کہ ابن عون سے شہر (بن حوشب) کی حدیث کے بارے میں سوال کیا گیا، (اس وقت) وہ (اپنی) دہلیز پر کھڑے تھے، وہ کہنے لگے: انہوں (محدثین) نے یقیناً شہر کو مطعون ٹھہرایا ہے، انہوں نے شہر کو مطعون ٹھہرایا ہے۔ امام مسلم رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں کی زبانوں نے انہیں نشانہ بنایا، ان کے بارے میں باتیں کیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في الاستئذان، باب ماجاء في التسليم علي النساء بعد حديث (2697) انظر ((التحفة)) (18921) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِر ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ : قَال شُعْبَةُ : وَقَدْ لَقِيتُ شَهْرًا ، فَلَمْ أَعْتَدَّ بِهِ
ہمیں شبابہ نے بتایا، کہا: شعبہ نے کہا: میں شہر سے ملا لیکن (روایت حدیث کے حوالے سے) میں نے انہیں اہمیت نہ دی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة )) برقم (18804) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ : قُلْتُ لِسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ : إِنَّ عَبَّادَ بْنَ كَثِيرٍ ، مَنْ تَعْرِفُ حَالَهُ ، وَإِذَا حَدَّثَ ، جَاءَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ ، فَتَرَى أَنْ أَقُولَ لِلنَّاسِ : لَا تَأْخُذُوا عَنْهُ ؟ قَالَ سُفْيَانُ : بَلَى ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَكُنْتُ إِذَا كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ ، ذُكِرَ فِيهِ عَبَّادٌ ، أَثْنَيْتُ عَلَيْهِ فِي دِينِهِ ، وَأَقُولُ : لَا تَأْخُذُوا عَنْهُ وَقَالَ مُحَمَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : قَالَ أَبِي : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ : انْتَهَيْتُ إِلَى شُعْبَةَ ، فَقَالَ : هَذَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ فَاحْذَرُوهُ
عبداللہ بن مبارک نے کہا: میں نے سفیان ثوری سے عرض کی: بلاشبہ عباد بن کثیر ایسا ہے جس کا حال آپ کو معلوم ہے۔ جب وہ حدیث بیان کرتا ہے تو بڑی بات کرتا ہے، کیا آپ کی رائے ہے کہ میں لوگوں سے کہہ دیا کروں: اس سے (حدیث) نہ لو؟ سفیان کہنے لگے: کیوں نہیں! عبداللہ نے کہا: پھر یہ (میرا معمول) ہو گیا کہ جب میں کسی (علمی) مجلس میں ہوتا جہاں عباد کا ذکر ہوتا تو میں دین کے حوالے سے اس کی تعریف کرتا اور (ساتھ یہ بھی) کہتا: اس سے (حدیث) نہ لو۔ ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا، کہا: میرے والد نے کہا: عبداللہ بن مبارک نے کہا: میں شعبہ تک پہنچا تو انہوں نے (بھی) کہا: یہ عباد بن کثیر ہے تم لوگ اس سے (حدیث بیان کرنے میں) احتیاط کرو۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة )) برقم (18763 و 18805 و 18926) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ مُعَلًّى الرَّازِيَّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، الَّذِي رَوَى عَنْهُ عَبَّادٌ ، فَأَخْبَرَنِي ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، قَالَ : كُنْتُ عَلَى بَابِهِ ، وَسُفْيَانُ عِنْدَهُ ، فَلَمَّا خَرَجَ سَأَلْتُهُ عَنْهُ ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ كَذَّابٌ
فضل بن سہیل بیان کرتے ہیں: میں نے معلیٰ رازی سے محمد بن سعید کے بارے میں پوچھا، جس سے عباد بن کثیر روایت بیان کرتا ہے، تو انہوں نے مجھے عیسیٰ بن یونس سے نقل کیا۔ میں اس کے دروازے پر تھا اور سفیان اس کے پاس حاضر تھے، جب وہ نکلے تو میں نے ان سے (سفیان سے) اس (محمد بن سعید) کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: ”وہ جھوٹا ہے۔“ (مولانا عبدالسلام بستوی نے اس سے مراد عباد بن کثیر لیا ہے، کہ وہ جھوٹا ہے)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18764) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَفَّانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَمْ نَرَ الصَّالِحِينَ فِي شَيْءٍ ، أَكْذَبَ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَتَّابٍ : فَلَقِيتُ أَنَا مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ ، فَقَالَ عَنْ أَبِيهِ : لَمْ تَرَ أَهْلَ الْخَيْرِ فِي شَيْءٍ ، أَكْذَبَ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ ، قَالَ مُسْلِم : يَقُولُ : يَجْرِي الْكَذِبُ عَلَى لِسَانِهِمْ ، وَلَا يَتَعَمَّدُونَ الْكَذِبَ
