مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 947
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعِ عَائِشَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ مَيِّتٍ تُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَبْلُغُونَ مِائَةً ، كُلُّهُمْ يَشْفَعُونَ لَهُ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ " ، قَالَ : فَحَدَّثْتُ بِهِ شُعَيْبَ بْنَ الْحَبْحَابِ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي بِهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

سلام بن ابی مطیع نے ایوب سے، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے دودھ شریک بھائی عبداللہ بن یزید سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی (مسلمان) مرنے والا جس کی نماز جنازہ مسلمانوں کی ایک جماعت جن کی تعداد سو تک پہنچی ہو ادا کرے، وہ سب اس کی سفارش کریں تو اس کے بارے میں ان کی سفارش قبول کر لی جاتی ہے۔“ (سلام نے) کہا: میں نے یہ حدیث شعیب بن حجاب کو بیان کی تو انہوں نے کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بھی یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 947
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس میت پر مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت نماز پڑھے جن کی تعداد سو کو پہنچ جائے، وہ سب اللہ کے حضورمیں اس میت کے حق میں سفارش کریں (یعنی اس کی مغفرت اور رحمت کی دعا کریں) تو ان کی یہ سفارش ضرور قبول ہو گی۔‘‘ سلام بن ابی مطیع کہتے ہیں میں نے یہ روایت شعیب بن حجاب کو سنائی تو اس نے مجھے یہی روایت حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2198]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان کے جنازہ میں زیادہ سے زیادہ صحیح العقیدہ (جیسا کہ اگلی روایت میں آ رہا ہے)
مسلمانوں کی شرکت مطلوب ومحبوب ہے اوران کے دل کے گہرائیوں سے نکلنے والی دعا اور سفارش اللہ تعالیٰ کے ہاں شرف قبولیت حاصل کر لیتی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 947 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