صحيح مسلم
كتاب الجنائز— جنازے کے احکام و مسائل
باب رُكُوبِ الْمُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ إِذَا انْصَرَفَ: باب: نماز جنازہ پڑھ کر واپسی پر سوار ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا ، وَقَالَ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفَرَسٍ مُعْرَوْرًى ، فَرَكِبَهُ حِينَ انْصَرَفَ مِنْ جَنَازَةِ ابْنِ الدَّحْدَاحِ ، وَنَحْنُ نَمْشِي حَوْلَهُ " .مالک بن مغول نے سماک بن حرب سے اور انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (بغیر زین کے) ننگی پشت والا ایک گھوڑا لایا گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن دحداح رضی اللہ عنہ کے جنازے سے لوٹے تو اس پر سوار ہو گئے جبکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد (پیدل) چل رہے تھے۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِ الدَّحْدَاحِ ، ثُمَّ أُتِيَ بِفَرَسٍ عُرْيٍ ، فَعَقَلَهُ رَجُلٌ فَرَكِبَهُ ، فَجَعَلَ يَتَوَقَّصُ بِهِ وَنَحْنُ نَتَّبِعُهُ نَسْعَى خَلْفَهُ ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَمْ مِنْ عِذْقٍ مُعَلَّقٍ أَوْ مُدَلًّى فِي الْجَنَّةِ لِابْنِ الدَّحْدَاحِ " ، أَوَ قَالَ شُعْبَةُ : " لِأَبِي الدَّحْدَاحِ " .شعبہ نے سماک بن حرب سے اور انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن دحداح کی نماز جنازہ پڑھائی، پھر ننگی پشت والا (بغیر زین کے) ایک گھوڑا لایا گیا، ایک آدمی نے اسے (پکڑ کر) روکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھا کر دلکی چال چلنے لگا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تیز قدموں کے ساتھ چل رہے تھے، کہا: لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن دحداح کے لیے جنت میں کتنے لٹکے ہوئے۔۔۔ یا جھکے ہوئے۔۔۔ خوشے ہیں!“ یا شعبہ نے (ابن دحداح رضی اللہ عنہ کے بجائے) ”ابودحداح رضی اللہ عنہ کے لیے“ کہا۔
تشریح، فوائد و مسائل
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابودحداح رضی اللہ عنہ کے جنازے میں (شرکت کے لیے) نکلے، تو جب آپ لوٹنے لگے تو (آپ کے لیے) بغیر زین کے ننگی پیٹھ والا ایک گھوڑا لایا گیا، آپ (اس پر) سوار ہو گئے، اور ہم آپ کے ہمراہ پیدل چلنے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2028]