مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 950
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ ، فَقَالَ : " مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ ؟ ، فَقَالَ : الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا ، وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ " ،

امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے محمد بن عمرو بن حلحلہ سے، انہوں نے معبدبن کعب بن مالک سے اور انہوں نے حضرت قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ نے فرمایا: ”آرام پانے والا ہے یا اس سے آرام ملنے والا ہے۔“ انہوں (صحابہ) نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! آرام پانے والا یا جس سے آرام ملنے والا ہے سے کیا مراد ہے؟“ تو آپ نے فرمایا: ”بندہ مومن دنیا کی تکلیف سے آرام پاتا ہے اور فاجر بندے (کے مرنے) سے لوگ، شہر، درخت اور حیوانات آرام پاتے ہیں۔“

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جَمِيعًا ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ ابْنٍ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ : " يَسْتَرِيحُ مِنْ أَذَى الدُّنْيَا وَنَصَبِهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ " .

یحییٰ بن سعید اور عبدالرزاق نے عبداللہ بن سعید سے، انہوں نے محمد بن عمرو سے، انہوں نے کعب بن مالک کے بیٹے (معبد) سے، انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (سابقہ حدیث کے مانند) روایت بیان کی اور یحییٰ کی حدیث میں ہے: ”وہ (مومن بندہ) اللہ کی رحمت میں آکر دنیا کی اذیت اور تکان سے آرام حاصل کر لیتا ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 950
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6512 | صحيح البخاري: 6513 | سنن نسائي: 1932 | سنن نسائي: 1933 | موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 467

