کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: ضعیف راویوں سے روایت کرنے کی ممانعت اور روایت لینے میں احتیاط برتنا۔
حدیث نمبر: 6
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِى أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " سَيَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِى ، أُنَاسٌ يُحَدِّثُونَكُمْ مَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ ، وَلَا آبَاؤُكُمْ ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ " .
محمد بن عبداللہ بن نمیر، زہیر بن حرب، عبداللہ بن یزید، سعد بن ابی ایوب، ابوہانی نے ابوعثمان مسلم بن یسار سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”میری امت کے آخری زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے جو تمہارے سامنے ایسی حدیثیں بیان کریں گے جو تم نے سنی ہوں گی نہ تمہارے آباء نے، تم اس قماش کے لوگوں سے دور رہنا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 6
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (14621) وهو في ((جامع الاصول)) برقم (8193) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَال : حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ شَرَاحِيلَ بْنَ يَزِيدَ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ ، دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ ، يَأْتُونَكُمْ مِنَ الأَحَادِيثِ ، بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ ، وَلَا آبَاؤُكُمْ ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ ، لَا يُضِلُّونَكُمْ ، وَلَا يَفْتِنُونَكُمْ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخری زمانہ میں دجال (ملمع ساز، جھوٹ کو سچ بنانے والے) اور جھوٹے لوگ تمھارے پاس ایسی حدیثیں لائیں گے (پیش کریں گے) جو نہ تم نے سنی ہوں گی، اور نہ تمھارے باپ دادا نے، چنانچہ تم اپنے آپ کو ان سے بچانا، (ان سے دور رہنا) کہیں وہ تمھیں گمراہ نہ کر دیں اور دین سے برگشتہ نہ کر دیں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (4612) انظر ((جامع الاصول )) برقم (8193) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبَدَةَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنَّ الشَّيْطَانَ لِيَتَمَثَّلُ فِي صُورَةِ الرَّجُلِ ، فَيَأْتِي الْقَوْمَ ، فَيُحَدِّثُهُمْ بِالْحَدِيثِ مِنَ الْكَذِبِ ، فَيَتَفَرَّقُونَ ، فَيَقُولُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ : سَمِعْتُ رَجُلًا ، أَعْرِفُ وَجْهَهُ وَلَا أَدْرِى مَا اسْمُهُ يُحَدِّثُ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”شیطان آدمی کی صورت و شکل اپنا کر لوگوں کے پاس آتا ہے اور انھیں جھوٹی باتیں سناتا ہے، چنانچہ وہ لوگ بکھر جاتے ہیں، تو ان میں سے ایک آدمی کہتا ہے: میں نے ایک آدمی سے (یہ یہ سنا ہے) میں اس کا چہرہ (شکل و صورت سے) پہچانتا ہوں اور مجھے اس کے نام کا پتہ نہیں ہے، وہ بیان کر رہا تھا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (9326) وهو في ((جامع الاصول)) برقم (8194) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : إِنَّ فِي الْبَحْرِ شَيَاطِينَ مَسْجُونَةً ، أَوْثَقَهَا سُلَيْمَانُ يُوشِكُ أَنْ تَخْرُجَ ، فَتَقْرَأَ عَلَى النَّاسِ قُرْآنًا
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ابن طاؤس، طاؤس نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: سمندر (کی تہ) میں بہت سے شیطان قید ہیں جنہیں حضرت سلیمان رضی اللہ عنہ نے باندھا تھا، وقت آ رہا ہے کہ وہ نکلیں گے اور لوگوں کے سامنے قرآن پڑھیں گے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (8831) وهو في ((جامع الاصول)) برقم (8195)»