محمد بن ابی عتاب نے کہا: مجھ سے عفان نے محمد بن یحییٰ بن سعید قطان سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: ہم نے نیک لوگوں (صوفیا) کو حدیث سے بڑھ کر کسی اور چیز میں جھوٹ بولنے والا نہیں پایا۔ ابن ابی عتاب نے کہا: میں محمد بن یحییٰ بن سعید قطان سے ملا تو اس (بات کے) بارے میں پوچھا، انہوں نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہا: تم اہل خیر (زہد و ورع والوں) کو حدیث سے زیادہ کسی اور چیز میں جھوٹا نہیں پاؤ گے۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا کہ یحییٰ بن سعید نے فرمایا: ان کی زبان پر جھوٹ جاری ہو جاتا ہے، وہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة )) برقم (19527) »
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي خَلِيفَةُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى غَالِبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، فَجَعَلَ يُمْلِي عَلَيَّ ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ ، فَأَخَذَهُ الْبَوْلُ ، فَقَامَ ، فَنَظَرْتُ فِي الْكُرَّاسَةِ ، فَإِذَا فِيهَا ، حَدَّثَنِي أَبَانٌ ، عَنْ أَنَسٍ وَأَبَانٌ ، عَنْ فُلَانٍ ، فَتَرَكْتُهُ ، وَقُمْتُ ، قَالَ : وَسَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيَّ ، يَقُولُ : رَأَيْتُ فِي كِتَابِ عَفَّانَ ، حَدِيثُ هِشَامٍ أَبِي الْمِقْدَامِ ، حَدِيثَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيز ، قَالَ هِشَامٌ : حَدَّثَنِي جُلٌ ، يُقَالُ لَهُ : يَحْيَي بْنُ فُلَانٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَفَّانَ : إِنَّهُمْ يَقُولُونَ هِشَامٌ سَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، فَقَالَ : إِنَّمَا ابْتُلِيَ مِنْ قِبَلِ هَذَا الْحَدِيثِ ، كَانَ يَقُولُ : حَدَّثَنِي يَحْيَي ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، ثُمَّ ادَّعَى بَعْدُ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ
خلیفہ بن موسیٰ نے خبر دی، کہا: میں غالب بن عبیداللہ کے ہاں آیا تو اس نے مجھے لکھوانا شروع کیا: مکحول نے مجھ سے حدیث بیان کی، مکحول نے مجھ سے حدیث بیان کی۔ اسی اثنا میں پیشاب نے اسے مجبور کیا تو وہ اٹھ گیا، میں نے (جو) اس کی کاپی دیکھی تو اس میں اس طرح تھا: مجھے ابان نے انس سے یہ حدیث سنائی، ابان نے فلاں سے حدیث روایت کی۔ اس پر میں نے اسے چھوڑ دیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ (امام مسلم نے کہا:) اور میں نے حسن بن علی حلوانی سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے عفان کی کتاب میں ابومقدام ہشام کی (وہ) روایت دیکھی (جو عمر بن عبدالعزیز کی حدیث ہے) (اس میں تھا:) ہشام نے کہا: مجھ سے ایک شخص نے جسے یحییٰ بن فلاں کہا جاتا تھا، محمد بن کعب سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے عفان سے کہا: (اہل علم) کہتے ہیں: ہشام نے یہ (حدیث) محمد بن کعب سے سنی تھی۔ تو وہ کہنے لگے: وہ (ہشام) اسی حدیث کی وجہ سے فتنے میں پڑے۔ (پہلے) وہ کہا کرتے تھے: مجھے یحییٰ نے محمد (بن کعب) سے روایت کی، بعدازاں یہ دعویٰ کر دیا کہ انہوں نے یہ (حدیث براہ راست) محمد سے سنی ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18616 و 19098) »
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ ، يَقُولُ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ : مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي رَوَيْتَ عَنْهُ حَدِيثَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، يَوْمُ الْفِطْرِ ، يَوْمُ الْجَوَائِزِ ؟ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَجَّاجِ : انْظُرْ مَا وَضَعْتَ فِي يَدِكَ مِنْهُ ، قَالَ ابْنُ قُهْزَاذَ : وَسَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ زَمْعَةَ يَذْكُرُ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ : رَأَيْتُ رَوْحَ بْنَ غُطَيْفٍ صَاحِبَ الدَّمِ ، قَدْرِ الدِّرْهَمِ وَجَلَسْتُ إِلَيْهِ مَجْلِسًا ، فَجَعَلْتُ أَسْتَحْيِي مِنْ أَصْحَابِي ، أَنْ يَرَوْنِي جَالِسًا مَعَهُ ، كُرْهَ حَدِيثِه .
