صحيح مسلم
مقدمة— مقدمہ
باب صِحَّةِ الاِحْتِجَاجِ بِالْحَدِيثِ الْمُعَنْعَنِ إِذَا أَمْكَنَ لِقَاءُ وَلَمْ يَكُنْ فِيهِمْ مُدَلِّسٌ باب: معنعن حدیث سے حجت پکڑنا صحیح ہے جبکہ معنعن والوں کی ملاقات ممکن ہو اور ان میں کوئی تدلیس کرنے والا نہ ہو۔
فَيُقَالُ لَهُ : فَإِنْ كَانَتِ الْعِلَّةُ فِي تَضْعِيفِكَ الْخَبَرَ وَتَرْكِكَ الِاحْتِجَاجَ بِهِ ، إِمْكَانَ الْإِرْسَالِ فِيهِ ، لَزِمَكَ أَنْ لَا تُثْبِتَ إِسْنَادًا مُعَنْعَنًا ، حَتَّى تَرَى فِيهِ السَّمَاعَ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى آخِرِهِ . وَذَلِكَ أَنَّ الْحَدِيثَ الْوَارِدَ عَلَيْنَا بِإِسْنَادِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عائشة َ ، فَبِيَقِينٍ نَعْلَمُ ، أَنَّ هِشَامًا قَدْ سَمِعَ مِنْ أَبِيهِ ، وَأَنَّ أَبَاهُ قَدْ سَمِعَ مِنْ عائشة كَمَا نَعْلَمُ ، أَنَّ عائشة قَدْ سَمِعَتْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ يَجُوزُ إِذَا لَمْ يَقُلْ هِشَامٌ فِي رِوَايَةٍ يَرْوِيهَا ، عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ ، أَوْ أَخْبَرَنِي أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَبِيهِ فِي تِلْكَ الرِّوَايَةِ إِنْسَانٌ آخَرُ أَخْبَرَهُ بِهَا ، عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ يَسْمَعْهَا هُوَ مِنْ أَبِيهِ ، لَمَّا أَحَبَّ أَنْ يَرْوِيَهَا مُرْسَلًا وَلَا يُسْنِدَهَا إِلَى مَنْ سَمِعَهَا مِنْهُ ، وَكَمَا يُمْكِنُ ذَلِكَ فِي هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ أَيْضًا مُمْكِنٌ فِي أَبِيهِ ، عَنْ عائشة ، وَكَذَلِكَ كُلُّ إِسْنَادٍ لِحَدِيثٍ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ سَمَاعِ بَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ ، وَإِنْ كَانَ قَدْ عُرِفَ فِي الْجُمْلَةِ ، أَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ قَدْ سَمِعَ مِنْ صَاحِبِهِ سَمَاعًا كَثِيرًا ، فَجَائِزٌ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ أَنْ يَنْزِلَ فِي بَعْضِ الرِّوَايَةِ ، فَيَسْمَعَ مِنْ غَيْرِهِ عَنْهُ بَعْضَ أَحَادِيثِهِ ، ثُمَّ يُرْسِلَهُ عَنْهُ أَحْيَانًا ، وَلَا يُسَمِّيَ مَنْ سَمِعَ مِنْهُ ، وَيَنْشَطَ أَحْيَانًا ، فَيُسَمِّيَ الرَّجُلَ الَّذِي حَمَلَ عَنْهُ الْحَدِيثَ وَيَتْرُكَ الإِرْسَالَ ، تو اس سے کہا جائے گا اگر تیرے نزدیک حدیث کو ضعیف کرنے کی اور اس کو حجت نہ سمجھنے کی علت صرف ارسال کا ممکن ہونا ہے (جیسے اس نے خود کہا کہ جب سماع ثابت نہ ہو تو وہ روایت حجت نہ ہو گی کیونکہ ممکن ہے اس کا مرسل ہونا) تو لازم آتا ہے کہ تو کسی اسناد معنعن کو نہ مانے جب تک اول سے لے کر آخر تک اس میں تصریح نہ ہو سماع کی (یعنی ہر راوی دوسرے سے یوں روایت کرے کہ میں نے اس سے سنا) مثلاً جو حدیث ہم کو پہنچی ہشام کی روایت سے ، اس نے اپنے باپ عروہ سے ، اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے جیسے ہم اس بات کو بالیقین جانتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے رسول الل