صحيح مسلم
كتاب الزكاة— زکاۃ کے احکام و مسائل
باب إِثْمِ مَانِعِ الزَّكَاةِ: باب: زکوٰۃ نہ دینے کا عذاب۔
حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا ، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ قَطُّ ، وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ بِقَوَائِمِهَا وَأَخْفَافِهَا ، وَلَا صَاحِبِ بَقَرٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا ، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ ، وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِقَوَائِمِهَا ، وَلَا صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا ، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ ، وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا ، لَيْسَ فِيهَا جَمَّاءُ وَلَا مُنْكَسِرٌ قَرْنُهَا ، وَلَا صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ ، إِلَّا جَاءَ كَنْزُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُهُ فَاتِحًا فَاهُ ، فَإِذَا أَتَاهُ فَرَّ مِنْهُ ، فَيُنَادِيهِ خُذْ كَنْزَكَ الَّذِي خَبَأْتَهُ فَأَنَا عَنْهُ غَنِيٌّ ، فَإِذَا رَأَى أَنْ لَا بُدَّ مِنْهُ سَلَكَ يَدَهُ فِي فِيهِ ، فَيَقْضَمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ " ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ هَذَا الْقَوْلَ ، ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الْإِبِلِ ؟ ، قَالَ : " حَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ ، وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا ، وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا وَمَنِيحَتُهَا ، وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انصاری بیان کرتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جو بھی اونٹوں کا مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا ہے تو وہ قیامت کے دن اپنی زیادہ تعداد میں آئیں گے جو کبھی ان کی تھی اور وہ ان (اونٹوں) کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں بٹھایا جائے گا اور وہ اسے اپنے اگلے پاؤں اور کھروں سے روندیں گے۔ اور جو گائیوں کا مالک ان کا حق ادا نہیں کرے گا تو وہ قیامت کے دن اپنی زیادہ تعداد ہونے کی صورت میں آئیں گی، اور وہ ان کے سامنے چٹیل میدان میں بٹھایا جائے گا، وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے پیروں سے روندیں گی اور جو بکریوں کا مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا ہے تو وہ قیامت کے دن اپنی زیادہ سے زیادہ تعداد ہونے کی صور ت میں آئیں گی اور وہ ان کے سامنے چٹیل میدان میں بیٹھے گا اور وہ اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی اور ان میں کوئی بکری بغیر سینگوں کے ہو گی اور نہ ہی ٹوٹے ہوئے سینگوں والی اور نہ ہی کوئی خزانہ کا مالک ہے جو اس کا حق ادا نہیں کرتا مگر قیامت کے دن اس کا خزانہ گنجا سانپ بن کر آئے گا اور اپنا منہ کھولے ہوئے اس کا تعاقب کرے گا، جب اس کے پاس پہنچے گا تو وہ اس سے بھاگے گا، تو وہ (سانپ) اسے آواز دے گا: اپنے خزانہ پکڑو! جسے چھپا کر رکھا کرتے تھے۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ جب صاحب خزان دیکھے گا اس سے بچنے کی کوئی صورت چارہ نہیں تو اپنا ہاتھ اس (سانپ) کے منہ میں داخل کر دے گا، وہ اسے سانڈھ (نر اونٹ) کی طرح چبائے گا‘‘ ابو زبیر نے کہا: یہ بات میں نے عبید بن عمیر سے سنی تھی بھر ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تو انھوں نے بھی عبید بن عمیر کی طرح سنائی، ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے عبید بن عمیرسے سنا کہ ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!اونٹوں کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (پانی پر ان کا دودھ دوہنا) تاکہ ضرورت مند لے سکیں) اور اس کا ڈول عاریتہً (پانی پلانے کےلیے) دینا اور ان میں نرکو جفتی کے لیے مانگنے پر عاریتہً دینا، اور اونٹنی کو ”منيحة‘‘ دودھ پینے، اون کاٹنے کےلیے عاریتاً دینا، اور کسی کو جہاد کے لیے سواری کےلیے دینا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا ، إِلَّا أُقْعِدَ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ ، تَطَؤُهُ ذَاتُ الظِّلْفِ بِظِلْفِهَا ، وَتَنْطَحُهُ ذَاتُ الْقَرْنِ بِقَرْنِهَا لَيْسَ فِيهَا يَوْمَئِذٍ جَمَّاءُ وَلَا مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهَا ؟ ، قَالَ : إِطْرَاقُ فَحْلِهَا ، وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَمَنِيحَتُهَا ، وَحَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ ، وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَا مِنْ صَاحِبِ مَالٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ ، إِلَّا تَحَوَّلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُ صَاحِبَهُ حَيْثُمَا ذَهَبَ ، وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ ، وَيُقَالُ : هَذَا مَالُكَ الَّذِي كُنْتَ تَبْخَلُ بِهِ ، فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْهُ ، أَدْخَلَ يَدَهُ فِي فِيهِ فَجَعَلَ يَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ " .عبدالملک نے ابوزبیر سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹوں، گائے اور بکریوں کا جو بھی مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا تو اسے قیامت کے دن ان کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں بٹھایا جائے گا۔ سموں والا جانور اسے اپنے سموں سے روندے گا اور سینگوں والا اسے اپنے سینگوں سے مارے گا، ان میں سے اس دن نہ کوئی (گائے یا بکری) بغیر سینگ کے ہوگی اور نہ ہی کوئی ٹوٹے ہوئے سینگوں والی ہوگی۔“ ہم نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! ان کا حق کیا ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”ان میں سے نر کو جفتی کے لیے دینا، ان کا ڈول ادھار دینا، ان کو دودھ پینے کے لیے دینا، ان کو پانی کے گھاٹ پر دوہنا (اور لوگوں کو پلانا) اور اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دینا۔ اور جو بھی صاحب مال اس کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، تو قیامت کے دن وہ مال گنجے سانپ کی شکل اختیار کر لے گا، اس کا مالک جہاں جائے گا وہ اس کے پیچھے لگا رہے گا اور وہ اس سے بھاگے گا، اسے کہا جائے گا: یہ تیرا وہی مال ہے جس میں تو بخل کیا کرتا تھا۔ جب وہ دیکھے گا کہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے تو وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں داخل کرے گا، وہ اسے اس طرح چبائے گا جس طرح اونٹ (چارے کو) چباتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
جماء: وہ بکری جس کے سینگ نہ ہوں۔
(2)
شجاعا اقرع: وہ سانپ جس کے زہر کی شدت کی بنا پر سر کے بال جھڑ گئے ہوں۔
یا وہ سانپ جو اپنی دم کے بل پر کھڑا ہو کہ پیدل اور سوار پر حملہ آور ہوتا ہے اور اس کی پیشانی پر ڈنگ مارتا ہے۔
(3)
يقضمها قضم الفحل: نر اونٹ کی طرح اس کے ہاتھ کاٹے گا اور چبائے گا۔
منيحة کی دو قسمیں ہیں، ایک میں دوسرے کو حیوان، زمین یا گھر بار ھبہ کر دیا جاتا ہے، دوسری صورت میں اونٹنی، گائے اور بکری وغیرہا دودھ دینے والا جانور صرف دودھ پینے کے لیے کچھ وقت کے لیے دیا جاتا ہے اور پھر واپس لے لیا جاتا ہے۔
فوائد ومسائل: 1۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سونا چاندی اور مال ودولت کو صرف تختیوں کی صورت میں ہی بنایا نہیں جائے گا۔
بلکہ بعض اوقات میں اسے گنجے سانپ کی شکل دی جائے گی کیونکہ صاحب مال دنیا میں اس پر سانپ بن کر بیٹھا ہے۔
پھر وہ سانپ اس کا پیچھا کرے گا۔
اور صاحب مال کے لیے اس سے بچنے کی کوئی راہ نہیں نکل سکے گی۔
اور وہ ا پنے تحفظ کے لیے اس کے منہ میں ہاتھ ڈال دے گا جسے وہ سانڈھ کی طرح چبائے گا-2۔
اس حدیث میں حقوق منتشرہ جو باہمی اخوت وخیر خواہی اور مواسات ہمدردی کا مظہر ہیں، میں سے اونٹ کے سلسلہ میں چند ایک کی تعین کی ہے۔
فقیروں مسکینوں کو ان کا دودھ دینا یاعارضی طور پر دودھ پینے کے لیے کسی محتاج کو دے دینا ضرورت مند کو پانی پلانے کے لیے ڈول دینا اور جفتی کے لیے وقتی طورپر کسی کو سانڈھ دینا کسی مجاہد کو سواری مہیا کرنا۔