مجھے محمد بن عبداللہ قہزاذ نے حدیث سنائی، کہا: میں نے عبداللہ بن عثمان بن جبلہ سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے عبداللہ بن مبارک سے کہا: یہ کون ہے جس سے آپ نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث: ”عید الفطر کا دن انعامات کا دن ہے۔“ روایت کی؟ کہا: سلیمان بن حجاج، ان میں سے جو (احادیث) تم نے اپنے پاس (لکھ) رکھی ہیں (یا میں نے تمہیں اس کی جو حدیثیں دی ہیں) ان میں (اچھی طرح) نظر کرنا (غور کر لینا)۔ ابن قہزاذ نے کہا: میں نے وہب بن زمعہ سے سنا، وہ سفیان بن عبدالملک سے روایت کر رہے تھے، کہا: عبداللہ، یعنی ابن مبارک نے کہا: میں نے ایک درہم کے برابر خون والی حدیث کے راوی روح بن غطیف کو دیکھا ہے۔ میں اس کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھا تو میں اپنے ساتھیوں سے شرم محسوس کر رہا تھا کہ وہ مجھے اس سے حدیث بیان کرنے کے ناپسندیدہ ہونے کے باوجود اس کے ساتھ بیٹھا دیکھیں اس کی حدیث ناپسندیدگی کی وجہ سے اور اس کی روایت میں نہ مقبولی کی وجہ سے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18927 و 18928) »
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنِي ابْنُ قُهْزَاذَ ، قَالَ : سَمِعْتُ وَهْبًا ، يَقُولُ : عَنِ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : بَقِيَّةُ صَدُوقُ اللِّسَانِ وَلَكِنَّهُ يَأْخُذُ عَمَّنْ أَقْبَلَ وَأَدْبَرَ
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں ابن مبارک رحمہ اللہ نے کہا: ”بقیہ بذات خود زبان کا سچا ہے، لیکن وہ ہر آنے جانے والے سے روایات لے لیتا ہے۔“ (یعنی: وہ ہر ثقہ اور ضعیف سے روایت بیان کرتا ہے۔ جانچ پڑتال اور امتیاز کی قوت سے محروم ہے، اس لیے محدثین اس کی روایت قبول نہیں کرتے)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18929) »
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَارِثُ الأَعْوَرُ الْهَمْدَانِيُّ وَكَانَ كَذَّابًا ،
قتیبہ بن سعید، جریر نے مغیرہ سے، انہوں نے شعبی سے روایت کی، کہا: مجھے حارث اعور ہمدانی نے حدیث سنائی اور وہ کذّاب تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18870) »
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مُفَضَّلٍ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي الْحَارِثُ الأَعْوَرُ ، وَهُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ ،
امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”مجھے حارث اعور نے حدیث سنائی اور وہ گواہی دیتے ہیں کہ وہ (اعور) جھوٹوں میں سے ایک ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18870) »
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : قَالَ عَلْقَمَةُ : قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فِي سَنَتَيْنِ ، فَقَالَ الْحَارِثُ : الْقُرْآنُ هَيِّنٌ ، الْوَحْيُ أَشَدُّ ،
قتیبہ بن سعید، جریر، مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کی، کہا: علقمہ نے کہا: میں نے دو سال میں قرآن پڑھا (تدبر کرتے ہوئے ختم کیا)۔ تو حارث نے کہا: قرآن آسان ہے، وحی اس سے زیادہ مشکل ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (000) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ الْحَارِثَ ، قَالَ : تَعَلَّمْتُ الْقُرْآنَ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ ، وَالْوَحْيَ فِي سَنَتَيْنِ ، أَوَ قَالَ : الْوَحْيَ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ وَالْقُرْآنَ فِي سَنَتَيْنِ ،
حجاج بن شاعر، احمد بن یونس نے ابراہیم نخعی سے روایت کی کہ حارث (اعور) نے کہا: میں نے قرآن تین سال میں سیکھا اور وحی دو سال میں (یا کہا): وحی تین سال میں اور قرآن دو سال میں۔ لغت میں وحی کے کئی معانی ہیں، مثلاً: اشارہ کرنا، کتابت، الہام اور خفیہ کلام وغیرہ، مگر اسلامی اصطلاح میں وحی اللہ کی طرف سے مقررہ طریقوں میں سے کسی طریقے سے، اپنے رسول کی طرف کلام، پیغام وغیرہ بھجوانا ہے۔ حارث کی اس بات سے اسلامی اصطلاحات کے معاملے میں اس کی جہالت کا پتہ چلتا ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18399) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَحْمَدُ وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ وَالْمُغِيرَةِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ الْحَارِثَ ، اتُّهِمَ.
