حدیث نمبر: 995
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي رَقَبَةٍ ، وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ ، أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ " .

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جن دیناروں پر اجر ملتا ہے ان میں سے) ایک دینار وہ ہے جسے تو نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا، ایک دینار وہ ہے جسے تو نے کسی کی گردن (کی آزادی) کے لیے خرچ کیا، ایک دینار وہ ہے جسے تو نے مسکین پر صدقہ کیا اور ایک دینار وہ ہے جسے تو نے اپنے گھر والوں پر صرف کیا، ان میں سب سے عظیم اجر اس دینار کا ہے جسے تو نے اپنے اہل پر خرچ کیا۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 995
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک دینار وہ ہے جسے تو نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہے ایک دینار وہ ہے جسے تونے گردن کی آزادی کے لیے خرچ کیا ہے۔ ایک دینار وہ ہے جس نے مسکین پر صدقہ کیا ہے اور ایک دینار وہ جسے تو نے اپنے اہل پر صرف کیا ہے۔ ان سب سے زیادہ اجر تمھیں اس دینار پر ملے گا جسے تونے اپنے اہل پر خرچ کیا ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2311]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنا اور ان کے نان و نفقہ کا انتظام کرنا انسان کی شخصی ذمہ داری ہے اور فرض ہے۔
اور ظاہر ہے فرض کی ادائیگی انسان کی اولین ذمہ داری ہے اور اس کا اجرو ثواب بھی سب سے بڑھ کر ہے، کیونکہ باقی کام ہر موقع پر یا ہر وقت فرض عین نہیں ہو تے اس لیے ان کا درجہ بھی بعد میں ہے فرض کے بعد نوافل کی باری آتی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 995 سے ماخوذ ہے۔