کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: حدیث کی سند بیان کرنا ضروری ہے، اور وہ دین میں داخل ہے، اور روایت صرف معتبر راویوں سے ہو گی، اور راویوں پر تنقید کرنا جائز ہے بلکہ واجب ہے،یہ غیبت محرمہ نہیں ہے، بلکہ وہ شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ وَهِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، وَحَدَّثَنَا فُضَيْلٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَال : وَحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ ، فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا قول ہے: ”یہ علم (علم حدیث) دین ہے، لہٰذا سوچ لو تم کن سے اپنا دین لیتے ہو۔“
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَل ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : لَمْ يَكُونُوا يَسْأَلُونَ عَنِ الإِسْنَادِ ، فَلَمَّا وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ ، قَالُوا : سَمُّوا لَنَا رِجَالَكُمْ ، فَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ السُّنَّةِ ، فَيُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ ، وَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ الْبِدَعِ ، فَلَا يُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ
عاصم احول نے ابن سیرین سے روایت کی، کہا: (ابتدائی دور میں عالمان حدیث) اسناد کے بارے میں کوئی سوال نہ کرتے تھے، جب فتنہ پڑ گیا تو انہوں نے کہا: ہمارے سامنے اپنے رجال (حدیث) کے نام لو تاکہ اہل سنت کو دیکھ کر ان سے حدیث لی جائے اور اہل بدعت کو دیکھ کر ان کی حدیث قبول نہ کی جائے۔
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : لَقِيتُ طَاوُسًا ، فَقُلْتُ : حَدَّثَنِي فُلَانٌ ، كَيْتَ وَكَيْتَ ، قَالَ : " إِنْ كَانَ صَاحِبُكَ مَلِيًّا ، فَخُذْ عَنْهُ
سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ طاؤس رحمہ اللہ کو ملے اور ان سے کہا: کہ فلاں نے فلاں فلاں حدیث سنائی ہے۔ طاؤس رحمہ اللہ نے کہا: ”اگر تیرا استاد ثقہ قابل اعتماد ہے تو اس سے لے لو۔“
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ يَعْنِى ابْنَ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيَّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : قُلْتُ لِطَاوُسٍ : إِنَّ فُلَانًا حَدَّثَنِي بِكَذَا وَكَذَا ، قَالَ : إِنْ كَانَ صَاحِبُكَ مَلِيًّا ، فَخُذْ عَنْهُ
سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ نے طاؤس رحمہ اللہ سے کہا: کہ فلاں نے فلاں فلاں حدیث سنائی ہے، تو طاؤس رحمہ اللہ نے کہا: ”کہ اگر تیرا استاد علم و معرفت اور دین سے لبریز ہے تو ان کی روایت لے لو۔“
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا الأَصْمَعِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " أَدْرَكْتُ بِالْمَدِينَةِ مِائَةً ، كُلُّهُمْ مَأْمُونٌ ، مَا يُؤْخَذُ عَنْهُمُ الْحَدِيثُ ، يُقَالُ : لَيْسَ مِنْ أَهْلِهِ
امام ابو زناد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”میری مدینہ میں ایک سو راویوں سے ملاقات ہوئی، سب کے سب دین دار تھے، لیکن ان سے حدیث نہیں لی جاتی تھی، کہا جاتا تھا: وہ اس کے اہل نہیں ہیں۔“
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ.ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ ، يَقُولُ : لَا يُحَدِّثُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَّا الثِّقَاتُ
مسعر سے روایت ہے، کہا: میں نے سعد بن ابراہیم (بن عبدالرحمن بن عوف) سے سنا، کہہ رہے تھے: ثقہ راویوں کے علاوہ اور نہ کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان نہ کرے۔