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَسَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ جَمِيعًا ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ سَعِيدٌ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : جَاءَ هَذَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَعْنِي بُشَيْرَ بْنَ كَعْبٍ ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : " عُدْ لِحَدِيثِ كَذَا وَكَذَا ، فَعَادَ لَهُ ، ثُمَّ حَدَّثَهُ ، فَقَالَ لَهُ : عُدْ لِحَدِيثِ كَذَا وَكَذَا ، فَعَادَ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ : مَا أَدْرِى ، أَعَرَفْتَ حَدِيثِي كُلَّهُ وَأَنْكَرْتَ هَذَا ، أَمْ أَنْكَرْتَ حَدِيثِي كُلَّهُ وَعَرَفْتَ هَذَا ؟ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّا كُنَّا نُحَدِّثُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ لَمْ يَكُنْ يُكْذَبُ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا رَكِبَ النَّاسُ الصَّعْبَ وَالذَّلُولَ ، تَرَكْنَا الْحَدِيثَ عَنْهُ
محمد بن عباد، سعید بن عمر، اشعثیٰ، ابن عیینہ، سعید، سفیان، ہشام بن جحیر نے طاؤس سے روایت کی، کہا: یہ (ان کی مراد بشیر بن کعب سے تھی) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور انہیں حدیثیں سنانے لگا، ابن عباس رضی اللہ عنہما اس سے کہا: فلاں فلاں حدیث دہراؤ۔ اس نے دہرا دیں، پھر ان کے سامنے احادیث بیان کیں۔ انہوں نے اس سے کہا: فلاں حدیث دوبارہ سناؤ۔ اس نے ان کے سامنے دہرائیں، پھر آپ سے عرض کی: میں نہیں جانتا کہ آپ نے میری (بیان کی ہوئی) ساری احادیث پہچان لی ہیں اور اس حدیث کو منکر جانا ہے یا سب کو منکر جانا ہے اور اسے پہچان لیا ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں بولا جاتا تھا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بیان کرتے تھے، پھر جب لوگ (ہر) مشکل اور آسان سواری پر سوار ہونے لگے (بلا تمیز صحیح وضعیف روایات بیان کرنے لگے) تو ہم نے (براہ راست) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنا ترک کر دیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (5759) »
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إِنَّمَا " كُنَّا نَحْفَظُ الْحَدِيثَ ، وَالْحَدِيثُ يُحْفَظُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَّا إِذْ رَكِبْتُمْ كُلَّ صَعْبٍ وَذَلُولٍ ، فَهَيْهَاتَ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن طاؤس، طاؤس کے بیٹے نے اپنے والد (طاؤس) سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث حفظ کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (مروی) حدیث کی حفاظت کی جاتی تھیں مگر جب سے تم لوگوں نے (بغیر تمیز کے) ہر مشکل اور آسان پر سواری شروع کر دی تو یہ (معاملہ) دور ہو گیا (یہ بعید ہو گیا کہ ہماری طرح کے محتاط لوگ اس طرح بیان کردہ احادیث کو قبول کریں، پھر یاد رکھیں)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، وأخرجه ابن ماجه في ((المقدمة)) باب: التوقي في الحديث عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم برقم (27) انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (5717)»
حدیث نمبر: 7
وحَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغَيْلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِى الْعَقَدِيَّ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : جَاءَ بُشَيْرٌ الْعَدَوِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُ ، وَيَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، لَا يَأْذَنُ لِحَدِيثِهِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ.فَقَالَ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، مَالِي لَا أَرَاكَ تَسْمَعُ لِحَدِيثِي ، أُحَدِّثُكَ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَسْمَعُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " إِنَّا كُنَّا مَرَّةً إِذَا سَمِعْنَا رَجُلًا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَدَرَتْهُ أَبْصَارُنَا ، وَأَصْغَيْنَا إِلَيْهِ بِآذَانِنَا ، فَلَمَّا رَكِبَ النَّاسُ الصَّعْبَ وَالذَّلُولَ ، لَمْ نَأْخُذْ مِنَ النَّاسِ إِلَّا مَا نَعْرِفُ
