صحيح مسلم
كتاب الجنائز— جنازے کے احکام و مسائل
باب فَضْلِ الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ وَاتِّبَاعِهَا: باب: جنازہ کے پیچھے جانا اور نماز جنازہ پڑھنے کی فضیلت۔
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، واللفظ لهارون ، وحرملة ، قَالَ هَارُونُ : حَدَّثَنَا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الْأَعْرَجُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ شَهِدَ الْجَنَازَةَ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ " ، قِيلَ : وَمَا الْقِيرَاطَانِ ؟ ، قَالَ : مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ ، انْتَهَى حَدِيثُ أَبِي الطَّاهِرِ ، وَزَادَ الْآخَرَانِ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي عَلَيْهَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ ، فَلَمَّا بَلَغَهُ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَقَدْ ضَيَّعْنَا قَرَارِيطَ كَثِيرَةً ،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جنازے میں شریک رہا یہاں تک کہ نماز جنازہ ادا کر لی گئی تو اس کے لیے ایک قیراط اجر ہے اور جو اس کے ساتھ رہا حتی کہ اس کو دفن کر دیا گیا، تو اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے۔ پوچھا گیا: دو قیراط سے کہا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو بڑے پہاڑوں کے مانند۔‘‘ ابو طاہر کی حدیث یہاں ختم ہو گئی۔دوسرے دو اساتذہ بیان کرتے ہیں کہ سالم بن عبداللہ بن عمر نے کہا: ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نماز جنازہ پڑھ کر لوٹ آتے تھے جب ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث پہنچی تو کہنے لگے، ہم نے تو یقیناً بہت سارے قیراط ضائع کر دئیے۔ (ان کےثواب سے محروم رہ گئے)۔
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْلِهِ : " الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ " ، وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْأَعْلَى : " حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا " ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ : " حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ " ،یہی روایت مصنف اپنے چار اور اساتذہ سے دو بڑے پہاڑوں تک بیان کرتے ہیں، اس کے بعد کا حصہ بیان نہیں کرتے، عبدالاعلیٰ کی روایت ”حَتَّى تُدْفَنَ‘‘ میں کی جگہ ”حتى يفرغ‘‘ تھا حتیٰ کہ اس سے فارغ ہوا جائے اور عبدالرزاق کی حدیث میں ”حتي توضع في اللحد‘‘ ہے یعنی ”حتیٰ کہ لحد میں اُتار یا رکھ دیا جائے۔‘‘
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ : حَدَّثَنِي رِجَالٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ ، وَقَالَ : " وَمَنِ اتَّبَعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ " .یہی روایت ایک اور استاد سے مروی ہے، اس میں ہے ”جو شخص اس کے دفن ہونے تک اس کے ساتھ رہا۔‘‘
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ ، وَلَمْ يَتْبَعْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ ، فَإِنْ تَبِعَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ " ، قِيلَ : وَمَا الْقِيرَاطَانِ ؟ ، قَالَ : أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ " .سہیل کے والد ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ ادا کی اور اس کے پیچھے (قبرستان) نہیں گیا تو اس کے لیے ایک قیراط (اجر) ہے اور اگر وہ اس کے پیچھے گیا تو اس کے لیے دو قیراط ہیں۔“ پوچھا گیا: دو قیراط کیا ہیں؟ فرمایا: ”ان دونوں میں سے چھوٹا احد پہاڑ کے مانند ہے۔“