منصور اور مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کی کہ حارث متہم راوی ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة )) برقم (18397) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ ، قَالَ : سَمِعَ مُرَّةُ الْهَمْدَانِيُّ ، مِنَ الْحَارِثِ شَيْئًا ، فَقَالَ لَهُ : اقْعُدْ بِالْبَابِ ، قَالَ : فَدَخَلَ مُرَّةُ ، وَأَخَذَ سَيْفَهُ ، قَالَ : وَأَحَسَّ الْحَارِثُ بِالشَّرِّ فَذَهَبَ ،
حمزہ زیات سے روایت ہے، کہا: مرہ ہمدانی نے حارث سے کوئی بات سنی تو اس سے کہا: تم دروازے ہی پر بیٹھو (اندر نہ آؤ)۔ پھر وہ (گھر میں) داخل ہوئے اور اپنی تلوار اٹھا لی تو حارث نے برا انجام محسوس کر لیا اور چل دیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة )) برقم (18597 و 19429) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيد ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : قَالَ لَنَا إِبْرَاهِيمُ إِيَّاكُمْ وَالْمُغِيرَةَ بْنَ سَعِيدٍ ، وَأَبَا عَبْدِ الرَّحِيمِ ، فَإِنَّهُمَا كَذَّابَانِ ،
ابن عون رحمہ اللہ کہتے ہیں ہم سے ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ”اپنے آپ کو مغیرہ بن سعید اور ابو عبدالرحیم سے دور رکھو! کیونکہ یہ دونوں جھوٹے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18398)»
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، قَالَ : كُنَّا نَأْتِي أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيَّ ، وَنَحْنُ غِلْمَةٌ أَيْفَاعٌ ، فَكَانَ يَقُولُ لَنَا لَا تُجَالِسُوا الْقُصَّاصَ ، غَيْرَ أَبِي الأَحْوَصِ : وَإِيَّاكُمْ وَشَقِيقًا ، قَالَ : وَكَانَ شَقِيقٌ هَذَا ، يَرَى رَأْيَ الْخَوَارِجِ ، وَلَيْسَ بِأَبِي وَائِلٍ ،
ہمیں عاصم نے حدیث بیان کی، کہا: ہم بالکل نو عمر لڑکے تھے جو ابوعبدالرحمن سلمی کے پاس حاضر ہوتے تھے، وہ ہم سے کہا کرتے تھے: ابواحوص کے سوا دوسرے قصہ گوؤں (واعظوں) کی مجالس میں مت بیٹھو اور شقیق سے بچ کر رہو۔ شقیق خوارج کا نقطہ نظر رکھتا تھا، یہ ابووائل نہیں (بلکہ شقیق ضبی ہے)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18897) »
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَرِيرًا ، يَقُولُ : " لَقِيتُ جَابِرَ بْنَ يَزِيدَ الْجُعْفِيَّ ، فَلَمْ أَكْتُبْ عَنْهُ ، كَانَ يُؤْمِنُ بِالرَّجْعَةِ .
جریر کہتے ہیں: میں جابر بن یزید جعفی سے ملا تو میں نے اس سے حدیث نہ لکھی، وہ رجعت پر ایمان رکھتا تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18476)»
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ ، قَبْلَ أَنْ يُحْدِثَ مَا أَحْدَثَ.
مسعر نے کہا: ہم سے جابر بن یزید (جعفی) نے ان بدعتوں سے پہلے، جو اس نے گھڑیں، حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسل - انظر ((التحفة)) برقم (19437) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : كَانَ النَّاسُ يَحْمِلُونَ ، عَنْ جَابِر ، قَبْلَ أَنْ يُظْهِرَ مَا أَظْهَرَ ، فَلَمَّا أَظْهَرَ مَا أَظْهَرَ ، اتَّهَمَهُ النَّاسُ فِي حَدِيثِهِ ، وَتَرَكَهُ بَعْضُ النَّاسِ ، فَقِيلَ لَهُ : وَمَا أَظْهَرَ ؟ قَالَ : الإِيمَانَ بِالرَّجْعَةِ ،
سفیان نے کہا: جابر نے جس (عقیدے) کا اظہار کیا اس کے اظہار سے پہلے لوگ اس سے حدیث لیتے تھے، جب اس نے اس کا اظہار کر دیا تو لوگوں نے اسے اس کی (بیان کردہ) حدیث کے بارے میں مطعون کیا اور بعض نے اسے چھوڑ دیا۔ ان سے پوچھا گیا: اس نے کس چیز کا
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18774) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، وَأَخُوهُ ، أنهما سمعا الجراح بن مليح ، يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : عِنْدِي سَبْعُونَ أَلْفَ حَدِيثٍ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهَا.
