حدیث نمبر: 974
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شَرِيكٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا كَانَ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَى الْبَقِيعِ ، فَيَقُولُ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، وَأَتَاكُمْ مَا تُوعَدُونَ ، غَدًا مُؤَجَّلُونَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ " ، وَلَمْ يُقِمْ قُتَيْبَةُ قَوْلَهُ : وَأَتَاكُمْ .

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، یحییٰ بن ایوب اور قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث سنائی۔۔۔ یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: ہمیں خبر دی اور دوسرے دونوں نے کہا: ہمیں حدیث سنائی۔۔۔ اسماعیل بن جعفر نے شریک سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا:۔۔۔ جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری ان کے پاس ہوتی تو۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں بقیع (کے قبرستان میں) تشریف لے جاتے اور فرماتے: ”اے ایمان رکھنے والی قوم کے گھرانے! تم پر اللہ کی سلامتی ہو، کل کے بارے میں تم سے جس کا وعدہ کیا جاتا تھا، وہ تم تک پہنچ گیا۔ تم کو (قیامت) تک مہلت دے دی گئی اور ہم بھی، اگر اللہ نے چاہا تم سے ملنے والے ہیں۔ اے اللہ! بقیع غرقد (میں رہنے) والوں کو بخش دے۔“ قتیبہ نے (اپنی روایت) میں «وآتاكم» (تم تک پہنچ گیا) نہیں کہا۔۔۔

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ ، فَقَالَتْ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنِّي ؟ ، قُلْنَا : بَلَى . ح وحَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ حَجَّاجًا الْأَعْوَرَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ بْنِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ أُمِّي ؟ ، قَالَ : فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُ أُمَّهُ الَّتِي وَلَدَتْهُ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : قَالَتْ : لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا عِنْدِي ، انْقَلَبَ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ ، وَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ ، وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَاضْطَجَعَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنْ قَدْ رَقَدْتُ ، فَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا وَانْتَعَلَ رُوَيْدًا ، وَفَتَحَ الْبَابَ فَخَرَجَ ثُمَّ أَجَافَهُ رُوَيْدًا ، فَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي وَاخْتَمَرْتُ ، وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي ثُمَّ انْطَلَقْتُ عَلَى إِثْرِهِ ، حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَقَامَ ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ ، فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ ، فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ فَسَبَقْتُهُ ، فَدَخَلْتُ فَلَيْسَ إِلَّا أَنِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ ، فَقَالَ : مَا لَكِ يَا عَائِشُ حَشْيَا رَابِيَةً ؟ " قَالَتْ : قُلْتُ : لَا شَيْءَ ، قَالَ : " لَتُخْبِرِينِي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَأَخْبَرْتُهُ ، قَالَ : فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي ، قُلْتُ : نَعَمْ فَلَهَدَنِي فِي صَدْرِي لَهْدَةً أَوْجَعَتْنِي ، ثُمَّ قَالَ : أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ " ، قَالَتْ : مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ فَنَادَانِي ، فَأَخْفَاهُ مِنْكِ فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ ، وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ ، وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ ، وَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ رَقَدْتِ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ ، وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي ، فَقَالَ : إِنَّ رَبَّكَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَتَسْتَغْفِرَ لَهُمْ ، قَالَتْ : قُلْتُ : كَيْفَ أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : قُولِي السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ ، وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا والمُستَأخِرينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ " .

