حدیث نمبر: 966
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمِسْوَرِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أن سعد بن أبي وقاص ، قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي هَلَكَ فِيهِ : " الْحَدُوا لِي لَحْدًا ، وَانْصِبُوا عَلَيَّ اللَّبِنَ نَصْبًا ، كَمَا صُنِعَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

عامر بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنی اس بیماری کے دوران جس میں وہ فوت ہو گئے تھے، (اپنے لواحقین سے) کہا: ”میرے لیے لحد تیار کرنا اور میرے اوپر اچھے طریقے سے کچی اینٹیں لگانا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی قبر مبارک) کے ساتھ کیا گیا ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 966
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی اس بیماری میں جس میں وہ فوت ہو گئےتھے۔ (اپنے لواحقین سے) کہا، میرے لیے لحد بنانا اور مجھ پر اچھے طریقے سے کچی اینٹیں لگانا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا گیا تھا، یعنی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر بنائی گئی تھی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2240]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: بالاتفاق لحد بنانا بہتر ہے اور عام قبر بنانا بھی درست ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے بالاتفاق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر کچی اینٹیں لگائی تھیں اور قبر ایک بالشت اونچی بنائی تھی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2240 سے ماخوذ ہے۔