صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب مَنْ مَاتَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ مُشْرِكًا دَخَلَ النَّارَ: باب: جو آدمی اللہ کے ساتھ شرک کیے بغیر مر گیا اس کے جنتی ہونے، اور جو شرک پر مرا اس کے جہنمی ہونے کا بیان۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ ، لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، قُلْتُ : وَإِنْ زَنَى ، وَإِنْ سَرَقَ ، قَالَ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ " .معرور بن سوید نے کہا: میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور مجھے خوش خبری دی کہ آپ کی امت کا جو فرد اس حالت میں مرے گا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں (ابوذر) نے کہا: چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔“
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا الأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَدَّثَهُ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِمٌ ، عَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ ، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، قُلْتُ : " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ، قَالَ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ، قُلْتُ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ، قَالَ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ : عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : فَخَرَجَ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ : وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ " .حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس حال میں حاضر ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے اور آپ پر ایک سفید کپڑا پڑا ہوا تھا۔ پھر میں دوبارہ حاضرِ خدمت ہوا تو آپ پھر سوئے ہوئے تھے۔ پھر میں (تیسری دفعہ) آیا تو آپ بیدار ہو چکے تھے تو میں آپ کے پاس بیٹھ گیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بندہ نے بھی لا إله إلا الله کہا پھر اسی پر مرا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں نے پوچھا: اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے۔“ میں نے پھر کہا: اگرچہ زنا کرے اور چوری کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے۔“ میں نے تین دفعہ کہا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں دفعہ یہی جواب دیا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھی دفعہ فرمایا: ”ابو ذر کی ناک کے خاک آلود ہونے کی صورت میں بھی۔“ (یعنی اس کی خواہش اور رائے کے برعکس) تو ابو ذر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے یہ کہتے ہوئے نکلے: اگرچہ ابو ذر کی ناک خاک آلود ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً ، وَنَحْنُ نَنْظُرُ إِلَى أُحُدٍ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ " ، قَالَ : قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاكَ عِنْدِي ذَهَبٌ أَمْسَى ثَالِثَةً ، عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ ، إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا حَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَهَكَذَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَهَكَذَا عَنْ شِمَالِهِ " ، قَالَ : ثُمَّ مَشَيْنَا ، فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ " ، قَالَ : قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " ، مِثْلَ مَا صَنَعَ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى ، قَالَ : ثُمَّ مَشَيْنَا ، قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ " ، قَالَ : فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي ، قَالَ : سَمِعْتُ لَغَطًا وَسَمِعْتُ صَوْتًا ، قَالَ : فَقُلْتُ : لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَ لَهُ ، قَالَ : فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَّبِعَهُ ، قَالَ : ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ ، قَالَ : فَانْتَظَرْتُهُ فَلَمَّا جَاءَ ذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي سَمِعْتُ ، قَالَ : فَقَالَ : " ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي ، فَقَالَ : مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، قَالَ : قُلْتُ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ، قَالَ : " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ " .حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں شام کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی پتھریلی زمین میں چل رہا تھا۔ اور ہم احد پہاڑ دیکھ رہے تھے۔ تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! میں نے کہا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں حاضر ہوں، آپﷺ نے فرمایا: مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ احد پہاڑ میرے پاس سونے کی شکل میں موجود ہو اور تیسری شام اس صورت میں آئے کہ میرے پاس اس سے ایک دینار بچا ہوا موجود ہو سوائے اس دینار کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لیے تیار رکھوں۔ مگر میں چاہتا ہوں کہ میں اسے اللہ کے بندوں میں خرچ یا تقسیم کر دوں، اس طرف (آپﷺ نے مٹھی بھر کر آگے ڈالا) اور اس طرح دائیں طرف اور اس طرح بائیں طرف، پھر ہم چلتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! حاضر ہوں آپﷺ نے فرمایا: ”(زیادہ مالدار ہی قیامت کے دن کم رتبہ ہوں گے) مگر جس نے ادھر اُدھر ہر جگہ خرچ کیا۔‘‘ آپﷺ نے پہلے کی طرح (آگےدائیں بائیں) کی طرف اشارہ فرمایا: پھر ہم چل پڑے آپﷺ نے فرمایا: اے ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! میرے آنے تک اس حالت میں رہنا یعنی یہیں ٹھہرے رہنا کہیں نہ جانا آپﷺ چلے گئے حتی کہ میری نظروں سے چھپ گئے میں نے شور اور آواز سنی تو میں نے دل میں کہا۔ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی دشمن کا سامنا ہے تو میں نے آپﷺ کے پاس پہنچنے کا قصد کیا۔ پھر مجھے آپﷺ کا فرمان یاد آ گیا کہ میرے آنے تک یہاں سے نہ ہلنا تو میں نے آپﷺ کا انتظار کیا تو جب آپﷺ تشریف لائے تو میں نے ان آوازوں کا تذکرہ کیا جو میں نے سنی تھیں تو آپﷺ نے فرمایا: ”وہ جبرائیل ؑ تھے میرے پاس آئے اور بتایا کہ آپﷺ کی امت کا جو فرد اس حال میں فوت ہو گا کہ اس نے اللہ کا کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا۔ وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل علیہ السلام!اگرچہ اس نے چوری اور زنا کیا ہو؟ اس نے جواب دیا اگرچہ اس نے چوری اور زنا کا ارتکاب کیا ہو۔‘‘
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ رُفَيْعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَحْدَهُ لَيْسَ مَعَهُ إِنْسَانٌ ، قَالَ : فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَكْرَهُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ أَحَدٌ ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي ظِلِّ الْقَمَرِ ، فَالْتَفَتَ فَرَآنِي ، فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " ، فَقُلْتُ : أَبُو ذَرٍّ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ ، قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ تَعَالَهْ " ، قَالَ : فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً ، فَقَالَ : " إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْمُقِلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا مَنْ أَعْطَاهُ اللَّهُ خَيْرًا فَنَفَحَ فِيهِ يَمِينَهُ وَشِمَالَهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَوَرَاءَهُ ، وَعَمِلَ فِيهِ خَيْرًا " ، قَالَ : فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً ، فَقَالَ : " اجْلِسْ هَا هُنَا " ، قَالَ : فَأَجْلَسَنِي فِي قَاعٍ حَوْلَهُ حِجَارَةٌ ، فَقَالَ لِي : " اجْلِسْ هَا هُنَا حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ " ، قَالَ : فَانْطَلَقَ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى لَا أَرَاهُ ، فَلَبِثَ عَنِّي فَأَطَالَ اللَّبْثَ ، ثُمَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُقْبِلٌ ، وَهُوَ يَقُولُ : " وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى " ، قَالَ : فَلَمَّا جَاءَ لَمْ أَصْبِرْ ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ ، مَنْ تُكَلِّمُ فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ ؟ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ إِلَيْكَ شَيْئًا ، قَالَ : " ذَاكَ جِبْرِيلُ عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ ، فَقَالَ : بَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : قُلْتُ : وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : قُلْتُ : وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى ، قَالَ : نَعَمْ وَإِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ " .عبدالعزیز بن رفیع نے زید بن وہب سے اور انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں ایک رات (گھر سے) باہر نکلا تو اچانک دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے جا رہے ہیں، آپ کے ساتھ کوئی انسان نہیں تو میں نے خیال کیا کہ آپ اس بات کو ناپسند کر رہے ہیں کہ کوئی آپ کے ساتھ چلے، چنانچہ میں چاند کے سائے میں چلنے لگا، آپ مڑے تو مجھے دیکھ لیا اور فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کی: ”ابوذر ہوں، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر، آ جاؤ۔“ کہا: میں کچھ دیر آپ کے ساتھ چلا تو آپ نے فرمایا: ”بے شک زیادہ مال والے ہی قیامت کے دن کم (مایہ) ہوں گے، سوائے ان کے جن کو اللہ نے مال عطا فرمایا اور انہوں نے اسے دائیں، بائیں اور آگے، پیچھے اڑا ڈالا اور اس میں نیکی کے کام کیے۔“ میں ایک گھڑی آپ کے ساتھ چلتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں بیٹھ جاؤ۔“ آپ نے مجھے ایک ہموار زمین میں بٹھا دیا جس کے گرد پتھر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”یہیں بیٹھے رہنا یہاں تک کہ میں تمہارے پاس لوٹ آؤں۔“ آپ پتھریلے میدان (حرہ) میں چل پڑے حتیٰ کہ میری نظروں سے اوجھل ہو گئے، آپ مجھ سے دور رکے رہے اور زیادہ دیر کر دی، پھر میں نے آپ کی آواز سنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف آتے ہوئے فرما رہے تھے: ”خواہ اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو۔“ جب آپ تشریف لائے تو میں صبر نہ کر سکا، میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! اللہ مجھے آپ پر نثار فرمائے! آپ سیاہ پتھروں کے میدان (حرہ) کے کنارے کس سے گفتگو فرما رہے تھے؟ میں نے تو کسی کو نہیں سنا جو آپ کو جواب دے رہا ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو سیاہ پتھروں کے کنارے میرے سامنے آئے اور کہا: اپنی امت کو بشارت دے دیجیے کہ جو کوئی اس حالت میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں نے کہا: ”اے جبرائیل علیہ السلام! چاہے اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں!“ فرمایا: میں نے پھر کہا: ”خواہ اس نے چوری کی ہو خواہ اس نے زنا کیا ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ میں نے پھر (تیسری بار) پوچھا: ”خواہ اس نے چوری کی ہو خواہ اس نے زنا کیا ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، خواہ اس نے شراب (بھی) پی ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
بشرطیکہ وہ دنیا میں کبھی شرک کے مرتکب نہ ہوئے ہوں کیوں کہ مشرک کے لیے اللہ نے جنت کو قطعاً حرام کردیا ہے۔
وہ نام نہاد مسلمان غور کریں جو بزرگوں کے مزارات پر جاکر شرکیہ افعال کا ارتکاب کرتے ہیں، قبروں پر سجدہ اور طواف کرتے ہیں۔
ان کے مشرک ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، ایسے لوگ ہرگز جنت میں نہ جائیں گے خواہ کتنے ہی نیک کام کرتے ہوں، اللہ نے اپنے نبی کریم ﷺ کے بارے میں خود فرمادیا ہے۔
﴿لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ (الزمر: 65)
”اے رسول! اگر آپ بھی شرک کربیٹھیں تو آپ کی ساری نیکیاں برباد ہوجائیں گی اور آپ خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔
“ کرمانی نے کہا کہ روایت میں ایسے گنہگاروں کے دوزخ میں نہ داخل ہونے سے مراد ان کا ہمیشگی کا دخول مراد ہے۔
ویجب التأویل بمثله جمعابین الآیات و الأحادیث۔
(کرمانی)
1۔
مشرک کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کردی ہے۔
اس کے برعکس جس شخص نے شرک کا ارتکاب نہ کیا ہو وہ بہرحال جنت میں ضرورجائے گا، خواہ اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کرکے پہلے ہی مرحلے میں اسے جنت میں داخل کردے یا وہ اپنے گناہوں کی سزا بھگت کربالآخر جنت میں پہنچ جائے۔