محمد بن قیس بن مخرمہ بن مطلب نے ایک دن ساتھیوں سے کہا، کیا میں تمھیں اپنے اور اپنی ماں کے بارے میں بات نہ بتاؤں؟ ساتھیوں نے خیال کیا کہ وہ اپنی ماں مراد لے رہا ہے جس نے اسے جنا ہے، اس نے کہا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: کیا میں تمھیں اپنے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہم نے کہا کیوں نہیں، توعائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: جب میری وہ رات ہوئی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں ہوتے تھے، آپ گھر لوٹے (مسجد سے گھر آئے)، اپنی چادر(چارپائی پر) رکھی، اپنے جوتے اتار کر اپنے پاؤں (پینتی) کے پاس رکھے اور اپنے تہبند کا ایک حصہ بستر پر بچھا کر لیٹ گئے۔ آپﷺ صرف اتنی دیر ٹھہرے کہ آپﷺ نے خیال کیا میں سو گئی ہوں، تو آپ نے آہستگی سے (تاکہ میں بیدار نہ ہوجاؤں) اپنی چادر اٹھائی، آہستگی سے اپنا جوتا پہنا اور دروازہ کھول کر نکلے اور اسے آہستگی سے بند کر دیا۔ میں نے بھی اپنی قمیص گلے میں ڈالی، اپنی اوڑھنی کو ڈوپٹہ بنایا اور اپنی تہبند باندھ لی، پھر آپﷺ کے پیچھے چل نکلی، حتیٰ کہ آپﷺ بقیع (قبرستان) پہنچ گئے اور آپﷺ کافی دیر تک کھڑے رہے پھر آپ نے تین دفعہ ہاتھ اٹھائے، پھر آپ پلٹے اور میں بھی واپس لوٹی، آپﷺ تیز ہو گئے تو میں بھی تیز ہو گئی، آپﷺ نے دوڑ لگائی تو میں نے بھی دوڑ پڑی آپﷺ نے تیز دوڑ شروع کی تو میں بھی تیز دوڑ پڑی، اور میں آپ سے پہلے آ گئی اور گھر میں داخل ہو کر لیٹ گئی۔ اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھر میں داخل ہو گئے اور آپ ﷺ فرمایا: ”اے عائشہ! تمھیں کیا ہوا سانس پھولا ہوا ہے، اور پیٹ ابھرا ہوا ہے۔‘‘ میں نے کہا: کوئی بات نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھے بتاؤ دو یا مجھے باریک بین، واقف آگاہ (اللہ تعالی) بتا دے گا‘‘ تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان! اور میں نےصورتِ حال بتا دی۔ آپﷺ نے فرمایا: تو وہ شخص جو مجھے اپنےآگے نظر آ رہا تھا تم تھیں؟‘‘ میں نے کہا: ہاں۔ آپﷺ نے میرے سینے کو زور سے دھکا دیا جس سے مجھے تکلیف ہوئی۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے یہ خیال کیا کہ تم پر اللہ اور اس کا رسول زیادتی کرے گا؟‘‘تیری باری میں کسی اور کے پاس چلا جاؤں گا میں نے دل میں کہا: لوگ کتنا ہی چھپائیں اللہ اسے جانتا ہے، (آپﷺ کو بتا دیتا ہے) خود ہی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ہاں کہا۔ (اور گمان و نظریہ کی تصدیق کی) آپﷺ نے فرمایا: ”جب تو نے دیکھا، اس وقت میرے پاس جبرئیل علیہ السلام آیا اوراس نے مجھے آواز دی اور اپنی آواز تچھ سے مخفی رکھی، میں تجھ سے پوشیدہ رکھ کر اس کو جواب دیا، اور وہ اندر تیرے پاس نہیں آ سکتا تھا کیونکہ تم کپڑے اتار چکی تھی (سونے کا لباس پہن لیا تھا) اور میں نے خیال کیا کہ تم سو چکی ہو تو میں نے تمھیں بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا اور مجھے خدشہ محسوس ہوا کہ تم (اگر تم جاگ گئی تو اکیلی) وحشت محسوس کرو گی۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: آپ کے رب کا حکم ہے کہ اہل بقیع کے پاس جا کر ان کے لئے بخشش کی دعا کرو۔‘‘ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں میں نے آپﷺ سے پوچھا: میں ان کے حق میں کیسے دعا کروں؟ آپﷺ نے فرمایا: ”کہوسلام ہو تم پر اے گھروں والو! مومنوں میں سے اور مسلمانوں میں سے، اللہ تعالیٰ ہم سے پہلے اور بعد میں آنے والوں پر رحم فرمائے۔ اور ہم اللہ نے چاہا تو تم سے ملنے والے ہیں۔‘‘

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 974
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 2039 | سنن نسائي: 2041 | صحيح مسلم: 974 | سنن ابن ماجه: 1546 | معجم صغير للطبراني: 352