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنِ اتَّبَعَهَا حَتَّى تُوضَعَ فِي الْقَبْرِ فَقِيرَاطَانِ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ وَمَا الْقِيرَاطُ ؟ ، قَالَ : مِثْلُ أُحُدٍ .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ ادا کی تو اس کے لیے ایک قیراط ہے اور جو اس کے ساتھ گیا، حتیٰ کہ اسے قبر میں رکھ دیا گیا تو (اس کے لیے) دو قیراط ہیں۔‘‘ (ابو حازم نے) کہا میں نے پوچھا: اے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قیراط کی مقدار کیا ہے؟ انھوں نے کہا: احد پہاڑ کے مانند۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، قَالَ : قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ ، إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَلَهُ قِيرَاطٌ مِنَ الْأَجْرِ " ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَكْثَرَ عَلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَبَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا ، فَصَدَّقَتْ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ .نافع نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص جنازے کے پیچھے چلا تو اس کے لیے قیراط اجر ہے۔“ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں کثرت سے احادیث سنائی ہیں، اس کے بعد انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پیغام بھیجا اور ان سے پوچھا، تو انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق فرمائی، اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: یقیناً ہم نے بہت سے قیراطوں (کے حصول) میں کوتاہی کی۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي حَيْوَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، إِذْ طَلَعَ خَبَّابٌ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ مِنْ بَيْتِهَا وَصَلَّى عَلَيْهَا ، ثُمَّ تَبِعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ ، كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ مِنْ أَجْرٍ ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ، ثُمَّ رَجَعَ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُحُدٍ " ، فَأَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ خَبَّابًا إِلَى عَائِشَةَ ، يَسْأَلُهَا عَنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ فَيُخْبِرُهُ مَا قَالَتْ ، وَأَخَذَ ابْنُ عُمَرَ قَبْضَةً مِنْ حَصْبَاءِ الْمَسْجِدِ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ ، حَتَّى رَجَعَ إِلَيْهِ الرَّسُولُ ، فَقَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَضَرَبَ ابْنُ عُمَرَ بِالْحَصَى الَّذِي كَانَ فِي يَدِهِ الْأَرْضَ ، ثُمَّ قَالَ : لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ .داؤد بن عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے باپ عامر بن سعد سے بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ مقصورہ والے خباب آ کر کہنے لگے، اے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! کیا آپ جو کچھ ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں سنتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کر فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو شخص جناوہ اور جو جنازہ پڑھ کر لوٹ آیا، اسے ایک فیراط کے ساتھ اس کے گھر سے نکلا، اور اس کی نماز جنازہ ادا کی، پھر اس کے ساتھ رہ، حتی کہ اس کو دفن کر دیا گیا تو اس کو اجر کے دو قیراط ملیں گے ہر قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہےاور جس نے اس کی نماز جنازہ اداکی اور لو ٹ آیا اسے ایک احد کے برابر اجر ملے گا‘‘ تو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجا تا کہ وہ ان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کے بارے پوچھےﷺ اور پھر انہیں واپس آ کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے جواب سے آگاہ کریں۔ اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد کی کنکریوں سے مٹھی بھر لی اور ان کو لوٹ بوٹ کرنے لگے جتی کہ فرستادہ نے آ کر بتایا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تصدیق کر دی ہے تو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جو کنکریاں ان کے ہاتھ میں تھیں زمین پر دے پر پھینک دیں، پھر کہا ہم نے بہت سارے قیراط ضائع کر دئیے (ان کے ثواب سے محروم ہو گئے)
تشریح، فوائد و مسائل