بہرحال ایسا شخص جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا۔
2۔
امام بخاری ؒنے اس حدیث سے حضرت جبریل ؑ کے وجود کو ثابت کیا ہے اور ان کی کارکردگی بیان کی ہے۔
واللہ أعلم۔
چاہے سزا کے بعد ہی ہو کیونکہ اصل بنیاد نجات کلمہ لا إله إلا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنا اوراس کے مطابق عمل وعقیدہ درست کرنا ہے۔
محض طوطے کی طرح کلمہ پڑھ لینا بھی کافی نہیں ہے۔
(1)
محض طوطے کی طرح لا إله إلا اللہ پڑھ لینا کافی نہیں جب تک دل و جان سے لا إله إلا اللہ نہ پڑھے اور اس کے مطابق اپنے عقیدہ و عمل کو درست نہ کرے نجات نہیں ہو گی۔
(2)
چونکہ اس حدیث میں سفید کپڑوں کے زیب تن کرنے کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے ثابت کیا ہے کہ سفید لباس کا استعمال مشروع ہے بلکہ دیگر احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید لباس کی ترغیب بھی دی ہے، چنانچہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سفید لباس پہنا کرو، وہ زیادہ پاک اور زیادہ عمدہ ہے۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، اللباس، حدیث: 3567)
سفید رنگ افضل ہے، اس لیے اہم مواقع پر اسے پہننا بہتر ہے۔
سفید لباس خوبصورت بھی ہوتا ہے اور باوقار بھی۔
اس میں میل کچیل کا جلدی پتا چل جاتا ہے، اس لیے اسے جلدی دھو لیا جاتا ہے اور زیادہ توجہ سے دھویا جاتا ہے، اس بنا پر وہ زیادہ پاک اور صاف ستھرا رہتا ہے۔
واللہ أعلم
ایک توحضرت جبریل ؑ اس وقت اترتے تھے جب اللہ کا حکم ہوتا اس لیے یہ بشارت جو انہوں نے آنحضرت ﷺ کو دی بامرالہی تھی گویا اللہ نے حضرت جبریل سے فرمایا کہ جا کر حضرت محمدﷺ کو بشارت دے دو پس باب کی مطابقت حاصل ہوگئی۔
فرشتوں کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ہم تیرے رب کے حکم کے بغیر نازل نہیں ہوتے۔
‘‘ (مریم 64)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام اس وقت اترتے تھے جب انھیں اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا، اس بنا پر حدیث میں مذکورہ بشارت بامرالٰہی تھی۔
گویا اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے فرمایا کہ جاؤ اور میرے پیغمبر کو بشارت دے دو۔
اس سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے ہم کلام ہو کر یہ پیغام دیا اور پیغام ہمیشہ کلام سے دیا جاتا ہے اور اس میں ندا بھی داخل ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ موحد اگرچہ گناہ گار ہو آخر کار جنت کا حق دار ہوگا، خواہ اللہ تعالیٰ اسے گناہوں کی سزا دے یا معاف کر دے۔
: عَلَى رَغْمِ أَنْف: رَغِمَ، رَغَام: (مٹی، خاک)
سے ماخوذ ہے، جس کا ظاہری معنی ہے اس کی ناک خاک آلود ہو، وہ ذلت و رسوائی سے دوچار ہو، لیکن یہ عربی محاورہ ہے جس سے بد دعا دینا مقصود نہیں ہوتا، صرف یہ مقصد ہوتا ہے کہ اس کی خواہش کے برعکس یہ کام ہو کر رہے گا۔
فوائد ومسائل:
(1)
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، توحید سے کنایہ ہے اور توحید جیسا کہ ہم بیان کر آئےہیں پورے دین کا عنوان ہے۔
یعنی دین اسلام پر ایمان لانا اور اس کی پابندی کرنا، ظاہر ہے جو انسان دین کامل کی پابندی کرے گا، اس کےکسی حکم کی مخالفت نہیں کرے گا تو وہ سیدھا جنت میں جائے گا۔
اگر اس نے توحید کے اقرار کے باوجود گناہ بھی کیے ہوں گے تو اگر وہ اپنے دوسرے اعمال حسنہ کی بنا پر معافی کا مستحق ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کرکے بغیر کسی عذاب کے اس کو جنت میں داخل کردے گا، اور اگر وہ معافی کا حقدار نہیں ہوگا تو گناہوں کی سزا پانے کے بعد جنت میں جا سکے گا اور اس کی وجہ ہم اوپر بیان کر آئے ہیں۔
(1/40/150/92) (2)
حضرت ابو ذرؓ نے اپنا سوال بار بار دہرایا، کیونکہ وہ زنا اور چوری کو انتہائی ناپاک گناہ تصور کرتے تھے، اس وجہ سے انہیں تعجب ہوا کہ ایسے نازیبا اور گندے گناہ کرنے والے بھی جنت میں جاسکیں گے۔
(3)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہمیشہ ہمیشہ آگ میں نہیں رہے گا جیسا کہ خوارج اور معتزلہ کا نظریہ ہے۔
لیکن اس سے یہ بات کشید کرنا کہ جنت میں داخلہ کے لیے محض لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کا اقرار ہی کافی ہے، نیک اعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ بد اعمالیوں کا کوئی نقصان ہے جیسا کہ مرجئہ کا نظریہ ہے درست نہیں ہے۔