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت نقل کرتےہیں، انہوں نے کہا (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے) جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری میرے ہاں ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصہ میں بقیع (اہل مدینہ کا قبرستان) تشریف لے جاتے اور فرماتے: ’’اے مومنو کے گھر کے باسیو! تم پر اللہ تعالیٰ کی سلامتی نازل ہو۔ جس کا تم سے وعدہ تھا آچکا، کل تک تمہیں مہلت ہے، اور ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں۔ اے اللہ! بقیع... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2255]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: (غَدًا مُّؤَجَّلُون)
کا مقصد یہ ہے کہ یہاں ابھی مکمل حساب کتاب شروع نہیں ہوا، اس کے لیے قیامت تک ڈھیل اور مہلت ہے۔
یا دنیا میں جس کل کی مہلت دی گئی تھی وہ آ چکا ہے اورغرقد ایک درخت کا نام ہے جو اہل مدینہ کے قبرستان میں تھا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 974 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2039 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مسلمانوں کے لیے مغفرت طلب کرنے کے حکم کا بیان۔`
محمد بن قیس بن مخرمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ کہہ رہی تھیں: کیا میں تمہیں اپنے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہم نے کہا کیوں نہیں ضرور بتائیے، تو وہ کہنے لگیں، جب وہ رات آئی جس میں وہ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تھے تو آپ (عشاء) سے پلٹے، اپنے جوتے اپنے پائتانے رکھے، اور اپنے تہبند کا کنارہ اپنے بستر پر بچھایا، آپ صرف اتنی ہی مقدار ٹھہرے جس میں آپ ن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2039]
اردو حاشہ: (1) واقعے کی تفصیلات تو حدیث سے واضح ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا خیال تھا کہ آپ میری باری کی رات کسی اور بیوی کے گھر گئے ہیں، حالانکہ آپ جیسی عادل شخصیت کے لیے یہ ممکن نہ تھا کیونکہ یہ تو ظلم ہے اور نبی کی شخصیت اس سے پاک ہوتی ہے۔ غیرت کے جذبات کی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا دھیان اس حقیقت کی طرف نہ جاسکا۔ تبھی آپ نے ان کے سینے پر مکا مار کر انھیں حقیقت کی طرف توجہ دلائی۔ چونکہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر قدم نہیں اٹھاتے تھے، اس لیے اپنے ساتھ اللہ تعالیٰ کا بھی ذکر فرمایا: ﴿أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَرَسُولُهُ﴾ کہ اللہ اور اس کا رسول تجھ پر ظلم کریں گے؟
(2) اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ آپ پر بیویوں کے درمیان باری مقرر کرنا واجب تھا، ورنہ باری کی خلاف ورزی ظلم نہ ہوتا مگر اس تکلف کی ضرورت نہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عاادل شخصیت وجوب کے بغیر بھی کسی کا دل نہیں دکھا سکتی تھی۔ آپ کے اخلاق کریمانہ سے بعید تھا کہ آپ کسی کی دل آزاری کرتے۔
(3) معلوم ہوا کہ دعا کے قصد سے قبرستان جانا چاہیے اور لمبی دعا کرنی چاہیے۔ [السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ………] کے علاوہ بھی مزید دعا کرنی جائز ہے۔ علاوہ ازیں ہاتھ اٹھا کر کی جائے یا ویسے ہی کر لی جائے، دونوں طرح جائز ہے۔
(4) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوال اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب سے معلوم ہوا کہ عورت بھی زیارتِ قبر کے لیے جاسکتی ہے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2039 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2041 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مسلمانوں کے لیے مغفرت طلب کرنے کے حکم کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں جب جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری ان کے یہاں ہوتی تو رات کے آخری (حصے) میں مقبرہ بقیع کی طرف نکل جاتے، (اور) کہتے: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا وإياكم متواعدون غدا أو مواكلون وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون اللہم اغفر لأهل بقيع الغرقد» اے مومن گھر (قبرستان) والو! تم پر سلامتی ہو، ہم اور تم آپس میں ایک دوسرے سے کل کی حاضری کا وعدہ کرنے والے ہیں، اور آپس میں ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2041]
اردو حاشہ: سہارا کیونکہ قیامت کے دن انبیاء، شہداء، علماء اور صلحاء سفارش کریں گے، نیز ایک دوسرے کے حق میں سچی گواہی بھی دیں گے، ورنہ سہارا تو اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی کا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش ہے، نہ شہادت۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2041 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 974 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
محمد بن قیس بن مخرمہ بن مطلب نے ایک دن ساتھیوں سے کہا، کیا میں تمھیں اپنے اور اپنی ماں کے بارے میں بات نہ بتاؤں؟ ساتھیوں نے خیال کیا کہ وہ اپنی ماں مراد لے رہا ہے جس نے اسے جنا ہے، اس نے کہا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: کیا میں تمھیں اپنے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہم نے کہا کیوں نہیں، توعائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: جب میری وہ رات ہوئی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں ہوتے تھے، آپ گھر... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2256]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
رَيْثَمَا: اتنی دیر تک۔
(2)
أَجَافَهُ: اس کو یعنی دروازہ کو بند کر دیا۔
(3)
رُوَيْدًا: آہستگی سے بند کر دیا۔
(4)
جَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي: میں نے اپنی کوئی (قمیص) (پہن لی، سر سے جسم و بدن پر ڈال لی۔
اخْتَمَرْتُ: میں نے خمار (دوپٹہ)
اوڑھ لیا، دوپٹہ سے سر ڈھانپ لیا۔
(5)
تَقَنَّعْتُ إِزَارِي: میں نے اپنی دھوتی باندھ لی، قیناع اوڑھنی اور دوپٹہ کو کہتے ہیں، اور تقنع کا معنی ہوا دوپٹہ اوڑھ لیا، اور یہاں یہ معنی ہوا کہ ازار (دھوتی، تہبند)
کو جسم کے گرد باندھ لیا۔
(6)
هَرْوَلَ: دوڑا۔
اور (7)
أَحْضَرَ: تیز دوڑا۔
حضار میں هرولة سے زیادہ تیزی ہوتی ہے۔
(8)
حَشْيَا: سانس کا پھولنا، دوڑ کی بنا پر اس کا اکھڑ جانا اور اس میں تیزی آنا۔
(9)
رَابِيَةً: پیٹ کا اونچا اور بلند ہونا۔
پیٹ کا سانس کے پھولنے سے پھول جانا۔
(10)
سَوَادُ: شکل و صورت، ڈھانچہ، ہیوئی، وجود۔
(11)
لَهَدَنِي لَهْدَةً: زور سے دھکا دیا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ عالم الغیب نہ تھے، اس لیے آپ کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نیند اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلنے اور پھر آگے آگے آنے کا پتہ نہ چل سکا۔
اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی یہی سمجھتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ کے بتائے بغیر آپﷺ کو مخفی چیز کا پتہ نہیں چل سکتا۔
اور اسی لیے آپ نے فرمایا، تم خود بتا دو، یا مجھے اللہ تعالیٰ بتا دے گا۔

