صحيح مسلم
مقدمة— مقدمہ
باب صِحَّةِ الاِحْتِجَاجِ بِالْحَدِيثِ الْمُعَنْعَنِ إِذَا أَمْكَنَ لِقَاءُ وَلَمْ يَكُنْ فِيهِمْ مُدَلِّسٌ باب: معنعن حدیث سے حجت پکڑنا صحیح ہے جبکہ معنعن والوں کی ملاقات ممکن ہو اور ان میں کوئی تدلیس کرنے والا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 92B9
فَإِنِ ادَّعَى قَوْلَ أَحَدٍ مِنْ عُلَمَاءِ السَّلَفِ ، بِمَا زَعَمَ مِنْ إِدْخَالِ الشَّرِيطَةِ فِي تَثْبِيتِ الْخَبَرِ طُولِبَ بِهِ ، وَلَنْ يَجِدَ هُوَ وَلَا غَيْرُهُ إِلَى إِيجَادِهِ سَبِيلًا ، وَإِنْ هُوَ ادَّعَى فِيمَا زَعَمَ دَلِيلًا يَحْتَجُّ بِهِ ، قِيلَ لَهُ : وَمَا ذَاكَ الدَّلِيلُ ؟ اگر وہ یہ کہے کہ اس باب میں سلف کا قول ہے یعنی اس شرط کے ثبوت کے لئے تو کہا جائے گا کہاں ہے ؟ لا ! پھر نہ اس کو کوئی قول ملے گا اور نہ کسی اور کو ۔ اور اگر وہ اور کوئی دلیل قائم کرنا چاہے تو پوچھیں گے وہ دلیل کیا ہے ؟