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذ َ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَانَ بْنَ عُثْمَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ ، يَقُولُ : الإِسْنَادُ مِنَ الدِّينِ ، وَلَوْلَا الإِسْنَادُ ، لَقَالَ : مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ أَبِي رِزْمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، يَقُولُ : بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْقَوَائِمُ يَعْنِي الإِسْنَاد وقَال مُحَمَّدٌ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاق إِبْرَاهِيمَ بْنَ عِيسَى الطَّالَقَانِيَّ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَك : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الْحَدِيثُ الَّذِي جَاءَ ، إِنَّ مِنَ الْبِرِّ ، بَعْدَ الْبِرِّ ، أَنْ تُصَلِّيَ لِأَبَوَيْكَ مَعَ صَلَاتِكَ ، وَتَصُومَ لَهُمَا مَعَ صَوْمِكَ ، قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : يَا أَبَا إِسْحَاق ، عَمَّنْ هَذَا ؟ قَالَ : قُلْتُ لَهُ : هَذَا مِنْ حَدِيثِ شِهَابِ بْنِ خِرَاشٍ ، فَقَالَ : ثِقَةٌ ، عَمَّنْ ؟ قَالَ : قُلْتُ : عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : ثِقَةٌ ، عَمَّنْ ؟ قَالَ : قُلْتُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَا أَبَا إِسْحَاق ، إِنَّ بَيْنَ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ، وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَفَاوِزَ ، تَنْقَطِعُ فِيهَا أَعْنَاقُ الْمَطِيِّ ، وَلَكِنْ لَيْسَ فِي الصَّدَقَةِ اخْتِلَافٌ وَقَالَ مُحَمَّدٌ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ شَقِيقٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ ، يَقُولُ : عَلَى رُءُوسِ النَّاسِ دَعُوا حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ ، فَإِنَّهُ كَانَ يَسُبُّ السَّلَفَ
محمد بن عبداللہ بن قہزاد نے (جو مرو کے باشندوں میں سے ہیں) کہا: میں نے عبدان بن عثمان سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے عبداللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: اسناد (سلسلہ سند سے حدیث روایت کرنا) دین میں سے ہے۔ اگر اسناد نہ ہوتا تو جو کوئی جو کچھ چاہتا، کہہ دیتا۔ (امام مسلم رضی اللہ عنہ نے) کہا: اور محمد بن عبداللہ نے کہا: مجھے عباس بن ابی رزمہ نے حدیث سنائی، کہا: میں نے عبداللہ (بن مبارک) کو یہ کہتے ہوئے سنا: ہمارے اور لوگوں کے درمیان (فیصلہ کن چیز، بیان کی جانے والی خبروں کے) پاؤں، یعنی سندیں ہیں (جن پر روایات اس طرح کھڑی ہوتی ہیں جس طرح جاندار اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے ہیں)۔ ابواسحاق نے (جن کا نام ابراہیم بن عیسیٰ طاتقانی ہے) کہا: میں نے عبداللہ بن مبارک سے کہا: اے ابوعبدالرحمن! یہ حدیث کیسی ہے جو روایت کی گئی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ”نیکی کے بعد دوسری نیکی یہ ہے کہ تو نماز پڑھے اپنے ماں باپ کے لیے اپنی نماز کے بعد اور روزہ رکھے ان کے لیے اپنے روزے کے ساتھ۔“ انہوں نے کہا: اے ابواسحاق! یہ حدیث کون روایت کرتا ہے؟ میں نے کہا: شہاب بن خراش۔ انہوں نے کہا: وہ تو ثقہ ہے۔ پھر انہوں نے کہا: وہ کس سے روایت کرتا ہے؟ میں نے کہا: حجاج بن دینار سے۔ انہوں نے کہا وہ بھی ثقہ ہے۔ پھر انہوں نے کہا: وہ کس سے روایت کرتا ہے؟ میں نے کہا: وہ کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا۔ عبداللہ نے کہا: اے ابواسحاق! ابھی تو حجاج سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اتنے بڑے بڑے جنگل باقی ہیں کہ ان کے طے کرنے کے لیے اونٹوں کی گردنیں تھک جائیں البتہ صدقہ دینے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں۔ عبداللہ بن مبارک لوگوں کے سامنے کہتے تھے چھوڑ دو روایت کرنا عمرو بن ثابت سے کیوں کہ وہ برا کہتا تھا اگلے بزرگوں کو۔