قبرستان جانے کا اصل مقصد یہی ہے کہ مسلمان اموات کے لیے سلامتی اور بخشش کی دعا کی جائے اور ساتھ ہی اپنی موت کو یاد کیا جائے۔
کسی اور مقصد یا غرض کے لیے جانا درست نہیں ہے۔

قبرستان میں جا کر ہاتھ اٹھا کو طویل وقت تک دعائیں کی جا سکتی ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 974 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1546 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´قبرستان میں پہنچ کر کیا دعا پڑھے؟`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے انہیں یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (ایک رات) غائب پایا، پھر دیکھا کہ آپ مقبرہ بقیع میں ہیں، اور آپ نے فرمایا: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين أنتم لنا فرط وإنا بكم لاحقون اللهم لا تحرمنا أجرهم ولا تفتنا بعدهم» اے مومن گھر والو! تم پر سلام ہو، تم لوگ ہم سے پہلے جانے والے ہو، اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں، اے اللہ! ہمیں ان کے ثواب سے محروم نہ کرنا، اور ان کے بعد ہمیں فتنہ میں نہ ڈالنا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1546]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
اور مزید لکھا ہے کہ اس روایت سے آئندہ آنے والی روایت کفایت کرتی ہے۔
غالباً اسی وجہ سے دیگر محققین نے مذکورہ روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
الحاصل مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
لیکن دیگر روایات کی وجہ سے معناً صحیح ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 487، 486/47 وصحیح ابن ماجة، رقم: 1266)

(2)
قبروں کی زیارت مسنون ہے۔
تاکہ موت یاد آئے اور دنیا سے بے رغبتی پیدا ہوکر آخرت کی طرف توجہ ہوجائے۔

(3)
قبروں کی زیارت جس طرح دن کے وقت کی جا سکتی ہے۔
رات کو بھی جائز ہے۔

(4)
قبروں کی زیارت کا مقصد فوت ہونے والوں کےلئے دعا ہے۔
فوتشدگان سے کچھ مانگنا جائز نہیں۔
کیونکہ وہ لوگ نہ ہماری باتیں سنتےہیں۔
نہ ہماری درخواست قبول کرسکتے ہیں۔

(5)
السلام و علیکم کہنے سے انھیں سنانا مقصود نہیں بلکہ ان کے لئے دعا اور ان کے حال سے عبرت حاصل کرنا مقصود ہے۔
کہ جس طرح یہ لوگ کل ہمارے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے۔
آج قبروں میں پڑے ہیں۔
ہم پر بھی عنقریب وہ وقت آنے والا ہے۔
جب ہم اسی طرح دفن ہوجایئں گے اور دوسروں کی دعاؤں کے محتاج ہوں گے۔

(6)
دعا کا آخری جملہ نماز جنازہ کی دعاؤں میں شامل ہے وہاں پڑھنا درست ہے۔
دیکھئے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 1498)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1546 سے ماخوذ ہے۔