صحيح مسلم
كتاب الجنائز— جنازے کے احکام و مسائل
باب التَّشْدِيدِ فِي النِّيَاحَةِ: باب: نوحہ کرنے کی سختی کے ساتھ ممانعت۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ . ح وحَدَّثَنِي إسحاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَنَّ زَيْدًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ ، لَا يَتْرُكُونَهُنَّ : الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ ، وَالْاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ ، وَالنِّيَاحَةُ " ، وَقَالَ : " النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا ، تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ ، وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ " .حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں جاہلیت کے کاموں میں سے چار باتیں (موجود) ہیں، وہ ان کو ترک نہیں کریں گے: احساب (باپ دادا کے اصلی یا مزعومہ کارناموں) پر فخر کرنا، (دوسروں کے) نسب پر طعن کرنا، ستاروں کے ذریعے سے بارش مانگنا اور نوحہ کرنا۔“ اور فرمایا: ”نوحہ کرنے والی جب اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس کو اس حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس (کے بدن) پر تارکول کا لباس اور خارش کی قمیص ہو گی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
لوگ اپنے حسب ونسب پرفخر کرتے ہیں اور دوسرے کےحسب ونسب پر طعن کرتے ہیں۔
حالانکہ کسی خاندان میں پیدا ہونا انسان کا ذاتی اور اکتسابی کمال یا خوبی نہیں ہے۔
اگردنیوی طور پر اللہ تعالیٰ نے کسی کو اعلیٰ خاندان میں پیدا کردیا ہے تو یہ احسان وکرم ہے جو شکر وسپاس کا تقاضا کرتا ہے نہ کہ فخروگھمنڈ کے لائق ہے۔
اور بہت سی قوموں میں یہ عقیدہ موجود ہے کہ فلاں ستارہ فجر کے وقت مغرب میں ڈوبتا ہے اور اس کے مقابلہ میں دوسرا مشرق میں طلوع ہوتا ہے اور یہ اس کے طلوع وغروب کا نتیجہ ہے کہ بارش اترتی ہے۔
حالانکہ بارش کے نزول میں اس کا کوئی دخل نہیں ہے۔
زیادہ سے زیادہ اسے ایک علامت قراردیا جا سکتا ہے۔
جس سے بارش کا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔
اس طرح بعض خاندانوں میں نوحہ کرنا اور سینہ کوبی کرنا یا ندبہ کرنا عام ہے۔
بلکہ دینی گھرانے بھی اس لعنت سے محفوظ نہیں ہیں۔
جبکہ اس کی سزا اس قدر سنگین ہے کہ نوحہ کرنے والی کےتمام جسم پر خارش اور کھجلی مسلط کی جائے گی۔
اعاذنا اللہ منھا۔