جراح بن ملیح کہتے ہیں: میں نے جابر بن یزید (جعفی) کو یہ کہتے سنا: میرے ابوجعفر (محمد باقر بن علی بن حسین بن علی) کی ستر ہزار حدیثیں ہیں جو سب کی سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (روایت کی گئی) ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18475) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زُهَيْرًا ، يَقُولُ : قَالَ جَابِرٌ أَوْ سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : إِنَّ عِنْدِي لَخَمْسِينَ أَلْفَ حَدِيثٍ ، مَا حَدَّثْتُ مِنْهَا بِشَيْءٍ.قَالَ ثُمَّ حَدَّثَ يَوْمًا بِحَدِيثٍ ، فَقَالَ : هَذَا مِنَ الْخَمْسِينَ أَلْفًا.
زہیر کہتے ہیں: جابر نے کہا یا میں نے جابر (بن یزید) کو یہ کہتے سنا: بلاشبہ میرے پاس پچاس ہزار حدیثیں (ایسی) ہیں جن میں سے میں نے کوئی حدیث بیان نہیں کی، پھر ایک دن اس نے ایک حدیث بیان کی اور کہا: یہ (ان) پچاس ہزار حدیثوں میں سے (ایک) ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْيَشْكُرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْوَلِيدِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ سَلَّامَ بْنَ أَبِي مُطِيعٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرًا الْجُعْفِيَّ ، يَقُولُ : عِنْدِي خَمْسُونَ أَلْفَ حَدِيثٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سلام بن ابی مطیع کہتے ہیں: میں نے جابر جعفی کو یہ کہتے سنا: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (روایت کردہ) پچاس ہزار احادیث ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18797) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ جَابِرًا ، عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَنْ أَبْرَحَ الأَرْضَ حَتَّى يَأْذَنَ لِي أَبِي أَوْ يَحْكُمَ اللَّهُ لِي وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ سورة يوسف آية 80 ، فَقَالَ جَابِرٌ : لَمْ يَجِئْ تَأْوِيلُ هَذِهِ ، قَالَ سُفْيَانُ : وَكَذَبَ.فَقُلْنَا لِسُفْيَانَ : وَمَا أَرَادَ بِهَذَا ، فَقَالَ : إِنَّ الرَّافِضَةَ ، تَقُولُ : إِنَّ عَلِيًّا فِي السَّحَابِ ، فَلَا نَخْرُجُ مَعَ مَنْ خَرَجَ مِنْ وَلَدِهِ ، حَتَّى يُنَادِيَ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ ، يُرِيدُ عَلِيًّا أَنَّهُ يُنَادِي ، اخْرُجُوا مَعَ فُلَانٍ . يَقُولُ جَابِرٌ : فَذَا تَأْوِيلُ هَذِهِ الآيَةِ ، وَكَذَبَ ، كَانَتْ فِي إِخْوَةِ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلامُ "
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی سے سنا، اس نے جابر سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا معنی پوچھا: ”میں تو اس سر زمین سے کبھی نہ جاؤں گا حتیٰ کہ میرا باپ مجھے اجازت دے، یا اللہ میرے حق میں فیصلہ فرما دے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔“ تو جابر نے کہا: ”اس کی حقیقت یا اس کا مصداق ابھی تک ظاہر نہیں ہوا۔“ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اس نے جھوٹ بولا ہے (کیونکہ اس واقعہ کا تعلق تو حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی کے ساتھ ہے)“ ہم نے سفیان رحمہ اللہ سے پوچھا: یہ کہنے سے اس کا مقصد کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا: ”رافضیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بادل میں ہیں، ہم ان کی اولاد میں سے کسی کے ساتھ نہیں نکلیں گے، یہاں تک کہ آسمان سے ایک منادی کرنے والا آواز دے گا، یعنی: حضرت علی رضی اللہ عنہ آواز دیں گے: فلاں کے ساتھ نکلو (اس کے ساتھ ہم نکلیں گے)۔“ جابر کہتے ہیں: اس آیت کی حقیقت یا مصداق یہی ہے، اور اس نے جھوٹ بولا ہے، ”یہ آیت تو حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے بارے میں ہے (یہ بات ان کے بڑے بھائی نے کہی تھی، جس کی تفصیل اور پس منظر قرآن مجید میں موجود ہے)۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18774) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ ، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يُحَدِّثُ بِنَحْوٍ مِنْ ثَلَاثِينَ أَلْفَ حَدِيثٍ ، مَا أَسْتَحِلُّ أَنْ أَذْكُرَ مِنْهَا شَيْئًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا ، قَالَ مُسْلِم : وَسَمِعْتُ أَبَا غَسَّانَ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو الرَّازِيَّ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، فَقُلْتُ : الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ لَقِيتَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، شَيْخٌ طَوِيلُ السُّكُوتِ ، يُصِرُّ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ.