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے ان ابواب میں ایمان و اسلام کی تفصیلات بتلاتے ہوئے زکوٰۃ کی فرضیت کو قرآن شریف سے ثابت فرمایا اور بتلایا کہ زکوٰۃ دینا بھی ایمان میں داخل ہے، جو لوگ فرائض دین کو ایمان سے الگ قرار دیتے ہیں، ان کا قول درست نہیں۔ حدیث میں جس شخص کا ذکر ہے اس کا نام ضمام بن ثعلبہ تھا۔ نجد لغت میں بلند علاقہ کو کہتے ہیں، جو عرب میں تہامہ سے عراق تک پھیلا ہوا ہے۔ جنازے کے ساتھ جانا بھی ایسا نیک عمل ہے، جو ایمان میں داخل ہے۔
1۔
عام طور پر آج کل ایک رسم کے طور پر جنازے میں شرکت کی جاتی ہے، لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارا عزیز یا دوست ہے۔
بعض اوقات سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے بھی جنازہ پڑھا جاتا ہے، ثواب تک نظر نہیں جاتی۔
شریعت نے احتساب کا لفظ بڑھا کر اس جانب توجہ دلائی ہے کہ اگر اس عمل خیر کے ساتھ یہ نیت کرلیں کہ ہم اپنے مسلمان بھائی کا آخری حق ادا کر رہے ہیں اور مخلصانہ دعاؤں کے ساتھ اسے الوداع کر رہے ہیں تو اس سے اجر وثواب میں بہت اضافہ ہوجاتا ہے۔
2۔
اس سے مقصود بھی مرجیہ کی تردید ہے جنھوں نے طاعات کو ایمان سے بالکل الگ کردیا ہے۔
حدیث میں توجنازے میں شرکت کو داخل ایمان بتایا جارہا ہے، پھر اجر میں کمی بیشی کا بھی ذکر ہے کہ اگرصرف نماز میں شرکت ہوگی توایک قیراط دفن میں بھی شریک ہوں گے تو دوقیراط ملیں گے۔
3۔
دنیا کے پیمانے کے لحاظ سے ایک قیراط بارہ درہم کا ہوتا ہے، البتہ آخرت میں اجر و ثواب کے لحاظ سے ایک قیراط احد پہاڑ کےبرابر ہے، چنانچہ بخاری کی ایک روایت میں اس کی وضاحت ہے۔
(صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1325)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیان کردہ روایت کی جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے تصدیق کی تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرمانے لگے کہ ہم نے تو بہت قیراط ضائع کردیے۔
(صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1324)
4۔
جنازے کے متعلق تین چیزیں ہیں: میت کے ساتھ رہنا، نماز میں شرکت کرنا، دفن تک ساتھ رہنا، اگرصرف دفن میں شریک ہوا تو اسے اجر تو ملے گا لیکن اجر موعود(جس کا وعدہ کیا گیا ہے)
سےمحروم ہوگا، یعنی اسے دو قیراط نہیں ملیں گے۔
صرف نماز کی شرکت یا صرف دفن کی شرکت سے ایک قیراط ملتا ہے۔
(فتح الباري: 146/1)
آخر میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کی متابعت بیان کی ہے، یعنی عثمان مؤذن نے روح کی موافقت کی ہے لیکن اس متابعت میں دولحاظ سے فرق ہے: (الف)
روح کی روایت میں عوف راوی حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ اور محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرتا ہے۔
جبکہ عثمان مؤذن کی روایت میں صرف محمد بن سیرین سے بیان کرتا ہے۔
(ب)
روح کی روایت باللفظ ہے جبکہ عثمان مؤذن کی روایت بالمعنی ہے،اس لیے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسے (مثله)
کے بجائے (نحوه)
سے تعبیر کیا ہے۔
دوسری روایت میں ہے کہ آخرت کے قیراط احد پہاڑ کے برابر ہیں۔
(1)
حدیث میں مذکور ثواب کے لیے ضروری ہے کہ انسان نماز جنازہ میں شرکت ایمان اور طلب ثواب کی نیت سے کرے۔
صرف برادری کا احسان اتارنے کے لیے یا اپنا بھرم قائم رکھنے کے لیے شرکت کرتا ہے تو اس کے لیے کوئی ثواب نہیں ہو گا، جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’جو شخص ایما اور حصول ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے میں شرکت کرتا ہے اور دفن کرنے تک شریک رہتا ہے وہ دو قیراط ثواب لے کر واپس ہو گا۔
اور ہر قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الإیمان، حدیث: 47)
سنن نسائی کی روایت میں ہے کہ ایک قیراط جبل اُحد سے بھی بڑا ہے۔
(سنن النسائي، الجنائز، حدیث: 1999)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ چھوٹے سے چھوٹا قیراط جب میزان میں رکھا جائے گا تو اُحد پہاڑ سے بھی بھاری ہو گا۔
(فتح الباري: 253/2) (2)