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’آرام پانے والا ہے یا لوگوں کو اس سے آرام (چھٹکارہ) حاصل ہو گیا ہے۔‘‘ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے پوچھا، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مُسْتَرِیحٌ اور مُسْتَرَاحٌ مِّنْه سے کیا مراد ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا: ’’مومن بندہ دنیا کی تکلیفوں اور مشقتوں سےآرام پاتا ہے اور برے بندہ سے، بندوں، علاقوں اوردرختوں اور حیوانات کو آرام مل جاتا ہے۔‘‘... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2202]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: برے اور بدکار انسان کے ہاتھ اور زبان سے تمام مخلوق تنگ ہوتی ہے۔
اور اس کی بدعملیوں اور کرتوتوں کی نحوست سے بھی مخلوق کے لیے اذیت اورتکلیف کا باعث بنتی ہے وہ ہر چیز کے خلاف ہاتھ اور زبان استعمال کرتا ہے اس کے گناہوں کے سبب بارش بند ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 950 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6513 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6513. حضرت قتادہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: (یہ مرنے والا یا تو) خود آرام پانے والا ہے یا دوسرے بندوں کو آرام دینے والا ہے مومن تو ہر صورت میں آرام ہی پاتا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6513]
حدیث حاشیہ: ایماندار بندہ تو آرام ہی پاتا ہے۔
جعلنا اللہ منهم۔
آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6513 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6513 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6513. حضرت قتادہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: (یہ مرنے والا یا تو) خود آرام پانے والا ہے یا دوسرے بندوں کو آرام دینے والا ہے مومن تو ہر صورت میں آرام ہی پاتا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6513]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث کے پیش نظر ہر مرنے والا دو حالتوں میں سے ایک کا ضرور سامنا کرتا ہے یا وہ خود آرام پانے والا ہے یا دوسروں کو اس سے آرام ملتا ہے۔
ہر حالت میں اس پر موت کے وقت سختی بھی کی جا سکتی ہے اور اس پر نرمی کا بھی امکان ہے۔
پہلی صورت میں اسے موت کی سختیوں سے پالا پڑتا ہے۔
موت کی شدت کا تعلق انسان کی پرہیزگاری یا بدکاری سے نہیں ہوتا بلکہ اگر وہ شخص اہل تقویٰ سے ہے تو اس کے درجات بلند ہوتے ہیں اور اگر مومن اہل تقویٰ نہیں تو اس کی برائیوں کا کفارہ ہوتا ہے۔
پھر وہ دنیا کی اذیتوں اور تکلیفوں سے نجات پا جاتا ہے۔
موت کی سختی کے باوجود مومن کو فرشتوں کی بشارت سے اس قدر راحت ملتی ہے کہ اس کے مقابلے میں موت کی سختی کا کچھ وزن نہیں ہوتا، گویا مومن اس قسم کی سختی کو محسوس ہی نہیں کرتا۔
(فتح الباري: 444/11)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6513 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6512 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6512. حضرت قتادہ بن ربعی انصاری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ نے فرمایا: یہ مستريح یا مستراح منہ ہے، یعنی اسے آرام مل گیا یا اس سے آرام مل گیا مل گیا۔ صحابہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! مستریع اور مستراح منہ کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: مومن شخص دنیا کی مشقتوں اور اذیتوں سے اللہ عزوجل کی رحمت میں آرام پاتا ہے اور فاجر بندے سے لوگ، شہر، درخت اور جانور آرام پاتے ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6512]
حدیث حاشیہ: بندے اس طرح آرام پاتے ہیں کہ اس کے ظلم وستم اور برائیوں سے چھوٹ جاتے ہیں خس کم جہاں پاک ہوا۔
ایماندار تکالیف دنیا سے آرام پا کر داخل جنت ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6512 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1932 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´موت سے مومن کو آرام مل جاتا ہے۔`
ابوقتادہ بن ربعی رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ لے جایا گیا، تو آپ نے فرمایا: (یہ) «مستریح» ہے یا «مستراح منہ» ہے، تو لوگوں نے پوچھا: «مستریح» اور «مستراح منہ» سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ مومن (موت کے بعد) دنیا کی بلا اور تکلیف سے راحت پا لیتا ہے، اور فاجر ۱؎ بندہ مرتا ہے تو اس سے اللہ کے بندے، بستیاں، پیڑ پودے، اور چوپائے (سب) راحت پا لیتے ہیں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1932]
1932۔ اردو حاشیہ: ➊ ’’مومن شخص یہاں مومن سے متقی شخص مراد ہے جو لوگوں کو بھی ایذا نہیں پہنچاتا اور جانوروں پر بھی ظلم نہیں کرتا۔ اس کے ساتھ ساتھ حقوق اللہ کی پابندی کرتا ہے۔ ان کاموں میں سے اسے دنیا میں تکلیف وغیرہ پہنچے تو اس پر صبر کرتا ہے۔ دنیا میں معاش کے سلسلے میں اسے محنت و مشقت کرنی پڑتی ہے۔ دنیا میں بیماری اور پریشانیاں ’’دنیا کے رنجو غم سب اس میں داخل ہیں۔
➋ ’’بکار شخص اس سے مراد صرف کافر ہی نہیں بلکہ وہ اشخاص بھی اس میں داخل ہیں جو لوگوں پر ظلم و ستم کرتے ہیں، جانوروں کو ایذا پہنچاتے ہیں، آبادیوں کو ویران کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ حقوق اللہ کی بھی پروا نہیں کرتے۔ فسق و فجور میں بگ ٹٹ دوڑے جاتے ہیں، حتی کہ ان کے فسق و فجور کی وجہ سے بارش رک جاتی ہے اور ان کی نحوست سے قحط سالی آپڑتی ہے۔ بے گناہ جانور اور درخت اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، البتہ وہ لوگ جن سے گناہ تو صادر ہوتے ہیں (کیونکہ ہر انسان خطاکار ہے) مگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں، معافی مانگتے ہیں تو وہ ’’فاجر اور ’’بکار کے تحت داخل نہیں کیونکہ معافی اور توبہ گناہ ک ختم کر دیتے ہیں، بلکہ توبہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ رحمتیں فرماتا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: (استغفروا ربکم انہ کان غفارا o یرسل السمآء علیکم مدرارا) (نوح 11، 10/71) لہٰذا توبہ اور استغفار کرنے والا انسان، خواہ کتنا ہی گناہ گار ہو، لوگوں، شہروں، جانوروں اور درختوں کے لیے رحمت کا سبب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1932 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1933 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کفار و مشرکین کی موت سے لوگوں راحت ملتی ہے۔`
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک جنازہ نظر آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ «مستریح» ہے یا «مستراح منہ» ہے، (کیونکہ) جب مومن مرتا ہے تو دنیا کی مصیبتوں، بلاؤں اور تکلیفوں سے نجات پا لیتا ہے، اور فاجر مرتا ہے تو اس سے (اللہ کے) بندے، ملک و شہر، پیڑ پودے، اور چوپائے (سب) راحت پا لیتے ہیں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1933]
1933۔ اردو حاشیہ: باب میں کافر کا لفظ ہے اور حدیث میں فاجر کا، اشارہ ہے کہ فاجر سے مراد کافر ہے یا کافروں جیسا۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1933 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 467 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´دنیا دکھوں اور مصیبتوں کا گھر ہے`
«. . . عن ابى قتادة بن ربعي انه كان يحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر عليه بجنازة فقال: مستريح ومستراح منه. فقالوا: يا رسول الله، ما المستريح والمستراح منه؟ قال: العبد المؤمن يستريح من نصب الدنيا واذاها إلى رحمة الله، والعبد الفاجر يستريح منه العباد والبلاد والشجر والدواب . . .»
. . . سیدنا ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مستريح» (پرسکون و پُرآرام) یا «مسترح منه» (لوگ جس سے سکون و آرام میں ہوں) ہے۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! «مستريح» اور «مستراح منه» کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن بندہ دنیا کی مصیبتوں اور تکلیفوں سے اللہ کی رحمت کی طرف سکون و آرام حا صل کرتا ہے اور فاطر (گناہ گار) بندے سے بندوں، شہروں درختوں اور جانوروں کو آ رام و سکون حاصل ہو تا ہے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 467]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 6512، ومسلم 950، من حديث مالك به]
تفقه
➊ مومن کے لئے دنیا راحت و آرام کی جگہ نہیں بلکہ قید خانہ ہے اور موت اس کے لئے راحت کا پیغام ہے۔
➋ دنیا دکھوں اور مصیبتوں کا گھر ہے جن کا علاج اللہ، رسول اور آخرت پر ایمان ہے۔ یہ ایمان انسان کے دل و دماغ میں صبر و تحمل اور قرآن و حدیث کی مسلسل اطاعت کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔
➌ کتاب و سنت کے مخالفین چاہے کفار ہوں یا فساق و فجار، انہوں نے دنیا میں ظلم و تشدد، فسق و فجور، قتل و قتال اور نافرمانی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
➍ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا خیر خواہ ہوتا ہے۔
➎ ہر مسلمان کو ہمہ وقت کوشش میں رہنا چاہیے کہ وہ دوسرے مسلمانوں کو راحت و آرام پہنچائے اور کبھی کسی کو تکلیف نہ دے۔
➏ موت مومن کے لئے ایک نعمت ہے جس کے ذریعے سے بندہ مومن دنیا کی مصیبتوں سے نجات پا کر راحت آخرت کی طرف سفر کرتا ہے جبکہ کافر و فاسق کی موت سے دنیا میں کچھ لوگوں کو اس کے ظلم و ستم سے راحت نصیب ہوتی ہے۔
➐ اللہ کے نافرمان بندوں سے زمین ہی نہیں درخت و جانور تک تنگ ہوتے ہیں اور اس کی موت سے راحت پاتے ہیں۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 101 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