سفیان سے روایت ہے، کہا: میں نے جابر کو تقریباً تیس ہزار احادیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ میں ان میں سے ایک حدیث بیان کرنا بھی حلال نہیں سمجھتا، چاہے (اس کے بدلے) میرے لیے اتنا اور اتنا ہو۔ (امام) مسلم نے کہا: میں نے ابوغسان محمد بن عمرو رازی سے سنا، کہا: میں نے جریر بن عبدالحمید سے پوچھا، میں نے کہا: (یہ جو) حارث بن حصیرہ ہے، آپ اس سے ملے ہیں؟ کہا: ہاں، لمبی خاموشی والا بوڑھا ہے۔ ایک بہت بڑی بات پر اصرار کرتا ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18477 و 18774) »
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : ذَكَرَ أَيُّوبُ رَجُلًا يَوْمًا ، فَقَالَ : لَمْ يَكُنْ بِمُسْتَقِيمِ اللِّسَانِ ، وَذَكَرَ آخَرَ ، فَقَالَ : هُوَ يَزِيدُ فِي الرَّقْمِ
عبدالرحمن بن مہدی نے حماد بن زید سے روایت کی، کہا: ایوب نے ایک دن ایک شخص کا ذکر کیا اور کہا: وہ کج زبان (جھوٹا، تہمت تراش اور بد زبان) تھا اور دوسرے کا ذکر کیا تو کہا: وہ رقم (اشیاء پر لکھی ہوئی قیمت) میں اضافہ کر دیتا تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة )) برقم (18443) »
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ أَيُّوبُ : إِنَّ لِي جَارًا ، ثُمَّ ذَكَرَ مِنْ فَضْلِهِ ، وَلَوْ شَهِدَ عِنْدِي عَلَى تَمْرَتَيْنِ ، مَا رَأَيْتُ شَهَادَتَهُ جَائِزَةً ،
سلیمان بن حرب نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے بیان کیا، کہا: ایوب نے کہا: میرا ایک ہمسایہ ہے، پھر (زہد وورع میں) اس کی فضیلت کا ذکر کیا، اگر وہ میرے سامنے دو کجھوروں کے بارے میں گواہی دے تو میں (اس میں بھی) اس کی شہادت قابل قبول نہ سمجھوں گا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18444) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : قَالَ مَعْمَرٌ : مَا رَأَيْتُ أَيُّوبَ اغْتَابَ أَحَدًا قَطُّ ، إِلَّا عَبْدَ الْكَرِيمِ يَعْنِي أَبَا أُمَيَّةَ ، فَإِنَّهُ ذَكَرَهُ ، فَقَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ : كَانَ غَيْرَ ثِقَةٍ ، لَقَدْ سَأَلَنِي ، عَنْ حَدِيثٍ لِعِكْرِمَةَ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ ،
معمر نے کہا: میں نے ایوب کو کبھی کسی کی پیٹھ پیچھے اسے برا کہتے نہیں سنا، سوائے عبدالکریم، یعنی ابوامیہ کے۔ انہوں نے اس کا ذکر کیا تو کہا: اللہ اس پر رحم کرے، غیر ثقہ ہے، اس نے مجھ سے عکرمہ سے روایت کی گئی ایک حدیث کے بارے میں سوال کیا، پھر (لوگوں سے) کہا: میں نے عکرمہ سے سنا ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (18445) »
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو دَاوُدَ الأَعْمَى فَجَعَلَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ ، قَالَ : وَحَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِقَتَادَةَ ، فَقَالَ : كَذَبَ مَا سَمِعَ مِنْهُمْ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ سَائِلًا ، يَتَكَفَّفُ النَّاسَ زَمَنَ طَاعُونِ الْجَارِفِ ،
ہمام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہمارے پاس ابو داؤد اعمیٰ آیا اور کہنے لگا: ہمیں براء رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی ہمیں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی۔ چنانچہ اس واقعہ کا تذکرہ ہم نے قتادہ رحمہ اللہ سے کیا، تو اس نے کہا: ”جھوٹ بولتا ہے، اس نے کسی صحابی سے نہیں سنا۔ یہ تو مانگت (سوالی) تھا۔ تباہ کن طاعون کے وقت لوگوں کے سامنے بھیک مانگنے کے لیے ہاتھ پھیلاتا تھا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة الاشراف)) برقم (19213) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : دَخَلَ أَبُو دَاوُدَ الأَعْمَى ، عَلَى قَتَادَةَ ، فَلَمَّا قَامَ ، قَالُوا : إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّهُ لَقِيَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ بَدْرِيًّا ، فَقَالَ قَتَادَةُ : هَذَا كَانَ سَائِلًا قَبْلَ الْجَارِفِ ، لَا يَعْرِضُ فِي شَيْءٍ مِنْ هَذَا ، وَلَا يَتَكَلَّمُ فِيهِ ، فَوَاللَّهِ مَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ بَدْرِيٍّ مُشَافَهَةً ، وَلَا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ بَدْرِيٍّ مُشَافَهَةً ، إِلَّا عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ،