قرآن وسنت کی نصوص کے معنی کی تشریح وتوضیح کے لیے ضروری ہے کہ اس موضوع کے بارے میں جتنی نصوص موجود ہوں، سب کوپیش نظر رکھاجائے، وگرنہ نصوص میں تعارض پیدا ہوگا اور ان کا صحیح معنی بھی سمجھ میں نہیں آئے گا، اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ خوارج ومعتزلہ نے ایک قسم کی نصوص کو لے کر (جن کا تعلق ترہیب وتخویف سے تھا)
کبیرہ گناہ کے مرتکب کو ہمیشہ ہمیشہ کےلیے دوزخی قرار دیا، اور مرجیہ نے دوسری قسم کی نصوص کر لے کر (جن کا تعلق ترغیب وتشویق اور بشارت سے تھا)
گناہوں کو بے حیثیت قرار دیا اور کہا محض لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کہہ دینا جنت کے داخلہ کےلیے کافی ہے اسی طرح دونوں گروہ حق وصواب کی راہ سے دور ہٹ گئے، اہل سنت نے دونوں قسم کی نصوص کو جمع کیا، جس سے تضاد بھی ختم ہوا اور راہ حق وصواب بھی مل گئی۔
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور مجھے بشارت دی کہ جو شخص اس حال میں مر گیا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تو وہ جنت میں جائے گا “، میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ نے فرمایا: ” ہاں “، (اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو) ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان/حدیث: 2644]
وضاحت:
1؎:
اس کی صورت یہ ہوگی کہ وہ زنا اورچوری کی اپنی سزا کاٹ کر اپنے موحد ہونے کے صلہ میں لامحالہ جنت میں جائے گا، یا ممکن ہے رب العالمین اپنی رحمت سے اسے معاف کر دے۔
«. . . وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ وَهُوَ نَائِمٌ ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ فَقَالَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي ذَرٍّ وَكَانَ أَبُو ذَرٍّ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا قَالَ وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَر» . . .»
”. . . سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن مبارک پر سفید کپڑا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے۔ (میں سوتا ہوا دیکھ کر واپس چلا گیا) پھر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بندے نے لا الہ الا اللہ کہا یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور پھر وہ اسی عقیدے پر مر گیا تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں نے عرض کیا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اس نے چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اگرچہ اس نے زنا کیا اگرچہ اس نے چوری کی ہو۔“ پھر میں نے عرض کیا اگرچہ زنا کیا اور چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ اس نے زنا کیا اور چوری کی ہو۔“ پھر میں نے عرض کیا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ اس نے زنا کیا اور چوری کی ہو۔ “ پھر میں نے عرض کیا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، ابوذر کی ناک پر مٹی ہو۔ “ (یعنی اگرچہ تمہیں ناگوار اور برا معلوم ہو مگر ایسا شخص صرف بخشا جائے گا۔) ابوذر رضی اللہ عنہ جب یہ حدیث بیان کرتے تو «وان رغم انف ابي ذر» کہتے اگرچہ ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 26]
[صحیح بخاری 5827]، [صحیح مسلم 272،273]
فقہ الحدیث
➊ معلوم ہوا کہ گناہ گار مؤمن آخر کار رب کریم کی مغفرت سے ضرور جنت میں جائے گا۔ جنت جانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ گناہ کا کوئی نقصان نہیں ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ چاہے تو گناہ معاف فرما دے اور اگر چاہے تو سزا دینے کے بعد جنت میں داخل کر دے، لہٰذا گناہ گار ابدی جہنمی نہیں ہے۔
➋ یہ حدیث خوارج و معتزلہ کا رد ہے، کیونکہ وہ زنا اور چوری کرنے والے کو ابدی جہنمی سمجھتے ہیں۔
➌ ایک حدیث میں آیا ہے کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زانی زنا کرتا ہے تو وہ (اس وقت) مومن نہیں ہوتا، اور جب چوری کرتا ہے تو (اس وقت) وہ مومن نہیں ہوتا۔“ الخ [صحيح البخاري: 2475، صحيح مسلم: 57/10، واضواءالمصابيح: 53]
لہٰذا ہر مومن پر لازم ہے کہ تمام کبیرہ و صغیرہ گناہوں سے ہمیشہ اجتناب کرے۔
➍ تصدیق کے لئے بات دہرانا جائز ہے۔