مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 933
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّائِيِّ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ بِالْكُوفَةِ قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .

وکیع نے سعید بن عبید طائی اور محمد بن قیس سے اور انہوں نے علی بن ربیعہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: کوفہ میں سب سے پہلے جس پر نوحہ کیا گیا وہ قرظہ بن کعب تھا، اس پر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ’جس پر نوحہ کیا گیا اسے قیامت کے دن اس پر کیے جانے والے نوحے (کی وجہ) سے عذاب دیا جائے گا۔‘“

وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَسْدِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسْدِيِّ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .

ہمیں علی بن مسہر نے حدیث بیان کی، (کہا) ہمیں محمد بن قیس نے علی بن ربیعہ سے خبر دی، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس (سابقہ حدیث) کے مانند روایت کی۔

وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .

مروان بن معاویہ فزاری نے کہا: ہمیں سعید بن عبید طائی نے علی بن ربیعہ سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس (سابقہ حدیث) کے مانند روایت کی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 933
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1000

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1000 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´میت پر نوحہ کرنے کی حرمت کا بیان۔`
علی بن ربیعہ اسدی کہتے ہیں کہ انصار کا قرظہ بن کعب نامی ایک شخص مر گیا، اس پر نوحہ ۱؎ کیا گیا تو مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ آئے اور منبر پر چڑھے۔ اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر کہا: کیا بات ہے؟ اسلام میں نوحہ ہو رہا ہے۔ سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس پر نوحہ کیا گیا اس پر نوحہ کیے جانے کا عذاب ہو گا ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1000]
اردو حاشہ: 1؎: میت پر اس کی خوبیوں اورکمالات بیان کر کے چلاّ چلاّ کر رونے کو نوحہ کہتے ہیں۔
2؎: یہ عذاب اس شخص پر ہوگا جواپنے ورثاء کو اس کی وصیت کرکے گیا ہو، یااس کا اپناعمل بھی زندگی میں ایساہی رہا ہواور اس کی پیروی میں اس کے گھروالے بھی اس پر نوحہ کررہے ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1000 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