یزید بن ہارون نے کہا: ہمیں ہمام نے خبر دی کہ ابوداود اعمیٰ قتادہ کے ہاں آیا، جب وہ کھڑا ہوا (اور چلا گیا) تو لوگوں نے کہا: اسے یہ زعم ہے کہ اس نے اٹھارہ بدری صحابہ سے ملاقات کی۔ اس پر قتادہ کہنے لگے: (طاعون کی) وبائے عام سے پہلے یہ ایک منگتا تھا، اس کا (علم حدیث) ایسی کسی چیز سے کوئی سروکار نہ تھا، وہ اس بارے میں بات تک نہ کرتا تھا۔ بخدا نہ حسن (بصری) نے (کبھی) کسی بدری سے بلاواسطہ حدیث ہمیں سنائی نہ سعید بن مسیب نے ایک سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے سوا کسی اور بدری سے براہ راست سنی ہوئی کوئی حدیث سنائی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة الاشراف)) برقم (18720 و 19212) »
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ رَقَبَةَ ، أَنَّ أَبَا جَعْفَرٍ الْهَاشِمِيَّ الْمَدَنِيَّ ، كَانَ يَضَعُ أَحَادِيثَ كَلَامَ حَقٍّ ، وَلَيْسَتْ مِنْ أَحَادِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ يَرْوِيهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
رقبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”ابو جعفر ہاشمی مدنی حق اور سچی باتوں کو احادیث بنا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا تھا، جبکہ وہ احادیث نبوی نہیں ہیں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة )) برقم (18650) »
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ أَبُو إِسْحَاق إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : كَانَ عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ يَكْذِبُ فِي الْحَدِيثِ.
یونس بن عبیدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”عمرو بن عبید (معتزلی) حدیث میں جھوٹ بولتا تھا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (19559) »
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ أَبُو حَفْصٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ مُعَاذٍ ، يَقُولُ : قُلْتُ لِعَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ : إِنَّ عَمْرَو بْنَ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا ، قَالَ : كَذَبَ وَاللَّهِ عَمْرٌو وَلَكِنَّهُ أَرَادَ ، أَنْ يَحُوزَهَا إِلَى قَوْلِهِ الْخَبِيثِ
معاذ بن معاذ کہتے ہیں: میں نے عوف بن ابی جمیلہ سے کہا: عمرو بن عبید نے حضرت حسن بصری سے (روایت کرتے ہوئے) یہ حدیث سنائی: ”جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا تو وہ ہم میں سے نہیں۔“ انہوں نے کہا: بخدا! عمرو نے (اس حدیث کی روایت حسن بصری کی طرف منسوب کرنے میں) جھوٹ بولا لیکن وہ چاہتا ہے کہ اس (صحیح حدیث) کو اپنی جھوٹی بات سے ملا دے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (19182) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ ، قَدْ لَزِمَ أَيُّوبَ وَسَمِعَ مِنْهُ ، فَفَقَدَهُ أَيُّوبُ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا بَكْرٍ ، إِنَّهُ قَدْ لَزِمَ عَمْرَو بْنَ عُبَيْدٍ ، قَالَ حَمَّادٌ : فَبَيْنَا أَنَا يَوْمًا مَعَ أَيُّوبَ ، وَقَدْ بَكَّرْنَا إِلَى السُّوقِ ، فَاسْتَقْبَلَهُ الرَّجُلُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَيُّوبُ ، وَسَأَلَهُ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ أَيُّوبُ : بَلَغَنِي أَنَّكَ لَزِمْتَ ذَاكَ الرَّجُلَ.قَالَ حَمَّادٌ : سَمَّاهُ يَعْنِي عَمْرًا ؟ قَالَ : نَعَمْ يَا أَبَا بَكْرٍ ، إِنَّهُ يَجِيئُنَا بِأَشْيَاءَ غَرَائِبَ ، قَالَ : يَقُولُ لَهُ أَيُّوبُ : إِنَّمَا نَفِرُّ أَوْ نَفْرَقُ مِنْ تِلْكَ الْغَرَائِبِ ،