اس روایت میں میت کے حقوق ادا کرنے کی ترغیب ہے اور اس کی ادائیگی پر عظیم ترین ثواب بیان کر کے اس طرح کے اعمال حسنہ کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے کسی کی نماز جنازہ پڑھی، تو اسے ایک قیراط ملے گا، اور جس نے اسے قبر میں رکھے جانے تک انتظار کیا، تو اسے دو قیراط ملے گا، اور دو قیراط دو بڑے پہاڑوں کے مثل ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1996]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی جنازے کے ساتھ جائے (اور) اس پر نماز جنازہ پڑھے پھر لوٹ آئے، تو اسے ایک قیراط کا ثواب ہے، اور جو (جنازہ میں) شریک ہو، (اور) اس پر نماز جنازہ پڑھے پھر بیٹھا رہے یہاں تک کہ اسے دفنا کر فارغ ہو لیا جائے، تو اس کا اجر دو قیراط ہے، ان میں سے ہر ایک قیراط احد (پہاڑ) سے زیادہ بڑا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1999]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے نماز جنازہ پڑھی، اس کو ایک قیراط ثواب ہے، اور جو دفن سے فراغت تک انتظار کرتا رہا، اسے دو قیراط ثواب ہے “ لوگوں نے عرض کیا: دو قیراط کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” دو پہاڑ کے برابر۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1539]
فوائد و مسائل:
(1)
جس طرح مسلمانوں کاجنازہ پڑھنا فرض ہے۔
اسی طرح اسے دفن کرنا بھی ضروری ہے۔
ان دونوں کاموں کےلئے عام مسلمانوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔
لہٰذا جس طرح ثواب کی نیت سے نماز جنازہ میں شرکت کی کوشش کی جاتی ہے۔
اسی طرح قبر کھودنے، میت کودفن کرنے اور قبر کوبرابر کرنے میں بھی زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کرنی چاہیے۔
(2)
جس طرح نماز جنازہ میں میت کےلئے دعا کی جاتی ہے۔
اس طرح دفن کرنے کےبعد بھی اس کی ثابت قدمی کےلئے اور سوالوں کے جواب کی توفیق کےلئے دعا کی جاتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ جب میت کو دفن کرکے فارغ ہوتے تو قبر کے پاس کھڑے ہوکرفرماتے اپنے بھائی کے حق میں دعائے مغفرت کرو۔
اور اس کے لئے ثابت قدمی کی دعا کرو۔
کیونکہ اس سے اب سوال ہورہا ہے۔ (سنن ابی داؤد، الجنائز، باب الاستغفار عند لقبر للمیت فی وقت الانصراف، حدیث: 3221)
(3)
قیراط قدیم دور کی ایک سکہ اور ایک وزن ہے۔
علامہ ابن اثیر رحمۃ اللہ علیہ نے قیراط کو دینار کا بیسواں یا چوبیسواں حصہ قرار دیا ہے۔
دیکھئے: (النھایة، مادہ قرط)
علامہ وحید الزمان رحمۃ اللہ علیہ نے قیراط کا وزن درہم کا بارہواں حصہ بتلایا ہے جس کا انداز ہ دو رتی بیان فرمایا ہے۔
آجکل گرام کے پانچویں حصے (200ملی گرام)
کو قیراط یا کیرٹ کہتے ہیں۔
حدیث میں اس سے مراد ثواب کی ایک خاص مقدار ہے جو پہاڑ کے برابر ہے۔
ایک روایت میں احد پہاڑ کے برابر کے الفاظ بھی وارد ہیں۔
دیکھئے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 1540)
(4)
شاگرد کو چاہیے کہ اگر کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو استاد سے پوچھ لے اور استاد کو بھی دوبارہ وضاحت کرنے میں تامل نہیں کرنا چاہیے۔
”سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص جنازہ کے ساتھ جائے یہاں تک کہ اس کی نماز پڑھی جائے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن ہونے کے وقت تک حاضر رہے اسے دو قیراط کے برابر اجر ملے گا . . . “ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 461]
«إيمَاناً وَّاحْتِسَاباً» دونوں مفعول ”لہ“ ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ معنی یہ ہوئے کہ جنازے میں شرکت کا مقصد صرف طلب اجر و ثواب ہو، کوئی اور غرض نہ ہو۔ دکھلاوا اور اہل میت کے ہاں حاضری لگوانے کی نیت نہ ہو۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دونوں الفاظ حال واقع ہو رہے ہیں، یعنی جنازہ اسی حالت میں پڑھے کہ وہ مومن ہو اور ثواب کے لیے پرامید ہو۔ اس صورت میں «إيِمَانَا وَّاحْتِسَاباً» بمعنی «مُومَناً مُحْتَسِباً» ہوں گے۔
فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث میں جنازے کے ساتھ چلنے اور نماز جنازہ ادا کرنے کے ثواب کو تمثیل کے رنگ میں بیان کیا گیا ہے۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ مومن کی نماز جنازہ پڑھنے کا بہت بڑا ثواب ہے۔
➋ اس حدیث میں اہل ایمان کو ترغیب دلائی گئی ہے کہ جنازے میں شرکت کا اہتمام کریں۔