مجاہد سے روایت ہے کہ بشیر بن کعب عدوی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس نے احادیث بیان کرتے ہوئے کہنا شروع کر دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما (نے یہ رویہ رکھا کہ) نہ اس کو دھیان سے سنتے تھے نہ اس کی طرف دیکھتے تھے۔ وہ کہنے لگا: اے ابن عباس! میرے ساتھ کیا (معاملہ) ہے، مجھے نظر نہیں آتا کہ آپ میری (بیان کردہ) حدیث سن رہے ہیں؟ میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنا رہا ہوں اور آپ سنتے ہی نہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک وقت ایسا تھا کہ جب ہم کسی کو یہ کہتے سنتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو ہماری نظریں فوراً اس کی طرف اٹھ جاتیں اور ہم کان لگا کر غور سے اس کی بات سنتے، پھر جب لوگوں نے (بلا تمیز) ہر مشکل اور آسان پر سواری (شروع) کر دی تو ہم لوگوں سے کوئی حدیث قبول نہ کی سوائے اس (حدیث) کے جسے ہم جانتے تھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (6419) »
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِى مُلَيْكَةَ ، قَالَ : كَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ ، أَنْ يَكْتُبَ لِي كِتَابًا وَيُخْفِي عَنِّى ، فَقَالَ : " وَلَدٌ نَاصِحٌ ، أَنَا أَخْتَارُ لَهُ الأُمُورَ اخْتِيَارًا ، وَأُخْفِى عَنْهُ ، قَال : فَدَعَا بِقَضَاءِ عَلِيٍّ ، فَجَعَلَ يَكْتُبُ مِنْهُ أَشْيَاءَ وَيَمُرُّ بِهِ الشَّيْءُ ، فَيَقُولُ : وَاللَّهِ مَا قَضَى بِهَذَا عَلِيٌّ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ ضَلَّ
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے، کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف لکھا اور ان سے درخواست کی کہ وہ میرے لیے ایک کتاب لکھیں اور (جن باتوں کی صحت میں مقال ہو یا جو نہ لکھنے کی ہوں وہ) باتیں مجھ سے چھپا لیں۔ انہوں نے فرمایا: لڑکا خالص احادیث کا طلبگار ہے، میں اس کے لیے (حدیث سے متعلق) تمام معاملات میں (صحیح کا) انتخاب کروں گا اور (موضوع اور گھڑی ہوئی احادیث کو) ہٹا دوں گا (کہا: انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلے منگوائے) اور ان میں سے چیزیں لکھنی شروع کیں اور (یہ ہوا کہ) کوئی چیز گزرتی تو فرماتے: بخدا! یہ فیصلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نہیں کیا، سوائے اس کے کہ (خدانخواستہ) وہ گمراہ ہو گئے ہوں (جب کہ ایسا نہیں ہوا)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (5806) »
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : " أُتِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِكِتَابٍ ، فِيهِ قَضَاءُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، مَحَاهُ إِلَّا قَدْرَ ، وَأَشَارَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ بِذِرَاعِهِ
عمر وناقد، سفیان بن عیینہ، ہشام، بن حجیر، طاؤس سے روایت ہے، کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک کتاب لائی گئی جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلے (لکھے ہوئے) تھے تو انہوں نے اس قدر چھوڑ کر باقی (سب کچھ) مٹا دیا اور سفیان بن عیینہ نے ہاتھ (جتنی لمبائی) کا اشارہ کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (5760) »
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِى إِسْحَاق ، قَالَ : لَمَّا أَحْدَثُوا تِلْكَ الأَشْيَاءَ ، بَعْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ : قَاتَلَهُمُ اللَّهُ ، أَيَّ عِلْمٍ أَفْسَدُوا ؟
حسن بن علی حلوانی، یحییٰ بن آدم، ابن ادریس، اعمش، ابواسحاق سے روایت ہے، کہا: جب (بظاہر حضرت علی کا نام لینے والے) لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد (ان کے نام پر) یہ چیزیں ایجاد کر لیں تو ان کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ ان (لوگوں) کو قتل کرے! انہوں نے کیسا (عظیم الشان) علم بگاڑ دیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (19617) »
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِى ابْنَ عَيَّاشٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ ، يَقُولُ : لَمْ يَكُنْ يَصْدُقُ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فِي الْحَدِيثِ عَنْهُ ، إِلَّا مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ.
علی بن خشرم، ابوبکر بن عیاش نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے مغیرہ سے سنا، فرماتے تھے: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث میں کسی چیز کی تصدیق نہ کی جاتی تھی، سوائے اس کے جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں سے روایت کی گئی ہو۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (19450) »