مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 934
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ . ح وحَدَّثَنِي إسحاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَنَّ زَيْدًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ ، لَا يَتْرُكُونَهُنَّ : الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ ، وَالْاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ ، وَالنِّيَاحَةُ " ، وَقَالَ : " النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا ، تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ ، وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ " .

حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں جاہلیت کے کاموں میں سے چار باتیں (موجود) ہیں، وہ ان کو ترک نہیں کریں گے: احساب (باپ دادا کے اصلی یا مزعومہ کارناموں) پر فخر کرنا، (دوسروں کے) نسب پر طعن کرنا، ستاروں کے ذریعے سے بارش مانگنا اور نوحہ کرنا۔“ اور فرمایا: ”نوحہ کرنے والی جب اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس کو اس حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس (کے بدن) پر تارکول کا لباس اور خارش کی قمیص ہو گی۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 934
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میری امت میں چار عادتیں جاہلیت کاموں میں سے ہیں جن کو وہ ترک نہیں کریں گے حسب و نسب پر فخر کرنا، دوسروں کے نسب پر طعن کرنا، ستاروں کے سبب بارش مانگنا اور نوحہ کرنا۔ اور فرمایا: ’’نوحہ کرنے والی جب اپنی مو ت سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس کو اس حالت میں اٹھا یا جا ئے گا کہ اس (کے بدن) پر تار کول کا لباس اور خارش کی قمیص ہو گی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2160]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: امت میں چار عادات واطوار، جاہلیت کے ادوار وعادات سے کسی نہ کسی شکل میں باقی رہیں گی مجموعی حیثیت سے تمام لوگ ان سے باز نہیں آئیں گے، اگرچہ بہت سے لوگ ان سے بچ جائیں گے، اور آپﷺ کی یہ پیش گوئی حرف بحرف پوری ہورہی ہے۔
لوگ اپنے حسب ونسب پرفخر کرتے ہیں اور دوسرے کےحسب ونسب پر طعن کرتے ہیں۔
حالانکہ کسی خاندان میں پیدا ہونا انسان کا ذاتی اور اکتسابی کمال یا خوبی نہیں ہے۔
اگردنیوی طور پر اللہ تعالیٰ نے کسی کو اعلیٰ خاندان میں پیدا کردیا ہے تو یہ احسان وکرم ہے جو شکر وسپاس کا تقاضا کرتا ہے نہ کہ فخروگھمنڈ کے لائق ہے۔
اور بہت سی قوموں میں یہ عقیدہ موجود ہے کہ فلاں ستارہ فجر کے وقت مغرب میں ڈوبتا ہے اور اس کے مقابلہ میں دوسرا مشرق میں طلوع ہوتا ہے اور یہ اس کے طلوع وغروب کا نتیجہ ہے کہ بارش اترتی ہے۔
حالانکہ بارش کے نزول میں اس کا کوئی دخل نہیں ہے۔
زیادہ سے زیادہ اسے ایک علامت قراردیا جا سکتا ہے۔
جس سے بارش کا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔
اس طرح بعض خاندانوں میں نوحہ کرنا اور سینہ کوبی کرنا یا ندبہ کرنا عام ہے۔
بلکہ دینی گھرانے بھی اس لعنت سے محفوظ نہیں ہیں۔
جبکہ اس کی سزا اس قدر سنگین ہے کہ نوحہ کرنے والی کےتمام جسم پر خارش اور کھجلی مسلط کی جائے گی۔
اعاذنا اللہ منھا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 934 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