عبیداللہ بن عمر قواریری نے کہا: ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا: ایک آدمی تھا، وہ ایوب (سختیانی کی علمی مجلس میں حاضری) کا التزام کرتا تھا اور اس نے ان سے (حدیث کا) سماع کیا تھا۔ ایوب نے اسے غیر حاضر پا کر اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے بتایا: جناب ابوبکر (ایوب کی کنیت)! وہ عمرو بن عبید سے منسلک ہو گیا ہے۔ حماد نے کہا: ایک دن میں ایوب کے ساتھ تھا، ہم صبح سویرے بازار کی طرف گئے تو اس آدمی نے ایوب کا استقبال کیا۔ ایوب نے اسے سلام کہا اور (حال احوال) پوچھا، پھر ایوب کہنے لگے: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم اس آدمی کے ساتھ منسلک ہو گئے ہو۔ حماد نے کہا: انہوں نے اس کا، یعنی عمرو کا نام لیا۔ وہ کہنے لگا: ہاں، جناب ابوبکر! وہ غرائب (ایسی باتیں جنہیں کوئی نہیں جانتا) ہمارے سامنے لاتا ہے۔ کہا: ایوب اس سے کہنے لگے: ہم انہی (عجیب و) غریب باتوں سے بھاگتے ہیں یا ڈرتے ہیں (کہ یہ جھوٹی اور من گھڑت ہوتی ہیں)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (18446) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ زَيْدٍ يَعْنِي حَمَّادًا ، قَالَ : قِيلَ لِأَيُّوبَ : إِنَّ عَمْرَو بْنَ عُبَيْدٍ رَوَى ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : لَا يُجْلَدُ السَّكْرَانُ مِنَ النَّبِيذِ ، فَقَالَ : كَذَبَ ، أَنَا سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ : يُجْلَدُ السَّكْرَانُ مِنَ النَّبِيذِ ،
سلیمان بن حرب نے کہا: ہم سے ابن زید، یعنی حماد نے بیان کیا، کہا: ایوب سے عرض کی گئی: عمرو بن عبید نے حضرت حسن بصری سے روایت بیان کی کہے (کہ انہوں نے) کہا: جسے نبیذ (شراب) سے نشہ ہو جائے اسے کوڑے نہ مارے جائیں۔ تو انہوں نے (ایوب سختیانی) نے کہا: اس نے جھوٹ بولا، میں نے (خود) حسن سے سنا، وہ کہتے تھے: جسے نبیذ سے نشہ ہو جائے اسے کوڑے مارے جائیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (18447 و 18501) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَلَّامَ بْنَ أَبِي مُطِيعٍ ، يَقُولُ : بَلَغَ أَيُّوبَ ، أَنِّي آتِي عَمْرًا ، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ يَوْمًا ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَ رَجُلًا لَا تَأْمَنُهُ عَلَى دِينِهِ ، كَيْفَ تَأْمَنُهُ عَلَى الْحَدِيثِ ؟ ،
سلام بن مطیع رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایوب رحمہ اللہ کو پتہ چلا کہ میں عمرو کے پاس جاتا ہوں، تو ایک دن وہ میری طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: ”بتاؤ! ایک شخص کے دین پر تمہیں اعتماد نہیں ہے اس پر حدیث کے سلسلے میں کیسے اعتماد کرو گے؟ یعنی: اس کی حدیث پر اعتماد نہیں ہو سکتا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة )) برقم (18448) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ ، قَبْلَ أَنْ يُحْدِثَ ،
سفیان نے بیان کیا، کہا: میں نے ابوموسیٰ (اسرائیل بن موسیٰ بصری، نزیل ہند) سے سنا، کہہ رہے تھے: ہمیں عمرو بن عبید نے بدعت کا شکار ہونے سے پہلے حدیث سنائی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (19600) »
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : كَتَبْتُ إِلَى شُعْبَةَ ، أَسْأَلُهُ عَنْ أَبِي شَيْبَةَ قَاضِي وَاسِطٍ ، فَكَتَبَ إِلَيَّ لَا تَكْتُبْ عَنْهُ شَيْئًا وَمَزِّقْ كِتَابِي .
معاذ عنبری نے کہا: میں نے واسط کے قاضی ابوشیبہ کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے شعبہ کی طرف لکھا تو انہوں نے جواب میں میری طرف لکھ بھیجا، اس سے کوئی چیز روایت نہ کرو اور میرا خط پھاڑ دو۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة )) برقم (18806) »