صحيح مسلم
كتاب الجنائز— جنازے کے احکام و مسائل
باب نَهْيِ النِّسَاءِ عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ: باب: جنازے کے پیچھے عورتوں کا جانا منع ہے۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ : " كُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا " .محمد بن سیرین نے کہا: حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے روکا جاتا تھا لیکن ہمیں سختی کے ساتھ حکم نہیں دیا گیا۔
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : " نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا " .حفصہ نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے روکا گیا لیکن ہمیں سختی کے ساتھ حکم نہیں دیا گیا۔
وحدثنا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حدثنا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " لَا تُحِدُّ امْرَأَةٌ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ ، وَلَا تَكْتَحِلُ ، وَلَا تَمَسُّ طِيبًا ، إِلَّا إِذَا طَهُرَتْ نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ " ،حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت میت پر تین دن سے زائد سوگ نہ منائے، مگر خاوند پر چار ماہ اور دس دن (سوگ منائے) اور نہ رنگا ہوا کپڑا پہنے الا یہ کہ اس کا دھاگا ہی رنگا گیا ہو، اور نہ سرمہ لگائے، اور نہ کسی قسم کی خوشبو استعمال کرے، مگر جب حیض سے پاک ہو تو کچھ قسط یا اظفار نامی خوشبو استعمال کر لے (کیونکہ ان میں مہک نہیں ہوتی)۔‘‘
وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحدثنا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حدثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، كِلَاهُمَا عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَا : عَنْدَ أَدْنَى طُهْرِهَا نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ .عبداللہ بن نمیر اور یزید بن ہارون، دونوں نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، اور دونوں نے کہا: ”طہر کے آغاز میں تھوڑی سی قسط اور اظفار لگا لے۔“
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حدثنا حَمَّادٌ ، حدثنا أَيُّوبُ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَت : " كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ، وَلَا نَكْتَحِلُ وَلَا نَتَطَيَّبُ ، وَلَا نَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا ، وَقَدْ رُخِّصَ لِلْمَرْأَةِ فِي طُهْرِهَا إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ " .حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہمیں کسی میت پر تین دن سے زائد سوگ منانے سے منع کیا جاتا تھا، مگر خاوند پر چار ماہ اور دس دن کا سوگ تھا، اور نہ سرمہ لگائیں اور نہ خوشبو لگائیں اور نہ رنگا ہوا کپڑا پہنیں اور عورت کو حیض سے پاک ہوتے وقت رخصت تھی کہ جب وہ غسل حیض کرے تو تھوڑا سا قسط یا اظفار استعمال کر لے۔